Talash E Zeest-02-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 02

میرا نام راجہ ہے اور اس وقت میری عمر 19 سال ہے۔ جہاں اس وقت میں موجود تھا، وہ ایک جزیرہ تھا۔ اور اس جزیرے پر پھنسے ہوئے مجھے 7 سال ہو گئے تھے۔ میں 12 سال کا تھا جب مجھے یہاں اغوا کر کے لایا گیا تھا۔ 

میں تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ جزیرہ کون سا ہے اور کہاں پر ہے۔ ہندوستان میں ہے یا ہندوستان کے باہر۔ 

میں یہاں اکیلا نہیں تھا۔ میرے جیسے ہی تقریباً 1000 بچوں اور جوانوں کو اغوا کر کے لایا گیا تھا۔ سبھی سے یہاں پر جبری مشقت کروائی جاتی تھی۔ اور جو جبری مشقت کے لیے نہیں مانتا تھا، ہنٹر سے مار مار کر اس کا جسم ادھیڑ دیا جاتا تھا۔ کسی کے لیے کوئی آپشن ہی نہیں تھا۔ یہاں سے بچ کر نکل پانا ممکن ہی نہیں تھا۔

یہاں پہنچنے سے پہلے میری بھی ایک ماں تھی  جو کہ میری ماں نہیں تھی یعنی جس نے مجھے جنم نہیں دیا تھا۔

جی ہاں ۔۔وہ میری ماں نہیں تھی اور مجھے کیسے پتہ چلا  اصل میں  ماں کا ایکسڈنٹ ہوا تھا۔ کچھ درد مندوں نے ماں کی مدد کرتے ہوئے ایمبولینس کے لیے کال کر دی تھی۔ ماں کو کچھ ہوش آیا تو ماں نے بتایا کہ وہ کہاں رہتی ہے اور کس سے ملنا چاہتی ہے۔ اسی لیے میں ٹھیکیدار اور اپنے قبیلے کے کچھ لوگوں کے ساتھ ماں سے ملنے ہسپتال پہنچ گیا تھا۔

ماں میرے سامنے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہی تھی۔مجھے دیکھ کر ماں اپنی اٹکتی ہوئی سانسوں کے ساتھ مجھ سے بات کرنے کے لیے بولنے لگی۔

تب ڈاکٹر نے کہا: اس عورت کے پاس وقت کم ہے۔ یہ اس لڑکے سے بات کرنا چاہتی ہے، تو آپ سب براہ کرم باہر چلے جائیں۔ 

ٹھیکیدار اور باقی سب کو مجبوراً باہر جانا پڑا۔ 

ماں: راجہ بیٹا۔۔ (رک کر اپنی اٹکتی سانس پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے) راجہ بیٹا، تو م۔۔ میرا بیٹا نہیں ہے۔۔ 

اتنا بولتے ہی ماں کی سانس پھول گئی۔ میں یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ ماں ایسے کیوں بول رہی ہے۔ 

راجہ: ماں، تم ایسے کیوں بول رہی ہو؟ 

ماں: راجہ بیٹا، میرے پاس وقت نہیں ہے۔ تو کچھ مت بول، بس میری بات سن۔۔ 

اتنا بول کر ماں پھر رُک گئی اور اٹکتی ہوئی سانس لینے لگی۔ 

ماں: راجہ، کوئی تم کو۔۔ مجھے دے گ۔۔ گگگ۔۔ 

بس، ماں کا بولنا بند ہو گیا تھا۔ لیکن پھر بھی ماں کچھ اشارہ دے رہی تھی۔ وہ اپنے ہاتھ کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگی، لیکن اس کے ہاتھ بھی کام نہیں کر رہے تھے۔ ماں دکھ سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ انہیں اپنی بات پوری کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ ماں مجھے بتانا چاہتی تھی کہ میں ان کا بیٹا نہیں ہوں، میں کون ہوں، اور میری پہچان کیا ہے۔ 

چند ہی پلوں میں ماں کے چہرے پر موت کی زردی چھا گئی۔ ان کے مرتے ہوئے چہرے پر مجھے اپنے بارے میں سب نہ بتا پانے کا درد اور ایک آس بھی تھی کہ شاید میں ان کے اشارے کو سمجھ لوں۔ پتا نہیں ماں کس طرف اشارہ کر رہی تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ 

ماں بس اپنے سینے کو بستر سے اٹھائے، اپنی آخری اٹکی ہوئی سانس کے ساتھ مجھے ان گنت تاثرات کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔ 

میں ماں کا بیٹا نہیں تھا، لیکن انہوں نے میرے لیے اتنا کچھ کیا تھا کہ مجھے کبھی لگا ہی نہیں کہ یہ عورت میری ماں نہیں ہے۔ میں ان سے بہت پیار کرتا تھا، اور ماں بھی میرے لیے کچھ بھی کر جاتی تھی۔ 

ماں بھکاری تھی اور میری اصلی ماں بھی نہیں تھی، پھر بھی مجھ سے اتنا پیار۔۔ 

ماں اٹکی ہوئی سانس کے ساتھ نم آنکھوں سے مجھے درد، پیار، آس، دکھ، مجھ سے جدائی کا غم، اپنی موت کا درد، سینے میں اٹکی آخری سانس کی تکلیف۔۔ کیا بتاوں، ماں کی کیا حالت تھی۔۔ 

ماں اچانک ایک جھٹکے سے بستر پر گر گئی۔ ماں کی آخری اٹکی ہوئی سانس بھی ان کی روح کے ساتھ ہی نکل گئی۔ اور ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ 

جی ہاں میں پہلے بھکاری ماں کا بیٹا تھا۔  جب ماں نے مجھے بتایا کہ وہ میری ماں نہیں ہیں، اور بتانے کی کوشش کرتے ہوئے مجھے چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئی تھیں۔ 

اب مجھے کون بتائے گا کہ میں کون ہوں؟

لیکن ماں کا آخری وقت اور وہ جو مجھے بتانا چاہتی تھیں، مجھے ہر رات یاد آتا رہتا تھا۔ میری آنکھ ہی نہیں لگ رہی تھی۔ خود کو تلاش کرنا بھی ضروری تھا میرے لیے۔ لیکن پہلے میں دنیا سے اپنے جینے کا حق تو چھین لوں، جو مجھے جینے ہی نہیں دے رہے تھے۔ ایک دلدل سے نکلا تو دوسری دلدل میں جا کر پھنس گیا تھا۔

 ٭٭٭٭٭٭٭

میری آنکھوں کے سامنے ہی 100 سے زائد قیدی مارے جا چکے تھے۔ اور ان کی موت اتنی بھیانک ہوتی تھی کہ مرنے والے کی موت کا منظر دیکھ رہے سارے ہی قیدی ایسی موت کے تصور سے اپنے اندر کا سب کچھ الٹ کر باہر نکال دیتے تھے۔ 

یہاں کچھ ایسا تھا جو غیر قانونی طریقے سے کیا جا رہا تھا۔ کچھ خاص معدنیات کی مقدار یہاں پر پائی گئی تھیں۔ کچھ بڑے بڑے لوگوں نے اس جزیرے پر اپنا قبضہ جمایا ہوا تھا۔ جبراً بچوں اور جوانوں کو اٹھا کر یہاں لایا جاتا اور پھر ان سے مشقت کروائی جاتی تھی۔ 

1000 سے زائد قیدیوں میں ایک میں بھی تھا۔ میں 12 سال کی عمر میں ہی اپنی بستی سے بھاگ نکلا تھا۔ وہاں کی زندگی بھی میرے لیے کسی دلدل سے کم نہیں تھی۔ اسی لیے میں وہاں سے بھاگ نکلا تھا۔ لیکن بھاگ کر ان حرامزادوں کے چنگل میں پھنس گیا۔ 

یہ جزیرہ بھی میرے لیے دلدل سے کم نہیں تھا۔ پچھلے 7 سالوں سے میں سوچ رہا تھا کہ یہاں سے کیسے بھاگوں۔ لیکن بھاگنے کا کوئی بھی راستہ نہیں مل پا رہا تھا۔ 

اکثر جب کوئی سمندری جہاز آتا تو اس پر معدنیات لوڈ کرنے کے لیے ساحل دیکھنے کو مل جاتا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ کبھی بھی ہم سمندر کے پاس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ ہمیں ہمارے علاقے سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور رسک بھی کون لے؟ کیونکہ جس نے بھی یہ ایک غلطی  کی اُس کی روح پُررر سے جسم سے الگ ہو جاتی ۔ 

جب کبھی بھی ساحل پر جانا ہوتا، تو دور دور تک سمندر کے پانی کے سوا کچھ نہیں دکھتا تھا۔ بس بہت دور ایک اور جزیرہ نظر آتا تھا۔ میں اکثر سوچا کرتا کہ یہاں سے کسی طرح بھاگ نکلوں اور اس جزیرے پر جا پہنچوں۔ شاید مجھے میری منزل کہیں مل ہی جائے۔ 

ان سات سالوں میں میں کبھی بھی اس جزیرے کی زندگی کا عادی نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی کبھی میں ہنٹر کی مار کھانا چاہتا تھا۔ میں بس خاموش رہ کر ہر وقت یہاں سے بھاگ نکلنے کے بارے میں ہی سوچتا رہتا تھا۔ 

یہ جزیرہ 10 کلومیٹر چوڑا اور 20 کلومیٹر لمبا تھا۔ یہاں جزیرے کے دوسرے کنارے پر ایک بستی تھی۔ اس پورے جزیرے کا مالک ایک تھا یا کئی لوگ، میں نہیں جانتا تھا۔ ہاں، لیکن یہاں کے پورے جزیرے پر انہی کی حکومت تھی۔ 

سامنے سمندر تھا۔ بستی کی طرف اگر جائیں تو ایک بھیانک جنگل سے گزرنا پڑتا تھا۔ جنگل سے بھاگ نکلنا آسان نہیں تھا۔ کئی قیدیوں نے اس جنگل سے ہو کر بھاگنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ بچ نہ سکے۔ ایک تو جنگل کئی کلومیٹر تک پھیلا ہوا تھا، جہاں کئی طرح کے جانور اور دوسرے خطرات بھی تھے۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page