Shemale Hunter -51- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 51

ریا: “ہیلو ممی جی۔ 

سشما: “ہیلو بیٹا! کیسی ہو؟ 

ریا: “ٹھیک ہوں… آپ بتاؤ۔ 

سشما: “بس ٹھیک ہوں  بیٹا! اچھا ہم نکل چکے ہیں… 2-3 گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ 

ریا: “ٹھیک ہے ممی جی… آہہہ 

زُبینہ ریا کے بات کرتے کرتے اس کے بوبز چوسنے لگ جاتی ہے، جس سے ریا کے منہ سے “آہہ” نکل جاتی ہے۔ 

سشما: “کیا ہوا بیٹا؟ 

ریا بڑی کوشش کرتی ہے زُبینہ کو روکنے کی، مگر  وہ نہیں رکتی۔ اب وہ اپنی فیلنگز کو کنٹرول کر کے بات کرتی ہے۔ 

ریا: “کچھ نہیں ممی جی… وہ تھوڑا پیر میں درد ہے ابھی بھی۔ 

سشما: “اوکے اوکے… خیا ل  رکھو۔ چلو آتے ہیں تھوڑی دیر میں۔ 

ریا: “ٹھیک ہے ممی جی۔ بائے۔ 

یہ کہہ کر ریا جلدی سے  فون کٹ کر دیتی ہے اور تھوڑا غصے میں زُبینہ کی طرف دیکھتی ہے۔ 

ریا: “ابھی مروا دیتی آپ… پتا چل جاتا تو۔ 

زُبینہ: “میرے ہوتے ہوئے کچھ نہیں ہوگا تجھے۔ 

ریا یہ سن کر خوش ہو جاتی ہے اور آگے ہو کر ایک زبردست  کس کرتی ہے زُبینہ کو۔ 

ریا: “میرے گھر والے آنے والے ہیں کچھ دیر میں… ابھی آپ کو جانا ہوگا۔ 

زُبینہ: “ٹھیک ہے…مگر  پہلے بتا دوبارہ کب ملے گی؟ 

ریا: “آج تو مشکل ہوگا… سب واپس آئیں گے۔ کل ملتی ہوں آپ کو۔ 

زُبینہ: “ٹھیک ہے 

ریا کو تبھی یاد آتا ہے۔ 

ریا: “ارے میں نے آپ کا برتھ ڈے گفٹ دیا ہی نہیں۔ 

زُبینہ: “دیا تو کل رات کو…” (زُبینہ اس کی چوت پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔) 

ریا شرما جاتی ہے۔ 

تبھی وہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے ایک گفٹ باکس نکال کر زُبینہ کو دے دیتی ہے۔ 

ریا: “ہیپی برتھ ڈے۔ 

زُبینہ: “یہ کیا ہے؟ 

ریا: “کھول کر دیکھ لو۔ 

زُبینہ کھولتی ہے اور اس میں نئے ماڈل کا  آئی فون ہوتا ہے۔ وہ دیکھ کر زُبینہ خوش ہو جاتی ہے۔ 

زُبینہ: “واہ زبردست  گفٹ ہے… تھینک یو۔ 

ریا: “پسند آیا آپ کو یہ گفٹ؟ 

زُبینہ: “بہت پسند آیا 

ریا: “اور دوسرا گفٹ؟” (شرما جاتی ہے۔) 

زُبینہ تبھی ریا کے پاس آ کر پھر سے اس کی چوت پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔ 

زُبینہ: “وہ تو بیسٹ گفٹ تھا۔ 

ریا خوش ہو جاتی ہے۔ پھر سے دونوں کس کرنے لگتے ہیں۔ تھوڑی دیر ایسے ہی کس کرنے کے بعد ریا کو یاد آتا ہے کہ اس کے گھر والے آ رہے ہیں۔ وہ کس توڑتی ہے۔ 

ریا: “چلیں… نہیں تو لیٹ ہو جائیں گے۔ 

زُبینہ: “ٹھیک ہے۔ 

ریا اب اٹھ کر اپنے وارڈروب کی طرف جاتی ہے۔ زُبینہ کے لیے کیا کمال  نظارہ تھا۔ ریا بلکل ننگی اس کے سامنے چل کر جا رہی تھی۔ اس کی گانڈ  اتنی دلکش  لگ رہی تھی۔ زُبینہ کی نظر اس کی گانڈ پر ہی تھی۔ وہ سوچتی ہے 

کیا مست گانڈ ہے یار… آگ ہی لگا دی میرے لنڈ میں اس نے۔ اس کے گھر والے نہ آ رہے ہوتے تو ابھی اس کی گانڈ مار دیتی۔ چل کوئی بات نہیں… اب تو یہ میرے قبضے میں ہے۔ جب دل  کرے چود سکتی ہوں۔ 

ریا اب زُبینہ کے سامنے ہی کپڑے پہنتی ہے۔ دونوں اب نیچے جاتے ہیں۔ نیچے ابھی کافی گھر بکھرا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر ریا تھوڑا گھبرا جاتی ہے۔ اسے سب کچھ صاف کرنا ہوگا سب کے آنے سے پہلے۔ وہ یہ سب سوچ ہی رہی ہوتی ہے کہ شوبھا کچن سے نکل کر آتی ہے۔ 

شوبھا: “گڈ مارننگ! اینڈ ہیپی برتھ ڈے اگین زُبینہ جی۔ 

زُبینہ: “تھینک یو شوبھا جی۔ 

ریا: “تو اتنی صبح صبح کچن میں کیا کر رہی؟ 

شوبھا: “مجھے پتا تھا تم دونوں لو بِرڈز (محبت کرنے والے) تو جلدی اٹھو گے نہیں… اسی لیے میں نے پہلے ہی بریک فاسٹ بنا دیا۔ 

ریا اس بات پر شرما جاتی ہے۔ 

زُبینہ: “آپ لوگ کرو بریک فاسٹ… مجھے نکلنا ہے… پہلے ہی لیٹ ہو گئی ہوں۔ 

وہ اب آگے ہو کر شوبھا کے سامنے ہی ریا کو کس کرتی ہے۔ ریا بھی اچھے سے جوابی کس کرتی ہے۔ 

زُبینہ: “بائے۔ رات کو بات کرتے ہیں۔ 

ریا: “ٹھیک ہے جی۔ بائے۔” 

زُبینہ کے جاتے ہی شوبھا ریا کو پکڑ کر سوفے پر بٹھا دیتی ہے۔ 

شوبھا: “پھر کیسا رہا ریٹرن گفٹ؟ 

ریا: “کیسا ریٹرن گفٹ؟ 

شوبھا: “جھوٹ مت بول… باہر تک آواز آ رہی تھی… ہاہاہا۔ 

ریا شرما جاتی ہے۔ 

شوبھا: “زیادہ شرما مت اب… چل بتا کیا کیا ہوا اور کیسا رہا۔ 

ریا اب ڈیٹیل میں سب کچھ بتا دیتی ہے شوبھا کو۔ 

شوبھا: “اتنا بڑا لنڈ  لے کر کیسا لگا پھر؟ 

ریا: “سچ بتاؤں، پہلے تو اتنا درد ہوا کہ لگا مر ہی جاؤں گی… سہہ ہی نہیں پارہی تھی۔ مگر  پھر زُبینہ جی نے بڑے اچھے سے ہینڈل کیا… پھر بعد میں بہت مزہ آیا۔ 

شوبھا: “بڑی ایکسپیرینسڈ لگتی ہے تیری زُبینہ جی۔ 

ریا: “ہاں… تجھے پتا ہے مجھے 4 آرگزم آئے کل رات 

شوبھا: “سچی… مجھے تو ایک بھی نہیں آتا تیرے بھئیا کے ساتھ۔ 

وہ دونوں باتیں ہی کر رہے ہوتے ہیں کہ تبھی شوبھا کے فون پر شبنم کا میسج آتا ہے۔ ریا وہ دیکھ لیتی ہے۔

ریا: “یہ شبنم کا میسج کیسے آیا تجھے… تمہارے بیچ بھی کچھ ہوا کیا؟ 

شوبھا: “نہیں… اس طرح کچھ نہیں۔ لیکن اس کا من تو پورا تھا… اور ہاں یہ بات  کنفرمڈ ہے کہ یہ روحانہ اور شبنم دونوں بھی شیمیل ہیں۔ 

ریا: “تجھے کیسے پتا؟ 

شوبھا: “کل رات  ان کی پینٹوں میں کھڑے دونوں کے لنڈ صاف نظرآرہے تھے  … ہاہاہا۔ 

ریا: “اوہ ہاں سچ… میں تو بھول ہی گئی تھی پارٹی کا… کیا ہوا ہمارے جانے کے بعد؟ 

شوبھا: “تیرے جانے کے بعد روحانہ اور نینا بھی فل گرم  ہو چکی تھی… اسی لیے تھوڑی دیر بعد وہ بھی سب چلے گئے۔ جاتے ہوئے شبنم اپنا نمبر دے گئی 

ریا: “باقی ٹائم تو نے کیا کیا؟ 

شوبھا: “باقی ٹائم تیری چیخیں سن رہی تھی… ہاہاہا۔

ریا: “تو بھی نہ” 

شوبھا: “ویسے رات کو تیری آوازیں سن کر میرا بھی بڑا دل کررہا تھا ، کہ میں بھی تمہارے روم گھس جاؤں اور تیری زُبینہ کا لنڈ اپنی پھدی میں لے کر خوب انجوائے کروں اور شیمیل کا ایکسپیرینس بھی ہوجائےگا۔ 

ریا: “اتنا دل کررہا ہے تو تیرا بھی کروا دیتی ہوں ایکسپیرینس شبنم کے ساتھ۔ 

شوبھا: “ویسے سچ بولوں جب وہ کل میرے ساتھ فلرٹ کر رہی تھی، پتا نہیں کیا ہو رہا تھا مجھے… بہت اچھا لگ رہا تھا… پتا نہیں کیا جادو ہے ان کے پاس۔ 

ریا: “شروع میں مجھے بھی خود سمجھ نہیں آ رہا تھا… زُبینہ جی کے ساتھ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ 

شوبھا: “سہی کہا تو نے… اس نے جب ہاتھ ملایا… یا کندھے پر ہاتھ رکھا… اندر سے زبردست  ایکسائٹمنٹ ہونے لگتی ہے… سمجھ ہی نہیں آتا کیوں۔ شاید ان کی سٹرانگ پرسنالٹی کی وجہ سے، یا ہمارے ہسبینڈ ہمیں اتنا ایگنور کرتے ہیں کہ ان کی اٹینشن اچھی لگتی ہے 

ریا: “مجھے لگتا ہے شاید ہمارے ہسبینڈ قدر ہی نہیں کرتے… اسی لیے شاید جو قدر کرتا ہے اس کے ساتھ اچھا لگتا ہے۔ 

دونوں کچھ دیر اور ایسی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ریا سمجھ جاتی ہے کہ شوبھا بھی اسی کی سچویشن میں ہے۔ تبھی ریا کو یاد آتا ہے کہ گھر والے آنے والے ہیں اور ابھی گھر کی صفائی بھی کرنی ہے۔ 

ریا: “چل اب جلدی صفائی کرنے میں ہیلپ کر دے… سب کے آنے سے پہلے سب کچھ کلیئر کرنا ہے۔ 

شوبھا: “چل ٹھیک ہے 

دونوں اب پورا گھر اچھے سے صاف کر دیتے ہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page