Smuggler –292–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 292

“بڑی مہربانی ہے روشن بابو ۔ ” میں نے کہا۔ لیکن اگر تمہارے دل میں کوئی ایسی بات ہو تو ہم ابھی یہاں سے جانے کو تیار ہیں۔ ہمیں کوئی نہ کوئی ٹھکانہ مل ہی جائے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تم پر کوئی مصیبت آئے۔”

ارے تمہارے لیے تو اپنی جان بھی حاضر ہے۔” روشن بابو نے کہا۔ “میرا آدھے سے زیادہ خاندان پاکستان میں ہے زیادہ لوگ کراچی میں مقیم ہیں۔ مجھے معلوم ہے “را” کے تربیت یافتہ دہشت گرد وہاں کیسی تباہی پھیلا رہے ہیں چند مہینے پہلے ہمارے خاندان کے دولڑ کے بھی ان کی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ سنا ہے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ کے سامنے بیٹھ کے چائے پی رہے تھے کہ دہشت گرد گولیاں برساتے ہوئے نکل گئے۔ وہاں پانچ لڑ کے خاک و خون میں لوٹ گئے تھے۔ نو عمر تھے وہ سب کے سب۔ سولہ سترہ سال کیا عمر ہوتی ہے  یار  ۔۔۔ہائی سکول کے سٹوڈنٹ تھے انہیں میں دولڑ کے ہمارے خاندان کے تھے۔ ذرا سوچو ان گھروں پر کیا قیامت ٹوٹی ہوگی ۔ وہ چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بولا۔ ” مجھے یہ تو معلوم تھا کہ پاکستان میں “را” کے تربیت یافتہ دہشت گردوں نے تباہی پھیلا رکھی ہے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ تربیتی کیمپ یہیں راجستھان میں ہے۔ اس کا انکشاف تو اس وقت ہوا جب تم نے ماؤنٹ ابو کی پہاڑیوں میں اس کیمپ کو تباہ کیا تھا۔ ہندوسرکار نے اگرچہ اس پر پردہ  ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن لوگوں کو پتہ چل گیا تھا۔کہ اس کیمپ میں دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی تھی جو پاکستان جا کر دہشت گردی پھیلاتے تھے۔

“اور پھر اس کے بعد تمہاری سرگرمیوں کی خبریں باقاعدگی سے اخباروں میں چھپتی رہیں۔ اکیلے آدمی نے ”را“ کو انگلیوں پر نچھا رکھا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہونے کے باوجود بڑی دلچسپی سے خبریں پڑھتے ہیں۔ تمہارے بارے میں میرے دل میں بھی ایک دو مرتبہ خواہش ابھری تھی کہ کاش تم سے میری ملاقات ہو سکتی، لیکن یہ خواب ہی تھا اور مجھے خوشی ہے کہ آج اس خواب کی تعبیر مل گئی اور تمہارے ساتھ رتنا کماری کو دیکھ کر اور بھی زیادہ خوشی ہوئی اس سے یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ انسانیت اور سچائی کا ساتھ دینے والے اب بھی موجود ہیں ۔ ہندو، مسلمان، پارسی ، سکھ، عیسائی یہ تو شناخت ہے، اصل مذہب تو انسانیت ہے جس کے لیے اس قسم کے لوگ کسی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی تعداد اگر چہ کم ہے مگر ان کا وجود تو ہے۔

“اور ان میں سے ایک آپ بھی ہیں روشن بابو”۔  دیوی نے کہا۔

روشن بابو کچھ کہنا چاہتا تھا کہ نگہت کافی لے آئی۔

نگہت نے سب کے سامنے کافی کا ایک ایک کپ رکھ دیا۔ ایک کپ وہ خود لے کر صوفے پر بیٹھ گئی۔  روشن بابو نے کافی کی ایک چسکی لی اور ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

“دن کے وقت میں تو گھر پر کم ہی رہتا ہوں لیکن یہ بی بی۔۔۔۔ در اصل یہی اس گھر کے سیاہ و سفید کی مالکہ ہے ۔ تم لوگوں کا خیال رکھنا اب اس کی ذمےداری ہے۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا تکلف اس سے کہہ دیجئے ۔”

“ہماری ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم یہاں ڈسٹرب نہ ہوں۔ میرا مطلب ہے یہاں آپ کے دوستوں کی آمد و رفت۔۔۔۔”

“تم لوگ جب تک یہاں رہو گے کوئی یہاں نہیں آئے گا۔ روشن بابو نے میری بات کاٹ دی۔ اگر میرا کوئی دوست ادھر آ بھی گیا تو بی بی اسے سنبھال لے گی۔ ویسے اطمینان رکھو یہاں کسی کو تم لوگوں کی موجودگی کی ہوا بھی نہیں لگے گی ۔ ویسے وہ چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہنے لگا۔ میرا خیال ہے دو چار روز میں ہنگامے ذرا ٹھنڈے ہو جائیں گے تو تم لوگوں کو اپنے پہاڑی والے بنگلے پر منتقل کر دوں گا۔ وہاں کسی کی مداخلت کا اندیشہ نہیں۔ تم لوگ آرام سے وہاں رہ سکو گے”

“یہ ہنگامے دو چار دنوں میں ٹھنڈے ہونے والے نہیں ہیں روشن بابو ۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ “اگر عام آدمیوں کا معاملہ ہوتا تو یہ بات مختلف ہوتی لیکن اصل قصہ یہ ہے کہ بلیک کیٹس کے دو کمانڈو بھی ہمارے ہاتھوں مارے گئے ہیں اور تم سمجھ سکتے ہو کہ اس طرح معاملہ کتنا سنگین ہو گیا ہے۔ کیا دو چار دن میں ہنگامے سرد ہو سکتے ہیں۔”

“مجھے رتنا دیوی نے بتایا تھا۔ روشن بابو نے کہا۔ ”بلیک کیٹس فورس قائم تو کسی اور مقصد کے لے کی گئی تھی لیکن اب یہ ایک دہشت گرد فورس بن چکی ہے اب اس فورس پر بھی “را” کا قبضہ ہے اور “را” والے اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔

میں کچھ کہنا چاہتا تھا  مگر فون کی گھنٹی  بج  اٹھی۔

 بی بی نے آگے بڑھ کر ریسیور اٹھالیا۔ وہ ایک دو  منٹ فون پر بات کرتی رہی پھر روشن بابو کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ کلب سے تمہارا فون ہے۔ سونالی بات کرے گی۔” روشن بابو نے اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے ہاتھ سے ریسیور لے لیا۔ چند منٹ تک بات کرتا رہا پھر ریسیور رکھ دیا اور نگہت کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

کلب میں ویک اینڈ کے لیے ایک پروگرام بن رہا تھا اس کے لیے مجھے بھی ایک ذمے داری سونپی گئی تھی آج اس سلسلے میں سونالی سے میٹنگ تھی لیکن وہ اس وقت تک نہیں پہنچی تھی۔ اب فون پر اس سلسلے میں بات کر رہی تھی۔ میں نے اس سے معذرت کرلی ہے کہ میں اس پروگرام میں شریک نہیں ہو سکوں گا۔ میرے بجائے کشور سنگھ کو لے لیا جائے۔”

“لیکن میرا خیال کچھ اور ہے۔ ” نگہت نے کہا۔ ” تم کسی پروگرام میں بے شک حصہ نہ لولیکن اس وقت اگر کلب چلے جاؤ تو تمہیں شہر کے حالات کی خبر مل سکتی ہے۔”

“گڈ آئیڈیا۔ روشن بابو کہتے ہوئے ایک بار پھر اپنی جگہ سے اٹھ گیا اور گھڑی دیکھتے ہوئے بولا۔

 اس وقت ساڑھے بارہ بجے ہیں میری واپسی میں دو ڈھائی بچ سکتے ہیں تم مہمانوں کے آرام کا بندوبست کرو۔ میرا خیال ہے انہیں اوپر پیچھے والا کمرہ دے دو۔ اگر میری واپسی تک یہ سو  نہ گئے تو گپ شپ ہوگی۔”

“اس کے تھوڑی ہی دیر بعد روشن بابو کلب چلا گیا۔ دیوی نے گاڑی پورچ سے ذرا آگے درخت کے نیچے کھڑی کی تھی۔ نگہت گیراج سے کار کا کور نکال لائی اور میں نے رتناکماری کے ساتھ مل کر شیبا والی کار پر وہ کور ڈال دیا تا کہ اگر کوئی یہاں آئے بھی تو اسے وہ کار نظر نہ آسکے۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page