Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 297

“ڈاکٹر کے ساتھ ہی باہر گیا ہے۔ نگہت نے جواب دیا۔ ” ذرا آگے ایک چھوٹی سی مارکیٹ ہے،  وہاں میڈیکل سٹور سے دوا ئیں بھی لیتا آئے گا۔“

ہم تینوں دیوار کے قریب پڑے ہوئے صوفوں پر بیٹھ گئے۔ روشن بابو کی واپسی تقریبا آدھے گھنٹے بعد ہوئی تھی۔ وہ تین چار قسم کی دوائیں لے کر آیا تھا۔ ہماری باتوں کی آواز سن کر دیوی نے ایک بار پھر آنکھیں کھول ہیں۔

نگہت نے اسے دوائیں دے دیں۔ دو چار گھونٹ برانڈی کے بھی پلا دیئے گئے۔ اس کےکچھ ہی دیر بعد دیوی ایک بار پھر نیند کی آغوش میں پہنچ گئی۔

دیوی کی یہ اچانک بیماری میرے لیے نہایت تشویش ناک تھی اور ظاہر ہے اسے ٹھیک ہونے میں دن لگیں گے اور اس دوران خدانخواستہ پولیس کو یہاں ہماری موجودگی کی بھنک مل گئی تو ہم فرار بھی نہیں ہوسکتے تھے۔ میرے لیے بھاگ جانا  اگر چہ کچھ مشکل نہیں تھا مگر میں دیوی کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا ۔ وہ کئی مہینوں سے میرے ساتھ تھی اس نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا تھا۔ کئی بار موت سے پنجہ آزمائی کی تھی اور  مجھے یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ میں اسے خطرے میں چھوڑ کر بھاگ جاؤں اور ویسے بھی اس سے کچھ ایسا لگاؤ سا ہو گیا تھا کہ میں اسے چھوڑ کر جانے کا سوچ  بھی نہیں سکتا تھا۔

اس رات میں اس کمرے سے باہر نہیں نکلا۔  دیوی نیند میں بار بار بےچین ہورہی تھی  شاید اسے زیادہ تکلیف نہ ہوئی ہو لیکن اس کی بےچینی سے میں کرب مبتلا ہو جاتا تھا۔

صبح سات بجے کے قریب نگہت میرے لیے چائے لے کر آگئی۔ اس وقت دیوی نے آنکھیں کھول دیں۔ اس وقت وہ بہت زیادہ بےچین ہو رہی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے تھے۔ پسلیوں کے درد نے اس کے چہرے کے تاثرات بھی بگاڑ دیئے تھے۔ میں نے اسے سہارا دے کر چائےکے چند گھونٹ پلا دیئے۔ نگہت نے بھی اسے ایک پین کلر گولی دے دی تھی لیکن دیوی کی تکلیف کم نہیں ہوئی تھی۔

“میں روشن بابو کو جگاتی ہوں۔ “نگہت یہ کہتے ہوئے تیزی سے باہر نکل گئی۔ میں نے چائے کے چند گھونٹ بھرے۔ کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا  اور بیڈ پر بیٹھ کر دیوی کا سر گود میں رکھ لیا۔ اس نے آنکھیں  کھول کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں بے پناہ کر ب تھا۔

“تم ٹھیک ہو جاؤ گی دیوی ۔ میں اس کا گال تھپتھپانے لگا۔ ٹھنڈ لگ گئی ہے اورکوئی پریشانی نہیں۔

مم۔۔۔ میرے۔۔۔یہاں بہت درد ہو رہا ہے۔“  وہ رک رک کر بولی۔ دونوں ہاتھوں سےپسلیاں دبانے لگی۔

“ا بھی دوا دی ہے روشن بابو ڈا کٹر کو بلا لائے گا تھوڑا سا برداشت کر لو۔ ٹھیک ہو جاؤ گی۔ میں اسے تسلی دے رہا تھا۔

اس وقت رتنا کماری اور روشن بابو اندر داخل ہوئے۔ روشن بابو سلیپنگ سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ دیوی کی حالت دیکھ کر وہ صرف ایک منٹ کور کا تھا اور پھر تیزی سے باہر نکل گیا۔

تقریباً پندرہ منٹ بعد نچلے ہال سے روشن بابو کی آواز سن کر میں اور رتنا کماری اس کمرے سے نکلے اور جلدی سے دوسرے کمرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد میں نے روشن بابو اور ڈاکٹر کی آوازیں سنی تھیں۔ میں نے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا۔ وہ دونوں سامنے والے کمرےمیں داخل ہو رہے تھے۔

آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں چلے گئے تو میں اور رتنا کماری دیوی والے کرے میں آگئے۔

” انجکشن لگایا ہے۔” نگہت نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ روشن بابو ڈاکٹر کے ساتھ گیا ہےاور دو الکھ کر دی ہے۔ تھوڑی دیر میں آجائے گا۔”

میں بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ انجکشن لگنے کے تھوڑی ہی دیر بعد دیوی کی حالت کچھ بہتر ہونے لگی۔

نگہت اس کے لیے ناشتہ بنا کر لے آئی۔ اس نے اپنے ہاتھ سے دیوی کو ناشتہ کروایا ۔ حقیقتاً  وہ بھی پریشان  ہوچکی تھی۔ بیس پچیس منٹ بعد روشن  بابو آ گیا۔

“یہ ایک کریم دی ہے ڈاکٹر نے ۔ ” اس نے ایک ڈبیہ نگہت کی طرف بڑھا دیا۔ اور پشت پر مالش کرنی ہے ناشتہ کروا کے اسے دوسری دوائیں کھلا دو اور مالش کر دو ۔ امید ہے جلدی ٹھیک ہوجائے گی۔

“ناشتہ میں نے کروا دیا ہے دوائیں دے دیتی ہوں۔ نگہت نے کہا اور پھر اپنے ہاتھ سے  دیوی کو  دوا  کھلانے لگی۔

“اب تم لوگ باہر جاؤ ، میں اسے مالش کر دوں”   اس نے باری باری ہم سب کی طرف دیکھا۔

ہم لوگ کمرے سے باہر آگئے۔ نگہت نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ ہم تینوں نیچے آ کر بیٹھ گئے۔ نگہت تقریباً آدھے گھنٹے بعد آئی تھی۔

“وہ سو گئی ہے کوئی اسے ڈسٹرب نہ کرے۔ وہ ہماری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ ” تم لوگ تیار ہو جاؤ میں ناشتہ بنانے جارہی ہوں۔

اس کے دس پندرہ منٹ بعد دیوی کے علاوہ ہم سب اس ہال کمرے میں بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔

رات کو وقفے وقفے سے ہلکی بارش ہوتی رہی تھی اور اس وقت موسلا دھار بارش شروع ہو گئی تھی۔ ناشتے کے بعد بھی ہم وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ دس بجے کے قریب روشن بابو اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اور تھوڑی دیر بعد تیار ہو کر واپس آگیا۔

“اتنی تیز بارش میں کہاں جاؤ گے ۔ ” نگہت نے کہا۔

“دفتر میں ایک بہت ضروری کام ہے بی بی” روشن بابو نے جواب دیا ۔ آج میں نے جے پور کی ایک پارٹی کو وقت دے رکھا ہے ایک معاملے میں کئی دنوں سے ڈیل چل رہی ہے شاید آج کچھ فائنل ہوجائے اس لیے میرا جانا بہت ضروری ہے۔ وہ چند لمحوں کو خاموش ہوا پھر بولا ۔ ڈاکٹر نٹور سنگھ نے کہا تو تھا کہ اب تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔ دوپہر کو وہی دوا ئیں دینی ہیں اور اسی کریم سے سینے اور پشت پر  مالش بھی کرنی ہے لیکن بالفرض کوئی تکلیف ہو جائے تو فوراً ڈاکٹر نٹور  کو فون کر دینا۔ وہ گھر پر نہیں تو کلینک پر ہوگا۔”

“ٹھیک ہے۔ میں خیال رکھوں گی ۔ ” نگہت نے جواب دیا۔

روشن کے جانے کے بعد وہ باہر کا گیٹ بند کر آئی۔ رات بھر کی بارش سے موسم میں خاصی خنکی آگئی تھی لیکن تمام دروازے اور کھڑکیاں بند ہونے کی وجہ سے اندر کی فضا خوشگوار تھی۔ میں نگہت اور رتنا کماری کے ساتھ اوپر والے ہال میں آ گیا اور اس کمرے کے سامنے صوفے پربیٹھ گئے اس سے پہلے میں نے دیوی کے کمرے میں جھانک کر دیکھ لیا تھا۔

باتیں کرتے ہوئے میں نگہت کو گھما پھرا کر اس طرف لے آیا کہ وہ خود ہی اپنے بارے میں بتانے لگی۔

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page