Strenghtman -48- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 48

اور وہ عورت اپنے شوہر کا نام لے رہی تھی، اور اسے اُکسا رہی تھی: “ہاں پرتھوی، دباؤ اپنی جھوالا کی گانڈ، مسلو میری چھاتیاں۔” 

جی ہاں دوستو، یہ جھوالا ہی تھی، اپنے پرتھوی کی بیوی، مطلب کہانی کی ایک اور طاقت۔ 

جھوالا اور شیوا دونوں اب 69 میں آ گئے۔ شیوا کو جھوالا کے جسم نے جلا ڈالا تھا، تو جھوالا ڈرگس اور شراب کے نشے میں تھی۔ شیوا جھوالا کی پھدی اور گانڈ کو چوس رہا تھا، تو جھوالا اس کے لنڈ کو چوس رہی تھی۔ جھوالا تو ہر 10 منٹ بعد اپنی پھدی کا پانی اسے پلاتی، لیکن شیوا جھڑنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ جب جھوالا 5 بار جھڑی، تو وہ ایک بار ہی جھڑا، لیکن ایسا  جھڑا کہ جھوالا کے پیٹ اور دل کی آگ ہی بجھ گئی ۔ جھوالا کو بھی لنڈ کا رس اتنا پسند آیا کہ اس نے 5 منٹ میں ہی اسے پھر کھڑا کر دیا۔ بعد میں دونوں میں ایک زبردست لن پھدی کی جنگ چھڑ گئی۔ ایک طرف آگ برساتی پھدی اور دہکتی گانڈ تھی، تو دوسری طرف بجلی کا طوفانی  لنڈ۔ رات بھر اسکے  لنڈ نے پھدی پر گہرے وار کیے، ساتھ ہی اس کی گانڈ کے سوراخ کو بھی بڑا کر دیا۔ ہر آدھے گھنٹے میں وہ لنڈ کے گاڑھے پانی سے کبھی پھدی تو کبھی گانڈ بھر دیتا۔ صبح تک تو جھوالا کی پھدی اور گانڈ لبالب اپنے گاڑھے مال سے شیوا نے بھر دی تھی۔ اس کے اٹھنے سے پہلے شیوا اپنے کپڑے پہن کر 1 سیکنڈ میں اپنے گھر پہنچ کر سو گیا۔ 

صبح جب جھوالا اٹھی تو اس کا جسم مکمل ٹوٹ رہا تھا۔ اس کی پھدی اور گانڈ کے سوراخ آج سیکڑوں سال بعد دکھ رہے تھے۔ اس کی پھدی اور گانڈ کے درد کو اس میں بہتا گاڑھا پانی ایک سکون دے رہا تھا۔ جھوالا نے جب اپنی پھدی سے بہتا وہ گاڑھا مال چک کر دیکھا ، تو اسے وہ بہت پسند آیا ۔ آج اصل معنوں میں کسی نے جھوالا کی آگ  بجھائی تھی۔وہ سوچنے لگی کہ  یہ کون مرد پیدا ہو گیا؟ کہ  جھوالا کی طاقت بھی اس آدمی کا پتا نہ لگا سکی اورجس نے آج جھوالا کوسچے معنی میں سکون دیا تھا۔

٭٭٭٭

نیلو نے شیوا کو جگایا تو دوپہر کے 12 بج گئے تھے۔ صبح 6 بجے ہی شیوا نے  گھر آ کر نیلو کو دروازہ بجا کر اٹھایا تھا ،اور بہانہ بناکر کہا تھا کہ رات کو بہت کام کی وجہ سے وہ نہیں آ پایا تھا، اور تھکاوٹ  کی وجہ سے نیند کا کہہ کر سو گیا تھا۔

جب نیلو نے اسے اٹھا کر نہانے بھیجا تو شیوا کو رات کی ساری باتیں یاد آ رہی تھیں۔ آج اس نے اس انجان عورت کے ساتھ جو سیکس کیا تھا، اسے اس کا دکھ تھا کہ اس نے کسی کے نشے کی حالت کا غلط فائدہ اٹھایا۔ اس عورت نے ہی پہل کی تھی ہونٹ چوس کر، لیکن بعد میں اسے ہوش ہی نہیں رہا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ کسی جانور کی طرح ہی اس نے اس عورت کو چودا  تھا۔ اس کی چدائی کا نشہ صبح کی پہلی کرن نے ہی توڑا تھا۔ شیوا کو ایسا لگ رہا تھا کہ اس نے اس عورت کا زبردستی ریپ کر دیاہے۔ اس کے دل میں یہ ڈر اٹھنے لگا کہ وہ عورت صبح اٹھنے پر اپنے جسم کی حالت دیکھ کر سب سمجھ جائے گی کہ رات کو اس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔  اگر اس نے اپنے آپ کو کچھ کر لیا تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کر پائے گا۔

 شیوا  اس عورت کا چہرہ یاد کر کے دیکھنے لگا کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ تب اس نے دیکھا کہ نہ تو وہ عورت دکھ میں ہے اور نہ اسے کوئی صدمہ لگا ہے۔ وہ بہت خوش نظر آ رہی تھی۔ جب شیوا نے اس کے دماغ کے خیالات پڑھے تو وہ حیران ہو گیا۔ وہ عورت تو اسے ہی تلاش کر رہی تھی۔ اسے رات کے شیوا کے ساتھ نشے میں ہوئے سیکس نے بہت سکون دیا تھا۔ اور صبح جب اس نے اپنی پھدی سے بہتا شیوا کا پانی چکھا تھا تو اسے وہ بہت پسند آیا تھا۔

وہ عورت سوچ رہی تھی کہ” نشے میں اگر وہ چُد کر اتنی خوش ہوئی تھی ، تو جب وہ اپنے پورے ہوش میں اس سے چدے گی تو اُسے کتنا سکون ملے گا ۔ اسے اب اس انجان کی تلاش تھی جو اس کے جلتے جسم کو سکون دے گیا تھا۔ اسے اس شخص کا شکریہ ادا کرنا تھا جس نے اسے دکھ سے باہر نکالا تھا، اس کے جسم کو ایک الگ ہی ٹھنڈک دے دی تھی۔ اب وہ اسی ہوٹل میں رہ کر اسے تلاش کرنے والی تھی۔ 

شیوا اس کے دل کی باتیں سن کر پریشان ہوگیا تھا۔ اسے خوشی اس بات کی تھی کہ وہ عورت اب ٹھیک ہے، رات کو اس کے ساتھ ہوئے واقعہ سے وہ دکھی نہیں بلکہ خوش ہے۔ لیکن وہ پھر سے اس کے ساتھ چدوانے کے لیئے  شیوا کو ڈھونڈھ رہی ہے ، یہ بات شیوا کو پریشان کر رہی تھی۔ اس کے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا تھا کہ وہ کسی کا ریپ  کرنے والا نہیں،اُس نے  کسی کی مجبوری کا فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اس کی وجہ سے وہ عورت دکھ سے باہر ہے اور خوش ہے۔

 وہ پھر جلدی سے نہا کر باہر آیا اور اپنے کپڑے پہن کر کچھ کھانے کا سامان ہوٹل سے لے آیا۔ رات کی محنت کی وجہ سے اسے آج بہت بھوک لگ گئی تھی ۔ اس نے گھر آ کر نیلو کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ نیلو کو آج شیوا کے چہرے پر ایک الگ ہی چمک دکھ رہی تھی، اسے شیوا آج پہلے سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد شیوا نے نیلو کو بتایا کہ کل کے کام کی وجہ سے آج اس کو  چھٹی دی گئی ہے ،تو  آج وہ گھر پر ہی رکنے والا ہے۔ اسے تھوڑا کام ہے، وہ کر کے آج شام کو ہی واپس آ جائے گا۔

شیوا کو آج تھوڑا وقت اکیلا گزارنا تھا، اس لیے اس نے اپنے دل میں ایک سنسان جگہ کے بارے میں سوچا اور وہاں ایک سیکنڈ میں ہی پہنچ گیا۔ شیوا نے جو جگہ دل میں سوچی تھی، وہ ایک پہاڑی علاقہ تھا۔ وہاں جا کر شیوا ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ یہ جگہ اس نے یتیم خانے کی ایک ٹرپ  کے دوران دیکھی تھی ، اسی وجہ سے اسے اس جگہ کا پتا تھا۔ یہ جگہ سنسان تھی، لیکن پہاڑی علاقہ اور ہرے بھرے جنگل کی وجہ سے گرمیوں میں لوگ اکثر اس جگہ گھومنے آتے تھے۔ لیکن اب بارش کا موسم تھا، جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ سنسان تھا۔ 

شیوا اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ وہ ایک یتیم لڑکا، جس کی زندگی میں بس اکیلا پن تھا۔ گزشتہ کچھ دنوں میں اس کے ساتھ بہت کچھ ہوا تھا۔ جب سے وہ بستی میں واپس آیا تھا، اس کے ساتھ عجیب سی باتیں ہو رہی تھیں۔ پہلے جنت کی چدائی، پھر صنم کے پیار کا اظہار، شفی چاچا کے علاج کے پیسے جمع کرنے کی کوشش میں نرگس، ونود، سنی سے ملنا، دبئی کا سفر، جنت کو ہوٹل لے جاکر اس کی گانڈ مارنا، اس کے بعد نیلو سے ملنا، نیلو کی چدائی، اپنی نئی طاقتوں کا احساس، طاقتوں کی پہچان کرتے وقت ہوٹل میں اس عورت جھوالا کی چدائی۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page