Smuggler –252–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 252

تمہاری نظریں دیوی پر تھیں اور یہ بھی اتفاق ہے کہ اس روز کسی راج کمار نے اسے تمہارے ساتھ گاڑی میں دیکھ لیا تھا۔ تمہیں یقین ہو گیا تھا کہ دیوی تمہارے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہوگی اور تم یہاں کے دولت مندوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹوگی اور جب تم نے ہماری ویڈیو فلم بنائی تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ تم یہاں کے بڑے بڑے لوگوں کو اس طرح بھی بلیک میل کرتی ہو ۔ اتنی دولت ایسے ہی تو اکٹھی نہیں ہو جاتی۔ دیوی  میری وہ ساتھی ہے جس نے  منی لال اور کرشمہ کے خلاف جنگ میں قدم قدم پر میرا ساتھ دیا۔ اس نے میری خاطر، ایک بار نہیں کئی بار موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھانکا ہے جو عورت میرے لئے موت کے منہ میں چھلانگ لگا سکتی ہے کیا تم سمجھتی ہو کہ میں اس سے دھوکا کروں گا اور اسے تم جیسی شیطان عورت کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔“

” تم پچھتاؤ گے۔ گیتا نے کہا اور پھر اس نے اچانک ہی اٹھ کر دروازے کی طرف چھلانگ لگادی۔

مگر دیوی مجھ سے زیادہ پھر تیلی ثابت ہوئی۔ اس نے جلدی سے ٹانگ آگے کر دی۔ گیتا اس کی ٹانگ سے الجھ کر لڑ کھڑاتی ہوئی دروازے میں گری اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلنے کی کوشش کرتی دیوی نے اسے چھاپ لیا۔

وہ دونوں ایک دوسرے کو رگڑتی ہوئی راہداری میں آگئیں۔ دونوں کے منہ سے بلیوں جیسی غراہٹیں نکل رہی تھیں۔ میں قریب کھڑا دلچسپ نظروں سے انہیں لڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ دونوں نے ساڑھیاں پہن رکھی تھیں اور دونوں بار بار اپنی ہی ساڑھیوں میں الجھ رہی تھیں ۔ دونوں کے بلاؤز پھٹ گئے تھے اور بال چڑیوں کے گھونسلوں کی طرح بکھر گئے تھے۔ دیوی گیتا پر حاوی تھی۔ اس نے جلد ہی گیتا کوزیر کر لیا اور اس کے سینے پر سوار ہو کر اس کے  بلاؤز پر پنجے جمادیئے اور چھیر پھاڑ کرکے اس کے بلاؤز سمیت برا  بھی   پھاڑ کر اس  کی چھاتی پر پنجوں کی وار کرنے لگی۔

گیتا اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی مگر دیوی میں نجانے اتنی طاقت کہاں سے آگئی تھی۔

“کنجری ہماری فلم بناکر ہمیں ہی بلیک میل کرے گی۔ دیوی گیتا پرغرائی۔ اور اس کا  گلا دبا کر پورا  زور ڈال  گئی۔

گیتا کی آنکھیں حلقوں سے ابل آئیں۔ اس کے حلق سے خرخراہٹ کی سی آواز نکل رہی تھی ۔ اس کی قوت مدافعت بھی ختم ہوتی جارہی تھی اور آخر کار وہ بے حس و حرکت ہو گئی مگر دیوی نے اس کے گلے سے ہاتھ اس وقت تک نہیں ہٹائے جب تک اس کی موت کا یقین نہیں ہوگیا۔ دیوی اسے چھوڑ کر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھی دیر تک ہانپتی رہی۔

اب جلدی سے اٹھ کر اپنا حلیہ درست کرو تا کہ ہم یہاں سے نکل چلیں۔ میں نے دیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

دیوی نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور پھر اٹھ کر گیتا والے کمرے میں گھس گئی۔ میں اپنےکمرے سے سوٹ کیس نکال کر لاؤنج میں آ گیا۔دیوی  تقریبا پندرہ منٹ بعد کمرے سے باہر آئی۔ اس نے اپنے بال وغیرہ درست کر کے گیتا کی ایک اور ساڑھی پہن لی تھی۔

ہم دونوں برآمدے میں آگئے۔ میں نے دروازہ بند کر دیا اور سوٹ کیس اٹھائے برآمدے سے اتر کر کار میں آگیا۔ چابیوں کا گچھا کار میں لگا ہوا تھا۔ میں نے سوٹ کیس ڈکی میں رکھا اور  دیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

تم کار اسٹارٹ کرکے لاؤ، میں گیٹ کھولتا ہوں۔

میں دوڑ کر گیٹ کے قریب پہنچ گیا۔ اس دوران دیوی بھی کار کو گھما کر اس طرف لے آئی۔ میں نے گیٹ کھول دیا تھا۔ دیوی نے کار باہر نکال کر روک لی۔ میں نے گیٹ بند کیا اور کار کی پسنجرز سیٹ پر بیٹھ گیا۔ دیوی نے کار دائیں طرف موڑ لی اور اس کی رفتار بڑھاتی چلی گئی۔

 گیتا نے غلط نہیں کہا تھا۔ شہر میں واقعی چپے چپے پر پولیس موجود تھی۔ اہم سڑکوں پر بعض مقامات پر گاڑیاں روک کر چیکنگ بھی کی جارہی تھی اور میرا خیال تھا کہ یہ سب کچھ بیکار تھا نہ تو مجھے کوئی پہچانتا تھا اور نہ ہی دیوی  کو۔ کرشمہ ہی ایسی ہستی تھی جو ہم دونوں کی صورت سے آشنا تھی لیکن ظاہر ہے وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی جگہ پر موجود ہوسکتی تھی۔ بیک وقت مختلف جگہوں پر اس کی موجودگی کا تصور محال تھا۔

اس میں شبہ نہیں کہ کرشمہ نے میرا حلیہ بتا دیا ہوگا لیکن ہر شخص اتنا ذہین نہیں تھا کہ محض بتائے ہوئے حلیےسے کسی کو شناخت کر لیا جائے اور پھر پچھلے تین چار دنوں کے دوران کچھ تبدیلی بھی آگئی تھی۔ اس دوران شیو کسی حد تک بڑھ گیا تھا اور مونچھیں تو میں نے اس روز صاف کر دی تھیں جب گیتا ہمیں یہاں لے کر آئی تھی اور پھر کرشمہ نے مجھے ٹرین میں اکیلے ہی دیکھا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ میرے ساتھ کوئی اور تھا بھی یا نہیں۔ اگر تھا بھی تو وہ کون تھا۔ کوئی مرد یا عورت ؟ بہر حال بہت سی باتیں تھیں جو میری شناخت کے سلسلے میں دوسروں کے لئے الجھن پیدا کر سکتی تھیں۔

دیوی کار کو شہر کی مختلف سڑکوں پر دوڑاتی رہی۔ شہر سے باہر جانے کا راستہ نہ اسے معلوم تھا اور نہ مجھے۔

راستوں سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہم گھومتے ہوئے کلاک ٹاور کی طرف نکل آئے۔ گھنٹا گھر چوک کا یہ علاقہ شہر کا سب سے بارونق علاقہ تھا۔ چیکنگ اس طرف بھی ہورہی تھی۔

پولیس والے ہر طرف دندناتے پھر رہے تھے اور میرے خیال میں وہ چغد ہی تھے جو اس طرح مکمل شناخت کے بغیر کسی کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔ اس علاقے میں لاتعداد ریسٹورنٹ اور کئی چھوٹے بڑے رہا ئشی ہوٹل بھی تھے۔ ان ہوٹلوں میں لوگوں کو تنگ تو کیا جا سکتا تھا مگر کسی کو تلاش کرنا ممکن نہیں تھا۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میری تشویش بڑھ رہی تھی۔ اندیشہ اس بات کا تھا کہ اگر گیتا  کا کوئی جاننے والا اس کے بنگلے پر پہنچ گیا تو گڑ بڑ ہوجائے گی ۔ ظاہر ہے ہمیں گیتا کے بنگلے میں کسی نے نہیں دیکھا تھا مگر اس کی کار کی تلاش شروع ہوسکتی تھی۔ گیتا اس شہر کی بہت معروف شخصیت تھی اور مجھے یقین تھا کہ بہت سے لوگ اس کی کار کو بھی پہچانتے ہوں گے اور کار کی شناخت ہمارے لیئے مسئلہ بن سکتی تھی ۔

سب سے زیاد اندیشہ مجھے شریا  کیطرف سے تھا۔ وہ آج کسی بھی وقت واپس آسکتی تھی۔

“اس طرح تو ہم پورے شہر میں گھومتے رہیں گے اور ہمیں باہر جانے کا راستہ نہیں ملے گا۔ میں نے دیوی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس وقت ہم نجانے کہاں کہاں گھومتے ہوئے امید بھون کی طرف نکل آئے تھے۔ بہتر ہوگا کہ کسی سے راستہ پوچھ لیا جائے۔”

دیوی  نے کار ایک موڑ پر روک لی جہاں ایک ناریل فروش کی ریڑھی کھڑی تھی۔ ریڑھی کے قریب ایک نو جوان لڑکی اور ایک مرد کھڑا تھا وہ دونوں ناریل میں اسٹرا لگائے اس کا پانی پی رہے تھے۔

“او  بھایا”۔ میں نے ناریل فروش کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “

مندور جانے کا  راستہ کس طرف کو ہے؟”

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page