Strenghtman -47- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 47

وہ صنم کو کبھی ہاتھ اوپر کرنے  کا کہتا ، کبھی پاؤں، کبھی کھڑا ہونے کو کہتا، کبھی بیٹھنے کو۔جیسی  حرکتیں وہ فون پر صنم کو کرنے کا کہتا ، ویسی ہی حرکتیں اس کی آنکھوں کے سامنے والی صنم کرتی۔ شیوا اب سمجھ گیا کہ وہ جس کے بارے میں سوچے گا، وہ کہاں ہے، اور کیا کر رہا ہے، اس کے دل میں کیا چل رہا ہے، سب اسے سنائی دے گا۔ 

جیسا اس نے صنم کے ساتھ کیا، ویسا ہی جنت اور نیلو کے ساتھ بھی کیا، تب اسے اپنی اس طاقت پر یقین ہو گیا ۔ لیکن نیلو نے اسے فون پر جو  بات کہی تو وہ ہنسنے لگا۔

نیلو  بولی: “شیوا، تم فکر نہ کرو، آج تم گھر آؤ گے تو وہ ننگی ہی ملے گی، وہ آ کر اس کی گانڈ مار لے۔”

نیلو کی باتیں سن کر شیوا ہنس ہی رہا تھا کہ مینیجر نے اسے بلایا اور بتایا کہ اسی ہوٹل کی دوسری برانچ میں ایک پروگرام ہے، وہاں تمہیں آج جانا پڑے گا۔ وہاں کام زیادہ ہے اور آدمی کم ہیں۔ شیوا وہاں سے مینیجر کی  بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔

وہ ہوٹل بہت بڑا تھا۔ یہاں شادیاں، منگنیوں کے ساتھ بڑی بڑی کمپنیوں کے فیسٹیول ہوتے تھے۔ آج ہوٹل میں “بہترین انڈین ڈاگ اینڈ کیٹ” کا فائنل ہونے والا تھا۔ شیوا کو وہاں ایک ٹیبل پر بٹھا دیا گیا اور بتایا کہ تمہیں مقابلے میں آنے والے لوگوں کے نام لکھنے ہیں اور انہیں جس ترتیب سے آئیں گے، اسی طرح نمبر دینا ہے۔ اس نمبر کے حساب سے ہی انہیں اسٹیج پر بھیجا جائے گا۔ 

شیوا نے اپنا کام شروع کر دیا۔ دھیرے دھیرے لوگ آ رہے تھے۔ شیوا ان کا نام لکھتا اور ایک نمبر دے دیتا۔ بعد میں وہ لوگ اپنے جو بھی جانور یعنی کتا یا بلی کے ساتھ ہوتے، وہ جہاں شیوا کی ٹیبل تھی، اسی بڑے ہال میں بیٹھ جاتے۔ ایک آدمی بہت خوبصورت کتے کے ساتھ آیا۔

اس نے اپنا نام لکھوایا، نمبر لیا اور شیوا سے کہا: “کیا آپ  میرے کتے کو 5 منٹ سنبھالیں گئ ، میں باتھ روم جا کر ابھی آیا۔”

شیوا نے اس کی بات مان لی۔ وہ آدمی اپنے کتے کو شیوا کے پاس چھوڑ کر چلا گیا۔ 

شیوا اس کتے کو دیکھ کر دل میں بولا: “بڑا مست کتا ہے یہ تو۔”

 اس نے پیار سے کتے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا: “ٹومی، ٹومی۔” 

“لَوڑے، میرا نام راک  ہے، ٹومی نہیں۔” 

شیوا پہلے چونکا، لیکن جلد ہی اپنے آج دن بھر کی اُس کے ساتھ ہوئی باتوں  کو سوچ کر جلدی سے  سنبھل گیا۔ 

پھر شیوا کتے کی طرف دیکھ کر بولا: “اچھا، تو تیرا نام راک  ہے، ٹومی نہیں۔” 

راک کتا: “ارے لَوڑے، تو میری بات سمجھ گیا، تو تو میرے کام کا آدمی نکلا۔” 

شیوا بولا: “راک، گالی دے کر بات مت کر۔” 

راک کتا: “ہاں، سن، جب میرا مالک آئے گا تو میرے گلے سے چین کا کلپ ڈھیلا کر دینا تاکہ میں یہاں سے بھاگ جاؤں۔” 

شیوا: “کیا کرے گا بھاگ کر ممبئی میں؟” 

کتا: “میری آئٹم کو بجانے جانا ہے۔ اتنا کام کر دے، میرا لنڈ تجھے دعا دے گا۔” 

شیوا: “تیرے مالک کا کیا ہوگا جب تو بھاگ جائے گا؟” 

کتا: “وہ لَوڑا اپنی بیوی کو چودتا نہیں تو  مجھے کیا کسی کو چودنے دے گا؟  بھائی، وہ اپنی گانڈ کہیں بھی مرا لے، لیکن آج تو میری مدد کر، میں بھی کبھی تیرے کام آ جاؤں گا۔” 

تو شیوا  پھر ایسا ہی کیا اور اُس کی مدد سے کتا وہاں سے بھاگ گیا۔ 

وہاں کچھ بلیوں کو بھی لایا گیا تھا، ان کے لیے الگ ٹیبل لگایا گیا تھا۔ شیوا کا بکنگ کا کام ختم ہوا، اس نے بہت سے کتوں سے باتیں کی تھیں۔ بعد میں وہ بلیوں کے ہال میں گیا، وہاں ایک سے بڑھ کر ایک بلی تھی: سفید، کالی، انگریزی رنگ کی۔ شیوا نے ایک سفید بلی کو دیکھ کر اس کے پاس گیا اور اسے پکارنے لگا: “پوسی، پوسی۔”

اس بلی نے شیوا کی طرف دیکھ کر کہا: “ابے پھدی کے بال، میں تجھے پوسی دکھتا ہوں؟ میں بلّو بلا ہوں، یہ دیکھ میرا لنڈ۔”

 اتنا کہہ کر اس بِلے نے اپنی ٹانگ اُٹھائی اور اپنا چھوٹا سا لنڈ اسے دکھایا۔ اس کا مالک وہیں موجود تھا، اس وجہ سے شیوا بغیر زیادہ بولے وہاں سے نکل گیا۔ 

شیوا کا کام تقریباً وہاں سے ختم ہو گیا تھا، لیکن کچھ دیر وہ وہیں ٹہلتا رہا تھا اور اپنی طاقتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ کب سے اس میں طاقتیں آئیں، پہلی طاقت کون سی ملی، کب اسے ان کے بارے میں پتا چلا۔ شیوا کے حساب سے جب اس نے جنت کو ہوٹل میں چودا تھا، تب سے اس میں طاقتیں آئی تھیں۔ سب سے پہلے اسے نیلو کے دل کی باتیں سنائی دی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھی کہ دروازہ بند ہونے کے بعد میں اندر کیسے گھسا؟ 

“ہاں سالا، یہ بات تو میں بھول ہی گیا تھا، میں تو اس دن بغیر دروازہ کھولے اس کے پار چلا گیا تھا۔ چلو، یہاں ہوٹل میں بہت دروازے ہیں، کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔” 

پھر کیا، شیوا نے کوشش شروع کر دی،  دروازوں سے آرپار جانا۔اور  وہ آسانی سے یہ سب کر پا رہا تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ دیواروں سے پار جا کر دیکھتا ہے، تو وہ دیواروں سے بھی آسانی سے پار جا نے لگا ۔ پھر اس نے سوچا کہ لوہے کے دروازوں، کپاٹوں سے پار جا کر دیکھے، تو وہ ان سے بھی پار چلا گیا۔ 

شیوا ایسے ہی ہوٹل کےمختلف  کمرروں سے آر پار جا رہا تھا کہ اس نے ایک کمرے میں دیکھا کہ ایک عورت صرف برا اور پینٹی میں ہی دروازے کے پاس پڑی تھی۔ اس نے نشہ کیا تھا، اس میں وہ کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ اس کے دل کی باتیں شیوا کو سنائی دے رہی تھیں۔ وہ بہت دکھ میں تھی، اسی دکھ کو بھلانے کے لیے آج اس نے ڈرگس کا اور ڈوز کا نشہ کیا تھا۔ شیوا نے اسے اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور بیڈ پر رکھنے لگا۔ اس عورت نے شیوا کے گلے میں باہیں ڈال دی اور شیوا کو چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھی۔ شیوا اس کے غم  کو سمجھ رہا تھا، وہ بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی، بے چاری د  ل میں اپنے شوہر کو یاد کر رہی تھی ۔

شیوا  نے سوچا کہ اس کو تھوڑا بہلا کر یہاں سے نکلتا ہوں تو وہ تھوڑی دیر کے لیے اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔ وہ عورت ایک دم شیوا سے چپک ہی گئی ۔ اس عورت نے شیوا کے چہرے کو پکڑ کر اپنے نرم ہونٹوں کا رس شیوا کو پلانے لگی۔ شیوا کو پہلے جھٹکا لگا، لیکن اس عورت کے منہ سے نکل رہا تھوک جب وہ شیوا کو پلانے لگی تو شیوا پاگل ہی ہو گیا۔ ایسا ذائقہ اسے مل رہا تھا کہ بس۔

 شیوا نے کب اس عورت کو ننگا کیا اور خود اپنے  بھی کپڑے اتار دیے، اسے پتا  ہی نہ چل سکا۔ اس عورت میں ایک عجیب سی کشش تھی جو شیوا کوسوچ سمجھ  سے عاری کرتے ہوئے مدہوش کر رہی تھی۔

شیوا نے اس عورت کے ہونٹ، چھاتیاں، گال چوس چوس کر اور اپنے ہاتھوں سے مسل کر ایک دم سوجا دیے تھے۔ اس عورت کی گانڈ کو تو شیوا نے اتنا دبایا، اتنے تھپڑ برسائے تھے کہ گانڈ سوج کر لال ہو گئی تھی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page