Strenghtman -41- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 41

شیوا تو خوشی کے مارے اپنی آنکھیں بند کر چکا تھا۔ جنت نے پہلے بھی اس کا لنڈ چوسا تھا، لیکن آج جس طرح وہ اسے اتنا اندر تک لے کر چوس رہی تھی اور اپنی زبان کی کاریگری اس کے سپاڑے پر گھما رہی تھی، اس کا کوئی جواب ہی نہیں تھا۔ کسی لالی پاپ کی طرح وہ اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی۔

پانچ منٹ تک وہ اس کے لنڈ کو چوستی رہی، پھر وہ بیڈ پر 69 پوز میں آ کر شیوا کے لنڈ کے مزے لینے لگی اور اپنی پھدی شیوا کے منہ پر دبانے لگی۔ شیوا بھی سمجھ گیا کہ کیا کرنا ہے۔ وہ اب اس  کی بڑی گانڈ کو پکڑ کر اپنی زبان ڈال کر جنت چاچی سمجھ کر اس کی پھدی کے پانی کو چاٹنے لگا۔ شیوا نے پہلے بھی جنت کی پھدی اور گانڈ کو چاٹا تھا، لیکن اب اس کی پھدی سے اور زیادہ نشیلی مہک آ رہی تھی۔ اس کی پھدی سے ٹپکتا پانی اور زیادہ نمکین اور گاڑھا لگ رہا تھا۔ شیوا کو اس کا ذائقہ بہت پسند آ گیا تھا۔ وہ اب اس پانی کو کسی کتے کی طرح  چاٹتے ہوئے اپنی زبان پھدی میں گھسا کر اور پینے کی کوشش کر رہا تھا، اور اُس کی پھدی بھی اپنا نل کھول کر پانی چھوڑ نے لگ گئی تھی ، جیسے وہ پھدی بھی شیوا کی پیاس سمجھ گئی تھی ۔ 

شراب کے نشے میں وہ عورت جب شیوا کے لنڈ کو چوس رہی تھی، اس کے جسم میں اس لنڈ نے آگ کو اور بھڑکا دیا تھا۔ اسے لنڈ کا ذائقہ آج اور زیادہ پسند آ رہا تھا۔ اُسے لنڈ آج چوستے وقت کچھ زیادہ ہی لمبا اور موٹا لگنے لگا تھا۔ کیونکہ اس کواپنا  منہ زیادہ ہی بڑا  کھول کر اس لنڈ کو  چوسنا پڑ رہا تھا۔

اپنے دل میں وہ سوچ رہی تھی کہ اسے شراب اتنی زیادہ نہیں پینی چاہیے، جو اس کے دماغ کو اتنا خراب کر دے۔ لیکن اپنے جسم کی گرمی کی وجہ سے وہ خود کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے گزشتہ 10 سال سے رات کو بہت زیادہ شراب پیتی تھی، تاکہ وہ ایک طرح سے بے ہوش ہوکر رات کو سو سکے۔ جب اس کا شوہر اس کے پاس ہوتا تو وہ شراب بہت کم پیتی کیونکہ اُس کا شوہر اس کی آگ بجھا دیتا، لیکن نہ ہونے پر اس کے جسم میں جو آگ اٹھتی، اس کے لیے اسے مجبوراً شراب کا نشہ کرنا ہی پڑتا تھا۔

آج تو 7 دن سے زیادہ وقت ہو گیا تھا اس کے شوہر نے اسے چودا نہیں تھا۔ آج جب رات کو اس کا شوہر اسے چودنے کے بجائے کام کا بہانہ کر کے گیا، تب اس نے ناراض ہو کر پھر شراب پینی شروع کی، اور شراب پیتے ہوئے  اُس نے کمرے میں مکمل اندھیرا کردیا کیونکہ وہ رو نے لگ گئی تھی، تو اندھیرے اور شراب سے اُس نے خود کو بہلانا شروع کردیا۔ لیکن جیسے ہی کمرے کی بیل بجی، اس کی ناراضگی اپنے شوہر سے دور ہو گئی۔ اس نے اندھیرے کی پروا کئے بنا ہی دوڑ لگا کر دروازہ کھولا اور اپنے شوہر کو چومتی ہوئی بیڈ پر لے آئی تھی۔ 

آج اس کا شوہر کسی دیوانے کی طرح اس کی پھدی اور گانڈ کے سوراخ کو چاٹ رہا تھا۔ اس کی لمبی زبان آج کچھ زیادہ ہی اندر اُس کی پھدی میں  گھس رہی تھی۔ اس نے آج صرف پھدی چٹواتے  دو بار پانی چھوڑا تھا، جو اس کے شوہر نے چاٹ کر صاف کیا اور اپنے لنڈ سے بھی اس نے آج گاڑھی مکھن اسے ایک بار کھلائی تھی۔ اس نے مکھن کی ایک بوند بھی نہیں چھوڑی، پورا چوس کر لنڈ کو صاف کیا اور تب تک چوستی رہی جب تک وہ پھر سے کھڑا نہ ہو گیا۔ 

آج شیوا کو لنڈ کا پانی جنت چاچی کو پلانے میں بہت مزہ آیا تھا۔ جس طرح اس نے آج شیوا کے لنڈ کو اپنے منہ میں لے کر چوسا تھا، شیوا نے سوچ لیا کہ اب وہ جنت چاچی سے جب بھی موقع ملے گا، لنڈ ضرور چسوائے گا۔ آج جب اس نے دو بار پھدی کا پانی پیا اور گانڈ کے سوراخ کو چوسا، اس کا دماغ کام کرنا ہی بند ہو گیا تھا۔ اس کے جسم میں آگ لگ گئی تھی، جو اسے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ آگ  اُس  کے لنڈ نے ہی  بجھانی تھی۔ جب اس کے لنڈ کو جنت نے پھر چوس کر کھڑا کر دیا، تب اس نے جنت کو پکڑ کر اپنے نیچے لے لیا اور اپنے کھڑے لنڈ کو اس کی گرم گرم پھدی میں ایک ہی جھٹکے میں اتار دیا۔ وہ پھدی تو جیسے اس کے لنڈ کو اپنے اندر لے کر اور زیادہ گرم ہو گئی کیونکہ شیوا کو اپنا لنڈ جلتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ اور  شیوا  اپنا اپا کھوکر  اسے پکڑ کر کسی طوفان  میل کی طرح چودنا شروع کر دیا تھا۔ جب اس کا لنڈ پھدی میں گھسا، تب اُس کا دماغ ہی بلینک ہوگیا ،  وہ کیا کر رہا ہے، کیسے کر رہا ہے  اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔ اس کا دماغ کسی اور ہی دنیا میں چلا گیا تھا۔ کب اس کے پورے لنڈ کو وہ پھدی نگل گئی، پتا ہی نہ چلا۔ اس 12 انچ کے بڑے، 4 انچ موٹے لنڈ نے پہلی بار کسی سرنگ  کو پوری طرح سے ناپا تھا۔ وہ سرپٹ اس میں دوڑ لگا رہا تھا۔ وہ لنڈ جیسے اس پھدی  کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے اس کو اپنا غلام بنانے میں لگا ہوا تھا۔ 

اس عورت کو آج جس طرح اس کا شوہر چود  رہا تھا، اپنے لنڈ سے روند رہا تھا، اور اس کا لنڈ آج جو گہرائی میں جا کر اسے سکھ پہنچا رہا تھا، اس سے وہ عورت تو بالکل پاگل ہو گئی تھی۔ وہ کبھی اس کے ہونٹ چوستی، کبھی اس کی زبان کو چوستی، اپنی چھاتیاں اس کے ہاتھوں سے دبواتی۔ وہ اپنے اوپر چڑھے اس نر کو اپنے جسم کے ہر حصے کا سواد دے  رہی تھی۔ وہ نر بھی اپنی چھاپ اس کی پھدی کے ساتھ اس کی گانڈ کو کھول کر ان کی نئی گہرائی کہاں تک ہے، ناپتا رہا تھا۔ دونوں رات بھر بغیر تھکے لگے رہے۔ آج ان دونوں کی پیاس بجھنے کی بجائے اور بڑھ رہی تھی۔

شیوا نے جنت چاچی سمجھ کر جسے چودا تھا، اس کی پھدی، گانڈ، منہ میں کتنی بار اس نے اپنا مال نکالا، اس کا اُس کو ہوش  ہی نہ ہو پایا۔ صبح ہونے پر بھی وہ رُکے نہیں تھے۔ شیوا اسے سلاتا، اس کی پیٹھ پر سو ار ہوکر اسے اپنے نیچے لے کر اس کی گانڈ مار رہا تھا۔ وہ بھی اپنی گانڈ ہلا ہلا کر اس کے لنڈ کا پورے جوش سے ساتھ دے  رہی تھی۔ اس کی گانڈ کی نرمی اور گرمی کے ساتھ وہ اس کے اندر کی کساوٹ سے خوش ہو کر اس کی گانڈ میں اپنے رس کی برسات کرنے لگا۔ اس کی گانڈ کا سوراخ بھی تھرتھرا کر اس برسات کا پانی پی رہا تھا۔ 

شیوا نے لنڈ کے پانی کی آخری بوند تک پانی نکالنے کے بعد ہی اپنا لنڈ اس پیاری گانڈ سے نکالا۔ شیوا تو آج سے اس گانڈ کا غلام ہو گیا تھا۔ اس نے پیار سے اس گانڈ کو چوما اور باتھ روم میں اپنے کپڑے لے کر فریش ہونے چلا گیا۔ تبھی ان کے روم کی بیل بجی۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page