Strenghtman -42- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 42

تو وہ عورت اپنے کپڑے پہن کر دروازہ کھولنے گئی۔ سامنے ایک اور عورت تھی۔ 

“دی دی، آپ ابھی تک اٹھی نہیں تھیں؟ صبح کے سات بج گئے ہیں۔۔ پوجا بھی آ گئی ہے۔” 

“کیا؟ میری بیٹی کہاں ہے؟ تین مہینے سے لندن میں غائب تھی، اسے آج دکھاتی ہوں میں۔” 

“ابھی وہ میرے کمرے میں ہے، صبح ہی آئی تھی وہ ہوٹل میں۔ بھیا کہاں ہیں، دکھائی نہیں دے رہے؟” 

“ارے، وہ نہانے گئے ہیں۔ تجھے تو پتا ہے پوجا اور اس کے بڑے پاپا کی حرکتیں، دونوں کو ایک دوسرے کا سب معلوم ہوتا ہے۔ چل، میں تیری ساتھ آتی ہوں۔ یہ بھی نہا کر وہیں آ جائیں گے، تب تک اس کی ذرا کھنچائی کی جائے۔” 

جب شیوا نہا رہا تھا، تب جنت اپنے کمرے میں نہا دھو کر تیار تھی۔ رات کو شیوا نے اس کی گانڈ کے حال ہی برے کر دیے تھے۔ اس کی گانڈ کا سوراخ مکمل سوج گیا تھا۔ جنت کی آنکھ صبح ہی کھل گئی تھی۔ اس نے خود کو باتھ ٹب میں ننگا پایا۔ اس کی آنکھ اس کی گانڈ کے سوراخ میں ہو رہے درد کی وجہ سے کھلی تھی، تب صبح کے 6 بج گئے تھے۔ اسے لگا کہ شاید شیوا رات کو اس کے آفس میں سو گیا ہوگا کیونکہ وہ خود نشے میں یہاں باتھ ٹب میں سوتی رہی۔ شیوا نے ضرور رات میں آ کر دروازے کی بیل بجا کر اسے اٹھانے کی کوشش کی ہوگی، لیکن وہ تو نشے میں سوتی رہی، کچھ سن نہ سکی ہوگی۔ وہ اپنے روم میں دھیرے دھیرے چلنے کی کوشش کر رہی تھی، تاکہ گھر پر زیادہ کچھ پتا نہ چلے۔ شیوا کی راہ دیکھتے آدھا گھنٹا اس نے چلنے کی ورزش کر کے اپنی چال کو درست کرنے میں لگادیا ۔ شیوا کے موسل  لنڈ نے اس کی گانڈ کے سوراخ کو جو پھاڑا تھا، اس کی چال ہی بدل گئی تھی۔ 

آخر شیوا کا کافی دیر انتظارکرنے کے بعد وہ  پریشان ہو کر ہوٹل میں شیوا کو ڈھونڈھنے چلی گئی۔ شیوا کا فون تو رات میں روم میں ہی رہ گیا تھا۔ جنت نے جب صبح شیوا کو فون کیا، تب اس کی رنگ ٹون سے وہ اسے ملا تھا۔ وہ ہوٹل کی لابی میں کھڑی ہو کر شیوا کو ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ وہ کہاں ہے، لیکن وہ اسے کہیں نہ نظر آیا۔ تو وہ کچھ سوچ کر وہاں سے اپنے گھر ٹیکسی  کرا کر چلی گئی۔ 

جب شیوا نہا کر باہر آیا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ جنت کو روم میں نہ دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا کہ یہ کہاں چلی گئی۔ وہ اسے ڈھونڈھنے پہلے روم کے باہر آیا، وہاں کوئی نہیں تھا۔ اس نے نیچے لفٹ سے جا کر بھی دیکھا تو اسے جنت نہ ملی۔ اس نے وہیں ہوٹل سے اپنے موبائل پر فون کیا۔ فون کسی نے اٹھایا، لیکن سامنے سے کوئی بولا نہیں۔ 

شیوا: “ہیلو، میں شیوا بول رہا ہوں۔” 

جنت: “ارے، میں جنت بول رہی ہوں۔ پہلے اس لیے بات نہیں کی کہ پتا نہیں کس کا فون ہو۔ اگر گھر سے کسی کا ہوتا تو جواب دینا مشکل ہو جاتا۔ کیونکہ ابھی میرے فون سے گھر پر بات ہوئی تھی، تو میں نے بتایا کہ میں اکیلی ہی ٹیکسی سے گھر آ رہی ہوں۔” 

شیوا: “چلو اچھی بات ہے۔ آپ ٹھیک ہیں؟ میں تو آپ کو روم میں نہ دیکھ کر  ڈر گیا تھا۔ اب آپ کی آواز سن کر اچھا لگا۔” 

جنت: “میری تو حالت خراب کر دی تم نے، میں گھر پر آرام کرنے والی ہوں کچھ دن اب۔” 

شیوا: “ٹھیک ہے، میں آتا ہوں آپ سے ملنے گھر، تب تک آپ میرا فون بند ہی رکھنا۔” 

اور شیوا نے فون بند کردیا۔

شیوا کو یاد آیا کہ اس کا پرس اس روم میں ہی رہ گیا ہے۔ وہ اسے لینے واپس اوپر اس کمرے کی طرف چل دیا۔ جب وہ اوپر پہنچا تو اس کو اپنے سامنے ایک خوبصورت عورت دکھائی دی۔ اس کے پاس ایک بیگ تھا اور وہ ایک نائٹی میں تھی۔ اس نے نائٹی کے  اندر کچھ نہیں پہنا تھا، اس کے جسم کا ہر حصہ اس میں دکھ رہا تھا۔ شیوا کا لنڈ اسے دیکھ کر ہی کھڑا ہو گیا تھا۔ بڑے آم جیسی چھاتیاں، مٹکے جیسی گانڈ، خوبصورت چہرہ۔ شیوا کو لگا کہ جا کر اس کے لال لال ہونٹوں کو چوس کر اسے یہیں چود ڈالے۔ اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی نشہ اسے  نظرآرہا تھا ، جو اُس کو اس کی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ عورت بھی کچھ دیر شیوا کو دیکھتی رہی، پھر ایک کمرے میں گھس گئی۔ 

اُس کے نظروں سے ہٹتے ہی شیوا  ہوش میں آیا، اس نے اپنے سر کو جھٹکا اور اپنا پرس لے کر ہوٹل سے باہر آ گیا۔ وہ عورت جب کمرے میں گئی تو اس نے اس بیگ سے اپنے کپڑے اور تولیہ  نکالا اور لے کر باتھ روم میں گھس گئی۔ 

“یہ کیا ہو گیا مجھے آج کل؟ اس لڑکے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے اپنے کپڑے اتار کر اس کے نیچے لیٹ جاؤں۔ اس میں کیا تھا کہ میں خود کو اس کی طرف کھینچتا پا رہی تھی؟ کل جس طرح انہوں نے مجھے چودا تھا، صبح تک تو میں کتنی مطمئن تھی، لیکن پھر سے یہ  اتنی جلدی میرے جسم میں کیسی آگ بھڑک گئی ؟” 

تبھی اس کے کانوں میں ایک آواز آئی:  “سنیتا دی دی، آپ جلدی تیار ہو جائیں، ہمیں نیچے جانا ہے۔ نریش بھیا اور پوجا نیچے ہی کچھ چیک کرنے گئے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہی ناشتہ کریں گے۔” 

شیوا نے کل سنیتا کو ہی غلطی سے چودا تھا۔ سنیتا کو ہوٹل میں جب اس نے دیکھا، تب سے اس کے لنڈ نے اسے پریشان کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔ اس کی گرمی کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی، اسے ایسا لگ رہا تھا کہ جا کر کسی کی پھدی یا گانڈ کو بری طرح چودے۔ سنیتا کی پھدی کا پانی پی کر اس کے جسم میں، اور اس کے لنڈ نے جو پھدی کا پانی جذب کیا تھا، اس کے کچھ فائدے شیوا کو ہونے والے تھے، لیکن کچھ نقصان بھی ہونے والا تھا۔ 

شیوا اپنے لنڈ سے پریشان اپنے گھر میں آ کر بیٹھ گیا۔ اس کا دماغ ہی کام نہیں کر رہا تھا۔ کب وہ اپنے کمرے میں گھسا، اسے پتا ہی نہ چلا تھا۔ شیوا ۔۔ اپنے سارے کپڑے اتار کر ننگا ہو گیا اور اپنے لنڈ کو مسلنے لگا۔ تبھی اس کے باتھ روم کا دروازہ کھلا اور کوئی اپنے جسم کا پانی پونچھتا ہوا باہر آیا۔ وہ صرف اپنی ایک پینٹی میں تھی، اپنی چھاتیوں پر پانی صاف کر رہی تھی۔ اس کے بال گیلے تھے اور اس کا پانی نیچے ٹپک رہا تھا۔36-30-38 کی  اُس  ظالم فگر والی حسینہ کا دھیان ہی نہیں تھا کہ شیوا کمرے میں بیڈ پر ننگا اپنے لنڈ کو مسلتا اسے اپنی لال آنکھوں سے دیکھ رہا ہے اور اس کے حسن کا مزہ لے رہا ہے۔ 

شیوا اپنی جگہ سے اٹھا اور اس حسینہ کی طرف جانے لگا۔ شیوا کے اچانک اُٹھ کر  چلنے کی آواز سے وہ لڑکی ڈر کے مارے پلٹ گئی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے شیوا ننگا کھڑا ہے اور اپنے ہاتھ میں اپنا لنڈ پکڑے اسے مسل کر اسی کی طرف دیکھ رہا ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page