Smuggler –265–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 265

 اس وقت کرشمہ ہمارے ساتھ تھی اور وہ ہمیں جے پور کی طرف لے جانا چاہتی تھی ۔ وہ غالباً یہی سمجھتی تھی کہ ہم جے پور جانا چاہتے ہیں۔ رات آدھی سے زیادہ  بیت  چکی تھی۔ ہمارے چاروں طرف ریگستان تھا۔ کسی ریگستان میں سفر کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دن میں بھی اور رات میں بھی۔ دن میں ریت گرم ہو کر آگ اگلنے لگتی ہے اور رات کے وقت ریت ٹھنڈی ہو کر خنکی پیدا کر دیتی ہے اور بعض اوقات تو یہ سردی نا قابل برداشت ہو جاتی ہے۔ اس وقت سردی اگر چہ نا قابل برداشت تو نہیں تھی لیکن بدن میں ہلکی سی تھڑن پیدا کر رہی تھی۔

دیوی جیپ کی پچھلی سیٹ پر خاموش بیٹھی ہوئی تھی جب سے راستے میں کرشمہ سے اس کی جھڑپ ہوئی تھی اس وقت سے اسے چپ سی لگ گئی تھی۔ اسے شایدیہ بات بھی کھل رہی تھی کہ میں کرشمہ سے باتیں کیوں کر رہا تھا۔ اس پر اتنا اعتماد کیوں کر رہا تھا لیکن کرشمہ  پر مجھے اعتماد بالکل نہیں تھا اس میں شک نہیں کہ چرم پورم میں وہ ہمارے بڑے کام آئی تھی۔ اپنی جان کے خوف سے یا کسی اور وجہ سے وہ ہمیں پولیس سے بچا لائی تھی ۔ اگر میں اور دیوی اکیلے ہوتے تو یقینا اس قصبے میں پولیس کے قابو آچکے ہوتے لیکن یہ کرشمہ ہی تھی جو ہمیں بچا لائی تھی اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ اس نے یہ سب کچھ جان کے خوف سے کیا تھا۔ پولیس چوکی کے اندر تو ہم اس پوزیشن میں تھے کہ ہمیں بہت آسانی سے سلاخوں کے پیچھے بند کیا جاسکتا تھا اور میں اپنے پاس کارا کوف ہونے کے باوجود  کرشمہ  کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا۔ کرشمہ یقینا کوئی بہت اونچا کھیل کھیل رہی تھی۔ وہ ہمیں کچھ اس طرح شکنجے میں کرنا چاہتی تھی کہ ہم اس کا تصور بھی نہ کر سکیں۔

آگے ایک بار پھر پہاڑی علاقہ شروع ہو گیا تھا ابھی راستہ اتنا زیادہ دشوار نہیں تھا۔ کرشمہ ڈرائیونگ میں بھی بڑی مہارت کا ثبوت دے رہی تھی۔

“ایک بات میں تم سے پوچھنا بھول گئی ۔ کرشمہ نے ایک موڑ کاٹتے ہوئے کہا۔ “پنڈت روہن کے بنگلے کے تہہ خانے میں تم نے مجھے ایک ایسا کمرہ بھی دکھایا تھا جس میں اس کا خزانہ بھرا ہوا تھا، خوبصورت الماریاں ، شوکیس وغیرہ جن میں سونے کی مورتیاں، جواہر اور قیمتی چیزیں بھری ہوئی تھیں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔

 مگر جب تم اس تہہ خانے میں پہنچیں تو وہ کمرہ ہی غائب تھا۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

کیسے؟ وہ اچھل پڑی۔ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں بعد میں وہاں گئی تھی۔”

“تمہارے پاس یہ عینک ہے جس سے تم اندھیرے میں بھی دیکھ سکتی ہو لیکن میری نظریں  اس سے بھی زیادہ تیز ہیں۔ میں ننگی آنکھوں سے زمین کی گہرائیوں میں بھی دیکھ سکتا ہوں ۔ ” میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ”

“میں وہ منظر بھی نہیں بھول سکتا جب تم اروند کو روہن والے کمرے کے باہر چھوڑ کرتہہ خانے میں گئی تھیں اور پاگلوں کی طرح اس کمرے کو تلاش کردی تھیں۔ دیواروں کو ٹھونک بجا کر دیکھ رہی تھیں۔ اس وقت تمہاری مایوسی قابل دید تھی۔

“تمہیں یہ سب کچھ کیسے پتہ چلا؟ کیا تم۔۔۔۔”

میں نے کہا  نا  کہ ۔۔۔میں زمین کی گہرائیوں میں بھی دیکھ سکتا ہوں۔” میں نے جواب دیا۔

 اس کا مطلب ہے تم اس وقت بنگلے میں موجود تھے اور کسی طرح مجھے دیکھ ۔۔۔ اوہ ۔ وہ یکایک خاموش ہو گئی۔

میں وہاں سے کم از کم دو میل دور تھا۔ کرشمہ کے خاموش ہونے پر میں نے کہا۔

سمجھ گئی ۔ ” کرشمہ بولی۔ ” روہن بہت چالاک آدمی تھا۔ اس کے بنگلے میں شارٹ سرکٹ ٹی وی لگوا ر کھا تھا ممکن ہے کسی اور جگہ۔۔۔ وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئی۔

“دو میل دور ” میں نے کہا۔ ایک چھوٹے سے مکان میں بیٹھا میں سب کچھ دیکھ رہا تھا۔

اور وہ کمرہ ؟ ” کرشمہ نے پوچھا۔ جس پر وہ خزانہ بھرا ہوا ہے؟

“وہ تمہارا سپنا تھا۔” میں ایک بار پھر مسکرا دیا۔ میں نے تمہیں تہہ خانے میں ایسا کوئی کمرہ نہیں دکھایا۔ تم نے کوئی سپنا دیکھا ہوگا اور ہاں یہ تو بتاؤ ہمارے وہاں سے فرار کے بعد اروی سے تو تمہارا آمنا سامنا نہیں ہوا؟

روہن کی رکھیل ۔ کرشمہ نے کہا۔ ” کہاں ہے وہ ۔۔۔میرا تو خیال تھا کہ وہ بھی تمہارے ساتھ ہی غائب ہو گئی تھی۔

“نہیں ” میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ ہم سے الگ ہوگئی تھی۔ اس کا ارادہ جیسلمر جانے کا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ موقع پا کر اس طرف نکل گئی ہو ۔

” تم بہت چالاک ہو۔ کرشمہ نے کہتے ہوئے ایک جگہ جیپ روک لی۔”

“ کیا ہوا؟“ میں نے پوچھا۔

اب جیپ تم چلاؤ۔ میں تھک گئی ہوں۔” وہ کہتے ہوئے نیچے اتر گئی۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ دیوی بڑی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے اس سیٹ پر آئی تھی جو میں نے خالی کی تھی۔ اس نے مجھ سے رائفل بھی لے لی تھی۔ کرشمہ پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

“مانے  پہلے اسے باندھ دو پھر جیپ آگے بڑھانا۔” دیوی نے کہا۔

“میں چلتی جیپ سے چھلانگ لگا کر کہیں بھاگوں گی نہیں ۔”  کرشمہ نے اس کی بات سن کر کہا۔ ان پہاڑیوں میں خونخوار بھیڑیوں کی خوراک بننے سے بہتر تو یہی ہے کہ  مانے ہی کے ہاتھوں ماری جاؤں۔

“بہت شوق ہے  مانے کے ہاتھوں مارے جانے کا۔ دیوی بولی۔ اس کے لہجے میں بے پناہ طنز تھا۔

ہاں۔  کچھ ایسا  ہی سمجھ لو ۔ کرشمہ نے جواب دیا۔

میں گڑ بڑا گیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ ان میں پھر کوئی معرکہ نہ شروع ہو جائے۔ بڑی مشکل سے

انہیں خاموش کرانے میں کامیاب ہو سکا تھا۔

 راستہ خاصا خطر ناک تھا۔ مسلسل بلندی اور خطرناک موڑ ۔  ذرا سی غفلت موت کے منہ میں دھکیل سکتی تھی۔ کرشمہ بتا رہی تھی کہ اسی سلسلہ کوہ میں کہیں ماربل کی پہاڑیاں بھی تھیں۔ چاندنی راتوں میں وہ منظر قابل دید ہوتا ہے جب ماربل کی پہاڑیاں چمکتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

ایک خطرناک موڑ گھومتے ہی جیپ کا انجن کھانسنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ اگر ان پہاڑیوں میں جیپ خراب ہوگئی تو رات کا باقی حصہ ہمیں یہیں گزارنا پڑے گا اور شاید صبح بھی دیر تک کوئی مدد ملنے کا امکان نہیں تھا ۔

جیپ کی رفتار بتدریج کم ہوتی چلی گئی۔ میں اسے سڑک کے کنارے پر لے گیا۔ سڑک کے ایک طرف چٹانیں تھیں اور دوسری طرف خطرناک ڈھلان جہاں جابجا بڑے بڑے چٹانی پتھر بھی نظر آرہے تھے۔

میں نے ڈیش بورڈ کی طرف دیکھا۔ فیول بتانے والی سوئی ای (E) پر ساکت ہو چکی تھی۔

میرے منہ سے بے اختیار گہرا سانس نکل گیا۔ فیول ختم ہو چکا تھا۔

کیا ہوا؟” دیوی نے پوچھا۔

پٹرول ختم ہو چکا ہے۔ ” میں نے جواب دیا۔

” پیچھے ایک جیری کین رکھا ہوا ہے۔ ” کرشمہ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر کہا۔ سیٹ کے نیچے سے جیری کین نکال کو ۔”

میں نے جیپ روک لی۔ پیچھے سے کوئی جواب نہیں ملا تھا اور جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page