Smuggler –276–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 276

 اس سے ملحق ایک اور چھوٹا ہال تھا۔ یہ جواء خانہ تھا،  ارولیٹ کے علاوہ یہاں جواء کھیلنے کی اور بھی بہت سی مشینیں لگی ہوئی تھیں اور میرا خیال تھا کہ بہت کم لوگ یہاں سے جیت کر جاتے ہوں گے۔ باہر سے یہ عمارت اتنی زیادہ بڑی نہیں لگتی تھی لیکن اندر سے خاصی وسیع تھی اور پیچھے کی طرف پھیلی ہوئی تھی۔ مرکزی لابی کے ایک طرف کسی درخت کی تین شاخوں کی طرح تین راہداریاں تھیں۔ ان راہداری میں دس کمرے تھے۔ پانچ ایک طرف اور پانچ سامنے۔  ویٹر ہمیں درمیان والی راہداری میں لے  گیا اور پہلے کمرے کا دروازہ کھول دیا۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ سامنے ہی دیوار پر آویزاں فریم میں ایک عورت کی عریاں تصویر لگی ہوئی تھی۔

 تصویر کا پوز یوں تھا ایک عورت پیٹ کے بل لیٹی بھاری گانڈ اٹھائے ہوئے تھی  اور یہ دیکھ کر میرے دماغ میں چیونٹیاں سی رینگتے لگیں۔صرف  وہی ایک تصویر نہیں دوسری دیواروں پر اور بھی ایسی تصویریں آویزاں تھیں جنہیں دیکھ کر جذبات مشتعل ہوتے ہوں۔

دیوی تو فوراً ہی کمرے سے باہر چلی گئی تھی۔ میں کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ زیادہ بڑا کمرہ نہیں تھا۔ایک طرف سنگل بیڈ تھا ایک چھوٹی ٹیبل اور دو کرسیاں اور ایک چھوٹا سا ملحق باتھ روم ۔

 لوگ یہاں تفریح اور عیاشی کے لئے آتے تھے وہ پیسہ خرچ کرتے تھے اور ان کی تفریح کو زیادہ سے زیادہ  رنگین بنانے کا پورا پورا خیال رکھا گیا تھا۔ یہ کمرے ظاہر ہے رہائش کے لئے نہیں صرف عیاشی کے لئے تھے اور چند گھنٹوں کے لئے ہی کرائے پر دیئے جاتے ہوں گے۔

 ماؤنٹ آبو میں بھی میں نے بہت کچھ دیکھا تھا جودھ پور میں گیتا جیسی عورت سے ملاقات ہوئی تھی اور اب یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی۔ رام رام جپنے والی بنیا قوم یورپ سے بھی ایڈوانس ہوتی جا رہی تھی۔ یہ لوگ بھی اخلاقی طور پر دیوالیہ ہو چکے تھے۔

“یہ کمرہ مجھے پسند نہیں یہاں گھٹن سی ہے کوئی کاٹیج دکھاؤ۔” میں نے ویٹر کی طرف دیکھتے ہوئےکہا۔ میں سمجھ گیا تھا کہ تمام کمرے اسی طرح آراستہ ہوں گے۔

ویٹر نے کمرے سے نکلتے ہوئے کن انکھیوں سے دیوی کی طرف دیکھا اور ہمیں ساتھ آنے کا اشارہ کیا ۔

ویٹر نے استقبالیہ کاؤنٹر سے چابیوں کا گچھا لیا اور ہم اس کے ساتھ عمارت کے ایک پچھلے دروازے سے باہر آ گئے ۔ دن کی روشنی اس وقت غائب ہو رہی تھی ۔ پچھلی طرف جگہ جگہ برقی قمقمے روشن ہو گئے تھے۔ بڑی خوبصورت جگہ تھی، یہ پہاڑی کے دامن میں ناریل کے اونچے درختوں اور سبزے میں گھرے ہوئے کئی چھوٹے چھوٹے کاٹیج تھے۔

ویٹر ایک کا ٹیج کے سامنے رک گیا۔ اس کے پچھلی طرف کچھ مسطح جگہ تھی اور اس سے آگے عمودی ڈھلان تھی جو نشیب میں وادی کی طرف چلی گئی تھی۔ اس طرف بھی درختوں اور جھاڑیوں کی بہتات تھی ۔

یہ کاٹیج بھی ایک کمرے اور ملحق باتھ روم پر مشتمل تھا اس کے اندر کی صورت حال بھی اس کمرے سے مختلف نہیں تھی۔ میں کاٹیج سے باہر آ گیا جہاں دیوی کھڑی تھی ۔ اس نے ویٹرکی موجودگی میں کاٹیج میں داخل ہونے سے گریز کیا تھا۔

میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ یہ جگہ میرے لئے آئیڈیل تھی۔ ٹھیک ہے یہ کاٹیج ہمیں دے دو مگر اس کا کرایہ کیا ہوگا ؟ میں نے مڑ کر سوالیہ نگاہوں سے ویٹر کی طرف دیکھا۔

پندرہ سو  رو پے۔ ویٹر نے جواب دیا۔

کیاااا ؟  میں اچھل پڑا۔ ٹھیک ہے۔” میں نے اپنے آپ کو صدمے سے سنبھالتے ہوئےکہا۔ “یہ کاٹیج میرے نام کر دو۔

” آپ استقبالیہ پر آ جاؤ مہاراج۔ ویٹر نے کہا۔

میں نے ویٹر سے کا ٹیج کی چابی لے کر دیوی کے حوالے کر دی۔

تم یہیں رک جاؤ میں ابھی آتا ہوں۔ اندر سے دروازہ بند کر لینا۔ “ میں دیوی سے کہتا ہوا ویٹر کے ساتھ دوبارہ عمارت میں آگیا۔ استقبالیہ کاؤنٹر پر میں نے رجسٹر کی خانہ پری کی اور کرایہ بھی ادا کر دیا۔ اس دوران میں نے جھانک کر دیکھ لیا تھا کہ وہ دونوں آدمی وہیں بیٹھے ہوئے تھے باہر اچھی خاصی رونق ہو گئی تھی۔ پارکنگ ایریا میں کاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا۔

دیوی نے دروازے کو اندر سے بولٹ لگا رکھا تھا۔ میری آواز پہچان کر اس نے دروازہ کھول دیا۔ میں نے اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر کے بولٹ لگا دیا اور پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے میرے ہونٹوں پر خفیف سی مسکراہٹ آگئی۔

دیوی نے دیواروں پر آویزاں عورتوں کی عریاں تصویروں والے تمام فریم پلٹ دیئے تھے۔ اسے شاید اپنی ہم جنس کی یہ تذلیل پسند نہیں آئی تھی لیکن وہ غالباً یہ بات بھول گئی تھی کہ یہ تصویریں  زبردستی نہیں کھینچی گئی تھیں۔ ان عورتوں کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ تھی اور انہوں نے بڑے شوق سے یہ تصویریں کھنچوائی تھیں اور مزے کی بات یہ تھی کہ تمام تصویریں ہندوستانی عورتوں کی تھیں کوئی بھی یورپین نہیں تھی کہ یورپ کی خواتین پر کوئی الزام دھرا جاسکے۔۔۔

یہ کا ٹیج ہوٹل کی عمارت سے تقریباً سو گز کے فاصلے پر تھا یہ دوسرے کاٹیج بھی تیس پینتیس گز کے فاصلے سے کم نہیں تھے ۔ اسی طرح کسی کی پرائیویسی مجروح نہیں ہوتی تھی۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے باہر آوازیں سنائی دینے لگیں جس کا مطلب تھا کہ پڑوس کے کاٹیج بھی بک ہورہے تھے۔

نو بجے کے قریب میں دیوی کو لے کر باہر آ گیا۔ کاٹیج کو تالا لگایا اور ہم دونوں ہوٹل کے ڈائننگ ہال میں آگئے۔  مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اتنے بڑے ہال میں دو چار میزیں ہی خالی تھیں۔ دوسرے ہال میں بھی لوگ بھرے ہوئے تھے اور جوئے خانے میں بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ لوگ شام ہونے کے فوراً ہی بعد یہاں پہنچنا شروع ہو گئے تھے اور ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا تھا۔ جس نے بھی یہ ہوٹل بنایا تھا وہ اپنے بزنس میں بہت کامیاب تھا۔

وہ دونوں آدمی اب مجھے کہیں بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ شروع میں پارکنگ ایریا میں جو دو تین کاریں دیکھی تھیں وہ اب بھی موجود تھیں جس کا مطلب تھا کہ وہ دونوں بھی یہاں موجود تھے۔ اگر وہ ہماری ہی تاک میں تھے تو انہیں یقینا پتہ چل گیا ہو گا کہ ہم نے کاٹیج لے لیا ہے۔ ہم دونوں کے مخصوص لباس کی وجہ سے لوگ ہماری طرف دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ ایسی ماڈرن جگہ پر دیہاتی لباس ہنسنے والی بات ہی تو تھی۔ بعض لوگ تو شایدیہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم نے تفریحاً یہ لباس پہن رکھے ہیں۔

ڈائننگ ہال میں ایک خالی میز مل گئی۔ ہم نے وہاں بیٹھ کر اطمینان سے کھانا کھایا۔ بل ادا کرتے وقت مجھے اچانک ہی اس وائلٹ کا خیال آیا جو جھیل والے شکاری کی پینٹ کی جیب سے برآمد ہوا تھا۔

“ارے وہ وائلٹ کہاں ہے جو شکاری کی جیب سے نکلا تھا۔“ میں نے دیوی کی طرف دیکھے ہوئے مدہم لہجے میں پوچھا۔

“محفوظ ہے۔ اسے کوئی نہیں چھو سکتا۔ ” دیوی نے کہتے ہوئے نظروں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ہونٹوں پر شریر سی مسکراہٹ آگئی تھی۔ میں بھی مسکرا دیا ۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page