Smuggler –274–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 274

کرشمہ نے عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے چرم پورم میں ہمیں پولیس سے بچایا تھا لیکن راستے میں وہ ہمیں نہ صرف دھوکا دے گئی تھی بلکہ سوٹ کیس ساتھ لے جا کر گویاہمیں ایک زور دار چپت بھی لگا گئی تھی ۔ اگر وہ سوٹ کیس لیکر جیپ سے نہ اترتی تو ہم یقینا اسے زیادہ اہمیت نہ دیتے مگر سوٹ کیس کی وجہ سے ہمیں جیپ چھوڑ کر اس کے پیچھے جانا پڑا تھا اور وہ ہمیں چکمہ دے گئی تھی ۔ اور ہمیں وہ رات اذیت میں گزارنی پڑی تھی ۔ میں زندگی میں کئی مرتبہ کٹھن ترین مراحل سے گزرا تھا لیکن اس رات کو کبھی نہیں بھول سکوں گا ایسی اذیت کبھی نہیں اٹھائی تھی ۔

میں جیپ ڈرائیو کرتے ہوئے اپنی سوچوں میں کھویا ہوا تھا کہ تمبا کو کی ہلکی سی بو محسوس کر کے چونک گیا۔ میں نے دیوی کی طرف دیکھا تو حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکا تھا اس کے ہونٹوں میں سگریٹ دبا  ہوا تھا جسے اس نے ابھی ابھی سلگایا تھا۔

یہ یہ کیا؟ میرے لہجے میں بھی حیرت تھی۔ ” میں نے پہلے تو تمہیں کبھی سگریٹ پیتے ہوئے نہیں دیکھا۔

تم تو منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہو۔ کوئی بات بھی نہیں کر رہے مجھے بوریت دور کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔ ڈیش بورڈ کے خانے میں سگریٹ کا پیکٹ رکھا ہوا تھا میں نے سوچا کیوں نہ اس سے دل بہلانے کی کوشش کی جائے ۔ دیوی نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے جواب دیا۔

میں دراصل کرشمہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا۔ وہ اب کس رنگ میں ہمارے سامنے آئے گی اس کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ اس نے ہمیں دو دن کی مہلت دی ہے تمہارے خیال میں ہم اس مہلت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں یا نہیں۔”

اگر تم نے کرشمہ کی اس بات پر یقین کر لیاہے تو تم واقعی دنیا کے سب سے بڑے احمق ہو۔ دیوی نے مجھے گھورتے ہوئے کہا۔ اس نے ہمیں گھیرنے کا بندوبست کر رکھا ہوگا اور مجھے شبہ ہے کہ ہم بہت جلد کسی نئی مصیبت میں پھنسنے والے ہیں بلکہ مجھے حیرت ہے کہ ہم اب تک اس طرح آزادی سے سفر کیوں کر رہے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ کسی بڑے قصبے میں داخل ہوتے ہی دھر لئے جائیں گے۔”

“اگر میں واقعی ایسا احمق ہوتا تو تم اس وقت میرے ساتھ نہ ہوتیں ۔ میں نے مسکراتے ہوئےکہا۔

کیا مطلب؟” اس نے سگریٹ کا ایک اور کش لگاتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ وہ جس طرح اطمینان سے سگریٹ کے کش لگا رہی تھی اس سے مجھے اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ وہ پہلے بھی تمباکو نوشی کرتی رہی ہے۔

مطلب یہ کہ کوئی بیوقوف تو تم جیسی لڑکی کو نہیں پا سکتا۔ میں نے جواب دیا۔

ٹالنے کی کوشش کر رہے ہو ۔دیوی نے مجھے گھورا۔

” تمہیں ٹالنے کی کوشش کیوں کروں گا۔ میں نے کہا۔ “تمام حالات تمہارے سامنے ہیں۔ کرشمہ پر اعتماد کر کے میں نے واقعی غلطی کی تھی لیکن اب ایسی غلطی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ابھی تو ہم کسی آبادی سے میلوں دور ہیں کسی قسم کی صورت حال کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ کسی بستی میں پہنچ کر ہی پتہ چلے گا کہ ہمارے آگے کیا ہے۔”

جیپ اس وقت سڑک کے عین وسط میں جارہی تھی ۔ سامنے بہت دور ایک بڑی گاڑی آتے دیکھ کر میں نے جیپ سائیڈ پر کرلی۔ وہ ایک مال بردار ٹرک تھا جو کچھ دیر بعد ہی زناٹے کی آوازسے ہمارے قریب سے گزر گیا۔ سورج مغرب کی طرف جھک رہا تھا۔ دھوپ کی حدت میں کمی آگئی تھی اور اب سڑک کے دونوں طرف کچھ سبزہ بھی شروع ہو گیا تھا۔ جس کا مطلب تھا کہ آگے کوئی آبادی تھی۔

چند میل کا  فاصلہ طے کرنے کے بعد سڑک سے ہٹ کر ایک خوبصورت عمارت نظر آئی۔ یہ کوئی ہوٹل تھا۔  وہ درختوں کی بہتات بھی تھی اور عمارت کے سامنے خوبصورت لان بھی تھا۔ دو کاریں بھی کھڑی ہوئی تھیں۔

“اگر ہم کچھ دیر کے لئے یہاں رک جائیں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ؟ میں نے جیپ کی رفتار کم کرتے ہوئے دیوی کی طرف دیکھا۔  “

 میں بھی اس سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہوں۔ تھوڑی دیریہاں رک کر تازہ دم ہو لینا چاہئے ۔ دیوی نے جواب دیا۔

میں نے جیپ سڑک سے اتار کر ہوٹل کی طرف جانے والے راستے پر موڑ لی۔ بڑی خوبصورت جگہ تھی اس عمارت کے پیچھے چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں تھیں جو بتدریج بلند ہوتی چلی گئی تھیں ۔ یہاں بجلی بھی تھی اور ٹیلی فون کی لائن بھی نظر آ رہی تھی ۔ میں نے جیپ ایک کار کے پیچھے روک لی اور ہم دونوں نیچے اتر آئے۔ سنگل اسٹوری عمارت خاصی وسیع و عریض تھی۔ برآمدہ بہت کشاہ تھا اس میں ایک طرف دو پبلک ٹیلی فون بوتھ بھی لگے ہوئے تھے۔ بائیں طرف ایک بہت وسیع اونچا چبوترہ تھا جس پر چند میزیں بچھی ہوئی تھیں۔ اس چبوترے کے اطرف میں لوہے کی ریلنگ لگی ہوئی تھی جس کے ساتھ ساتھ پودوں کے گملے رکھے ہوئے تھے۔ تین میزیں ایسی تھیں جن پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ایک میز پر ایک ادھیڑ عمر آدمی اور ایک جوان عورت تھی۔ ان کے ساتھ چار پانچ سال کی عمر کا ایک بچہ بھی تھا،  دوسری میز پر تین جوان لڑکیاں تھیں بالکل ماڈرن لباس میں۔ تیسری میز پر دو آدمی بیٹھے ہوئے سگریٹ کے کش لگا رہے تھے۔ ان دونوں کی عمریں چالیس اور پینتالیس کے درمیان رہی ہوں گی ایک دبلا پتلا اور لمبے قد کا مالک تھا جبکہ دوسرا  درمیانے قد کا اس کی گردن کندھوں کے اندر دھنسی ہوئی تھی۔

وہ  ماڈرن لڑکیاں ہمیں دیکھ کر ہنس پڑیں۔ ایک نے تو زور دار قہقہہ بھی لگایا تھا۔ ہمارے گیٹ اپ ہی ایسے تھے کہ شہروں کے رہنے والے ہمیں دیکھ کر اپنی ہنسی ضبط نہیں کر سکتے تھے۔

 تیسری میز پر بیٹھے ہوئے وہ دونوں آدمی البتہ سنجیدگی سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں اور دیوی  ریلنگ کے قریب ایک میز پر بیٹھ گئے یہاں سے عمارت کے پچھلی طرف کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔ چبوترہ کسی چٹان کو ہموار کرکے بنایا گیا تھا، پچھلی طرف عمودی ڈھلان تھی اور بہت گہری اور وسیع و عریض کھائی تھی جو درختوں اور جھاڑیوں سے اٹی ہوئی تھی۔

کچھ ہی دیر بعد ایک ویٹر ہماری میز پر آ گیا۔ اس نے کئی چیزوں کے نام گنوا دیئے لیکن میں نےاسے صرف چائے کا آرڈر دیا تھا اور ساتھ میں کچھ بسکٹ وغیرہ بھی لانے کو کہہ دیا تھا۔

 تھوڑی دیر بعد وہ ہماری میز پر چائے لگا رہا تھا تو میں اس سے اس ہوٹل کے بارے میں پوچھنے لگا۔

“مکرانا شہر یہاں سے دس میل دور ہے صاحب جی ۔ ویٹر بتا رہا تھا۔ یوں تو شہر میں بڑی تفریح گاہیں ہیں ۔ بڑے اچھے اچھے ہوٹل نائٹ کلب اور شراب خانے ہیں مگر لوگ کچھ تبدیلی چاہتے ہیں۔” ہ چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بولا۔ “ہمارے سیٹھ کا ایک ہوٹل شہر میں بھی ہے جس میں شراب خانہ اور نائٹ کلب بھی ہے مگر تین چار سال پہلے اس نے ادھر بھی ہوٹل بنالیا۔ شہر سے یہاں تک بجلی اور ٹیلی فون کا لائن ڈالا۔ یہاں بوت موج میلا ہوتا ہے مہاراج۔ لوگ شام سے پہلے ہی یہاں آنا شروع ہو جاتے ہیں اور رات دو بجے تک بڑا ہلہ گلہ ہوتا ہے۔ سنڈے نائٹ کو تویہاں ساری رات کھیل تماشہ ہوتا ہے یہاں ڈانس بھی ہوتا ہے ہر قسم کا دارو بھی ملتا ہے اور مہاراج جو آدمی لوگ اکیلا ہوتا ہے ان کو وہ بھی ملتا ہے۔ آپ سمجھ گیا  نا ؟

اس نے مخصوص انداز میں ناک پر انگلی رکھی اور کن انکھیوں سےدیوی کی طرف دیکھنے لگا۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page