Strenghtman -39- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 39

جنت  شیوا سے بولی: پہلے تم میرے پورے جسم کو اپنے جسم سے تیل لگا کر میری آگے اور پیچھے سے مالش کرو۔ پہلے میری پھدی مارو، پھر تیل لگا کر میری گانڈ کی سیل کھول دو آج۔ اس کے بعد میں باتھ ٹب میں گرم پانی سے اپنی پھدی اور گانڈ کی سکائی کر کے اپنی گانڈ پھر تم سے رات بھر مروانا چاہتی ہوں۔ آج جو جو میں بولوں ، تم  ویسا ہی کرنا، میں اپنے سب خواب آج تمہارے ساتھ پورے کرنا چاہتی ہوں۔ اس دن میں تمہارے اس لنڈ کا پانی نہ پی سکی تھی، لیکن آج میں اسے چکھنا چاہتی ہوں۔

 جنت کی باتیں اور اس کے ننگے جسم کو دیکھ کر شیوا کے لنڈ نے بھی اپنا سائز بڑھانا شروع کر دیا تھا۔ شیوا نے جنت کی باتیں مان کر اپنے سارے کپڑے اتار دیے اور مکمل ننگا ہو کر اس نے جنت کو اٹھا کر بیڈ پر لایا۔ ایک تیل کی بوتل لے کر اس نے اپنے اور جنت کے جسم پر اچھی طرح لگا لیا۔ دونوں اب مکمل ننگے ہو گئے تھے۔ شیوا جنت کو بیڈ کے پاس کھڑا کر کے اس کی پیٹھ کو اپنی چھاتی سے لگا کر گھس رہا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں میں جنت کے بڑے بڑے ممے تھے، جنہیں وہ تیل لگا کر اس طرح مسل رہا تھا، جیسے وہ آج ان سے دودھ ہی نکال لے گا۔ اور اس کا تیل سے لتڑا  ہوا لنڈ جنت کی گانڈ کے بڑے سے چوتڑوں کو پھیلا کر اس کے سوراخ کو، جسے اس نے پہلے ہی اپنی انگلیوں سے تیل ڈال کر چکنا کیا تھا، اس سے اور اس کی پھدی سے گھس رہا تھا۔ جنت کو اپنے پورے جسم پر آج ایک لزت انگیز کرنٹ دوڑتا محسوس ہو رہا تھا، ایسا لگ رہا تھا۔ جیسے وہ پتہ نہیں  کتنے دنوں سے بھری پڑی تھی۔ شیوا کے ان حملوں سے وہ کچھ منٹوں میں ہی اپنی پھدی سے پانی چھوڑتی ہوئی خود کو ہلکا محسوس کر رہی تھی۔ 

شیوا اب جنت کو بیڈ پر لٹا کر اس کے اوپر آ گیا۔ اس نے جنت کی ٹانگوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے کندھوں پر رکھا اور اپنے لنڈ کو اس کی پھدی میں ڈالنے کے لیے اس کے سوراخ پر لنڈ لگا کر اندر ڈالنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن تیل کی چکناہٹ سے وہ بار بار اس کی پھدی سے پھسل رہا تھا۔ جنت کو اس نے ایک ہی بار چودا تھا، وہ کوئی بہت بڑا کھلاڑی تو نہیں تھا چدائی کا۔ جنت کو یہ بات پتا تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے اس کے لنڈ کو پکڑ کر شیوا کو دھکا دینے کا اشارہ کیا۔ شیوا نے بھی ایک تگڑا جھٹکا دیا تو اس کے لنڈ نے جنت کی پھدی کو چیرتے ہوئے اندر 7 انچ تک دستک دے دی۔ جنت دوسری بار ہی اس طرح کے لنڈ سے چد رہی تھی۔ اس کے منہ سے اس حملے سے ایک  درد بھری چیخ نکل ہی گئی۔

 شیوا نے اتنے ہی لنڈ سے جنت کو چودنا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے اس نے اپنی رفتار بڑھانا شروع کی۔ جنت اس جوان مرد کے تگڑے دھکوں کو اپنی پھدی میں لیتے ہوئے اس کے لنڈ سے پھدی کے اندر ہر رگ پٹے کی زبردست رگڑ اور لنڈ کے مزید پھولنے کا مزہ لے رہی تھی۔ جنت کے منہ سے پھدی میں پڑنے والا ہر دھکا ایک شہوت انگیز  سسکی نکال رہا تھا۔

شیوا نے جنت کی پھدی کے آخری حصے تک پہنچ کر جنت کو کس کس کے چود رہا تھا۔ شیوا کا لنڈ جنت کی پھدی کی پوری گہرائی ناپ چکا تھا، لیکن اس کا لنڈ اب بھی دو انچ باہر ہی تھا۔ شیوا پوری کوشش کر رہا تھا کہ جڑ تک لنڈ گھسائے، لیکن جنت کی پھدی کی اوقات نہیں تھی کہ اس 12 انچ کے لنڈ کو پورا نگل سکے۔ پچھلی بار بھی اس کا لنڈ جنت کی پھدی میں جھڑتے وقت بڑھا تھا تو اندر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے 2 انچ باہر نکلا تھا۔

جنت کو چودتے وقت شیوا نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلی جنت کی گانڈ کے سوراخ میں گھماتے ہوئے اس کے چکنے سوراخ میں گھسا کر اندر باہر کرنا شروع کردی تھی۔ جنت  اس دوہری مار کی وجہ سے پھر ایک بار جھڑ گئی تھی۔ شیوا کو ایسا لگ رہا تھا جیسے جنت چاچی کی پھدی اس کے لنڈ کو اپنے اندر لے کر نچوڑ رہی ہو۔ اس کی پھدی کا وہ پانی چھوڑتے وقت اس کے لنڈ کو پکڑ کر کھلنا بند ہونا ایک الگ ہی احساس دے رہا تھا۔ وہ بھی اپنے لنڈ کے دھکوں کو روک کر کچھ دیر تک اس کی پھدی کا مزہ لے رہا تھا۔ جنت اپنے جھڑنے کے بعد شیوا کو کچھ پل خوشی اور مسرت سے کس  کرتی چومتی چاٹتی رہی اور پھر پیشاب کرنے باتھ روم گئی۔

شیوا ابھی جھڑا نہیں تھا، لیکن اسے پتا تھا کہ یہ آج دو بار جھڑ چکی ہے اور پوری رات اس کے پاس جھڑنے کے لیے ہے۔ جنت کو باتھ روم کے فریج میں ایک مہنگی وائن کی بوتل ملی۔ جنت کبھی کبھار جن کے گھروں پر کام کرتی تھی وہاں پر  وائن پی لیتی تھی، لیکن صرف ایک آدھ گلاس ہی۔ اسے پتا تھا کہ وائن سے نشہ زیادہ نہیں ہوتا، لیکن ایک سرور دماغ کو تھوڑا ٹھنڈا ضرور کرتا ہے۔ جنت نے اس بوتل کو کھول کر کچھ گھونٹ پیے اور شیوا کی گود میں بیٹھ گئی۔ وہ شیوا کو بھی اپنے منہ میں وائن لے کر کسنگ کرتے ہوئے پلاتی رہی ۔ شیوا پہلے وائن پینے کو تیار نہیں ہو رہا تھا، لیکن جنت کے کہنے پر پہلی بار وائن پی۔ جنت اور شیوا نے آدھی بوتل وائن ایک دوسرے کو پلاتے ہوئے خالی کر دی۔ زیادہ وائن تو جنت نے ہی پی تھی۔

شیوا نے اب جینت کو گھوڑی بنا کر اس کی پھدی اور گانڈ کے سوراخ کو چاٹا۔ جنت نے اس وقت کچھ وائن اپنی پھدی اور گانڈ پر ڈال دی، اور شیوا کو بھی بڑا مزہ آیا اس کی پھدی اور گانڈ کے سوراخ پر  سے وائن چوسنے میں۔ جنت کی گانڈ کے سوراخ کو چاٹ کر اسے اچھی طرح اپنی انگلیوں میں تیل لگا کر اندر تک شیوا نے چکنا کر دیا تھا۔

جنت اب گھوڑی بن کر اپنی گانڈ کے سوراخ میں موسل لینے والی تھی۔ اسے پتا تھا کہ آج اس کی گانڈ پھٹنے والی ہے اور اسے تکلیف بھی ہوگی، اس لیے وہاں وائن ملنے پر، اپنے آپ کو طاقت دینے کے لیے اس نے وائن پی تھی۔ شیوا کو اس نے بتا دیا تھا کہ اسے گانڈ مارتے وقت شدید تکلیف ہوگی اور  وہ کتنا بھی روئے چلائے، لیکن جب تک شیوا پورا لنڈ گانڈ میں نہیں ڈالتا، تب تک  رکنا  نہیں  ہے ، اور اس کی گانڈ میں ہی اس نے شیوا کو اپنا مال خالی کرنے کو کہا تھا۔ 

شیوا نے سب سے پہلے جنت، جو اس کے سامنے بیڈ پر گھوڑی بنی ہوئی تھی، کے گانڈ کے سوراخ پر اپنا موسل رکھا۔ پہلے اس نے جینت کی بڑی گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر پھیلانا شروع کیا اور اپنے لنڈ کو، جو اس نے تیل لگا کر چکنا کردیا تھا، اس کی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر زور لگاکر اندر دبانے لگا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page