Strenghtman -46- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 46

بعد میں وہ نیلو سے بولا: “تم آرام کرو، میں ذرا باہر جا کر آتا ہوں۔ اگر تمہیں لگے تو گھر واپس چلی جانا، نہیں تو یہیں رکنا۔” 

نیلو (دل میں): “یہ شیوا ٹھیک تو ہے نا، کہیں یہ مجھ سے ناراض تو نہیں، اسی لیے مجھے گھر بھیجنے کی باتیں کر رہا ہے؟ کہیں یہ پاگل پن میں باہر کسی لڑکی کی زبردستی گانڈ نہ مار لے، ہے بھگوان ، اب میں کیا کروں؟ اس کے پیچھے ہی چپکے سے جاتی ہوں، اگر کچھ گڑبڑ ہو گئی تو میں سنبھال لوں گی۔” 

شیوا کو بہت ہنسی آ رہی تھی، لیکن اپنے آپ پر قابو کرتا ہوا وہ باہر آیا اور جنت کے گھر کی طرف چل دیا۔ شیوا کو سمجھ آ گیا تھا کہ اسے دل کی باتیں سنائی دیتی ہیں، اگر وہ کسی کے پاس دھیان سے دیکھے تو۔ وہ جنت کے گھر پہنچ گیا۔ اندر صنم اور نیلو کو چھوڑ کر سب تھے۔ 

شیوا: “چاچی، آپ کیسی ہیں؟” 

جنت: “شیوا، اب میرے پاؤں کی موچ ٹھیک ہے۔” 

(دل میں): “کیا بولوں شیوا، ابھی تک گانڈ کا سوراخ سوجا ہوا ہے۔” 

شفی چاچا سو رہے تھے، سلمہ اور بینظیر وہیں بیٹھی تھیں۔ 

شیوا: “تم دونوں کو کالج پسند آیا نا؟ کوئی تکلیف تو نہیں ہے نا؟ اگر کوئی پریشانی ہو تو مجھے ضرور بتانا۔” 

دونوں: “نہیں شیوا، کوئی پریشانی نہیں ہے۔” 

جنت: “ارے، کتنی بار کہا ہے تم سب کو، اسے بھائی کہا کرو، لیکن تمہیں یاد ہی نہیں رہتا۔” 

سلمہ (دل میں): “بھائی ہوگا آپ کا، یہ تو میرا دولہا ہے۔” 

بینظیر (دل میں): “ماں، یہ بھیا نہیں، سیا ہے میرا، میں کیوں اسے بھائی کہوں؟” 

سلمہ (دل میں): “وہ حرامی عرفان کالج تک آ رہا ہے آج کل، شیوا بے چارہ کیا کرے گا اس حرامی کا؟ اس کا باپ کتنا بڑا غنڈہ ہے، اس کے پاس کتنے خطرناک لوگ ہیں۔ اگر ان لوگوں سے شیوا میرے لیے الجھ گیا تو وہ غنڈے بے چارے شیوا کو جان سے مار دیں گے۔ میں اپنے لیے اس بے چارے کی جان نہیں جانے دوں گی۔ اس حرامی عرفان کو میرے ساتھ ایک رات گزارنی ہے، میں مر جاؤں گی لیکن اس کے ہاتھ نہیں آؤں گی۔” 

بینظیر (دل میں): “اس شیوا کو میں کیسے بتاؤں کہ میں اس سے کتنا پیار کرتی ہوں، لیکن ایسا لگتا ہےبھگوان  کو بھی  شاید میری محبت منظور نہیں ۔ وہ بھڑوا عرفان سلمہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر لگا ہے۔ کتنی بار سمجھایا اسے سلمہ نے، لیکن حرامی مانتا ہی نہیں۔ میں نے بھی اسے کتنی بار سمجھایا، لیکن وہ اب کہتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ایک رات گزاروں تو وہ سلمہ کو تنگ نہیں کرے گا۔ میں تو شیوا سے شادی کر کے اسے ہی اپنا یہ جسم سونپنے والی تھی، لیکن اب سلمہ کے لیے میں اس عرفان کے ساتھ ایک رات سو کر دوسرے دن اپنی جان دے دوں گی۔” 

شیوا دونوں کے دل کی باتیں سن کر بہت غصے میں آ گیا تھا۔ اسے اب عرفان کی تلاش تھی۔ تبھی نیلو گھر میں داخل ہوئی۔ 

جنت: “آ گئی بیٹی نیلو، اب گل کی طبیعت کیسی ہے؟ اس کے ماں باپ آ گئے کیا؟” 

نیلو: “نہیں اماں، اس کے اماں ابو ابھی تک نہیں آئے۔ میں تو اپنے کپڑے لینے آئی تھی۔” 

نیلو نے پھر اپنے 2 ڈریس بیگ میں بھرے اور گھر میں پانی پینے گئی۔ اس کی چال میں ابھی بھی تھوڑی لنگڑاہٹ تھی، جنت نے وہ دیکھا۔ 

جنت: “نیلو، تم ایسی کیوں چل رہی ہو، کیا ہو گیا تمہارے پاؤں کو ؟” 

نیلو: “ارے، سٹی بس سے اترتے وقت میرا پاؤں تھوڑا مڑ گیا ہے۔” 

جنت: “ٹھیک ہے، اپنا خیال رکھنا۔ شیوا بیٹا، نیلو کو گل کے گھر تک چھوڑ دینا، بعد میں وہیں سے کام پر چلے جانا۔” 

جنت (دل میں): “پتا نہیں یہ نیلو سچ بول رہی ہے یا جھوٹ۔ کہیں کسی کے ساتھ چدائی تو نہیں کر رہی؟ شیوا اس کے ساتھ گیا تو سب سچ پتا چل جائے گا۔ گل بیمار ہے یا نہیں، شیواکے  آنے کے بعد  اس سے میں سب پوچھ لوں گی ۔” 

نیلو اور شیوا پھر وہاں سے شیوا کے گھر آ گئے۔ شیوا بولا کہ وہ  کھانا لینے ہوٹل جا رہا ہے۔ راستے میں وہ سلمہ اور بینظیر کی باتوں کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا۔ ہوٹل میں کھانا پیک کروانے کے لیے اس نے کہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ آج اگر اس کے پاس دل کی باتیں سننے کی طاقت نہ ہوتی تواُسے کبھی پتا نہ چلتا کہ  سلمہ اور بینظیر کے ساتھ عرفان کیا کر رہا ہے ۔

تبھی اسے صنم کی یاد آئی۔ بہت دنوں سے صنم اس سے ملی بھی نہیں تھی۔ جب بھی وہ فون کرتا، وہ ہمیشہ کسی سہیلی کے گھر پر ہونے کا کہتی۔ اسے اب صنم کی فکر ہونے لگی۔ اس کے دل میں یہی چل رہا تھا کہ صنم کہاں ہوگی، کیا کر رہی ہوگی۔ تبھی اس کی آنکھوں کے سامنے صنم کہاں ہے، کیا کر رہی ہے، کس سے بات کر رہی ہے، کیا باتیں ہو رہی ہیں، سب جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا، ایسا نظر آنے لگا گیا تھا۔ کچھ دیر تک وہ وہی دیکھ رہا تھا۔ تبھی ہوٹل کے مالک کی آواز سے وہ ہوش میں آیا۔ اس نے بل دے کر کھانا لیا اور گھر جا کر نیلو کے ساتھ کھا لیا۔ آج وہ  زیادہ کھانا لایا تھا تاکہ رات کو وہی کام آ جائے۔ 

شیوا آج گھر سے کام کے لیے جلدی نکل رہا تھا تو نیلو نے اس سے کہا کہ آتے وقت اسے فون کرے، کچھ لانا ہے، میں تب بتا دوں گی۔ 

نیلو (دل میں): “شیوا کو آج جیل لانے کو کہہ دوں گی، سنا ہے جیل لگانے سے گانڈ مارنے میں تکلیف بہت کم ہوتی ہے۔” 

شیوا: “ارے نیلو، ایسا نہیں ہوتا، تھوڑی تکلیف ہوتی ہے گانڈ مارنے میں، چاہے تم تیل لگاؤ یا جیل۔” 

نیلو (دل میں): “اس ٹھرکی کے دماغ سے گانڈ مارنے کا بھوت لگتا گیا ہی نہیں۔ جیل ملے یا تیل، آج اس کی آگ میری گانڈ سے بجھانی ہی پڑے گی۔” 

شیوا اپنے آپ کو دل میں گالیاں دیتا ہوا باہر آیا کہ اب وہ کوئی جواب نہیں دے گا۔ وہ اب اپنے آفس جانے کے لیے سوچ ہی رہا تھا کہ آنکھ جھپکتے ہی اس کے آفس پہنچ گیا۔ اس کا مینیجر اسے اپنے سامنے اچانک آتے دیکھ کر ڈر گیا تھا۔

شیوا کو اسے سمجھانے میں بہت وقت لگا کہ  ” وہ کوئی بھوت یا سپر ہیرو نہیں ہے، جو پل جھپکتے کہیں بھی جا سکتا ہے۔ یہ 21ویں صدی ہے ،  آپ بھی کیا باتیں کرتے ہو؟”

 کتنی باتیں بنانی پڑیں، وہی جانے۔ اس نے سوچ لیا کہ اب وہ اچانک کہیں بھی نہیں جائے گا۔ اب سوچ سمجھ کر جہاں کوئی اسے دیکھ نہ سکے، ایسی جگہ پر جائے گا، جو اس کی پسندیدہ جگہ کے قریب اور سنسان ہو۔ 

شیوا نے پھر صنم کے بارے میں سوچا تو پھر جیسے ٹی وی پر ہمیں نظر آتا  ہے، ویسے ہی صنم اسے دکھائی دی۔ اسے ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے صنم کو فون کیا تو صنم نے کچھ دیر بعد اس کا فون اٹھایا۔ اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے سب کچھ نظر آرہا تھا کہ صنم نے بھی فون اٹھایا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page