Strenghtman -49- شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر

شکتی مان

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی کہانی۔ شکتی مان پراسرار قوتوں کا ماہر۔۔ ہندو دیومالئی کہانیوں کے شوقین حضرات کے لیئے جس میں  ماروائی طاقتوں کے ٹکراؤ اور زیادہ شکتی شالی بننے کے لیئے ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا،  جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی تحریر۔

ایک ایسے لڑکے کی کہانی جسے  ایک معجزاتی پتھر نے اپنا وارث مقرر کردیا ، اور وہ اُس پتھر کی رکھوالی کرنے کے لیئے زمین کے ہر پرت تک گیا ۔وہ معجزاتی پتھر کیاتھا جس کی رکھوالی ہندو دیومال کی طاقت ور ترین ہستیاں تری شکتی کراتی  تھی ، لیکن وہ پتھر خود اپنا وارث چنتا تھا، چاہے وہ کوئی بھی ہو،لیکن وہ لڑکا  جس کے چاہنے والوں میں لڑکیوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاتی ، اور جس کے ساتھ وہ جنسی کھیل کھیلتا وہ پھر اُس کی ہی دیوانی ہوجاتی ،لڑکیوں اور عورتوں کی تعداد اُس کو خود معلوم نہیں تھی،اور اُس کی اتنی بیویاں تھی کہ اُس کے لیئے یاد رکھنا مشکل تھا ، تو بچے کتنے ہونگے (لاتعدا)، جس کی ماروائی قوتوں کا دائرہ لامحدود تھا ، لیکن وہ کسی بھی قوت کو اپنی ذات کے لیئے استعمال نہیں کرتا تھا، وہ بُرائی کے خلاف صف آرا تھا۔

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شکتی مان پراسرار قوتوں کاماہر -- 49

اپنی ان پرانی یادوں کے دوران وہ سکون سے سوچ رہا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ اس کے حساب سے اسے یہ ساری طاقتیں جنت کی گانڈ مارنے کے بعد ہی ملی ہیں۔ اگر ایک بار پھر وہ جنت کی گانڈ مار کے دیکھے تو پھر پتہ چلے گا کہ اسے اب کونسی طاقت ملتی ہے؟ اس نے جنت کی گانڈ کی سیل کھولی تھی، شاید ایسا ہو کہ عورت کی گانڈ کی سیل کھول کر اسے نئی طاقت ملتی ہو۔ اس لیے اب وہ جسے بھی چودے گا، مطلب جو اس کے ساتھ خود چدائی کرنے کو تیار ہوگی، ان کی گانڈ ضرور مارے گا۔ اگر ان کی گانڈ سیل پیک ہو تو اسے نئی طاقت مل جائے گی۔ اسے یہ باتیں سوچ کر  ہنسی بھی آ رہی تھی کہ کیا قسمت ہے اس کی کہ گانڈ مارنے کے بعد اسے ایسی طاقتیں  ملی ہے۔ جنت کی گانڈ مارنے کے بعد ہی اسے نئی طاقت ملی ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ویسی ہی طاقت اسے اس کی بیٹیوں کی گانڈ مار کر بھی مل سکتی ہے۔ ایک نیلو تو گانڈ کھول کر بیٹھی ہے کہ مار لو، اب وہ ضرور اس کی گانڈ مارے گا اور دیکھے گا کہ اسے کیا نئی طاقت ملتی ہے، کیا نہیں۔ 

(شیوا کی یہ سوچ کہ اسے عورت کی گانڈ کی سیل کھول کر اور اسے مار کر نئی طاقت ملتی ہے، اس کی وجہ سے بہت سی عورتوں اور لڑکیوں کے برے حال ہونے والے تھے۔) 

شیوا نے اب اپنے دل میں ایک لسٹ بنانی شروع کی کہ اسے کون کونسی نئی چمتکاری طاقتیں ملی  ہیں: 

  1. کسی بھی جگہ کے بارے میں سوچنے کے بعد 1 سیکنڈ میں پہنچ جانا، لیکن وہ جگہ اس نے کبھی دیکھی ہو یا وہ اس جگہ پر کبھی گیا ہو، وہ ایسی ہی جگہ پر جا سکتا ہے جو اسے پتا ہو۔ نئی جگہ یا کسی جگہ کا نام لے کر وہ وہاں نہیں جا سکتا تھا۔ اس نے ایسی کوشش بھی کر کے دیکھی تھی۔
  2. کسی کے بھی دل میں چلنے والی باتیں وہ سن سکتا تھا، جسے وہ جانتا ہو، اس کے بارے میں بس سوچنے پر ہی کہ وہ کہاں ہے، کیا کر رہا ہے، کیا سوچ رہا ہے، اس کا بھی اسے پتا چل جاتا تھا۔ لیکن جن کو وہ نہیں جانتا، کبھی ملا نہیں، ان کے بارے میں وہ کچھ نہیں جان پاتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے اپنے ماں باپ کے بارے میں سوچا تھا، لیکن وہ کچھ نہ جان پایا تھا۔ سلمہ اور بینظیر کو تکلیف دینے والے عرفان کا نام لے کر بھی اس نے کوشش کی تھی، لیکن کچھ نہ جان پایا تھا۔
  3. وہ اب جانوروں سے بات کر سکتا ہے اور ان کے دل کی بات بھی سمجھ سکتا ہے۔
  4. وہ اب کسی بھی چیز کے پار جا سکتا ہے۔

اپنی ان طاقتوں کے بارے میں جان کر اسے اب یہ دیکھنا تھا کہ اسے کون سی نئی طاقت ملتی ہے جب وہ نیلو کی گانڈ مارے گا اور اس کی سیل کھولے گا۔ (ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔نیلو کی تو اب خیر نہیں)

نیلو سے وہ اب کچھ زیادہ ہی باتیں کرتا تھا اس کی چدائی کرنے کے بعد۔ شیوا نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ وہ نیلو سے جادوئی طاقتوں کے بارے میں بات چیت کرے گا۔ وہ اسے یہ تو نہیں بتائے گا کہ اس میں وہ طاقتیں ہیں، لیکن وہ اس سے زیادہ پڑھی لکھی تھی اور اُسے شیوا سے زیادہ دُنیا داری کی سمجھ بھی تھی کیونکہ وہ کھلے ماحول میں بڑی ہوئی  تھی اور شیوا  یتیم خانے میں۔

 شیوا  پھر اس پہاڑی علاقے سے ممبئی واپس آیا اور میڈیکل  سٹور سے جیل اور ہوٹل سے کھانا لے کر گھر پہنچ گیا۔ نیلو بھی شیوا کو دیکھ کر خوش ہو گئی۔ شیوا  پھر اپنے کپڑے بدل کر فریش ہوا اور نیلو سے باتیں کرنے بیٹھ گیا۔ اس نے بڑی چالاکی سے ایسی معجزاتی  طاقتوں اور ان طاقتوں کو رکھنے والوں کے بارے میں بات کر کے اُس سے معلومات نکالنا شروع کی۔ شیوا بچپن سے اکیلا ہی رہتا تھا، زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ یتیم خانے میں بھی اپنی پڑھائی اور کھیل کود سے مطلب رکھتا تھا۔ نہ کبھی کوئی فلم دیکھی تھی، نہ ٹی وی دیکھتا تھا وہ۔ 

نیلو نے پھر شیوا کو اتنی باتیں بتائیں کہ شیوا کے دماغ کی ماں چد گئی۔ نیلو نے اسے جادوئی جن کی کہانیوں سے لے کر آج کے ایونجرز کے سپر ہیروز تک سب کچھ بتا دیا۔ شیوا نے جن کی طاقت سنی کہ وہ چٹکی بجا کر جادو کرتا تھا۔ اس کی چٹکی بجانے سے گھر بنتے، کھانا آتا، پیسہ سونا ملتا، کپڑے بدلنا، کپڑے غائب کرنا، ایسی بہت سے کام  وہ کرتا تھا۔

شیوا نے بھی 2 یا 3 بار کچھ سوچ کر چٹکیاں بجائیں، لیکن کچھ نہیں ہوا۔ نیلو کی باتوں سے اسے اتنا تو پتا چل گیا تھا کہ چمتکاری طاقتیں ہر کسی کو نہیں ملتیں، جن کے پاس ہوتی ہیں وہ اپنی طاقت سب سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ اگر لوگوں کے سامنے اپنی طاقت استعمال کرنی ہو تو وہ اپنا چہرہ نقاب سے چھپا لیتے ہیں۔ طاقت کی مدد سے ضرورت مند لوگوں کی مدد کرنی چاہیے، اپنی طاقت کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ طاقتیں اچھے لوگوں کے پاس بھی ہوتی ہیں اور برے لوگوں کے پاس بھی۔ 

جو طاقت اس کے پاس تھی، وہ تو کچھ بھی نہیں تھی جو نیلو نے اسے بتائی تھی۔ کچھ لوگوں کے پاس اڑنے کی طاقت ہوتی ہے، کچھ غائب ہوتے ہیں، کچھ میں بہت زیادہ جسمانی طاقت ہوتی ہے، اپنے ایک وار سے وہ پہاڑ تک کو چور کر سکتے ہیں، کوئی پانی میں بھی سانس لے سکتا ہے۔ بہت سی طاقتوں کے بارے میں نیلو نے بتایا۔ نیلو کی باتوں سے اس نے یہ جان لیا کہ ایسی جادوئی طاقتوں کے بارے میں معلومات اسے پرانی کتابوں سے ہی مل سکتی ہیں، لیکن نیلو سے وہ کچھ  کام کی باتیں تو سمجھ ہی گیا تھا، جو اسے اب بہت کام آنے والی تھیں۔

باتوں ، باتوں میں کھانے کا وقت بھی ہو گیا، دونوں نے مل کر کھانا کھایا۔ پھر شیوا کے ساتھ نیلو سب کام نپٹا کر لیٹ گئی ۔ اس کی پھدی بھی اب 2 دنوں کے آرام اور علاج سے ٹھیک ہو گئی تھی۔ اور نئی جوان لڑکی ایک بار چدنے کے بعد کچھ زیادہ ہی چدنے کو بے تاب ہوتی ہے ۔ نیلو بھی آج شیوا کے ساتھ اپنی پھدی کی آگ بجھانا چاہتی تھی۔ وہ شیوا کے ساتھ چپک کر لیٹ گئی تھی۔ شیوا کو اس کے دل کی بات سنائی دے رہی تھی کہ وہ چدنے کو کتنی بے تاب ہے ۔ 

شیوا نے اسے اپنے اوپر لے کر کسنگ کرنا  شروع کر دیا۔ نیلو کو تو بس یہی چاہیے تھا، وہ بھی شیوا کا ساتھ دینے لگی۔ دونوں نے اپنے کپڑے اتار کر ننگے ہو کر ایک دوسرے کو چومنے چاٹنے میں لگ گئے۔ شیوا نے نیلو کی پھدی اور گانڈ میں اپنی زبان کی فنکاری  سے اسے بہت جلد اپنا پانی نکالنے پر مجبور کر دیا۔ شیوا کو آج نیلو کی گانڈ مارنی تھی، لیکن جب اس نے نیلو کے دل کی بات سنی کہ اس کے دل میں ہے کہ شیوا اس کی گانڈ تو مارے لیکن پہلے اس کی پھدی پر اپنے لنڈ سے رحم کرے، شیوا نے بھی اس کے دل کی بات مانتے ہوئے اپنے لنڈ پر جیل لگا دی اور نیلو کی پھدی پر بھی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موڈ ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page