Shemale Hunter -45- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 45

ریا: “کچھ نہیں… ایسی ہی لگ رہا  ہے تجھے۔ 

شوبھا: “تیری شادی سے پہلے سے تجھے جانتی ہوں… آج رات لگتا ہے کہ کچھ اچھے والا برتھ ڈے گفٹ دینے کا پلان بنا رہی ہے۔” (اور آنکھ مارتی ہے) 

ریا شرما جاتی ہے۔ 

شوبھا: “دھیان سے کرنا… جس طرح تونے بتایا ہے، بڑا ریٹرن گفٹ تو تیری زُبینہ ہی دے گی تجھے… ہاہاہا۔ 

ریا: “کچھ بھی 

شوبھا: “ویسے اتنا بڑا ہوتا بھی ہوگا؟ 

ریا اپنے فون میں کل رات والی فوٹو نکال کر دکھا دیتی ہے۔ 

شوبھا: “اوہ مائی گاڈ! یہ تو سچ میں بہت بڑا ہے… ایسا تو کبھی نہیں دیکھا۔ 

ریا: “میں نے کہا تھا ناں 

شوبھا: “صحیح میں یار… یہ درد تو بہت دے گا… مگر  مزہ اس سے بھی زیادہ دے گا۔” (ساتھ میں آنکھ مارتی ہے) 

شوبھا کی ایسی باتوں سے ریا دھیرے دھیرے مینٹلی بھی زُبینہ کا لنڈ لینے کے لیے تیار ہو رہی تھی ۔ 

ریا: “زیادہ مت سوچ ابھی… کچھ نہیں پتا کیا ہوگا۔ 

شوبھا: “میں ہوتی تو ایک بار تو ضرور ٹرائی کرتی۔ اتنے بڑے لنڈ  کے ساتھ سیکس کرنا … پتا تو چلے یہ سب پورن میں جو دکھاتے ہیں سچ ہے بھی یا نہیں۔”

ریا: “تیری بھی سیٹنگ کروا دوں… زُبینہ جی کی ایک فرینڈ ہے… مجھے یقین تو نہیں ہے، لیکن لگتا ہے وہ بھی شیمیل ہی ہوگی۔”

شوبھا: “ہاہاہاہاہاہاہا۔۔ آنے دے دیکھیں گے۔” (مزاق میں بولتی ہے) 

تبھی ریا شوبھا کو زُبینہ کی اور پکس سوشل میڈیا پر دکھاتی ہے۔ 

شوبھا: “کیا مست باڈی بنا رکھی ہے… یاد ہے ہم کالج میں ایسی باڈی والے پارٹنر کے ہی سپنے دیکھتے  تھے ۔ 

ریا: “ہاں یاد ہے مجھے۔”

شوبھا: “یار تیرے تو مزے ہوگئے ہے… شادی کے بعد ہی صحیح،لیکن  تجھے ڈریم پارٹنر تو مل گیا… ہاہاہا۔ 

ریا بھی ہسنے لگتی ہے۔ اسے اب زُبینہ کو لے کر خود پرفخر ہو رہا تھا ۔ وہ اندر ہی اندر اب ریڈی ہو رہی تھی آج رات زُبینہ کے ساتھ سچ میں گرل فرینڈ کی طرح وقت گزارنے کے لیے۔ اس کے اندر کا باقی لوگوں کے ججمنٹ فیصلے کو لے کر جو ڈر تھا، وہ اب ختم ہو رہا تھا۔ 

ریا اور شوبھا دونوں کافی دیر ایسی ہی باتیں کرتی رہی۔ انہیں پتا ہی نہیں چلا کب  8 بج گئے۔ ریا ٹائم دیکھ کر شاک ہو گئی  کیونکہ  اسے  تو ابھی بہت کچھ کرنا تھا… ریڈی ہونا تھا… ڈنر آرڈر کرنا تھا۔ 

وہ سب سے پہلے ریڈی ہونے کے لیئے بھاگ کر جاتی ہے۔ ادھر شوبھا بھی ریڈی ہونے دوسرے روم میں چلی جاتی ہے۔ تھوڑی دیر میں ریڈی ہو کر دونوں پھر نیچے آتے ہیں۔ دونوں بہت ہی ہاٹ لگ رہی تھیں۔ دونوں نے بہت سیکسی ون پیس ڈریس پہنی تھی۔ 

شوبھا: “واہ کیا کمال لگ رہی ہے… تیری زُبینہ تو دیکھ کر ہی پاگل ہو جائے گی۔ 

ریا: “تھینکس… تو بھی کم نہیں لگ رہی۔ کہیں تجھے دیکھ کر میرے پر دھیان ہی نہ جائے۔ 

شوبھا: “کاش ایسا ہو… ہاہاہا۔ 

تبھی زُبینہ کا میسج آتا ہے: “نکل رہے ہیں ہم۔ 

ریا اب فل ایکسائٹڈ تھی۔ اسے زُبینہ کا ری ایکشن دیکھنا تھا… اس کی ڈیکوریشنز کا، کیک کا اور سب سے ضروری ریا کو ایسی شارٹ ڈریس میں دیکھنے کا۔ اسے اندر سے تھوڑی تھوڑی گھبراہٹ بھی ہو رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں ڈور بیل بجتی ہے۔ ریا جلدی سے  جا کر دروازہ کھولتی ہے۔ سامنے زُبینہ، روحانہ اور شبنم کھڑے تھے۔ روحانہ کے بغل میں ایک لڑکی کھڑی تھی۔ اس نے بھی ون پیس ڈریس پہنی تھی۔ وہ بھی بڑی ہاٹ لگ رہی تھی۔ 

ریا سب کو اندر آنے کو کہتی ہے اور جلدی سے دروازہ بند کر دیتی ہے۔ سبھی اندر آ کر گھر اور ڈیکوریشنز دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ مگر زُبینہ سب سے پہلے ریا کو دیکھتی ہے اور اس کے پاس جاتی ہے۔ 

زُبینہ: “کیا مال لگ رہی… جیسے میں نے سوچا تھا، بلکل ویسے ہی کپڑے پہنے ہیں تونے… بم ایک دم۔ 

ریا اپنی تعریف سن کر خوش ہو جاتی ہے اور آگے ہو کر زُبینہ کو ہگ کر لیتی ہے۔ 

ریا: “آپ کی خواہش  تھی تو پوری کرنی ہی تھی۔ 

تبھی کچن سے شوبھا نکل کر آتی ہے۔ سب کی نظر اب اس پر جاتی ہے۔ شوبھا سیدھا چل کر ریا کے پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ باقی تو اتنا دھیان نہیں دیتے، پر شبنم کی نظر شوبھا پر ہی ٹِکی رہتی ہے۔ 

ریا: “یہ ہے میری بیسٹ فرینڈ شوبھا اور یہ ہیں زُبینہ جی۔ 

شوبھا بڑے غور  سے زُبینہ کو دیکھتی ہے ۔ اس کی سٹرانگ پرسنالٹی اور باڈی کچھ کچھ شوبھا کو بھی اٹریکٹ کرتی ہے۔ 

شوبھا: “بہت سنا ہے آپ کے بارے میں… اچھا لگا آپ سے مل کر۔ 

زُبینہ: “مجھے بھی… آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں ۔ 

شوبھا: “تھینک یو۔ 

زُبینہ: “آؤ میں آپ کو باقی سب سے ملواتی ہوں۔ 

زُبینہ اب روحانہ اور شبنم کی طرف جاتی ہے۔ 

زُبینہ: “یہ روحانہ اور یہ اس کی گرل فرینڈ نینا۔

نینا بھی ریا کی طرح ہی تھی اپنے ہسبینڈ سے پریشان ، اور ایک ہائی کلاس ہاؤس وائف تھی، جسے روحانہ نے جم میں  ہی پٹایا تھا۔ سب ایک دوسرے کو ہائے ہیلو بولنے لگے ۔ 

زُبینہ: “اور یہ شبنم ہے۔ 

شبنم آگے ہو کر شوبھا سے ڈائریکٹ  ہاتھ ملا لیتی ہے۔ اس کی گرپ بڑی سٹرانگ تھی۔ شوبھا تھوڑا شاک ہو جاتی ہے۔ اس نے اتنا سٹرانگ ایکسپیکٹ نہیں کیا تھا۔ اب سب کچھ دیر ایسی ہی کھڑے باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ پھر ریا سب کو بیٹھنے کو کہتی ہے اور خود شوبھا کو لے کر کچن میں چلی جاتی ہے۔ زُبینہ ایک سنگل سیٹ سوفے پر بیٹھتی ہے۔ روحانہ بھی ایک سنگل سیٹ سوفے پر بیٹھی ہے اور نینا اس کی گود میں بیٹھ جاتی ہے۔ شبنم سامنے 2 سیٹر سوفے پر بیٹھ جاتی ہے۔  تھوڑی دیر میں ریا اور شوبھا سب کے لیے کچھ کھانے کو لاتے ہیں۔ وہ سب کو بیٹھے دیکھ سمجھ جاتی ہے زُبینہ کیا چاہتی ہے۔ ریا اب سیدھا جا کر زُبینہ کی گود میں بیٹھ جاتی ہے اور شوبھا شبنم کے بغل میں بیٹھ جاتی ہے۔ سب باتیں کرنے لگ جاتے ہیں اور ساتھ میں ڈرنک کرنا بھی اسٹارٹ کر دیتے ہیں۔ سب اپنی اپنی ڈرنک لیتے ہیں، مگر  ریا لاسٹ ٹائم کی طرح زُبینہ کے گلاس سے ہی پیتی ہے۔ تھوڑی دیر ایسی ہی چلتا رہا۔ پھر زُبینہ دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ ریا کی تھائیز (رانوں) پر گھمانے لگتی ہے تو  ریا کےرونگٹے کھڑے ہونے لگ  جاتے ہیں۔ کچھ  ڈرنک کا بھی نشہ تھا اور کچھ  زُبینہ کے ٹچ کا، وہ مدہوش ہونے لگتی ہے۔ تھوڑی دیر ایسے کرتے کرتے زُبینہ کا لنڈ بھی ہارڈ ہو جاتا ہے۔ ریا کو وہ بھی اپنی گانڈ کے نیچے فیل ہوتا ہے۔ وہ اور ایکسائٹ ہو جاتی ہے۔

پہلے تو  سب آپس میں ہی باتیں کر رہی تھیں ۔ تھوڑی دیر میں سب اپنی اپنی مستی میں لگ گئے۔ روحانہ اور نینا ایک دوسرے  میں لگ گئی۔ وہ دونوں بہت آرام دہ  ہو کر بیٹھی تھی۔ روحانہ کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا اور دوسرا اس کی لیگز پر گھوم رہا تھا۔ دونوں بیچ بیچ میں کس بھی کر رہے تھے۔

دوسری طرف اب شوبھا بھی تھوڑی کمفرٹیبل ہو کر بیٹھی تھی۔ شبنم اسے فل اٹینشن دے رہی تھی اور فلرٹ کر رہی تھی۔ شادی کے بعد سے اسے ایسی اٹینشن اپنے ہسبینڈ سے نہیں ملی تھی، اسی لیے اسے بھی تھوڑا اچھا لگ رہا تھا۔ شبنم نے بھی بہت اچھی باڈی بنا رکھی تھی، جو شوبھا کو بھی پسند آ رہی تھی۔ ساتھ میں تھوڑا دارو کا نشہ بھی تھا، اسی لیے وہ بھی تھوڑا تھوڑا فلرٹ میں ساتھ دے رہی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page