Talash E Zeest-16-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 16

میں دھیرے دھیرے چلتا ہوا صحرا کو پار کرنے لگا۔ صحرا کچھ کچھ دھوپ کی وجہ سے گرم تھا۔ شاید دھوپ کم ہونے کی وجہ سے کم گرم تھا، ورنہ دھوپ میں اسے پار کرنا آسان نہیں تھا۔ ریت تو دھوپ میں آگ بن جاتی ہے۔ میں نے چلنے سے پہلے رانی کے پاس سے چاقو اٹھا لیا تھا۔ وہاں ضرورت پڑ سکتی تھی۔ 

جیسے ہی میں کچھ ساحل کے قریب پہنچا تو مجھے ناریل کا پیڑ دکھا۔ مجھے اپنی نظروں پر شک ہوا تو میں نے اپنی آنکھیں بند کر کے اچھے سے کھول کر دیکھا۔ 

اور پھر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میرے اندر جوش بڑھ گیا اور میری حالت پاگلوں کے جیسے ہونے لگی۔ میری سپیڈ کم تھی انرجی کی وجہ سے، لیکن میرا دل  میرے پیروں سے کہیں تیز بھاگ رہا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں ایک جمپ لگاؤں اور پیڑ تک جا پہنچوں۔ 

لیکن ٹائم لگ رہا تھا۔ وہاں پہنچنے میں بھی ٹائم لگ رہا تھا۔ جہاں میری انرجی مجھے دکھی تھی، مجھے یہ دیکھ کر ہی ہنسی آنے لگی کہ میں اپنی خوراک تک بھی آسانی سے نہیں پہنچ پا رہا تھا۔ کتنی محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ خود کو کھانے کے لائق بنانے کے لیے بھی۔ کھانے پینے کی قدر بھی ایسے ہی مواقع پر ہوتی ہے۔ 

اب تو بس ایک ہی دعا تھی کہ کوئی ناریل نیچے گرا ہوا مجھے مل جائے۔ جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا تھا، میرے چلنے کی سپیڈ بڑھنے لگی تھی۔ اور مجھے اپنے گلے میں کانٹے محسوس ہونے لگے تھے۔ پہلے کچھ کچھ نارمل تھا، کیونکہ آس پاس کچھ بھی پینے کے لائق نہیں ملا تھا، تو صبر کر لیا تھا۔ لیکن اب جب سامنے ناریل کا پیڑ دکھا تو پیاس خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ اور گلا اور بھی سوکھنے لگا۔ جس وجہ سے گلا درد کرنے لگا۔ دو منٹ میں ہی میری حالت خراب ہونے لگی تھی۔ 

پانچ منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں بھی مجھے پندرہ منٹ لگ گئے تھے۔ وہ بھی آخر میں سپیڈ بڑھنے کے باوجود۔ جیسے ہی میں اس پیڑ سے بیس میٹر کی دوری پر پہنچا تو مجھے نیچے گرے ہوئے کچھ ناریل دکھے۔ اور بس پھر مجھ سے نہیں رہا گیا اور میرے اندر پتا نہیں کہاں سے اتنی طاقت آئی کہ میں کسی حد تک بھاگ کر ناریل کے ڈھیر تک جا پہنچا۔ 

میں ناریل کے ڈھیر کے پاس جا کر گر گیا اور خود کی سانس کو بحال کرنے لگا۔ سورج چھپ چکا تھا اور بیس منٹ کے بعد اندھیرا ہونا شروع ہو جانا تھا۔ 

میرے پیچھے اندھیرے میں سب ہی خطرے میں تھے۔ میں نے چاقو کو ایک ناریل پر مارا، لیکن طاقت کم تھی تو ناریل کو فرق نہیں پڑا۔ 

میں نے ایک ہاتھ کو نیچے زمین پر دبایا، سہارا مل سکے اس لیے۔ اور پھر اپنی طاقت کو اکٹھا کرتے ہوئے زور سے چاقو کو ایک ناریل پر دے مارا۔ چاقو ناریل کے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گیا۔ 

میں نے چاقو کو ناریل سمیت اٹھایا یہ دیکھنے کے لیے کہ کہیں چاقو لگنے سے ناریل کے اندر کا پانی تو نہیں ٹپک رہا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ 

میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور ناریل کو قابو میں کرتے ہوئے چاقو کو باہر کھینچنے لگا۔ چاقو آگے سے کم چوڑا تھا تو چاقو کے تھوڑا سا باہر نکلتے ہی میں نے ایک جھٹکے میں چاقو کو باہر نکالا اور پھر اپنی پیاس بجھانے کے لیے ناریل کو اپنے منہ سے لگا کر اپنی زندگی کو بچانے لگا۔ 

یہ ناریل میری زندگی ہی تو تھا۔ اس ناریل نے میری زندگی بچا لی تھی۔ اور اب یہی ناریل میرے دوستوں کو بھی زندگی بچائے گا۔ 

میں نے ایک ناریل کا سارا پانی پینے کے بعد اس کے ٹکڑے کر کے کھانے لگا۔ مجھے اپنے دوستوں کی یاد نہیں رہی تھی۔ میں بس اپنے پیٹ کو بھرنے لگا۔ اور جیسے جیسے میرا پیٹ بھر رہا تھا، مجھے نشہ سا ہونے لگا اور میرا دل کیا کہ میں یہیں پر سو جاؤں۔ اور پھر میں نیچے لیٹ گیا سونے کے لیے۔ 

میری آنکھیں بند ہونے لگیں تھیں اور میری نظر اوپر آسمان پر تھی۔ اندھیرا چھانے لگا تھا۔ میں اوپر آسمان کو دیکھ کر اوپر والے کا شکریہ ادا کرنے لگا۔ 

میری آنکھیں ناریل کا پانی اور ناریل کو کھانے کی وجہ سے بند ہونے لگیں۔ بھوک اور پیاس کے ختم ہوتے ہی ایک سرور سا چھانے لگا تھا۔ 

آج ایک لمبے عرصے کے بعد مجھے ایک پر سکون نیند آ رہی تھی۔ اور میرا دل بھی مچل رہا تھا ایک پر سکون نیند کے لیے۔ اور ویسے بھی مجھے  ایک اچھی نیندکی ضرورت تھی۔ اور ویسے بھی میرا میری نیند پر کنٹرول بھی کھونے لگا تھا۔ دھیرے دھیرے میری آنکھیں بند ہونا شروع ہو گئیں۔ 

(یہ اپ قسط نمبر ٍ میں پڑھ چکے ہیں لیکن یہاں پر اس کو کہانی کے تسلسل کے لیئے لکھ رہاہوں)

کہتے ہیں کہ جن کے لیے دل میں جگہ بن جائے، ان کی یاد مرتے دم تک نہیں بھولتی۔ میں تو ابھی مرا نہیں تھا۔ صرف بھوک کے ختم ہونے سےاور اب کھانا مل جانے  کی وجہ سے نیند آ رہی تھی۔ لیکن پھراچانک سے مجھے اپنے دوستوں کی یاد آنے لگی۔

 اوہ! شِٹ! 

میں اپنے پیٹ کے چکر میں تینوں کو ہی بھول گیا تھا۔ میں ایک جھٹکے میں اٹھا۔ اب مجھ میں دم آ گیا تھا۔ مجھے تو بس تھوڑی سی ہی انرجی چاہیے تھی، ورنہ دم تو مجھ میں بہت تھا۔ 

میں نے تین ناریل اپنے ہاتھوں میں سمیٹے اور چاقو اٹھا کر اپنے دوستوں کی طرف بھاگنے لگا۔ اب مجھے اتنی پروبلم نہیں تھی۔ 

درد تھا، اور وہ بھی بہت زیادہ۔ 

ہاتھوں میں جلن تھی، وہ بھی زیادہ۔ 

لیکن میرا درد، میری تکلیف، میرے دوستوں کی زندگی سے بڑھ کر نہیں تھی۔ میں تین منٹ میں ہی وہاں پہنچ گیا اور جلدی سے ایک ناریل پر چاقو مار کے نکالا اور رانی کا منہ کھول کر رانی کو ناریل کا پانی پلانے لگا۔ 

تھوڑا سا ہی پانی رانی کے منہ میں گیا تھا کہ رانی کی آنکھ کھل گئی۔ اور پھر جیسے ہی رانی کو اپنے ہونٹوں پر اور منہ کے اندر ناریل کے پانی کا ذائقہ فیل ہوا تو رانی ایک جھٹکے میں اٹھی اور مجھ سے ناریل چھین کر اپنے منہ کو لگایا اور اس کا پانی پینے لگی۔ 

رانی نے ایک جھٹکے میں ہی ناریل کا سارا پانی پی لیا اور میری طرف دیکھنے لگی، جیسے کہہ رہی ہو کہ ایک اور دو پلیز، ایک سے میرا کام نہیں ہوگا۔ 

راجہ: فی الحال ایک سے کام چلاؤ اور ظہیر اور سنجے کی فکر کرو۔ ہم جنگل میں ہیں اور ہمیں جلدی ہی یہاں سے نکلنا ہے۔ یہاں کوئی جنگلی جانور نہیں دکھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سیف ہیں۔ کچھ بھی خطرہ ہو سکتا ہے یہاں پر۔ 

اتنا بول کے میں نے رانی کو ناریل کاٹ کر دیا۔ رانی نے ناریل کے ٹکڑے ہوتے ہی اپنے جھپٹے میں لے کر کھانا شروع کر دیے۔ میں نے ایک ناریل کا پانی سنجے کے منہ کو تھوڑا سا کھول کر پلایا۔ سنجے کو ہوش نہیں تھا، لیکن پانی اس کے اندر جا چکا تھا۔ اب سنجے کے لیے خطرہ کم تھا۔ رانی کے ناریل ختم ہونے تک اندھیرا ہو چکا تھا۔ 

راجہ: رانا، چلو ظہیر اور سنجے کو اٹھانے میں میری مدد کرو۔ 

رانی میں انرجی آ گئی تھی۔ اور اب وہ گھوڑے جیسی ہو گئی تھی (سوری، گھوڑی جیسی ہو گئی تھی)۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page