Smuggler –275–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 275

میں سمجھ گیا وہ کیا کہنا چاہتا تھا مجھےیہ اندازہ لگانے میں بھی دشواری پیش نہیں آئی کہ یہ ہوٹل در اصل عیاشی کا اڈہ تھا جس کی سرگرمیاں شام کا اندھیرا پھیلنے کے بعد ہی شروع ہوتی تھیں۔

یہاں رہائش کا بھی بندوبست ہوگا ؟ میں نے پوچھا۔

تیسں کمرے ہیں۔ ویٹر نے جواب دیا۔ ” پچھلی طرف کا ٹیج بھی ہیں ۔ تم آج رات ادھر رہ جاؤ مہاراج۔ بڑا کھش ہوگا۔

اچھا۔ دیکھیں گے ۔ میں نے جواب دیا۔

آپ کدھرے سے آیو ہے مہاراج۔ ویٹر نے پوچھا۔

بہت دور سے۔” میں نے کہا۔ ” جے پور جانے کا ہے۔ بہت تھک گیا ہے ابھی سوچے گارات ادھر رہ جائے گا یا چلا جائے۔”

میں ویٹر کو ٹالنا چاہتا تھا مگر اب وہ ہلنے کا نام نہیں لے رہا تھا وہ بار بار دیوی کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ یہاں اصل کھیل شام کا اندھیرا پھیلنے کے بعد ہی شروع ہوتا تھا جب لوگ شہر سے یہاں آنا شروع ہوتے تھے۔ اس وقت تو ویٹروں کو کسی کی بات سننے کی فرصت نہیں ہوتی ہو گی۔ اس وقت چونکہ صرف چار چھ کا ہک تھے اس لئے یہ ویٹر بھی فرصت میں تھا۔ میں بڑی مشکل سے اسے وہاں سے ہٹانے میں کامیاب ہوگیا  تھا۔

ہم ابھی چائے پی رہے تھے کہ شہر کی طرف سے آگے پیچھے آنے والی دو کاریں وہاں آرکیں۔ دونوں کاروں میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی ۔ دو عور تیں تو بہت ماڈرن لباس میں تھیں۔ اتنا  ماڈرن کہ انہیں دیکھ کر دل میں خوامخواہ بے چینی سی ہونے لگی تھی ۔

تیسری میز پر بیٹھے ہوئے وہ دو آدمی سرگوشیوں میں باتیں کرتے ہوئے اب بھی کن انکھیں سے ہماری طرف دیکھ رہے تھے۔ پھر ان میں سے ایک اٹھ کر برآمدے کی طرف چلا گیا اور ایک ٹیلی فو ن بوتھ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ میں کرسی پر کچھ اس انداز سے بیٹھا ہوا تھا کہ پورا بر آمدہ اور دونوں ٹیلی فون بوتھ بھی صاف نظر آ رہے تھے اور وہ شخص بوتھ میں داخل ہونے کے بعد بھی میری نظروں میں تھا۔ فون پر بات کرتے ہوئے وہ بار بار ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ ایک دو مرتبہ اس نے ہماری جیپ کی طرف بھی دیکھا تھا۔

اچانک ہی میرے ذہن میں ایک اور خیال ابھرا اور اس کے ساتھ ہی پورے جسم میں سنسنی کی ایک لہرسی دوڑتی چلی گئی۔ دیوی نے شاید ٹھیک ہی کہا تھا کہ کرشمہ نے ہمارے استقبال کی تیاری کرلی ہوگی اور کسی بڑی بستی میں پہنچتے ہی ہمارے لئے کسی نئی مصیبت کا آغاز ہو جائے گا۔

نجانے کیا بات تھی کہ یہاں آتے ہی ان دونوں آدمیوں کو دیکھتے ہی میرے ذہن میں شبہات سرا بھارنے  لگے تھے۔ لیکن میں نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیا تھا کرشمہ نے اگر ہمارے استقبال کی تیاری کر رکھی تھی تو اپنے آدمیوں کو میرا اوردیوی  کا حلیہ بتایا ہو گا۔ اس وقت ہم جس گیٹ اپ میں تھے اگر کرشمہ بھی ہمارے سامنے ہوتی تو اسے ہمیں شناخت کرنے میں کچھ دشوار پیش آتی۔ چہ جائیکہ بتائے ہوئے حلئے پر کوئی تیسرا آدمی ہمیں فوراً پہچان لے۔ گو کہ یہ بات حلق سے نہیں اترتی تھی مگر نجانے کیوں مجھے ان پر شبہ ہو گیا تھا  اور وہ شخص ٹیلی فون پر کسی اور کو ہمارے بارے میں اطلاع دے رہا تھا۔

چند منٹ بعد وہ شخص واپس آکر اپنی میز پر بیٹا تو اس وقت بھی کن انکھیوں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ اور پھر وہ سرگوشیوں میں اپنے ساتھی سے باتیں کرنے لگا۔

“میرا خیال ہے کھیل شروع ہو چکا ہے دیوی ۔ میں نے اس کی طرف دیکھے بغیر سر گوشی میں کہا۔ “

“تم شاید ان دونوں کی بات کر رہے ہو جو ہمارے بائیں طرف والی میز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ دیوی نے بھی سرگوشی میں جواب دیا ۔ لیکن میرا خیال ہے یہ وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔

کیا مطلب؟” میں نے اسے گھورا۔ تھوڑی دیر پہلے ویٹر نے بتایا تھا کہ شام کا اندھیرا پھیلنے کے بعد آدھی رات تک یہاں بڑے ہلے گلے ہوتے ہیں ۔ دیوی نے کہا۔ ” یہاں کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہوں گے جن کا مقصد تفریح نہیں  کچھ اور ہوتا ہے۔ میرا مطلب ہے شکاری قسم کے لوگ مرد بھی اور عورتیں بھی ۔

کیا کہنا چاہتی ہو؟“ میں بولا۔

ان میں ایک تو گینڈے کی طرح کو تاہ گردن والا اور دوسرا لمبے قد والا ہے۔ ” دیوی نے کہا ” لمبے قد والا ٹیلی فون کرنے گیا تھا۔ تم اس کی طرف متوجہ تھے اور گینڈے کی گردن والا موقع پا کر مجھے معنی خیزاشارے کر رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ  کرشمہ کے آدمی نہیں ہو سکتے یہ عورتوں کے شکاری ہیں۔ غنڈے قسم کے لوگ۔۔۔ ان سے دوسرے طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے۔

کیا طریقہ؟ میں نے پوچھا۔

اب اگر وہ کوئی حرکت کرے تو میں اٹھ کر اسے گریبان سے پکڑ لوں۔ اس طرح ان کی اصلیت سامنے آجائے گی ۔ دیوی نے جواب دیا۔

مجھے دیوی کے پروگرام سے اتفاق کرنا پڑا۔ اس کی بات میں وزن تھا۔ اس میں شبہ نہیں کہ کرشمہ نے جےپور کی طرف آنے والے راستوں کی نگرانی شروع کرا دی ہو گی تاکہ اسے ہمارے بارے میں اطلاع مل سکے۔ اگر یہ کرشمہ کے آدمی ہوتے تو اس طرح کی کوئی حرکت  نہ کرتے جس سے ہمیں ان پر شبہ ہوتا۔ وہ دور رہ کر ہماری نگرانی کرتے۔

 اس کا مطلب تھا کہ دیوی کا خیال درست تھا۔  یہ شکاری قسم کے لوگ تھے۔ ایسی جگہوں پر اس قسم کے لوگ نہ ہوں تو حیرت ہوئی چاہیے۔

 “تو پھر ٹھیک ہے۔”  میں نے کہا۔ہم رات کا کچھ حصہ یہاں گزاریں گے۔ انجوائے کریں گے اور ویسے بھی ہمیں اب کسی کار کی ضرورت ہوگی۔ جیپ سے اب پیچھا چھڑا لینا چاہئے۔”

“کار کہاں سے لو گے؟” دیوی نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔

“یہ دونوں شہر سے پیدل تو یہاں نہیں آئے ہوں گے۔” میں نے کہا۔ ”ہمارے آنے سے پہلے جو دو تین کاریں کھڑی تھیں ان میں سے ایک کار ان کی بھی ہوگی۔

” تو پھر کیا پروگرام ہے؟” دیوی نے سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھا۔

چائے پینے کے بعد ویٹر کے ساتھ کمرے دیکھتے ہیں ۔ میں نے کہا۔  ایک کمرہ لے لیں گے، کچھ دیر آرام کرنے کا موقع بھی مل جائے گا۔

اس وقت سورج غروب ہونے کی تیاری کر رہا تھا اور پھر ٹھیک اسی وقت ایک اور کار وہاں آکر رکی ۔ ایک آدمی اور ایک لڑکی کار سے اترے۔ آدمی کی عمر پینتیس کے لگ بھگ رہی ہوگی جبکہ لڑکی چھبیس سے زیادہ کی نہیں تھی ۔ مرد نے پینٹ شرٹ اور لڑکی نے ساڑی پہن رکھی تھی۔

میں نے اشارے سے ویٹر کو بلایا ۔ وہ برتن اٹھانے لگا تو میں نے اس سے کمرے کی بات کی اور پھر اس کے جانے کے دومنٹ بعد ہم بھی اٹھ کر برآمدے میں سے ہوتے ہوئے وسیع لابی میں آگئے جہاں شاندار استقبالیہ کا ؤنٹر بنا ہوا تھا۔  

ویٹر ہمیں کمرہ دکھانے سے پہلے ہوٹل کے دوسرے حصے دکھاتا  رہا۔ بہت بڑا ڈانس ہال تھا اس کے ایک طرف وسیع و عریض سٹیج تھا کچھ لوگ ہال میں میزیں وغیرہ سیٹ کر رہے تھے۔ ایک طرف بہت بڑا  بار کاؤنٹر تھا جس کے پچھلے شیلفوں میں شراب کی بوتلیں سجی ہوئی تھیں۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page