Smuggler –278–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 278

دیوی مطلب سمجھ گئی۔ وہ بڑی آہستگی سے دروازے کے پیچھے سے نکلی اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر پوری قوت سے دو ہتڑ اس کی گدی پر جما دیا۔ اس شخص کے منہ سے  اونح  کی آواز نکلی اور وہ لڑکھڑاتا ہوا آگے کو گرا۔ میں نے سب سے پہلے اس کے پستول والے ہاتھ پر ٹھوکر ماری۔ پستول اس کے ہاتھ سے نکل کر بیڈ پر گرا۔۔۔ جسے میں نے فورا ہی قبضے میں لے لیا۔  وہ شخص سنبھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اس کی کنپٹی پر ٹھو کر رسید کر دی۔ وہ کراہتا ہوا  ڈھیر ہو گیا۔ کنپٹی پر لگنے والی ٹھوکر نے اسے کم از کم 3 گھنٹوں کیلئے اس دنیا سے غافل کر دیا تھا۔ میں نے اسے گھسیٹ کر دروازے کے پیچھے ڈال دیا اور پستول دیوی کے ہاتھ میں دے دیا۔ دیوی ایک بار پھر دروازے کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔ میں کھلے ہوئے دروازے کے سامنے اس طرح ہاتھ اٹھائے کھڑا رہا جیسے کسی نے ہینڈز اپ کرا رکھا ہو۔ صرف دو منٹ بعد کاٹیج کے قریب تیز تیز قدموں کی آواز ابھری اور پھر گینڈے کی گردن والانریش دروازے کے سامنے نمودار ہوا۔

اجے  وہ وہاں نہیں ۔ وہ کہتے کہتے رک گیا اور عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔ اجے  کہاں ہے؟

میں نے گردن سے اندر کی طرف اشارہ کر دیا۔ وہ  اجے  کا نام لیتا ہوا اندر داخل ہو گیا ۔ دیوی نے دھڑ سے دروازہ بند کر دیا۔ نریش تیزی سے پیچھے گھوما اور پھر اس کے چہرے پر خوف کے سائے پھیلتے چلے گئے۔

“اوہ”۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ “ااا ۔ اجے کہاں ہے؟

یہ رہا۔ تمہارے سامنے ” میں نے زمین پر پڑے ہوئے اجے کی طرف اشارہ کیا۔

اجے کو مردوں کی طرح بے حس و حرکت پڑا  پاکر اس کے چہرے پر خوف کے تاثرات کچھ اور گہرے ہو گئے ۔

“تت،،، تم نے اسے مار دیا ۔“ نریش  ہکلایا۔

“نہیں، ابھی زندہ ہے۔ میں نے جواب دیا۔

نریش نے بڑی پھرتی سے پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی مگر میرا گھونسہ اس کے جبڑے پر پڑا اور وہ لڑکھڑا گیا۔ دیوی نے بڑی پھرتی سے اس کے پیچھے پہنچ کر پستول کی نال اس کی کھوپڑی سے لگا دی۔

“اب اگر تم نے کوئی حرکت کی تو کھوپڑی اڑا دوں گی ۔ وہ غرائی۔”

میں نے آگے بڑھ کر نریش  کی جیب سے پستول نکال لیا اور ردیوی کو اشارہ کر دیا۔ دیوی نے بڑی پھرتی سے پستول کو نال کی طرف سے پکڑکر دستہ پوری قوت سے اس کی کھوپڑی پر رسید کر دیا۔ وہ کراہتا ہوا ڈھیر ہو گیا۔

“دیوی  ہری اپ” میں نے نریش کی جیب سے نکالا ہوا پستول اپنی جیب میں ڈال لیا۔ ” یہاں کوئی رسی تلاش کرو۔

“یہ کوئی مویشیوں کا باڑہ تو نہیں کہ رسی مل جائے۔” دیوی بولی۔ اس نے بھی اجے والا پستول جیب میں ڈال لیا تھا۔ وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ پھر اس نے بستر کی چادر کھینچ لی اور اسے لمبائی کے رخ پر پھاڑنے لگی۔

اس چادر کی بالش بھر چوڑی پانچ چھ پٹیاں بن گئیں۔ میں نے پہلے اجے کے پیر اور ہاتھ پشت پر باند ھے اور پھر نریش کو بھی اسی طرح باندھ دیا اور پھر بتی بجھا کر کا ٹیج سے باہر آ گیا ۔

ہوٹل کی عمارت کی طرف سے موسیقی اور لوگوں کے شور کی ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ آس پاس کے کاٹیج تاریک پڑے ہوئے تھے۔ میرا خیال تھا کلب کا پروگرام ختم ہونے کے بعد یہ کاٹیج آباد ہونا شروع ہوں گے۔ تقریباً پچاس گز دور کسی پول پر بلب جل رہا تھا لیکن درختوں کی جھکی ہوئی شاخوں کی وجہ سے اس کی روشنی  محدود ہوکر رہ گئی تھی۔

ہمارے والے کاٹیج کے سامنے درختوں کی وجہ سے اندھیرا تھا۔ عمارت کی طرف سے شور کی آوازیں تو آرہی تھیں لیکن اس طرف کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

میں نے اندر آ کر پہلے اجے کو کندھے پر اٹھایا اور باہر نکل کر ادھر ادھر دیکھتا ہوا تیزی سے کاٹیج کے پچھلی طرف چلنے لگا۔ اس طرف بھی ایک دو  کا ٹیج تھے مگر وہ خاصے دور تھے اور اس طرف بھی تاریکی تھی۔ عقب میں بائیں طرف وہ عمودی ڈھلان تھی جو میں نے دن کے وقت دیکھی تھی ۔ وہ ڈھلان خاصی گہری تھی۔ نیچے دور تک درخت اور جھاڑیاں پھیلی ہوئی تھیں ۔ میں نےاجے کو کندھے سے اتار کر اس  ڈھلان پر لڑھکا دیا۔ وہ جھاڑیوں میں الجھتا ہوا نیچے کی طرف لڑھکتا چلا گیا۔ کچھ دیر تک جھاڑیوں کی شاخوں کی آواز سنائی دیتی رہی پھر خاموشی چھا گئی۔ اجے کم از کم پندرہ بیس گز نیچے جا کر رکا تھا۔

میں تیزی سے کاٹیج میں واپس آ گیا اور نریش کو کندھے پر اٹھا لیا۔ وہ کم بخت گینڈے ہی کی طرح بھاری تھا ۔ اسے کھائی تک لے جاتے ہوئے میں بری طرح ہانپ گیا تھا۔ اسے ڈھلان پر لڑھکا کر میں لمبے لمبے سانس لینے لگا۔

وہ دونوں زندہ تھے۔ میں نے انہیں اپنے ہاتھوں قتل نہیں کیا تھا لیکن کسی ایسے آدمی کو زندہ چھوڑ بھی میرے اصول کے خلاف تھا جو میری جان کا دشمن ہو۔ انہیں میں نے ہاتھ پیر باندھکر اس گہری کھائی میں لڑھکا دیا تھا۔ ان دونوں کے منہ میں کپڑا بھی ٹھونس دیا گیا تھا۔ ہوش میں آنے کے بعد بھی نہ تو وہ کوئی حرکت کر سکتے تھے اور نہ ہی ان کے منہ سے کوئی آواز نکل سکتی تھی۔ اس گہری کھائی کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہاں بھیڑیوں کی آمدورفت ضرور ہو گی۔ اگر وہ بھیڑیوں کی خوراک بننے سے بچ گئے تو زہریلے سانپ یا بچھو وغیرہ ان کی زندگیوں کا خاتمہ کر دیں گے۔ اگر وہ ان سے بھی محفوظ رہے تو اپنی موت آپ مر جائیں گے۔

اس بات کا امکان ہرگز نہیں تھا کہ کوئی انہیں بچا لے گا۔ رات کے وقت تو کسی کا اس طرف جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ صبح کے وقت اگر کوئی تفریحاً اس طرف چلا بھی گیا تو اس وقت تک دم  گھٹنے سے ہی ان کا خاتمہ ہو چکا ہوگا۔

میں کاٹیج میں واپس پہنچا تو ٹھٹک سا گیا۔ دیوی تصویروں والے فریم سیدھے کر چکی تھی اور ایک تصویر کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ۔ ”

“کیا بات ہے یہ تصویر زیادہ پسند آ گئی ہے؟ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

“اوہ نہیں “۔ وہ چونک کر بولی۔ یہ،،، یہ شیبا کی تصویر ہے۔”

شیبا ۔! یہ کون ہے؟ کیا تم جانتی ہو اسے؟” میں نے حیرت سے کہا اور تصویر کو دیکھنے لگا۔ تصویر در اصل سولہ بائے بیس انچ سائز کا کلر فوٹو گراف تھا۔ اس لڑکی کی عمر بیس اکیس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ بے حد حسین تھی، جسم پر لباس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ تصویر اس انداز سے کھینچی گئی تھی کہ بدن کے تمام نشیب و فراز واضح تھے۔ لڑکی کے ہونٹوں پر بڑی دلفریب مسکراہٹ تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ تصویر کھنچوانے کیلئے اس پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا بلکہ اس نے بخوشی کیمرے کا سامنا کیا تھا۔

” یہ ۔ پریم نو اس ریسٹورنٹ میں میرے ساتھ ویٹریس تھی ۔ ” دیوی نے جواب دیا۔ صرف تین مہینے رہی تھی پھر اطلاع دیے بغیر کام چھوڑ کر چلی گئی تھی ۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page