Smuggler –273–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 273

 ہم جیپ پر بیٹھ گئے میں نے انجن اسٹارٹ کر دیا۔ مکھیا نے مجھے راستہ سمجھا دیا تھا کہ جے پور والے ہائی وے تک جانے کے لئے ہمیں کون سا راستہ اختیار کرنا چاہئے ۔ جیپ روانہ ہوئی تو بچے شور مچاتے ہوئے دور تک ہمارے ساتھ آئے تھے۔ بستی کی حدود سے نکلتے ہی میں نے رفتار بڑھا دی۔ اس وقت تین بج رہے تھے، سبزہ پیچھے رہ گیا تھا آگے پھر وہی ریگ زار تھا۔ چلچلاتی دھوپ میں تپتے ہوئے صحراؤں میں سفر کرنا  خاصا دشوار ہوتا ہے اور پچھلے کئی دنوں سے میں بار بار ان تجربات سے دو چار ہورہا تھا۔ مکھیا کی ہدایت بھی میرے کام آگئی تھی اس ریگزار میں بھی کئی جگہوں پر مختلف سمتوں میں راستے پھوٹتے ہوئے دیکھے تھے۔

ظاہر ہے ان اطراف میں بھی آبادیاں ہوں گی مگر میں مکھیا کے بتائے ہوئے راستے پر جیپ دوڑاتا  رہا۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک سفر کرنے کے بعد ہم پختہ شاہراہ پر پہنچ گئے۔ سڑک کے اس موڑ پر سایہ دار درختوں کا ایک جھنڈ تھا ۔ میں نے جیپ درختوں کے نیچے روک لی ۔ پسینے سے ہمارا برا حال ہو رہا تھا۔ ہم جیپ سے اتر کر درختوں کے نیچے گھاس پر بیٹھ گئے۔ ریگستان میں اگر چہ لوچل رہی تھی لیکن درختوں کے نیچے قدرے سکون تھا۔ تھوڑی دیر بعد دیوی جیپ سے فلاسک لے آئی۔ اس میں ابھی خاصی چائے موجود تھی۔ پتہ نہیں یہ چائے کب بنا کر فلاسک میں بھرتی گئی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر چائے کے ذائقے میں کوئی فرق نہیں

آیا اور یہ غالبا فلاسک کا کمال تھا۔ فلاسک اچھانہ ہو تو گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد چائے بدذائقہ ہو جاتی ہے۔

درختوں کا وہ جھنڈ سڑک سے ہٹ کر تھا اور یہ نیشنل ہائی وے تھی ہم تقریباً آدھا گھنٹہ وہاں بیٹھے رہے اس دوران ہائی وے پر کسی گاڑی کا گزر نہیں ہوا تھا۔

فلاسک میں ابھی کچھ چائے باقی تھی۔ دیوی نے فلاسک بند کر کے جیپ میں رکھ دیا اور ہم آگے جانے کے لئے تیار ہو گئے اور جس وقت میں جیپ کو درختوں سے نکال کر سڑک پر لایا اسی وقت بائیں طرف سے ایک مال برادر ٹرک آتا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے ٹرک کو راستہ دینے کے لئے جیپ روک لی۔

ٹرک نے ہارن بجایا۔ قریب سے گزرتے ہوئے ڈرائیور نے ہماری جیپ کی طرف بھی دیکھا تھا۔ یہ ٹرک جے پور جا رہا تھا میں نے بھی جیپ اس کے پیچھے لگا دی اور جلد ہی یہ محسوس کر لیا کہ ٹرک ڈرائیور شرارت پر آمادہ تھا۔ میں نے جب بھی اسے اور ٹیک کرنے کی کوشش کی وہ ٹرک کو قصد اجیپ کے آگے لے آتا۔ میرا خیال تھا قریب سے گزرتے ہوئے ڈرائیور نے دیوی کو دیکھ لیا تھا۔ عورت چیز ہی ایسی ہے جسے دیکھ کر منہ میں پانی بھر آتا ہے اور جب بات دیوی جیسی عورت کی ہو تو بوڑھے مردوں کے سینے میں بھی ہلچل مچلنے لگتی ہے۔ میں سمجھ گیا کہ ٹرک ڈرائیور نے دیوی کو دیکھ لیا تھا۔ یا  تو اس کی نیت میں فتور آ گیا تھایا وہ محض شرار تا ً ہمیں پریشان کرنا چاہتا تھا۔ ٹرک پر ڈرائیوریقیناً اکیلا نہیں تھا اس کے ساتھ ایک ہیلپر بھی تھا جو دوسری طرف بیٹھا ہوا تھا۔

لمبے روٹس پر سفر کرنے والے ٹرک ڈرائیور عام طور پر مسلح ہوتے ہیں اور میں سوچ رہا تھا کہ اگر  ان لوگوں نے ہمیں روک کر کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو ہمارے لئے واقعی مشکل ہو جائے گی ۔ ہمارے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ بھی نہیں تھا۔

میں نے کئی مرتبہ ہارن بجایا مگر ٹرک نے راستہ نہیں دیا اور آخر کار میں جیپ کی رفتار بڑھا کر اسے بالکل سائیڈ پر لیتا چلا گیا اور آخر کار کچے پر اتر کر ٹرک کو ٹیک اوور کر گیا ۔ دیوی نے پیچھے مڑ کے ڈرائیور کو ٹھینگا دکھا دیا۔

ہماری جیپ تیز رفتاری سے سڑک پر دوڑتی رہی۔ وہ ٹرک بہت پیچھے رہ گیا تھا مگر مخالف سمت سے آنے والی اکا دکا گاڑیوں کا سامنا ہوا تھا۔

جے پور کئی گھنٹوں کی مسافت پر تھا لیکن میرا جے پور جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ کرشمہ آج صبح سے پہلے ہی جے پور پہنچ گئی ہوگی اور اس نے ہمارے استقبال کی تیاری کرلی ہوگی۔ کرشمہ نے اگر چہ ہمیں دو دن کی مہلت دی تھی لیکن میں اب اس پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ دو دن تو بہت ہوتے ہیں اس عرصہ میں آدمی دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچ سکتا ہے اور ہندوستان کی سرحد تو چند گھنٹوں میں پار کی جاسکتی ہے۔ اس نے سوچ سمجھ کر ہی دو دن کی بات کی ہوگی۔

 کرشمہ نے ایک اور بات بھی کہی تھی۔ اس نے بلیک کیٹس کی دھمکی دی تھی ۔ بلیک کیٹس ۔ بھارت کی خطر ناک ترین فورس اس کا قیام تو پتہ نہیں کب عمل میں آیا تھا لیکن اندرا گاندھی کے دور میں یہ فورس کھل کر سامنے آئی تھی۔ اسے ڈیتھ اسکواڈ کا نام بھی دیا گیا تھا۔ اس میں انتہائی سفاک ترین لوگ بھارتی سینا کی کمانڈ وفورس سے لئے گئے تھے۔ یہ لوگ کسی پر رحم کرنا تو جانتے ہی نہیں تھے۔ میں نے چھ مہینوں سے را کو نچا رکھا تھا۔ ان کے اہم ٹھکانے تباہ کرنے کے علاوہ ان کے اہم ترین آدمیوں کو چن چن کرختم کیا تھا لیکن وہ ساری شیطانی قوتیں مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکی تھیں ۔ میں اکیلا تھا مجھے اس طرح کی سہولتیں حاصل نہیں تھیں لیکن ہر مرحلے پر مجھے اکا دکا  لوگوں کا تعاون حاصل رہا تھا یہ الگ بات تھی کہ مجھ سے تعاون کرنے والے ہر شخص نے مجھے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن میں بڑی ہوشیاری سے انہی کو استعمال کرتا رہا تھا۔ بقول شخصے ان کے جوتے انہی کے سروں پر مارتا رہا تھا اور میں نے ان کا ماؤنٹ آبو والا سیٹ اپ مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ یہ انکشاف میرے لئے واقعی بڑا سنسنی خیز ثابت ہوا تھا کہ کرشمہ ہی دراصل اس سارے فساد کی جڑ تھی۔ وہ   “را”   میں کسی بہت اونچی جگہ پر تھی۔  مجھے گھیرنے کی ہر کوشش میں ناکام ہونے کے بعد ہی کرشمہ کھل کر سامنے آئی تھی۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ میں عام پولیس کے قابو میں آنے والا نہیں اسی لئے اس نے بلیک کیٹس کی دھمکی دی تھی۔

کرشمہ کی بہادری اور حوصلہ مندی میں کوئی شبہ نہیں تھا۔ وہ حد سے زیادہ چالاک بھی تھی۔ گزشتہ رات وہ میرے قابو میں آگئی تھی اور پھر ایک ایسا موقع آیا تھا کہ ہماری کمان اس کے ہاتھ میں آگئی تھی ۔ ” اگر چاہتی تو چرم پورم میں یہ کہانی ختم ہو سکتی تھی لیکن اس نے ایسا نہیں کیا اس کی شاید دو وجوہات تھیں ایک تو مجھے زندہ حراست میں لینا چاہتی تھی اور وہ جانتی تھی کہ میں زندہ ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔ گزشتہ رات اگر اس قسم کی کوئی کوشش کی جاتی تو میری زندگی کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمارے زیر دست ہونے کے باوجود وہ میری رائفل کی زد پر تھی۔ میں نے ایک لمحے کو بھی اسے اپنے سے الگ نہیں ہونے دیا تھا یہاں تک کہ پولیس اسٹیشن میں بھی میں نے رائفل کی نال اس طرح اس کے پہلو سے لگائے رکھی تھی کہ کسی کو شبہ نہیں ہو سکا تھا۔ اگر کرشمہ ایسی کوئی کوشش کرتی بھی تو میری رائفل کی گولیاں اسے خاک و خون میں لوٹا دیتیں۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page