Shemale Hunter -58- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 58

تھوڑی دیر میں وہ گھر پہنچ جاتی ہے اور فریش ہوکے وہ گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہے۔ فری ہوکر وہ سیدھا کمرے میں آکے شوبھا کو کال لگا دیتی ہے۔ شوبھا فون اٹھا لیتی ہے۔

ریا – ہیلو شوبھا۔

شوبھا – ہیلو۔

ریا – آئی ایم سوری یار صبح کے لیے۔۔ میں نے بغیر سوچے سمجھے تجھ پر غصہ نکال دیا۔

شوبھا – کوئی بات نہیں۔۔ ایٹس اوکے۔

ریا – نہیں۔۔ ایسے نہیں۔ تو بھی مجھ پر غصہ نکال لے

شوبھا – مجھے نہیں نکالنا۔

ریا – مجھے پتا ہے تو ابھی بھی ناراض ہے۔۔ میری ہی غلطی ہے، میں تیری اچھی دوست نہیں بن پائی۔۔ میں تیری سچویشن سمجھ ہی نہیں پائی، تیری کنڈیشن بھی میری جیسی ہی ہے۔۔ اب میں سمجھ گئی ہوں۔ اس لیے اب میں تیری اچھی دوست بن کے دکھاؤں گی۔

شوبھا کا غصہ تھوڑا کم ہوتا ہے۔

شوبھا – ارے ایٹس اوکے۔۔ زیادہ مت سوچ تو ہی میری بیسٹ فرینڈ ہے۔ اور ہاں بھائی کے بارے میں سن کے کسی کو بھی غصہ آجاتا۔

ریا – غصہ تو مجھے ابھی بھئیا پر ہے ،  اور ہاں اب میں تیری نند نہیں۔۔ تیری بیسٹ فرینڈ کی طرح رہوں گی۔

شوبھا – کیا کرنے والی ہے تو؟

ریا – وہ چھوڑ۔۔ یہ بتا بھئیا کہاں ہے؟

شوبھا – وہی جو آج  کل اُس کی مصروفیت،  کسی کلائنٹ سے ملنے آؤٹ آف ٹاؤن گئے ہیں۔۔ پرسوں آئیں گے۔

ریا – سہی ہے۔۔ پھر کل آتی ہوں تیرے گھر، رات رُک جاؤں گی تیرے پاس رات کو اور ہم پرانے ٹائم کی طرح پارٹی کریں گے۔

شوبھا اب تھوڑا خوش ہو جاتی ہے

شوبھا – ٹھیک ہے۔۔ آجا۔ میں سب تیاری کر کے رکھوں گی۔

ریا – اوکے۔۔ ڈن۔ کل پھر نکلنے سے پہلے تجھے میسج کرتی ہوں۔

شوبھا – اوکے بائے۔

ریا – بائے۔

ریا اب شوبھا سے بات کرکے خوش ہو گئی ،  زبینہ کے کہنے کے مطابق اس نے اب شوبھا سے ملنے کا پلان بنا لیا تھا۔۔ وہ اب زبینہ کو یہ بتانے کے لیے اوتاؤلی  ہو جاتی ہے۔۔ اور کل اسے گھر پر بھی بتانا پڑے گا،  تبھی اسے ایوناش کا فون آتا ہے۔۔ ایوناش کا نام دیکھ کے ریا کا موڈ خراب ہو جاتا ہے۔۔ وہ بے دلی سے فون اٹھاتی ہے۔

ایوناش – ہیلو۔۔کیسی ہو؟

ریا – ٹھیک۔۔ تم بتاؤ۔

ایوناش – میں بھی ٹھیک ہوں ، اچھا ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے۔

ریا یہ سن کے تھوڑا گھبرا جاتی ہے۔۔ کہیں ایوناش کا پروجیکٹ ختم تو نہیں ہو رہا۔۔ کہیں وہ واپس تو نہیں آ رہا۔۔ اگر ایسا ہوا تو وہ زبینہ سے کیسے مل پائے گی۔۔ سب نیگیٹو خیالات ریا کے دل میں گھومنے لگ گئے۔۔ اس کے پسینے نکلنے لگ جاتے ہیں۔ ریا ایوناش کی بات سن کے بہت گھبرا جاتی ہے۔۔ اس سے تو کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا۔ وہ بالکل سن ہو چکی تھی۔

ایوناش – ہیلو ریا۔۔آواز آ رہی ہے؟

ریا – جی۔۔ جی۔۔ آ رہی ہے۔

ایوناش – تو پوچھو گی نہیں کیا سرپرائز ہے؟

ریا – جی کیا سرپرائز ہے؟

ایوناش – وہ یاد ہے ہم نے وہ کار لیتے ہوئے لکی ڈرا میں نام ڈالا تھا،  اس میں ہمارا فرسٹ پرائز نکل آیا ہے۔

ریا اب تھوڑا ریلیکس ہوتی ہے

ریا – کیا پرائز ملا؟

ایوناش – دو لوگوں کا گوا کا ایک ہفتے کا ٹرپ۔ فُل سپانسرڈ ان کی طرف سے۔

ریا یہ سن کے خوش ہو جاتی ہے

ریا – سہی ہے۔

ریا بس اس چیز سے خوش ہو رہی تھی کہ ایوناش نہیں آ رہا۔۔ اس نے زیادہ خوشی پرائز پر نہیں جتائی۔

ایوناش – آئی نو تم زیادہ خوش نہیں ہو۔۔ کیونکہ میں وہاں نہیں ہوں اور ہم جا نہیں پائیں گے۔

ریا کو اب تھوڑا پرائز کا احساس ہوتا ہے

ریا – جی۔

ایوناش – لیکن  میں چاہتا ہوں تم اس ٹرپ پر جاؤ۔۔ تمہیں بھی تھوڑا بریک ملے گا اور کچھ ماحول بھی چینج ہو جائے گا، تم دیکھ لو کس کو لے کے جانا ہے، شوبھا کو یا میں جوہی سے بات کروں؟

اب تھوڑا جوہی کے بارے میں جانتے ہیں

جوہی 22 سال کی ہے، ایوناش کی کزن بہن، پڑھائی کے لیے وہ ابھی ہاسٹل میں اسی شہر میں رہتی ہے۔ باقی تفصیلات بعد میں کہانی میں شامل ہوں گی۔

ریا یہ سن کے بہت خوش ہو جاتی ہے۔۔ اس کے دماغ میں بس اب زبینہ کے ساتھ گوا کے سین گھومنے لگ جاتے ہیں۔۔ وہ بہت ایکسائٹ ہو جاتی ہے۔

ریا – مگر  گھر پر کیا بولوں گی؟

ایوناش – تم اس کی فکر مت کرو۔۔ میں بات کر لوں گا۔ اور ہاں یہ ٹکٹس 15 دن کے لیے ہی ویلڈ ہیں۔۔ اس لیے جلدی پلان بنانا ہوگا۔

ریا – جی ٹھیک ہے۔۔ تھینک یو سو مچ۔

ایوناش – تھینک یو کیوں بول رہی ہو۔۔ ہسبینڈ ہوں، اتنا تو کر سکتا ہوں۔ اچھا بتاؤ پھر کس کو لے کے جانا ہے؟

ریا – جی میں سوچ رہی شوبھا کو لے جاؤں۔

ایوناش – ٹھیک ہے۔

ریا – اور میں یہ بھی سوچ رہی  ہوں کہ بھئیا ابھی آؤٹ آف ٹاؤن ہیں تو کل شوبھا کے گھر ہی جا کے اس سے بات کر لوں۔

ایوناش – ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔

ریا – تو جب آپ گوا کی بات کرو ممی جی سے تو یہ بھی بتا دینا۔

ایوناش – ہاں ٹھیک ہے۔۔ میں کل صبح ہی بول دوں گا۔ اب تو خوش ہو؟

ریا – جی بہت۔

ایوناش – بس ایسے ہی خوش رہو تم۔۔ یہی چاہتا ہوں میں۔

ریا – آپ اپنے کام پر دھیان دو۔۔ میں خوش ہی ہوں۔

ایوناش – ٹھیک ہے۔۔ میں تمہیں بکنگ ڈیٹیلز بھیج دیتا ہوں۔ چلو بعد میں کرتا ہوں بات۔

ریا – جی ٹھیک ہے۔ بائے، ٹیک کیئر۔

ایوناش – بائے، لو یو۔

ریا – لو یو ٹو۔

ریا یہ سن کے خوشی سے جھومنے لگ  جاتی ہے۔۔ یہ اس کے لیے بہت بڑا سرپرائز تھا۔۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے ٹرپ پر جانے کا چانس بھی آئے گا زبینہ کے ساتھ۔ وہ اب دل میں سوچتی ہے

کیا ٹھیک سرپرائز دیا ہے ایوناش نے۔۔ اس نے پہلی بار کوئی ڈھنگ کا کام کیا ہے لائف میں۔۔ ہاہاہا۔ گوا میں بہت مزہ آئے گا زبینہ جی کے ساتھ۔۔ پورا ہفتہ ان کے ساتھ گزاروں گی ۔۔ دن رات ان کے ساتھ۔۔ کوئی ڈر نہیں گھر والوں کا ، شوبھا کو کل جا کے منا لوں گی، مگر شوبھا میرے اور زبینہ جی کے ساتھ بور ہو جائے گی ،  اگر شبنم جی بھی ساتھ چلیں تو ۔۔پھر تو ڈبل ڈیٹ ٹائپس ہو جائے گا۔۔ اور مزہ آئے گا۔ اب تو جلدی شبنم اور شوبھا کا سین بنانا پڑے گا۔

ریا بہت  خوش تھی۔۔ اس سے انتظار نہیں ہو رہا تھا زبینہ سے یہ سب باتیں شیئر کرنے کا۔۔ وہ فوراً فون اٹھا کے سیدھا کال ملا دیتی ہے۔ 

زبینہ فون اٹھا لیتی ہے۔

زبینہ – کیا بات، آج تو نے فون کیا؟

ریا – جی۔۔ آج میں بڑی خوش ہوں۔

زبینہ – اچھا۔۔ اتنی پسند آئی آج کی چدائی؟

ریا یہ سن کے تھوڑا شرما جاتی ہے۔

ریا – وہ تو مجھے پسند ہے ہی۔ لیکن  دو اور خوشخبریاں بھی ہیں ۔

زبینہ – پھر بتا

ریا – پہلی تو میری شوبھا سے بات ہوئی۔۔ وہ دو دن کے لیے گھر پر اکیلی ہے۔۔ تو میں نے اسے بول دیا ہے کہ میں آؤں گی ، ساتھ میں آپ اور شبنم جی بھی چلے جانا میرے ساتھ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page