Strenghtman -38- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 38

شیوا مسلسل بولتا رہا: جس نے مجھے بچپن سے جوانی تک پیار دیا ہو یعنی تم، یا جس نے مجھے موت سے بچا کر کسی ماں کی طرح میری خدمت کی، اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا، اپنے آنچل سے میرا منہ پونچھا، میرے درد میں اپنے آنسو بہانے والی نرگس، میں تم دونوں سے بہت پیار کرتا ہوں، لیکن میں تم دونوں کے پیار کو اپنا نہیں سکتا۔ صنم، میں تمہیں تو یہ بات بول سکتا ہوں، تم میری بات مان کر میرے پیار کو بھلا دو گی۔ لیکن نرگس کو میرے پیار کے بارے میں معلوم ہوا کہ میں بھی اس سے پیار کرتا ہوں لیکن اپنانے سے ڈرتا ہوں، تو وہ میرے لیے پوری دنیا کو آگ لگا دے گی لیکن میرے ساتھ ہی رہے گی۔ وہ مرنا قبول کرے گی لیکن مجھے نہیں بھولے گی۔ صنم، اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تیرے ماں باپ کو رسوا کر کے تیرے پیار کو اپنا لوں، تو میں تیری بات کو رد نہیں کر سکتا، لیکن میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤں گا۔ باقی فیصلہ تم جو بھی کرو گی، میں تیرے ساتھ ہوں۔ 

یہ سب باتیں شیوا کے گھر میں ہی ہوئی تھیں، جب وہ صبح ہوٹل میں کام کے لیے نکل رہا تھا تبھی ہوئی تھیں۔ شیوا  صنم کو اپنا فیصلہ سنا کر کام پر چلا گیا۔ صنم شیوا کے گھر میں ہی بیٹھی رو تی رہی تھی۔ وہ اپنے غم میں پوری دنیا بھول گئی تھی۔ کب سے اس کا فون بج رہا تھا، آخر اس نے مسلسل بجنے والے فون کو اٹھایا۔ کوئی نیا نمبر تھا۔ 

ہیلو، کون بات کر رہا ہے؟۔۔ صنم نے پوچھا۔ 

میں، آپ کی ایک ہمسائیں ہی ہوں۔۔دوسری طرف  سے کوئی لڑکی بولی۔ 

میری ہمسائی، میں سمجھی نہیں۔۔ صنم نے حیرت سے پوچھا۔ 

آپ ایک کام کیجیے، پہلے اپنے گھر جا کر بولو کہ تم اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہو۔ تمہارے گھر کے باہر ابھی ایک گاڑی کھڑی ہے، جو تمہیں میرے پاس لے آئے گی۔دوسری طرف  والی لڑکی نے کہا۔ 

لیکن نہ میں تمہیں جانتی ہوں، نہ تمہارا نام، کیسے تمہارے پاس آ جاؤں؟ ۔۔پہلے سے پریشان ہوں، آپ مجھے اور پریشان نہ کرو۔۔ صنم بولی۔ 

میں نے کہا نا ۔۔کہ میں  آپ کی ہمسائی ہوں۔ ۔ آپ کی پریشانی کا حل بھی میں ہی کر سکتی ہوں۔ میرا نام نرگس ہے، صنم۔ 

صنم  سے  فون پر نرگس بات کر رہی ہے، یہ جان کر وہ رونے لگی۔ 

صنم، رونا بند کرو۔ میں نے تمہاری اور شیوا کی ساری باتیں سن لی تھیں۔ تم رونا بند کرو اور میرے پاس گاڑی میں بیٹھ کر چلی آؤ۔ میں یہیں ممبئی میں ہوں۔ ہم دونوں کا پیار دنیا کی کوئی طاقت ہم سے دور نہیں کر سکے گی، یہ میرا تم سے وعدہ ہے بہن۔

 صنم کو نرگس کی باتوں سے ایک سہارا مل گیا تھا۔ صنم نے  واشروم جاکر خود کوفریش کیا، پھر اپنے گھر جا کر اپنی سہیلی کے گھر جانے کا بول کر نرگس کے پاس چلی گئی۔

شیوا نے صنم کو ایک بار فون کر کے دیکھا تھا کہ وہ ٹھیک ہے یا نہیں۔ صنم نے بھی شیوا سے بات کر کے اسے بتا دیا تھا کہ وہ ٹھیک ہے، اور جو شیوا کہے گا، وہی کرے گی۔ شیوا کو بھی صنم کی باتیں سن کر اس کی سمجھداری اچھی لگی۔ 

جنت نے شیوا سے کہا تھا کہ جب سے وہ شیوا سے چدی ہے، اس کے جسم کی گرمی بڑھ گئی ہے۔ اور نئے گھر جانے سے پہلے وہ اپنی گانڈ بھی شیوا سے مروانا چاہتی تھی، اور اس کی سیل کھلوانی چاہتی تھی تا کہ بعد میں جب وہ شیوا سے چدے تو اپنی گانڈ بھی مروا سکے۔ اگر شیوا نے اس کی گانڈ کی سیل نئے گھر میں کھولی، تو وہ ضرور چیخے گی ، اور اگر کوئی ایک ہی گھر میں ہونے کی وجہ سے یہ آواز سن لے تو ان کا بھانڈا پھوٹ سکتا ہے۔

 جنت روز شیوا سے کہتی: جلدی کچھ کرو، میں اب اس جسم کی گرمی برداشت نہیں کر سکتی۔ کہیں ہوٹل میں روم لے لو، میں ایک دن کام کا بہانہ بنا دوں گی۔

 شیوا جس ہوٹل میں کام کرتا تھا، وہاں اس کی ڈیوٹی دوپہر 4 سے رات 12 تک ہو گئی تھی۔ ہوٹل کے مینیجر نے شیوا سے کہا تھا کہ اگر رات کو کبھی زیادہ دیر ہو جائے یا زیادہ تھک جاؤ تو ہوٹل کے سب سے اوپر کے 3 کمرے جو ہمیشہ خالی ہی رہتے ہیں۔ اور ان کمروں میں  ہوٹل کا مالک اگر کبھی کسی پارٹی وغیرہ میں لیٹ ہو جاتا ہے تو وہیں آرام کرتا ہے۔ صرف مجھے ہی وہاں رہنے کی اجازت ہے، اب تم بھی وہاں رات کو رہ سکتے ہو۔ لیکن جس کمرے میں رہو، اسے اندر سے بند کرنا، تاکہ اگر مالک کبھی رات کو اچانک یہاں آ جائے تو تمہارے کمرے میں نہ گھسے۔ تینوں کمرے ساؤنڈ پروف ہیں، وہاں اندر کیا ہوتا ہے اور باہر کیا ہوتا ہے، پتا ہی نہیں چلتا۔ 

شیوا کو روم تو مل گیا تھا جنت کی گانڈ مارنے کے لیے، لیکن ہوگا کچھ الٹا ہی۔

شیوا نے جنت کو بتا دیا کہ اس نے ایک کمرے کا انتظام کر دیا ہے۔ رات 12 بجے سے صبح تک کمرہ اس کے پاس ہی رہتا ہے۔ جنت کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی۔ اس نے گھر پر بتا دیا کہ جن کے گھر وہ کھانا بنانے کا کام کرتی ہے، آج رات ان کے گھر پر ایک پارٹی ہے، اس لیے اسے وہاں کھانا بنانے جانا پڑے گا۔ وہ لوگ برے وقت میں ہمیشہ ہماری مدد کرتے رہے ہیں، اس لیے میں ان سے نہ نہیں کہہ سکی۔ 

جنت شام 5 بجے ہی گھر سے نکل گئی اور اپنی ایک سہیلی کے گھر رات کا کھانا کھا کر اس نے شیوا کو فون کر کے پوچھا کہ وہ کب ہوٹل پہنچے گا۔ شیوا نے دیکھا کہ 9 بج گئے ہیں اور مینیجر گھر جا چکے ہیں، تو اس نے جنت کو کہا کہ وہ ہوٹل آ کر اسے فون کرے۔ جنت 15 منٹ میں ہوٹل پہنچ گئی اور شیوا کو فون کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شیوا جنت کو لے کر لفٹ سے سب سے اوپر والی منزل پر آ گیا۔ وہاں تین کمرے تھے، تینوں کمرے کھلے ہوئے تھے۔ شیوا جنت کو لے کر ایک کمرے میں آ گیا۔ کمرہ ایک دم شاندار تھا۔ جنت نے بھی امیر لوگوں کے گھروں میں ایسے کمرے دیکھے تھے۔ اب وہ اس کمرے کی مالکن تھی، جہاں وہ جو چاہے کر سکتی تھی۔ کنگ سائز بیڈ، اس کے پاس خوبصورت سا ڈریسنگ ٹیبل، اس ٹیبل پر ایک سے بڑھ کر ایک خوشبو دار تیل، شیمپو رکھے تھے۔ کمرے سے لگ کر ایک عالیشان باتھ روم تھا، جس میں ایک باتھ ٹب تھا۔

جنت بولی:شیوا، میرا تو کمرہ دیکھ کر ہی موڈ بن گیا ہے۔ 12 بجے تک میں انتظار نہیں کر سکتی، کچھ کرو نا شیوا۔ 

شیوا: چاچی، اپنا  سارا کام میں نے 9 بجے ہی ختم کر دیا تھا۔ بس مجھے 12 بجے ایک بار جا کر وہاں چیک کر کے آفس بند کرنا ہے۔ ابھی ہمارے پاس 2 گھنٹے ہیں، اب آپ دیکھ لو کیا کرنا ہے۔

 یہ کہہ کر شیوا نے اس کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا۔اور شیوا جا کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ جنت شیوا کو دیکھتے ہوئے اپنے کپڑے اتارنے لگی۔ جنت بس ایک پتلی سی برا اور پینٹی میں کھڑی تھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page