Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر

ایک حسینہ سمگلر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ایک اور فخریا  کہانی سمگلر

سمگلر۔۔  ایکشن ، سسپنس  ، رومانس اور سیکس سے پھرپور کہانی  ہے ۔۔ جو کہ ایک ایسے نوجون کی  کہانی ہے جسے بے مثل حسین نوجوان لڑکی کے ذریعے اغواء کر کے بھارت لے جایا گیا۔ اور یہیں سے کہانی اپنی سنسنی خیزی ، ایکشن اور رومانس کی ارتقائی منازل کی طرف پرواز کر جاتی ہے۔ مندروں کی سیاست، ان کا اندرونی ماحول، پنڈتوں، پجاریوں اور قدم قدم پر طلسم بکھیرتی خوبصورت داسیوں کے شب و روز کو کچھ اس انداز سے اجاگر کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا جیسے اپنی آنکھوں سے تمام مناظر کا مشاہدہ کر رہا ہو۔ ہیرو  کی زندگی میں کئی لڑکیاں آئیں جنہوں نے اُس کی مدد بھی کی۔ اور اُس کے ساتھ رومانس بھی کیا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سمگلر قسط نمبر- 300

میں خلا میں گھس گیا اور تیزی سے سیڑھیاں اترتا چلا گیا۔ نیچے آخری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے میں نے اوپر دیکھا۔ خلا کا فرش سرکتا ہوا اپنی جگہ پر آ رہا تھا۔ میں نے ہاتھ میں اٹھائی ہوئی چیزیں نیچے پھینک دیں اور سیڑھیوں پر چڑھتا ہوا آخری سیڑھی پر بیٹھ گیا۔

چند سیکنڈ بعد ہی اوپر دوڑتے ہوئے قدموں کی دبی دبی سی آوازیں سنائی دینے لگیں اور پھر نگہت کی چیخ بھی سنائی دی تھی۔ میں چبوترے کے نیچے دبکا بیٹھا رہا۔ اوپر سے چیخنے چلانے کی آواز میں سنائی دیتی رہیں اور پھر خاموشی چھا گئی۔ وہ لوگ شاید کچن سے نکل کر دوسری طرف چلے گئے تھے۔ میں نیچے گیا۔ سیڑھیوں پر سے رتنا کماری کے کپڑے اور زمین پر پڑی ہوئی دوسری چیزیں اٹھا ئیں اور تہہ خانے کا وسیع ہال عبور کر کے اس کمرے میں آ گیا۔ رتناکماری نے دیوی کو بستر پر ٹھیک سے لٹا کر کمبل اوڑھا  دئیے تھے۔دیوی کا چہرہ خوف سے پیلا ہو رہا تھا۔

” ڈر کیوں رہی ہو  دیوی۔” میں نے کہا۔ ہم یہاں بالکل محفوظ ہیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

“اگر انہوں نے نگہت پر تشدد کر کے اس کی زبان کھلوا لی تو ہم یہاں اس چوہے دان میں  مارے جائیں گے” ۔ دیوی نے جواب دیا۔

“نگہت  ایسی نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا۔ اب تک میں ان دونوں کے بارے میں بہت اچھی رائے قائم کر چکا ہوں۔ نگہت اور روشن با بواپنی جان تو دے سکتے ہیں مگر ہمارے بارے میں نہیں بتائیں گے۔ ویسے میرا خیال ہے روشن بابو بھی پہنچنے ہی والا ہو گا۔ وہ اس شہر کا معزز اور بااثر آدمی ہے اس معاملے کوسنبھال لے گا۔

کاش ! ایسا ہی ہو ۔ “ دیوی نے کہا۔

اس کمرے میں ایک چھوٹی میز اور دو تین کرسیاں بھی پڑی تھیں۔ رتنا کماری نے میز  صاف کر کے دوائیں وغیرہ اس پر رکھ دیں اور کرسیاں صاف کرنے لگی۔ میں تھوڑی دیر بعد پھر سیڑھیوں پر چلا گیا مگراوپر کی کوئی آواز سنائی نہیں دی۔

دو گھنٹے گزر گئے ہمیں کچھ علم نہیں تھا کہ اوپر کیا ہو رہا ہے۔ بلیک کیٹس کے کمانڈوز کوٹھی میں موجود تھے  یا چلے گئے تھے اور کیا وہ لوگ نگہت اور روشن بابو کو بھی ساتھ لے گئے تھے یا چھوڑ گئے تھے لیکن میرے لیے سوچنے کی سب سے بڑی بات یہ تھی کہ پولیس کو یہاں ہماری موجودگی کا پتہ کیسے چلا تھا۔ انہیں کوئی اطلاع ملی تھی یا محض روشن بابو کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس پر کسی قسم کا شبہ ہوا تھا اور روشن بابوکو کیسے پر چلا تھا کہ کوٹھی پر ریڈ ہونے والی ہے۔

میں نے رتنا کماری کے ساتھ پورے تہہ خانے کا جائزہ لے لیا تھا۔ بہت وسیع وعریض تہہ خانہ تھا۔ اس میں ایک بڑا ہال اور چار کمرے تھے ایک کمرہ ڈرائنگ روم کے طور پر آراستہ تھا اور تین بیڈروم ہال اور کمروں میں لائٹیں ، سٹینڈز اور ایسی چیزیں نظر آ رہی تھیں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ یہ تہہ خانہ کسی وقت نگار خانے کے طور پر استعمال ہوتا رہا تھا۔ شاید کبھی یہاں کسی فلم کی شوٹنگ کی گئی ہو اور فالتو چیزیں یہیں چھوڑ دی گئی ہوں۔

تین گھنٹے بعد سیڑھیوں کی طرف سے ہلکی سی آہٹ سن کر میں نے رائفل سنبھال لی اور کمرے میں دروازے کی آڑ لے کر کھڑا ہو گیا۔ رتنا کماری نے بھی رائفل اٹھا کر میری طرح پوزیشن سنبھال لی تھی۔ دیوی کماری کا بیڈ سائیڈ میں تھا اس نے اور رتنا کماری نے یہ طے کر لیا تھا کہ اگر پولیس یا بلیک کیٹس کمانڈوز ہوئے تو ہم  بلا دریغ فائر کھول دیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طرح ہمارے زندہ بچنے کے امکان بھی نہ ہونے کے برابر تھے لیکن ہم مرنے سے پہلے بھی کچھ کر دکھانا چاہتے تھے، لیکن۔۔۔ وہ  نہ تو پولیس تھی اور نہ ہی بلیک کیٹ کمانڈوز ۔

وہ نگہت اور روشن با بو تھے۔ نگہت کی حالت دیکھ کر میں اچھل پڑا اس کے بال بکھرے ہوئے اور قمیض پھٹی ہوئی تھی۔ دایاں گال سوجا ہوا تھا جس سے مجھے یہ اندازہ لگانے میں دشواری پیش نہیں آئی کہ روشن کے آنے سے پہلے اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ میں دروازے کی آڑ سے نکل کر سامنے آ گیا۔ رائفل میرے ہاتھ میں تھی ۔

“چلے گئے وہ حرامی” نگہت نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کے ہونٹوں پر زخمی سی مسکراہت تھی ۔

“یہ تو شکر ہے کہ مجھے بر وقت پتہ چل گیا تھا اور میں نے نگہت کو فون کر دیا تھا ورنہ بے خبری میں مارے جاتے اور تم لوگوں کے ساتھ ہمارا بھی حساب کتاب ہو چکا ہوتا۔ روشن نے کہتے ہوئے ہال کی دیوار پرلگے ہوئے ایک باکس کا ڈھکنا کھول دیا۔

مجھےیہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس باکس میں ایک ٹیلی ویژن تھا۔ باکس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا ساسوئچ بورڈ تھا۔ روشن نے ایک سوئچ آن کر دیا اور ٹی وی کے قریب رکھا ہوا ریموٹ کنٹرول اٹھا کر ایک بٹن دبا دیا۔ ٹی وی سکرین روشن ہو گئی۔ برآمدہ اور اس کے سامنے گیٹ تک کا منظر دکھائی دینے لگا۔

اب ہم اطمینان سے بیٹھ کر بات کر سکتے ہیں۔ اس نے ریموٹ کنٹرول ایک طرف رکھ دیا۔

“ہو سکتا ہے وہ  دوبارہ کسی وقت یہاں آجائیں مگر ہمیں فورا پتہ چل جائے گا۔”

میں حیرت سےکبھی ٹی وی سکرین اور کبھی روشن بابو کو دیکھ رہا تھا۔  مجھے یاد آ گیا کہ ایسے ہی

سارے انتظامات ماؤنٹ ابو میں پنڈت روہن نے بھی اپنی کوٹھی میں کر رکھے تھے۔

 ہم لوگ دیوی والے کمرے میں آگئے۔ یہاں بھی کھلے دروازے سے ٹی وی سکرین پر نگاہ رکھی جاسکتی تھی۔

“مجھے افسوس ہے دیوی ۔ روشن بابو اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ “تمہیں تو زیادہ سے زیادہ آرام کی ضرورت تھی لیکن یہاں اچانک یہ افتاد آن پڑی جس کی وجہ سے تمہیں بھی تکلیف ہوئی۔

” تکلیف کیسی ۔  دیوی بولی۔ ”  اگر تم بر وقت بی بی کو فون نہ کر دیتے تو یہاں کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔

“لیکن روشن بابو ” میں نے کہا۔ “تم تو آفس میں تھے۔ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہاں ریڈ ہونے والا ہے۔

بات دراصل یہ ہے مانے ۔ ” روشن بابو نظریں چراتے ہوئے بولا۔ “میرے بابا کا بزنس تو بہت صاف ستھرا تھا لیکن جب میں نے کاروبار سنبھالا تو نا تجربہ کاری کی بنا پر پے در پے نقصان ہونے لگا۔ پھر دوستوں کے مشورے پر میں نے بزنس تبدیل کر دیا اور جو نیا بزنس شروع کیا اس میں پولیس کا تعاون ضروری تھا۔ میرا کاروبار اگر چہ جرائم کے زمرے میں آتا ہے لیکن پولیس سے تعلقات ہوں تو پھر پکڑ دھکڑ کا خوف نہیں رہتا صرف تعلقات ہی نہیں انہیں حصہ بھی دینا پڑتا ہے۔”  

 جاری ہے  اگلی قسط بہت جلد

کہانیوں کی دنیا ویب  سائٹ پر اپلوڈ کی جائیں گی 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page