Smuggler –293–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 293

“آؤ ۔۔۔۔میں تم لوگوں کو کمرہ دکھا دوں۔” اندر آ کر رتنا کماری نے  دیوی  اور میری طرف دیکھا۔ ہم دونوں نے اپنی را ئفلیں اٹھا لیں اور رتنا کماری کے ساتھ اوپر والے حصے میں آگئے۔ یہاں کی بالکونی بھی بہت کشادہ تھی۔ اس کا ایک حصہ وسیع ہال کی طرح پیچھے کی طرف پھیلا ہوا تھا جس میں پچھلے ہال کی طرح شاندار فرنیچر آراستہ تھا۔ رتنا کماری نے آخر میں ایک کمرے کا دروازہ کھول دیا اور اندر داخل ہوکربتی جلا دی۔

 اس کمرے کو دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ بہت وسیع و عرض کمر ہ تھا درمیان میں ایک بہت بڑا گول بیڈ تھا جس پر شاندار مخملی چادر بچھی ہوئی تھی ۔ قالین دبیز تھا کہ پیر دھنس رہے تھے۔ دیوار کے قریب ایک صوفہ سیٹ بھی رکھا ہوا تھا اس کمرے کی ہر چیز بہت شاندار اور بہت قیمتی تھی۔

اس نے مڑ کر دیوی کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر بھی حیرت کے تاثرات نمایاں تھے۔ “بی بی کا کمرہ نیچے ہے۔ رتنا کماری کہہ رہی تھی۔ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بیڈ کےساتھ لگا ہوا یہ بٹن دبا دینا  بی بی کے کمرے میں گھنٹی بجے گی اور وہ یہاں آجائے گی، ویسےیہ بیل رات کے استعمال کے لیے ہے دن میں تو تم لوگ دروازے میں کھڑے ہو کر بی بی کو آواز بھی دے سکتے ہو۔”

میں رتنا کماری کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ شیبا کے بنگلے سے فرار کے بعد اس طرف آتے ہوئے رتنا کماری نے کوئی اور کہانی سنائی تھی اس کے کہنے کے مطابق روشن بابو اسے پسند کرتا تھا وہ اسے دیکھنے کے لیے چائے پینے کے بہانے اس ریسٹورنٹ میں آیا کرتا تھا جہاں وہ کام کرتی تھی اور یہ کہ وہ صرف ایک مرتبہ روشن بابو کے ساتھ اس کی کوٹھی میں آئی تھی لیکن یہاں آنے کے بعد کچھ اور انکشافات ہو رہے تھے ۔ نگہت سے وہ اس طرح بےتکلف تھی جیسے بہت پرانی دوستی ہو اور ہمیں اس کوٹھی کے بارے میں بھی اس طرح بتارہی تھی جیسے برسوں سے یہاں رہ رہی ہو اس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ اس نے راستے میں جو کہانی سنائی تھی وہ ادھوری تھی جبکہ اصل کہانی کچھ اور تھی جو آہستہ آہستہ کھل رہی تھی۔

“لعنت بھیجو ” میں نے دل ہی دل میں کہا اور رتنا کماری کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ دیوی کے ساتھ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی تھی۔ میں بھی ان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ رتنا کماری کہہ رہی تھی ۔

یہ کوٹھی ہمارے لیے بالکل محفوظ ہے۔ ہم دو چار دن یہاں رہیں گے اور پھر موقع ملتے ہی پہاڑی والے مکان پر چلے جائیں گے،  وہاں ہم کسی مداخلت کے بغیر آزادی سے رہ سکیں گے۔”

“تم نے راستے میں بتایا کہ اس کوٹھی میں بھی صرف ایک مرتبہ آئی تھیں اور۔۔۔ “

“ارے بھئی سمجھا کرو نا۔۔۔۔”  دیوی نے میری بات کاٹ دی۔ اس نے بھی میری طرح ہر بات نوٹ کر لی تھی ۔ کوئی عورت کسی مرد تو کیا کسی دوسری عورت کو ہر بات تفصیل سے تو نہیں بتا سکتی۔ ہمارے لیے اتنا ہی جان لینا کافی ہے کہ روشن بابو سے اس کی دوستی ہے۔

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے ۔ میں نے کہا۔ اب میں کچھ جاننے کے لیے کوئی اصرار نہیں کروں گا”

رتنا کماری کچھ جھینپ سی گئی۔ ٹھیک ہے وہ کہتے ہوئے اٹھ گئی ۔ “روشن بابو نے واپس آ کر کوئی خاص بات بتائی تو میں تم لوگوں کو بلالوں گی۔ اگر کوئی خاص بات نہ ہوئی تو صبح ملاقات ہو گی اب تم لوگ آرام کرو ۔”

وہ باہر چلی گئی۔ دیوی نے دروازہ اندر سے بولٹ کر دیا اور ایک بار پھر کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے بولی۔

“یہ روشن بابو بھی مجھے کچھ گڑ بڑہی لگتا ہے۔ اتنی بڑی اور عالیشان کوٹھی ایسی کوٹھیاں تو سمگلروں یا اونچے پیمانے پر غیرقانونی دھندہ کرنے والوں کے پاس ہی ہو سکتی ہیں۔”

“ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاہئے کہ روشن بابو کوئی قانونی بزنس کرتا ہے یا غیر قانونی دھندا” میں نے کہا۔ “ہمارے لیے اتنا کافی ہے کہ ہمیں یہاں پناہ مل گئی ہے ہم چند روز یہاں رہیں گے بشر طیکہ اس دوران کوئی گڑبڑ نہ ہو اور پھر جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔ میں محسوس کر رہا ہوں کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ہم ویسے ویسے ہی اس دلدل میں مزید گہرائی کی طرف جا رہے ہیں۔”

“اس میں میرایا تمہارا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ ” دیوی نے جواب دیا۔”خود بخود کچھ ایسے حالات پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ ہم مزید الجھتے جارہے ہیں ۔ کسی طرح جان چھڑانے کا موقع ہی نہیں ملتا۔” وہ ایک لمحے کو خاموش ہوئی پھر بولی راستے میں ہوٹل والا واقعہ۔۔۔ اس میں ہمارے ارادے کا تو کوئی دخل نہیں تھا صرف اتنا تھا کہ وہاں دو آدمی ہمارے انتظار میں بیٹھے تھے۔ اس سے ہم نے نجات حاصل کر ہی لی تھی ہم وہاں سے نکل جاتے لیکن ہمیں کیا معلوم تھا کہ ان کم بختوں میں سے کسی نے ہماری جیپ میں بم لگا دیا تھا اور ان کا تیسرا ساتھی بھی وہاں پہنچ گیا تھا جس نے اس جیپ پر ہمارا پیچھا کرنے کی کوشش کی تھی اور جیپ سمیت اڑ گیا۔

“کسی طرح وہ معاملہ بھی ٹھنڈا ہو رہا تھا، ہمیں رتنا کماری کے پاس ایک محفوظ ٹھکانہ مل گیا تھا مگربہت برا ہوا  اس حرامزادی شیبا کا جس نے ہمارے لیے نئی مصیبت کھڑی کر دی۔ حالات تو خود بخود ہمیں الجھاتے جارہے ہیں۔ اس میں ہمارا تو کوئی قصور نہیں۔ اب بات کچھ یوں ہے کہ ہم تو کمبل کو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن لگتا ہے کمبل ہمیں نہیں چھوڑنا چاہتا ۔”

“ہاں ٹھیک کہتی ہو ۔ یہ کمبل ہی ہمیں نہیں چھوڑنا چاہتا۔” میں نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔ “لیکن اس کمبل سے ہمیں نجات حاصل کرنی ہے ہر صورت میں۔”

میں بات کرتا ہوا ایک کھڑکی کے قریب آ گیا۔ شیفون کا پردہ کھینچ کر ایک طرف ہٹایا اور کھڑکی کے پٹ کھول دیئے۔

عقبی سمت میں تقریباً پندرہ فٹ نیچے لان تھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہاں گھاس تھی یا پھولوں کے پودے تھے یا صرف مٹی تھی۔ بہر حال یہ جگہ خاصی وسیع و عریض تھی اور باؤنڈری وال تقریباً تیس گز پیچھے نظر آ رہی تھی۔ اس باؤنڈری وال کے پیچھے بہت دور نشیب میں روشنیاں نظر آ رہی تھیں جس سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ روشن بابو کی یہ کوٹھی اور اس کے ساتھ والی کوٹھیاں بلندی پرتھیں اور پچھلی طرف نشیب تھا  البتہ دائیں طرف کی روشنیاں بتدریج بلندی کی طرف چلی گئی تھیں۔ جس کا مطلب تھا کہ اس طرف آبادی بلندی پر تھی ۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page