Smuggler –268–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 268

وہ دو بھیڑیئے تھے جو خونخوار دانت نکالے ہم پر غرار ہے تھے۔ میں نے زمین پر پڑا ہوا ایک پتھر اٹھا کر ان کی طرف دے مارا۔ میرا پتھربازی کا نشانہ اتنا اچھا نہیں تھا۔ وہ دونوں نہ صرف بچ گئے بلکہ پہلے سے زیادہ خوفناک انداز میں غرانے لگے۔

میں دیوی کو لے کر تیزی سے ایک اور ہٹ کی طرف بڑھا۔ دونوں بھیڑیئے ہماری طرف لیکے۔ شدید سردی ہونے کے باوجود میرے جسم کے مسام پسینہ اگلنے لگے تھے۔ دیوی کی حالت تو پہلے سے بد تر ہو گئی تھی لیکن پھر اچانک ہی وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر نیچے جھکی اور ایک پتھر اٹھا کر دے مارا۔ اتفاق سے یہ پتھر ایک بھیڑے کے سر پر لگا وہ پہلے تو بلبلا یا پھر طیش میں اگر پہلے سے زیادہ خوفناک انداز میں غرانے لگا۔

مجھے اندیشہ تھا کہ ان کے غرانے کی آواز سن کران کے اور بھائی بند یہاں نہ پہنچ جائیں۔ ایسی صورت میں ہمارے زندہ بچ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ بھیڑ یا اکیلا ہو تو ڈرتا ہے لیکن دو یا دو سے زیادہ ہوں تو شیر کی طرح دلیر ہو جاتے ہیں۔ میں دیوی کا ہاتھ پکڑ کر اگلے کاٹیج کی طرف لپکا جس میں دروازہ بھی تھا اور آدھے کے قریب کھلا ہوا تھا۔ دروازے کے قریب پہنچ کر میں نے ایک نظر میں کاٹیج کے اندر کا جائزہ لے لیا۔ اس وقت ایک بھیڑیا ہماری طرف لپکا میں نے دیوی کو اندر دھکیل دیا اور خود بھی اندر داخل ہو کر دھڑ سے دروازہ بند کر دیا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اس لمحے ہلکے سے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ بھیڑیا دروازے سے ٹکرا رہا تھا۔ میں نے دروازے کو مضبوطی سے دبائے رکھا اور اوپر سے نیچے تک اس کا جائزہ لینے لگا۔ دروازے کے تقریباً درمیان میں چمڑے کا تقریبا چھ انچ کا پٹہ لٹکا ہوا تھا اس کے سامنے چوکھٹ میں ایک موٹی سی کیل تھی جو اوپر کو مڑی ہوئی تھی۔ چمڑے کے اس پٹے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کئی سوراخ تھے میں نے ایک سوراخ سے پٹے کو مڑے ہوئے کیل میں پھنسا دیا اور دروازے سے ٹیک لگا کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ باہرغراہٹوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کچھ اوربھیڑیئے بھی وہاں جمع ہو رہے تھے اور پھر دروازے پر پنچے مارے جانے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ بڑے عقلمند بھیڑیئے تھے ، پنجے مار کر دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بہرحال ہم اب ان کی خونخواری سے محفوظ ہو چکے تھے۔

اپنی کیفیت پر قابو پانے کے بعد میں اس ہٹ کاجائزہ لینے لگا۔ دس بائی دس فٹ کا کمرہ تھا، دائیں اور بائیں طرف کی دیواروں میں دو بائے تین فٹ کی کھڑکیاں تھیں جنہیں لکڑی کی پٹیاں لگا کر بند کر دیا گیا تھا لہذا بھیٹریوں کا ان کھڑکیوں کی طرف سے بھی کوئی خطرہ نہیں تھا۔

کاٹیج کے فرش پر پیاں بچھی ہوئی تھی اور دیوی

اس پیال پر اوندھی پڑی تھر تھر کانپ رہی تھی۔

“دیوی “۔ میں نے ہولے سے پکارا آؤ

یہاں آجاؤ۔ بھیڑیئے اب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے دیوی نے بمشکل سیدھے ہو کر میری طرف

دیکھا، خوف اور سردی سے اس کے دانت بج

رہے تھے۔ وہ گھٹنوں کے بل گھٹتی ہوئی میرے

قریب آگئی اور مجھ سے اس طرح لپٹ گئی جیسے سردی سے بچنے کیلئے میرے اندر سما جانے کی کوشش کر رہی ہو۔ میں نے بھی دونوں باہیں اس کے گرد لپیٹ دیں۔  ہٹ کے اندر اگر چہ ہم ہوا سے بچ گئے تھے لیکن سردی بہر حال تھی اور ہماری ہڈیوں کے گودوں تک میں اتری جارہی تھی اور اس سے بچنے کا یہی ایک طریقہ تھا کہ اس سردی سے بچنے کیلئے ایک دوسرے کو اپنے جسم کی حرارت پہنچاتے رہیں۔ پندرہ بیسں منٹ تک دیوی کے دانت بجتے رہے اور پھر وہ بتدریج اپنے آپ پر قابو پاتی چلی گئی۔

بھیڑیئے اب دروازے پر پنجے نہیں مار ہے تھے، البتہ وقفے وقفے سے ان کے غرانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں لیکن میں نے دروازے کی ایک نصف انچ چوڑی جھری میں سے باہر جھانکا تو ایک لمحہ کو کانپ کر رہ گیا۔ وہ آٹھ بھیڑیئے تھے جو کا ٹیج کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سب کی چمکتی ہوئی نظریں دروازے پر ہی لگی ہوئی تھیں اور میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ اگر یہ خونخوار بھیڑیئے دن نکلنے کے بعد بھی اسی طرح کا ٹیج کی ناکہ بندی اور محاصرہ کئے رہے تو ہم یہاں سے نکل نہیں سکیں گے۔

دروازے کے نیچے سے اور دروازے میں سے ٹھنڈی ہوا آرہی تھی۔ میں دیوی کو لے کر کونے میں چلا گیا۔ وہ اب بھی ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔ میں نے اپنی قمیض اتار کر اسے پہنانی چاہی تو اس نے منع کر دیا۔

نہیں، قمیض پہن لو۔ تمہیں سردی لگ جائے گی۔” اس نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا اور ایک بار پھر میرے ساتھ لپٹ گئی۔

 دروازہ خاصا مضبوط تھا۔ بھیڑیوں کے پنجوں سے اس کےکھل جانے کا اندیشہ نہیں تھا۔ اس وقت توصرف وہی ایک خطرہ تھا جس سے ہم محفوظ ہو گئے تھے۔ میں نے بھی اپنا سر دیوی کے بازو پر جھکا لیا اور آنکھیں بند کر لیں۔

آہٹ کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے ہڑبڑا کر ادھر ادھر دیکھا کمرے میں اندھیرا تھا مگر کھڑکیوں سے باہر مدھم سا اجالا پھیل رہا تھا۔ اس طرح سر نہوڑائے سوتے میں میری عینک نیچے گرگئی تھی۔ میرے خیال میں اب عینک لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ میں نے اسے فولڈ کر کے قمیض کی جیب میں رکھ لیا

اور ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ وہ آوازکیسی تھی اور کہاں سے آئی تھی۔ دوسری مرتبہ وہ آواز پھر سنائی دی تو میں دروازے کی طرف متوجہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھوں میں تشویش ابھر آئی۔ دن کی روشنی پھیل رہی تھی اور ہٹ کے باہر بھیڑیئے ابھی تک موجود تھے اور دروازے پرپنجے مار رہے تھے اور پھر میں اچھل پڑا اور دائیں طرف والی کھڑکی کو دیکھنے لگا۔ اس کھڑکی پر لکڑی کی پٹیاں کیلوں کی مدد سے اس طرح لگائی گئی تھیں کہ ایک کر اس بن گیا تھا۔ اس طرح وہ کھڑ کی چار حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی اور ایک چھوٹا بچہ بھی اس میں سے نہیں گزر سکتا تھا لیکن باہر سے ایک بھیڑیا اچھل اچھیل کر اس کھڑکی کے راستے اندر آنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کم بخت بڑے عقل مند اور مستقل مزاج بھیڑیئے تھے۔  انہیں معلوم تھا کہ شکار اندر موجود ہے۔ انہوں نے رات تو باہر

بیٹھے بیٹھے گزار دی تھی اور اب دن کا اجالا پھیلنے پر ایک بار پر کوشش شروع کر دی تھی۔ میں بے حس و حرکت اپنی جگہ پر بیٹھا رہا۔ ہماری طرف سے کوئی حرکت ان بھیڑیوں کو ہوشیار کر سکتی تھی۔ دیوی میری گود میں سر رکھے سورہی تھی وہ اس طرح دو ہری ہو رہی تھی کہ گھٹنے پیٹ سے لگے ہوئے تھے۔ سردی کی وجہ سے اس کے بدن میں ہلکی سی کپکپاہٹ تھی۔ رات بیت گئی تھی مگر سردی میں اضافہ ہو گیا تھا اور یہ سردی اس وقت تک بر قرار رہے گی جب تک سورج طلوع نہیں ہو جاتا۔

باہر سے غراہٹ کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ لگتا تھا جیسے دو بھیڑیے جھنجلا کر آپس ہی میں لڑ پڑے ہوں۔ غراہٹ کی آواز سن کر دیوی بھی ہڑ بڑا کر اٹھ گئی اور خوفزدہ سی ہو کر مجھ سے لپٹ گئی ۔ اس کے منہ سے ڈری ڈری سی آوازیں نکل رہی تھیں۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page