Strenghtman -40- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 40

جنت کی گانڈ بہت ہی نرم تھی اور اس گانڈ کے سوراخ کا چھلا بھی۔ شیوا کا وہ 4 انچ کا ٹوپا اس بے چاری گانڈ کے سوراخ کو پھیلا رہا تھا۔ اس سوراخ نے تو بس ایک انگلی کو ہی اپنے اندر لیا تھا، اب وہ اس سے 4 گنا بڑے اس لنڈ کو لینے والی تھی۔ شیوا نے دیکھا کہ پیار سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس نے اپنے لنڈ سے ایک ایسا زوردار دھکا مارا کہ اس کا لنڈ  جنت کی گانڈ کے سوراخ کو پھاڑتے ہوئے اندر گھس گیا۔ جنت نے ایسی چیخ نکالی جیسے کسی نے اسے مار ہی ڈالا ہو۔

جنت: بھڑوے، یہ کیا کیا تو نے میرے ساتھ؟ کیا ڈال دیا میری گانڈ میں؟ لنڈ ڈالنے کو کہا تھا میں نے۔ نکال باہر اسے، بہن چود، میری گانڈ سے دیکھ خون نکل رہا ہے۔ 

شیوا کو جنت کی پہلی باتیں یاد تھیں۔ اس نے پھر جینت کو کس کر پکڑا اور دو ہی دھکوں میں 10 انچ تک لنڈ گھسا دیا۔ جنت ان حملوں سے بیڈ پر گر گئی تھی، جس کی وجہ سے شیوا کو اس کی گانڈ مارنے میں آسانی ہونے والی تھی۔ جنت کی گانڈ میں درد اتنا زیادہ ہو رہا تھا کہ وہ زور سے چلاتے ہوئے بےہوش ہو گئی۔ شیوا اس بات سے بے خبر 10 منٹ تک اس کی گانڈ کی زبردست ٹھکائی کرتا رہا۔ اس نے جنت کی گانڈ کو مار مار کر اپنے لنڈ کے لیے جگہ بنا لی تھی۔ جنت کے منہ سے کچھ آواز نہ آنے سے شیوا نے دیکھا کہ وہ تو بےہوش ہے۔ اس نے پاس پڑی ٹھنڈی وائن کی بوتل سے کچھ وائن اس کے منہ پر ماری، لیکن جنت بےہوش ہی رہی۔ مجبوری میں اس نے اپنا لنڈ نکال لیا اور گلاس میں پانی لے کر آیا۔ پانی مارنے سے پہلے اس نے پھر اپنا موسل جینت کی گانڈ میں اتار دیا اور 5 منٹ تک مزید چودنے کے بعد اس نے جنت کے منہ پر پانی مار کر اسے ہوش میں لایا۔

 جنت کو ہوش میں آتے ہی اپنی گانڈ کے درد کا خیال آیا، جو اب شیوا کی  اس کے گانڈ میں لمبے لمبے دھکوں سے اسے اور زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ شیوا اب روتی ہوئی جنت کی پھدی میں انگلیاں گھمانے لگا اور مموں کو بھی دبانے لگا۔

کب روتی ہوئی جنت اپنی گانڈ ہلا ہلا کر اس کے لنڈ سے مزہ لینے لگی، یہ نہ شیوا کو پتا چلا نہ خود جنت کو۔ جنت کے منہ سے نکل رہی سسکیوں سے شیوا نے اب اپنی چودائی کی رفتار بڑھا دی۔ جنت کی گانڈ بہت ہی ٹائٹ تھی۔ اتنی ٹائٹ اور نرم گانڈ کی گرمی سے شیوا جنت کی گانڈ میں ہی جھڑ گیا۔ جنت کی زخمی گانڈ کو اس کی گرم بوندیں سکون دینے لگ گئی تھیں۔ شیوا جنت کے اوپر ہی گر کر  کچھ دیر اپنی سانسیں درست کرنے لگا۔ 

جنت نے شیوا سے کچھ دیر بعد کہا کہ اسے باتھ روم لے کر چلو۔ شیوا نے بھی جنت کو باتھ روم میں لے جا کر پہلے کموڈ پر بٹھایا اور باتھ ٹب میں گرم پانی بھر دیا۔ پھر جنت کو باتھ ٹب میں لٹا دیا اور خود پیشاب کر کے ہاتھ پاؤں دھو کر کپڑے پہننے لگا۔ جنت کو باتھ ٹب میں گرم پانی سے بہت سکون مل رہا تھا۔ اس نے شیوا سے وائن کی بوتل منگوائی اور اس وائن کے مزے لیتے ہوئے نہانے لگی۔ 

شیوا: چاچی، 11 بج رہے ہیں، میں تھوڑی دیر آفس جا کر آتا ہوں۔ 

جنت: تو نے مجھے کس نام سے پکارا؟ ۔۔میری بات بھول گیا؟ 

شیوا: معاف کرنا، بھول ہو گئی جنت۔ 

چلو معاف کر دیا، لیکن ایک سزا ہے تیری۔ جنت بولی۔ 

جب تم رات کو واپس آؤ گے تو تم صرف میری گانڈ نہیں، پھدی بھی مارو گے۔ جنت دلکش مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔ 

جیسی تمہاری مرضی جنت۔ میں جا رہا ہوں، جاتے وقت میں دروازہ بندکردوں گا، آنے پر میں بیل بجا دوں گا، تب تم دروازہ کھول دینا۔ شیوا بولا۔ 

شیوا نیچے اپنے آفس میں چلا گیا، جہاں اس نے سارا کام چیک کیا کہ کچھ صحیح ہے یا نہیں ۔ پھر ہمیشہ کی طرح سب کچھ لاک کر کے وہ چابی مینیجر کے کیبن میں رکھنے گیا۔ 

جب شیوا نیچے آفس میں آیا، تب اوپر مالکوں کے کمروں میں 2 عورتیں اور ایک آدمی چلے گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک کمرہ بند ہے اور 2 کھلے ہیں، تو ایک اکیلی عورت ایک کمرے میں گئی اور دوسرے میں وہ باقی جوڑی۔ 

اس عورت نے کمرے میں جاتے ہی آدمی کی پتلون اتار کر اس کے لنڈ کو پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے بھی اتارنے لگی۔ 

عورت: آج مجھے تم پٹک پٹک کر میری گانڈ اور پھدی چودنا۔ ایک ہفتہ ہو گیا ہے تم نے مجھے چودا نہیں۔ آج میں نے اتنی شراب اسی لیے پی کہ تم مجھے چھوڑ کر نہ جا سکو۔ 

تبھی اس آدمی کا فون بجا۔ 

بولو، کیا بات ہے؟ ۔۔تمہیں پکا یقین ہے؟۔۔ ٹھیک ہے، میں 10 منٹ میں آتا ہوں۔۔ اوریہ کہتے ہی  اس نے فون رکھ دیا۔ 

اس نے اس عورت سے کہا: تم نہا کر میرا انتظار کرو، میں ابھی گیا اور ایک گھنٹے میں جا کر آیا۔ آج میں رات بھر تمہارے پاس ہی رہوں گا۔ 

عورت:  آج تم نہیں آئے تو میں کسی اور سے چد جاؤں گی۔ 

آدمی ہنس کر: ٹھیک ہے جان، میں تمہیں ناراض نہیں کروں گا۔

 اتنا کہتے ہی اُس نے جلدی سے اپنی پینٹ اوپر کرکے بند کی  اور وہ چلا گیا۔ 

شیوا مینیجر کے کیبن سے نکل کر اوپر آیا۔ اس نے دیکھا کہ تینوں کمرے بند ہیں، اب کیا کرے؟ اسے ٹھیک سے یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ کون سے کمرے میں رکا تھا۔ اس لیے اس نے سوچا کہ سب کے کمروں کی بیل بجا کر ہی دیکھنا پڑے گا۔

شیوا نے سب سے پہلے اسی کمرے کی بیل بجائی، جس پر اسے سب سے زیادہ شک تھا کہ یہ وہی کمرہ ہو سکتا ہے جہاں جنت ہو۔ اس نے 2 سے 3 بار بیل بجائی اور تھوڑی دیر انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور اس کے ہونٹوں کو کسی نے پکڑ کر چومنا شروع کر دیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا، بس وہ اس عورت کے ننگے جسم کو محسوس کر سکتا تھا۔ اس عورت کے جسم پر ایک بھی کپڑا نہیں تھا اور اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی۔ وہ عورت بہت زیادہ گرم   ، شہوت زدہ ، اور مدہوش ہو چکی تھی، جس طرح سے وہ شیوا کو کسی جنگلی کی طرح چوم رہی تھی اور اس کے کپڑوں کو نوچ رہی تھی، اس سے پتا چل رہا تھا۔ شیوا کو اب یقین ہو گیا تھا کہ یہ جنت ہی ہے، ورنہ کوئی دوسری عورت ایسی ہمت کیسے کر سکتی ہے کہ ننگے جسم سے دروازہ کھول کر سامنے والے کو چومنے لگے۔

“یہ جنت چاچی ہے، لگتا ہے شراب زیادہ پی لی اور  اب چڑ گئی انہیں۔”

شیوا نے دروازہ بند کر دیا اور وہ بھی اس عورت کو جنت چاچی سمجھ کر کسنگ کرنے  میں اس کا ساتھ دینے لگا۔ دونوں اب مکمل ننگے ہو گئے ،اُس عورت نے  کمرے میں بالکل اندھیرا کر کے رکھا ہوا تھا، جس کی وجہ سے شیوا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ اسے پکڑ کر وہ عورت بیڈ پر لے گئی اور شیوا کے لنڈ کو پکڑ کر سہلانے لگی، اور اس نے گپ سے اس کے لنڈ کو اپنے منہ میں بھر کر چوسنا شروع کر دیا۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page