Shemale Hunter -63- شکاری کھسرا

شکاری کھسرا

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکاری کھسرا ۔ ایک ٹرانس جینڈر (شیمیل، خسرا، کھسرا، وغیرہ وغیرہ) ، کی کہانی جو ہم جنس پرستی یعنی گانڈ مروانے کی  نہیں لڑکیوں کو چودنے کی  شوقین تھی۔ اور وہ ایک امیر خاندان کی بہو کو ایک نظر دیکھنے کے بعد اُس کی   دیوانی ہوگئی ، اور اُس کو پٹانے کے لیئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرنے لگی ، اور لڑکی   اُس کو ایک  سمارٹ مضبوط ورزشی جسم  کی لڑکی سمجھتی تھی اور اُس کی اپنی طرف ایٹریکشن دیکھ کر اُس کو ایک لیسبین  لڑکی سمجھنے لگی ۔

   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکاری کھسرا -- 63

شوبھا کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا۔۔ اسے بس اچھا لگ رہا تھا۔ 

زبینہ – تیری فرینڈ کی چدائی کا ٹائم آگیا۔۔ ہاہاہا۔ 

ریا بھی ہنسنے لگتی ہے۔ 

ریا – اور ہمارا ٹائم کب آئے گا

زبینہ ہنستی ہے۔۔ اور ریا کو گود سے اٹھا کے سائیڈ میں بٹھا دیتی ہے۔ 

زبینہ – ہمارا ٹائم میری اس ڈرنک کے بعد آئے گا۔ 

ریا – ہَو۔۔ تب تک میں کیا کروں؟ 

زبینہ ریا کی طرف دیکھ کے اپنے لنڈ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔۔اور  ریا سمجھ جاتی ہے۔ وہ اب زبینہ کے سامنے اپنے گھٹنوں کے بل  بیٹھ جاتی ہے اور زبینہ کی پینٹ کی زپ کھولنے لگتی ہے۔ 

ادھر شبنم شوبھا کو گود میں اٹھائے اس کے بیڈ روم میں چلی جاتی ہے۔۔ شوبھا بس شبنم کو دیکھی جا رہی تھی۔اس پر  ٹیبلٹ کا اثر ڈرنک کے ساتھ بہت  زیادہ ہو چکا تھا، دوسرا وہ دو مہینوں سے سیکس کے لیئے بھی ترسی ہوئی تھی، اور تیسرا پچھلے کچھ دن پہلے اُس نے ریا کے گھر میں جو کچھ دیکھا تھا اور پھر ریا کے روم کے باہر کھڑے کھڑے اُن کی پوری چُدائی کی آوازیں اور چیخیں ، آہیں ، سسکیاں سن سُن کر وہ اپنی چوت کو مسلتی رہی تھی۔ اور اب شبنم اتنا زیادہ اُس کو گرم کرچکی تھی ساتھ میں ریا اور زُبینہ کے شہوانی کھیل کو بھی دیکھ دیکھ کر اُس کے  اندر ایک آگ بھڑک چکی تھی۔ اس لیئے اب شوبھا نے  خود آگے بڑھ کے شبنم کو کس کرنے لگ جاتی ہے۔ شبنم شوبھا کو بیڈ پر بٹھا دیتی ہے۔۔ اور اس کے اوپر آکے کس کرنے لگتی ہے، تھوڑی دیر ایسا کرنے کے بعد شوبھا اب بہت ہارنی ہو چکی تھی، وہ اب شبنم کو سائیڈ کرکے خود اس کے اوپر آجاتی ہے۔۔ اب شوبھا شبنم کو بہت  وائلڈ کس کرنے لگ جاتی ہے، شوبھا کی اس حرکت سے شبنم کا لنڈ بالکل ٹائٹ ہو جاتا ہے۔

شوبھا تھوڑی دیر بعد کس روک کے بیٹھ جاتی ہے۔۔ پھر وہ بڑے سیکسی انداز سے دھیرے دھیرے  سے اپنا ٹاپ خود اتارتی ہے۔ شبنم یہ دیکھ کے بہت خوش ہو جاتی ہے۔۔ کہ شوبھا اب خود چدنے کو تیار ہے،ادھر شوبھا بغیر دیر کیے اپنی برا بھی اتار دیتی ہے۔ شوبھا کے بوبز بھی بالکل نرم اور گول ہوتے ہیں۔۔ بالکل دودھ جیسے گورے اور ریا کی طرح شوبھا کے بھی پنک نپلز تھے۔

شبنم یہ دیکھ کے پاگل ہو جاتی ہے۔۔ اس نے پہلے اتنی گوری چھاتیاں نہیں دیکھی تھیں۔۔ وہ تو بس دیکھتی ہی رہ جاتی ہے۔ اور بے چین ہوکر شبنم اپنا ہاتھ سیدھا شوبھا کے مموں  پر لے جاتی ہے اور اچھے سے دبانے لگتی ہے۔شبنم کا ٹچ محسوس کرتے ہی شوبھا کو بہت مزہ آنے لگ جاتا ہے۔۔ اتنے ٹائم بعد کوئی اس کے چھاتیوں کو دبا رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر ایسے ہی دبانے کے بعد شوبھا اب شبنم کی طرف دیکھتی ہے۔

شوبھا – بس ایسے ہی دباتی رہو گی کیا، اور بھی کچھ کرونا۔ 

شبنم یہ سن کے جلدی سے اُٹھ کر  بیٹھ جاتی ہے اور شوبھا کو پکڑ کے اپنے اور قریب لے آتی ہے۔۔ وہ اب پہلے شوبھا کو کس کرتی ہے۔۔ پھر اپنا منہ نیچے لے جا کے شوبھا کے مموں  کو اپنے منہ میں لے کے چوسنے لگتی ہے، شوبھا کے ممے اتنے سافٹ تھے۔۔ کہ شبنم نے اتنے سافٹ ممے پہلے کبھی  نہیں چوسے تھے۔۔ وہ پاگلوں کی طرح شوبھا کے دونوں مموں  کو بڑے مزے سے باری باری چوس رہی تھی۔شوبھا کو بھی بہت مزہ آ رہا تھا۔ شوبھا کے دونوں ممے  شبنم کے تھوک سے اچھے سے گیلے ہو چکے تھے۔

 تھوڑی دیر بعد شوبھا شبنم کو  خود سے علیحدہ کرتی ہے اور اُس کی شرٹ پکڑ کر نکال دیتی ہے ، تو شبنم اپنے ہاتھ موڑ کر اپنی سپورٹس برا بھی اُتار دیتی ہے، جس سے اُس کے کڑک 34 سائز کے ممے اُس کی چھاتی پر کسی ٹرافی کی طرح نظر آنے لگ جاتے ہیں ، جن کو دیکھ کر شوبھا بے چین ہوکر شبنم کو بیڈ پر دھکا دیتے ہوئے لٹا دیتی  ہے۔۔ اور خود شبنم کے اوپر چھڑ کر لیٹتے ہوئے شبنم کے مموں کو دونوں ہاتھوں میں پہلے پکڑ کرپہلے تھوڑی دیر غور سے دیکھتے ہوئے ہلکے ہلکے دباتی ہے جیسے کسی ربڑ کے گیند کو دباتے ہیں پھر ایک دم جھک کر شبنم کے دائیں ممے کو منہ میں بھر کر چوسنے لگ جاتی ہے ۔شبنم کے جسم کو ایک جھٹکا لگتا ہے اور اُس کے منہ سے بے اختیار سسکیاں نکل جاتی ہیں ، اور وہ شوبھا کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اُس کے سر کو اپنے ممے پر دبادیتی ہے ،  اور ساتھ ساتھ ایک ہاتھ اُس کی کمر پر کھمانے لگ جاتی ہے۔

شوبھا  دس پندرہ منٹ اچھے سےشبنم کے  دونوں مموں کوچوسنے کے بعد  تھوڑا   نیچے ہوکے شبنم کے پیٹ کو چومنے چاٹنے لگ جاتی ہے اور اسی طرح سے نیچے تک چومتی چاٹتی اُس کی پینٹ کے پاس آجاتی ہے۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اب پینٹ میں بند شبنم کا بڑا لنڈ تھا، شوبھا بغیر دیر کیے شبنم کی پینٹ کھولنے لگتی ہے۔۔ کچھ ہی سیکنڈ میں شبنم کا لنڈ پینٹ سے آزاد ہو چکا تھا اور شوبھا کے بالکل سامنے تھا۔ اتنا بڑا موٹا لنڈ دیکھ کے شوبھا کی آنکھیں پوری طرح سے کھل کر بڑی ہو جاتی ہیں کیونکہ اس نے اپنی لائف میں اتنا بڑا لنڈ نہیں دیکھا تھا۔۔ شاکٹل کا لنڈ تو آدھا بھی نہیں ہوگا اس کے آگے ۔۔ شوبھا اپنے دونوں ہاتھوں سے اب شبنم کا لنڈ پکڑ لیتی ہے اور ہلکے ہلکے ہلانے لگتی ہے۔ تھوڑی دیر وہ ایسے ہی لنڈ کو دیکھتی رہتی ہے اور سہلاتی رہتی ہے۔ 

شبنم – تو بھی اب بس دیکھتی رہے گی یا کچھ اور بھی کرے گی؟ 

شوبھا کا بڑا دل تھا لنڈ کا چوپا لگانے کا لیکن شاکٹل کو پسند نہیں تھا اس لیئے اُس وہ کبھی چوپا لگانے نہیں دیتا تھا۔۔ اس لیے شبنم کی بات سُن کر شوبھا بغیر ٹائم ویسٹ کیے سیدھا شبنم کا لنڈ اپنے منہ میں لے لیتی ہے۔۔ پہلے بس شوبھا شبنم کے لنڈ کی ٹِپ کو منہ میں لے کے چوسنے لگتی ہے۔ شبنم نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ شوبھا پہلی بار میں ہی اس کا لنڈ منہ میں لے لے گی، شوبھا اب دھیرے دھیرے اور لنڈ منہ میں لے کے چوسنے لگتی ہے۔ اسے اچھے سے چوسنا نہیں آ رہا تھا۔۔ مگر  وہ پھر بھی جتنا ہو سکتا اتنا کرتی رہی۔ 

تھوڑی دیر ایسے ہی لنڈ چوسنے کے بعد شبنم سے رکا نہیں گیا ۔۔ وہ اب شوبھا کو روک کے اسے بیڈ پر لیٹا دیتی ہے اور اس کی شارٹس بھی اتار دیتی ہے

شوبھا نے پینٹی نہیں پہنی تھی تو شارٹس اتارتے ہی اس کی چوت شبنم کو نظر آجاتی ہے۔ شوبھا کی چوت ویسے تو صاف تھی مگر اُس پر  ہلکے ہلکے بال تھے۔۔ اور چوت اس کی بھی گلابی ہی تھی ریا کی طرح۔ شوبھا اب بالکل ننگی اپنے بیڈ پر شبنم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی چوت میں دھکتی ہوئی  آگ بھڑکی  ہوئی تھی۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page