Smuggler –271–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 271

دیوی چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر ہم دونوں جھیل کے کنارے پر آگئے میں نے بھی منہ ہاتھ دھو لیا۔

جیپ کے قریب آکر دیوی کپڑے بدلنے لگی اور میں نے جیپ کے پچھلے حصے میں پڑے ہوئے مردہ کالے ہرن کو گھسیٹ کر ایک طرف ڈال دیا۔ اسے اپنے ساتھ لے جانا ضروری نہیں تھا۔ جیپ میں کالے ہرن کی موجودگی ہمارے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی۔

دیوی نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنے جسم پر پھٹی ہوئی بلاؤز اور پیٹی کوٹ اتار دیئے۔ اس کا سفید بدن میری آنکھوں کو سکون دے گئی۔ میں دیوی کے بدن کو گھورتا رہا۔ وہ پینٹ پہنے کیلئے جیسے ہی گھومی اس کی مکھن ملائی گانڈ یہاں میرے دل میں خنجر چلا گئی۔ اس سے پہلے کہ میں جذبات کے دریا میں ڈوب جاتا میں نے

فور اسر جھٹک کر گھوم گیا۔

دیوی کپڑے بدل کر جیپ کے قریب آگئی۔ پھٹا ہوا بلاؤز اور پیٹی کوٹ اس نے وہیں جھاڑیوں میں پھینک دیئے تھے۔ پینٹ شرٹ اس کے جسم پر بالکل فٹ آگئی تھی ۔ لگتا تھا جیسے یہ کپڑے اس کے ناپ کے سلوائے گئے ہوں میں نے جیپ میں سے تھر مس اورٹفن نکال لیا اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گھاس پر ایک جگہ بیٹھ گیا۔ دیوی بھی میرے قریب بیٹھ گئی۔ اب وہ رات والی دیوی سے بہت مختلف نظر آرہی تھی۔ رات کو تو کسی انجانے خوف اور سردی  نے اسے ادھ موا کر کے رکھ دیا تھا۔

میں نے ٹفن کھول لیا۔ ایک ڈبے میں پراٹھے تھے، دوسرے میں آلو اور میتھی کی بھجیا اور تیسرے میں مرغی کی بھنی ہوئی رانیں تھیں۔ کھانا اتنی مقدار میں تھا کہ ہم دونوں کا پیٹ بھرنے کے بعد بھی بچ گیا جسے میں نے اس طرح کھلا چھوڑ دیا۔ یہ ٹفن ساتھ لے جانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یہ ایسے ہی کھلا پڑار ہے

گا۔ ہمارے جانے کے بعد کسی جانور کا بھلا ہو جائے گا۔

چائے بھی بہت خوش ذائقہ تھی۔ واقعی مزہ آگیا تھا۔ فلاسک میں کچھ چائے بچ گئی تھی جسے میں نے جیپ میں رکھ لیا۔ دیوی جب جیپ میں بیٹھنے لگی تو میری نظر اس کے پیروں پرپڑی۔ وہ ننگے پیر تھی۔

ایک منٹ۔۔۔ میں کہتا ہو ا ہٹ کی طرف چلنے لگا۔

کاٹیج کے پیچھے وہ لاش ابھی تک کسی جانور کی نظروں میں نہیں آئی تھی۔ میں اس کے پیروں سے جو گر ز اتار کر واپس آگیا۔ اتفاق سے وہ جو گر ز بھی دیوی کوفٹ آگئے۔ جیپ پر بیٹھتے ہوئے مجھے اچانک ہی ایک اور خیال آیا اور میں نے مردہ ہرن اٹھا کر دوبارہ جیپ میں ڈال دیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر انجن سٹارٹ

کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی میری نظریں ڈیش بورڈ کا بھی جائزہ لے رہی تھیں۔ فیول بتانے والی سوئی ای اور ایف کے بیچ میں تھی جس کا مطلب تھا کہ پٹرول کی ٹینکی آدھی کے قریب تھی۔

میں نے جیپ ایک ہلکے سے جھٹکے سے آگے بڑھا دی اور اس کا رخ جھیل کے کنارے کی طرف موڑ دیا۔ دیوی اپنے لباس کی تلاشی لے رہی تھی۔

پینٹ کی ایک جیب میں سگریٹ کا پیکٹ، لائٹر اور کچھ ریز گاری تھی جبکہ پچھلی جیب میں وائلٹ تھا۔ وائلٹ کھولتے ہیں دیوی کی آنکھوں میں چمک سی ابھر آئی۔ اس میں تقریبا چھ ہزار روپے کی رقم موجود تھی ۔

وہ کتیا ہمارا سب کچھ لے گئی۔ میں تو پریشان ہو رہی تھی کہ کسی طرح کسی آبادی میں پہنچ بھی گئے تو بھیک مانگیں گے یا کیا کریں گے۔ دیوی کہہ رہی تھی۔

مگر اس وائلٹ میں تقریباً چھ ہزار روپے موجود ہیں کام چل جائے گا۔

پانچ ہزار روپے کی رقم تو میری جیب میں بھی پڑی ہوئی ہے۔ میں نے جواب دیا۔  میں نے ایسی کوئی پریشانی بھی نہیں پالی۔ رقم کے بارے میں مجھے کبھی فکر نہیں ہوئی کوئی نہ کوئی بند وبست تو ہو ہی جاتا ہے۔

دیوی چند لمحے خاموش رہی پھر کرشمہ کے بارے میں باتیں کرنے لگی۔ اسے جتنی بھی زنانہ و  مردانہ گالیاں یاد آرہی تھیں وہ کرشمہ کو ان سے نواز رہی تھی۔ میں جھیل کے کنارے کنارے متوازن رفتار سے جیپ چلاتا رہا اور پھراچانک ہی جیپ روک لی۔

کیا ہوا؟ ۔دیوی نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

وہ دیکھو۔  میں نے ایک طرف اشارہ کیا۔

پانچ چھ مور تھے۔۔۔ دو تو پر پھیلائے ناچ رہے تھے اور باقی ادھر ادھر گھس میں دانا دنکا چگ رہےتھے۔ ان ناچتے ہوئے موروں کو دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ قدرت نے کتنے حسین رنگ بھی دیئے تھےاس کے پروں میں۔

میں نے جیپ آگے بڑھائی تو اس کی آواز سے مور ہماری موجودگی سے آگاہ ہو گئے اور پھر دوسرے ہی لمحے وہ سب پھڑ پھڑاتے ہوئے اڑ گئے۔

جھیل کے دوسرے کنارے ایک کشادہ راستہ پہاڑیوں میں چلا گیا تھا۔ میں نے جیپ اسی راستے پر موڑ دی۔  یہ پہاڑی سلسلہ زیادہ طویل ثابت نہیں ہوا ۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہم ان پہاڑیوں سے نکل آئے ۔  دو تین میل تک سخت ریت تھی اور اس سے آگے سبزہ دکھائی دینے لگا۔ وہ مر چوں کے کھیت تھے جو سڑک کے دونوں طرف پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم ایک چھوٹی سی بستی میں پہنچ گئے ۔ بائیں طرف ایک جھیل تھی جو پہلی جھیل سے چھوٹی تھی۔ جھیل کے آس پاس ناریل کے بے شمار درخت بھی نظر آرہے تھے۔

کچے مکانوں اور جھونپڑیوں پر مشتمل وہ بستی زیادہ بڑی نہیں تھی ۔  یہ ماڑ و قبیلہ تھا جو نجانے کب سے یہاں آباد تھا اور جھیل کی وجہ سے انہوں نے یہاں تھوڑی بہت کھیتی باڑی بھی شروع کر رکھی تھی۔ مرچیں  راجستھان کی خاص فصل تھی اور یہاں بھی مرچیں ہی نظر آرہی تھیں۔

سڑک بستی کے سامنے سے گزرتی تھی۔ جب جھیل پر لوگوں کی آمد ورفت تھی تو یہ سڑک بھی آبا د رہی ہوگی لیکن اب اس کا کچھ حصہ کچے مکانوں اور جھونپڑیوں میں شامل ہو گیا تھا اور باقی حصہ جو بچ رہا تھا وہاں کالے بھجنگ ننگ دھڑنگ بچے کھیل رہے تھے۔ دو تین آدمی اور دو عور تیں بھی سڑک کے کنارے نیم کے بہت بڑے درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ مرد تو چار پائیوں پر بیٹھے حقے کے کش لگا رہے تھےاور عورتیں زمین پر ہی بیٹھی خالی بوریوں کی مرمت کر رہی تھیں ۔ مرچوں کی فصل تیار ہونے والی تھی اور فصل کی تیاری سے پہلے یہ لوگ اپنی تیاریاں مکمل کر لینا چاہتے تھے۔

میں نے درخت کے قریب جیب روک لی۔ وہ لوگ حیرت سے ہماری طرف دیکھنے لگے۔ انہوں نے اس جیپ کو جھیل کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہوگا اور یہ بھی دیکھا ہوگا کہ اس میں ایک ہی آدمی تھا۔ انہیں یہ بھی حیرت ہو رہی ہوگی کہ ہم کہاں سے آگئے تھے۔

میں جیپ کا انجن بند کر کے نیچے اتر آیا۔ وہ تینوں آدمی بھی اٹھ کر ہمارے قریب آگئے۔ ان کی رنگت تو ے کی طرح سیاہ اور لباس راجستھائی تھے ۔ سروں پر بڑی بڑی پگڑیاں تھیں۔ ان میں سے کسی کی عمر پینتالیس سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن چہروں پر بڑی سختی تھی اور یہ سختی ٹھٹھرا دینے والی سردی اور چلچلاتی دھوپ میں محنت و مشقت کا نتیجہ تھی۔

اس بستی کا مکھیا کون ہے؟“ میں نے باری باری ان تینوں کی طرف دیکھا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page