Smuggler –260–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 260

میں بری طرح چیخ  اٹھا۔ کرشمہ نے اس موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور دونوں ہاتھ ملا کر کسی ریسلر  کی طرح میری گردن پر زور دار دو پتھر مار دیا۔ میں منہ کے بل نیچے گرا ۔

میرا خیال تھا  کرشمہ مجھ پر اس طرح کا کوئی دوسرا  وار کرے گی لیکن وہ حملہ کرنے کے بجائے دو تین گز دور پڑی ہوئی را ئفل کی طرف لپکی ۔لیکن دوسرے ہی لمحے اس کی چیخ سن کر میں چونک گیا۔

دیوی نے میری چیخ سن لی تھی اور پھر اس نے کرشمہ کو  رائفل کی طرف لپکتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا۔  وہ  راتنا  سنگھ کو چھوڑ کر کرشمہ کی طرف لپکی اور اسے آدھے راستے ہی میں جالیا ۔ دیوی کی ٹکر لگنے سے کرشمہ لڑکھڑا کر پتھروں پر گری اور اس کے منہ سے نکلنے والی چیخ نے ہی مجھے اس طرف متوجہ کیا تھا۔ دیوی نے کرشمہ  کو سنبھلنے کا موقع دیئے بغیر اسے ایک زور دار ٹھوکر رسید کردی اور لپک کر رائفل اٹھالی۔

” اب کوئی حرکت کی تو بھون ڈالوں گی گولیوں سے۔ دیوی کرشمہ کو رائفل کی زد پر لے کر غرائی۔ میں بھی اس وقت تک سنبھل چکا تھا۔ پہلے میں نے کرشمہ  کی طرف دیکھا اور پھر راتناسنگھ کی طرف دیکھتے ہی چیخ اٹھا۔ راتنا زمین پر پڑا ہوا تھا۔ اس نے خنجر کو نوک کی طرف سے پکڑ رکھا تھا۔ وہ دیوی پر خنجر پھینکنےکیلئے پر تول رہا تھا۔

دیوی  بچو ۔ میں چیخا۔

دیوی بڑی پھرتی سے ایک طرف جھک گئی اور خنجر زن کی آواز سے اس کے قریب سے گزر گیا۔ دیوی فورا ہی سنبھل گئی۔ اس نے رائفل راتنا  سنگھ کی طرف اٹھا کر ٹریگر دبا دیا۔ تڑ تڑاتی ہوئی کئی گولیاں راتنا  سنگھ کے جسم کے مختلف حصوں میں پیوست ہو گئیں۔ اس کے حلق سے نکلنے والی آخری چیخ بڑی خوفناک تھی۔ کرشمہ نے اٹھنے کی کوشش کی مگر پھر سے دوبارہ زمین پر گر گئی۔ اس کے چہرے پر بے پناہ خوف کے تاثرات ابھر آئے تھے۔ بازی پلٹ گئی تھی۔ چند منٹ پہلے ہم اس کے رحم و کرم پر تھے لیکن اب وہ اپنا  سب کچھ ہار بیٹھی تھی۔ دیوی نے جس بے رحمی سے راتنا  سنگھ کو گولیوں سے چھلنی کیا تھا اس نے  کرشمہ کو بھی دہلا کر رکھ دیا تھا۔

 میں نے دیوی کو پہلے بھی لڑتے ہوئے دیکھا تھا۔ آج دن میں تو  گیتا سے اس کی دھواں دھار قسم کی فائٹ ہوئی تھی مگر وہ عورتوں کی لڑائی تھی اور اب دیوی نے جس طرح راتنا سنگھ کو  رگیدا اور گھسیٹا تھا  وہ قابل تعریف تھا اور  میں یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کروں گا کہ میری نئی زندگی دیوی  ہی کی مرہون منت تھی۔ اگر وہ وقت پر کارروائی کر کے رائفل پر قبضہ نہ کر لیتی تو اس وقت ہم زمین پر پڑے ہوتے اور کرشمہ ہم سے حساب کتاب کر رہی ہوتی اور راتنا سنگھ دیوی کا جو حشر کرتا وہ تو میں جانتا ہی تھا۔  وہ جے پور پہنچنے کا انتظار نہ کرتا بلکہ اسی جگہ دیوی کے بخیے ادھیڑ دیتا۔

میری ناف کے نچلے حصے میں اب بھی درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔ کم بخت کرشمہ نے بڑی زور دار ٹھوکر ماری تھی۔ میں اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتا ہوا چند قدم دور تک گیا اور پھر واپس آ گیا۔ اس طرح تھوڑی دیر چلنے سے میری حالت کچھ بہتر ہوگئی۔

“تم خوش قسمت ہو کہ دیوی نے رائفل کا رخ تمہاری طرف نہیں کر دیا۔ میں نے کرشمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔  اب کیا  ارادہ ہے یہیں پڑی رہوگی یا ہمارے ساتھ جانا چاہتی ہو۔”

“میرا  تو خیال ہے کہ اسے بھی یہیں پر ختم کر دیا جائے ” کرشمہ سے پہلے  دیوی بول پڑی۔اس کا چرچا ہی  ختم ہو جانا چاہئے اگر یہ پھر بچ کر نکل گئی تو ہمارے لئے اسی طرح قدم قدم پر دشواریاں پیدا کرتی رہے گی ۔ اس نے رائفل کا رخ کرشمہ کی طرف کر دیا اور انگلی ٹریگر پر رکھ لی۔

“نن،،، نہیں دیوی۔۔۔” میں نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ یہ ہماری زندگی کی ضمانت ہے۔  قدم قدم پر ہمارے کام آئے گی۔ ابھی تک ہم ڈینجر زون میں ہیں، خطرے سے نکلنے کے بعد کوئی مناسب موقع دیکھ کر ہم اسے ٹھکانے لگا دیں گے۔

کرشمہ کے چہرے پر خوف کے سائے کچھ اور گہرے ہوگئے اس نے پہلے دیوی کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے ہاتھ میری طرف بڑھا دیا۔  اس کا انداز ایسا تھا جیسے اب تک یہ سب کچھ محض کھیل ہو رہا ہو ۔ خوف کے سائے بھی اس کے چہرے سے ایک دم غائب ہوگئے تھے اور حیرت انگیز طور پر اس کے ہونٹوں پر خفیف کی مسکراہٹ آگئی تھی ۔

میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکے سے اسے اٹھا دیا۔ وہ اس طرح اپنے کپڑے جھاڑنے لگی جیسےیہ سب کچھ مذاق تھا۔ میں تقریباً چھ مہینوں سے کرشمہ سے زندگی اور موت کی آنکھ مچولی کھیل رہا تھا اس کی فطرت سے بڑی حد تک واقف ہو چکا تھا۔ اس کے ہتھکنڈوں اور چالاکیوں ہے واقف تھا۔ اس نے اگر چہ اس وقت ہتھیار ڈال دیئے تھے مگر میں جانتا تھا کہ وہ موقع ملتے ہی کوئی نہ کوئی حرکت کر گزرے گی۔ میں بڑی گہری نظروں سے اس کی حرکتوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ مجھے شبہ تھا کہ اس کی جیب میں کوئی پستول وغیرہ ہوگا۔

میں  نے کرشمہ کے جسم کو اوپر سے نیچے تک ٹٹول ڈالا ۔حتی کہ اس کے بریزر اور چوتڑوں تک کا بھی  ٹٹولا مگر اس کے پاس خنجر یا پستول نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ میں اس کے سامنے آگیا۔

“تسلی ہوگئی ۔” وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی۔ اس وقت تو میں ہار مان گئی لیکن یہ زندگی کی آخری بازی نہیں ہے۔ میں جیون کے آخری لمحوں تک مزاحمت جاری رکھوں گا۔ تمہیں اپنے دیش کی سرحد سے نکلنے نہیں دوں گی لیکن کاش ! تم ہمارے آدمی ہوتے ۔

آخری بات کہتے ہوئے اس کے منہ سے بےاختیار گہرا سانس نکل گیا۔

 دوسروں کو پیار محبت اور اخلاق سے اپنا بنایا جاتا ہے،  دہشت گردی سے نہیں ۔ میں نے جواب دیا ۔ اگر تم لوگ خلوص نیت سے ہمارے ملک کے وجود کو تسلیم کر لیتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ہم ایک دوسرے کی دشمنی میں اپنی توانائی ضائع نہ کر رہے ہوتے۔ یہ ساری توانائیاں اپنے اپنے عوام کو خوشحال بنانے میں صرف ہوتیں تو آج برصغیر کے ان دونوں ممالک کو سپر پاورز تسلیم کر لیا گیا ہوتا لیکن تمہاری سرکار نے ہمارے وجود کو اپنے لئے خطرہ سمجھا اور شروع ہی سے ہمارے وجود کو مٹانے کی کوششیں کر رہی ہے ۔”

” تقریر اچھی کر لیتے ہو۔” کرشمہ نے کہا۔ اب کیا ارادہ ہے، انہی ویران پہاڑیوں میں زندگی گزارنا چاہتے ہو کیا ؟”

پروگرام یہ ہے کہ تم ہمارے ساتھ چلو گی ۔ میں نے کہا۔ مگر اس طرح نہیں، مجھے اب تم پر اعتبار نہیں رہا بلکہ شروع ہی سے تم پر اعتبار نہیں تھا۔  ہاتھ پیر باندھ کر تمہیں جیپ میں ڈال دیا جائے گا اگر میں تمہیں دیوی کے حوالے کردوں تو یہ شاید تمہیں ایک منٹ بھی زندہ رکھنا پسند نہ کرے۔ تم میری بدترین دشمن  ہو۔ مجھے اس عذاب میں مبتلا کرنے میں تمہارا بڑا ہاتھ ہے لیکن نجانے کیا بات ہے کہ میں تمہیں جان سے نہیں مارنا چاہتا یا کم سے کم اپنے ہاتھوں سے یہ کام نہیں کرنا چاہتا۔ بہر حال اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کہ تمہارا کیا کیا جائے۔  فی الحال۔۔۔۔۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page