Smuggler –286–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 286

“کل سے۔”  دیوی کے لہجے میں کسی قدر حیرت تھی۔

“ہاں۔ وقت ضائع کرنے کا کیا فائدہ ، کل سے کام شروع کر دو ۔”  رتنا کماری نے کہا۔

وہ دونوں وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں اور میں دوسرے کمرے میں آکر بستر پر لیٹ گیا اور کچھ ہی دیر بعد میری آنکھ لگ گئی۔

مجھے رات نو بجے کے قریب جگایا گیا۔ اس وقت رتنا کماری کھانا تیار کر چکی تھی۔ میں باتھ روم میں گھس گیا۔ ٹھنڈے پانی کے غسل سے میری کسلمندی دور ہوگئی۔ ہم نے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر کھانا کھایا اور پھر وہیں بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رہے۔

ایک ہفتہ گزر گیا۔ کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ رتناکماری قابل اعتماد ثابت ہوئی۔ ویسے بھی اسے ہماری اصل کہانی کا علم نہیں تھا اس لئے اس کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔

مجھے بقول شخصے ان دِنوں چپڑیاں اور دو دو میسر تھیں ۔ دو بجے تک دیوی موجود ہوتی اور چار بجے بعد رتنا کماری آجاتی ۔  رتنا کماری بھی کوئی نیک پروین نہیں تھی۔ تیسرے ہی روز میری بانہوں میں آگئی تھی۔ اور میرے لن کا مزہ چک کر اس کی دیوانی  بنی تھی۔ دیوی کی غیر موجودگی میں وہ فلیٹ پر بنا کپڑوں کے گھومتی تھی اور میرا پارہ ہر وقت ہائی کرتی تھی۔ میں بھی  جب  دل کرتا اسے لن پہ چڑھاتا تھا۔ اور  خود کے ساتھ ساتھ اس کی بھی  جوس نکالتا تھا۔

دن کے وقت میں بہت کم  فلیٹ سے نکلتا تھا ، البتہ رات کو آٹھ نو بجے کے قریب باہر نکل کر محتاط انداز میں ٹہل  لیتا۔

ایک رات ہم بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ شیبا کا ذکر نکل آیا۔  وہی  شیبا  جس کی عریاں تصویر ہم نے موٹیل کے ہٹ میں دیکھی تھی ۔

“وہ مکھراج ہی میں ہے”۔  رتنا کماری نے کہا۔ ”موٹیل والے سیٹھ ایڈواھنی کا شہر میں بھی بہت بڑا ہوٹل اور نائٹ کلب ہے۔ شیبا  نائٹ کلب میں ڈانس پروگرام دیتی ہے۔”

“ہاں۔ وہ بڑی اچھی رقاصہ ہے۔” دیوی نے کہا۔ ” اس کی خواہش تھی کہ اسے کسی کلب میں کوئی کام مل جائے لیکن ۔ ۔۔۔ وہ چند لمحوں کو خاموش ہوئی پھر اس کی تصویر کے بارے میں بتانے لگی۔

“ہمیں اس سے کیا غرض ۔ وہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ ،،رتنا کماری بولی ،  ویسے وہ بھی اچھی لڑکی ہے۔ مجھ سے کبھی کبھار ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ کہو تو تمہاری ملاقات کرا دیں۔ کبھی کبھی تمہارا ذکر بھی ہوتا رہا ہے۔”

“دیکھا جائے گا” ۔ دیوی نے کہا۔

دیوی نے اگر چہ بات ٹال دی تھی لیکن اس سے اگلے دن رات گیارہ بجے کے قریب ہم ایک عالیشان کوٹھی میں ایک شاندار ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ شیبا کی کوٹھی تھی اور وہ اس وقت ہمارے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اگرچہ ڈھنگ کے لباس میں تھی مگر میں چشم تصور سے اسے اس تصویر کے روپ میں دیکھ رہا تھا۔

ان تینوں میں پرانی باتیں ہوتی رہیں اور پھر رات ایک بجے کے قریب شیبا نے اپنی شاندار گاڑی میں ہمیں رتنا کماری کے فلیٹ والی بلڈنگ کے سامنے ڈراپ کیا تھا۔

دو تین روز اور گزر گئے۔ میں اکثر اس بوڑھے کوچوان کے بارے میں بھی سوچتا ہوں جو ہمارے چکر میں پڑکر نجانے کن پر اسرار سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا تھا لیکن ہم نے بروقت اس سے اپنا پیچھا چھڑا لیا تھا۔

ایک رات شیبا ،  رتنا کماری کے فلیٹ پر آگئی۔ وہ اگلے روز ہمیں رات کے کھانے پر مدعو کرنا چاہتی تھی ۔ دیوی اور رتنا کماری انکار نہ کر سکیں ۔

اگلے روز  دیوی کو ریسٹورنٹ سے چھٹی کرنی پڑی۔ اگر رتنا کماری کی سفارش نہ ہوتی تو اسے چھٹی نہ ملتی۔

ہم رات نو بجے شیبا کی کوٹھی پر پہنچ گئے۔ ہمارے علاوہ کوئی اور مہمان مدعو نہیں تھا۔ ساڑھے نو بجے ہم نے کھانا شروع کیا ہی تھا کہ ایک ملازم نے آکر شیبا کے کان میں سرگوشی کی۔

“ٹھیک ہے آنے دو انہیں ۔  شیبا نے اونچی آواز میں کہا پھر باری باری ہم تینوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ” ہماری ایک مشتر کہ دوست آئی ہے جس سے مل کر تم لوگوں کو یقینا بہت خوشی ہوگی ۔

ملازم باہر چلا گیا۔ میں نجانے کیوں اپنے آپ میں بے چینی سی محسوس کرنے لگا تھا۔ دیوی کی آنکھوں میں بھی الجھن سی ابھر آئی تھی ۔ شاید وہ بھی سوچ رہی تھی کہ مشتر کہ دوست کون ہو سکتی ہے۔

ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ دو منٹ بعد دروازے کا پردہ ہٹا اور تین افراد اندر داخل ہوئے۔

میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ میں نے دیوی کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ بھی ایک دم سفید پڑگیا تھا۔ میں آنے والوں کی طرف دیکھنے لگا۔ ان میں ایک کرشمہ تھی اور دو بلیک کیٹ کمانڈوز ،  ان دونوں نے سب مشین گنیں ہماری طرف تان رکھی تھیں۔

میری کنپٹیاں سلگ اٹھیں اور دل کی دھڑ کن خطرناک حد تک تیز ہو گئی۔ دیوی کے چہرے پر بھی خوف کے سائے گہرے ہو گئے تھے مگر ایسا نازک لمحہ بھی نہیں آیا تھا۔ بلیک کیٹ کے دونوں کمانڈوز میز کے دوسری طرف دروازے کے قریب را ئفلیں تانے کھڑے تھے۔  ان کے چہروں پر پتھر جیسی سختی تھی۔ آنکھوں میں بے پناہ سرد مہری تھی۔ ان کی انگلیاں رائفلوں کے ٹرائیگر ز پر تھیں اور وہ ایکشن لینے کے لیے مکمل طور پر تیار تھے۔

کرشمہ ان کے بائیں طرف تھی۔ اس کے ہونٹوں پر فاتحانہ چمک تھی وہ چمکتی ہوئی نظروں سے کبھی میری طرف دیکھتی اور کبھی دیوی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ رتنا کماری کے لیےیہ صورت حال بالکل انوکھی اور دہلا دینے والی تھی۔ وہ یہ تو جانتی تھی کہ پولیس اور بلیک کیٹ کو ایک پاکستانی دہشت گرد اور اس کی ایک ساتھی عورت کی تلاش ہے۔  فارغ اوقات میں وہ ہمارے ساتھ اس موضوع پر تبادلہ خیال بھی کرتی تھی لیکن اس نے یہ تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پولیس جن دہشت گردوں کو پورے شہر میں تلاش کرتی پھر رہی تھی وہ اس کے فلیٹ میں موجود تھے۔  وہ ہم  پر شبہ کر ہی نہیں سکتی تھی۔ دیوی اس کے ساتھ ماؤنٹ ابو کے ہوٹل میں کام کر چکی تھی ۔ وہ اسے اچھی طرح جانتی تھی اور دیوی اس کی نظروں میں دہشت گرد نہیں ہو سکتی تھی اور میرے بارے میں بھی اس نےکبھی نہیں سوچا ہوگا کہ میں ہی وہ دہشت گرد ہو سکتا ہوں کیونکہ پولیس کو ایک پاکستانی دہشت گرد کی تلاش تھی اور وہ مسلمان تھا جبکہ دیوی نے اس سے میرا تعارف ارجن کے نام سے کرایا تھا اور ظاہر ہے یہ کسی مسلمان کا نام نہیں ہو سکتا تھا  اس کے ساتھ ہمبستری کے وقت بھی کوئی ایسا شک نہیں ہوا تھا  اسے،  یا پھر چڑھتے شہوت کی وجہ سے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا ہوگا حالانکہ  وہ میرے لن کو ہاتھوں میں لے کر کبھی کبھی بہت غور سے لن ٹوپے پر گول گیرہ دیکھا کرتی تھی۔ مگر اس موضوع پر کبھی بات تک نہیں کی تھی۔

اس وقت کی صورتحال سے بھی وہ فوری طور پر یہ نہیں سمجھی تھی کہ یہ بلیک کیٹ کمانڈو ہمارے لیے آئے ہیں بلکہ وہ کچھ سمجھی ہی نہیں تھی البتہ خوف سے اس کا چہرہ ایک دم دھواں ہو گیا تھا اور اس خوف کے نتیجے میں وہ چیختی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page