Talash E Zeest-18-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 18

راجہ: بس بس، کچھ زیادہ ہی بول رہے ہو۔ لیکن یہ تو بتاؤ کہ تم اتنا سنبھل کیسے گئے؟ اور اچانک سے اتنی طاقت کہاں سے آ گئی تم میں؟ 

سنجے میری بات سن کر مسکرایا اورکہا 

سنجے: تم نے جو ناریل رکھے ہوئے تھے، جتنا مجھ سے ہوا، میں نے ان کا پانی پیا اور باقی کے کھا لیے۔ اب مجھے درد تو ہے، لیکن کچھ طاقت بھی مل گئی ہے۔ اور زندہ رہنے کی آس بھی بڑھنے لگی ہے تو طاقت تو پھر ملے گی ہی۔ 

راجہ: سنجے، ہم تو بچ گئے ہیں، لیکن ہمارا دوست ظہیر۔۔ اس کے بچنے کے چانس بہت ہی کم ہیں۔ تم نے دیکھا تو ہوگا ہی ظہیر کو۔ 

سنجے: (اداس ہوتے ہوئے) ہاں راجہ، میں نے ظہیر کی حالت دیکھی ہے۔ اس کی حالت سچ میں ہی بہت خراب ہے۔ لیکن اسے ہوا کیا ہے؟ 

سنجے تب بیہوش تھا، اس لیے کچھ جان نہ پایا۔ پھر میں سنجے کو سب بتانے لگا۔ ہم باتیں کرتے ہوئے ظہیر کے پاس پہنچ گئے تھے۔ جب میری ساری بات ختم ہوئی تو سنجے بولا 

سنجے: یہ تو ظہیر کے ساتھ بہت ہی برا ہوا۔ 

راجہ: ہاں سنجے، ظہیر کے چیخنے کی آواز ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔ بڑی درد بھری آواز میں وہ اپنی ماں، اپنی بہن اور اپنے پاپا کو یاد کر رہا تھا۔ 

سنجے: مجھے پتا ہے، اس نے مجھے سب بتایا ہوا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ ایک چھوٹی بہن ہے ظہیر کی اور سب ہی ایک دوسرے سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔ لیکن بیچارہ ظہیر ان سے الگ ہو گیا۔ 

راجہ: سنجے، ظہیر کے لیے کچھ کیا جا سکتا ہے؟ 

سنجے: راجہ، ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ظہیر کا معاملہ ہی دوسرا ہے۔ دلدل کے کیمیکل والے کیچڑ سے ظہیر کو کیسے بچا سکتے ہیں؟ ہمیں تو اس بارے کوئی بھی نالج نہیں ہے۔ 

راجہ: چلو تو پھر پہلے ظہیر کو سمندر کے پانی سے نہلا کر صاف کرتے ہیں۔ شاید کچھ فرق پڑے۔ چہرہ تو اس کا خراب ہو ہی چکا ہے اور اس کی آنکھیں تو میرے خیال سے ختم ہی ہو گئی ہوں گی۔ جب دلدل کے کیچڑ نے اس کا سارا چہرہ ہی بگاڑ دیا ہے، تو پھر اس کی آنکھیں کیسے سلامت رہ سکتی ہیں؟ 

سنجے: ہاں راجہ، یہ تو ہے۔ 

اس کے بعد سنجے اور میں نے ظہیر کو سمندر کے پانی سے نہلا دیا۔ اب ظہیر باہر سے دلدل کے کیچڑ سے بچ گیا تھا۔ اور اب دھوپ بھی ظہیر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی۔ 

پھر مجھے یاد آیا کہ رانی کو بھی نہانے کی ضرورت ہے اور کل صبح ہوتے ہی رانی کو دھوپ کی وجہ سے سوجن شروع ہو جائے گی۔ 

میں سوچنے لگا کہ مجھے سنجے کو بتانا چاہیے کہ نہیں۔ لیکن پھر یاد آیا کہ رانی نے مجھے کتنا چوما تھا۔ میرے خیال سے وہ صبح خود ہی مجھے بتا دے گی کہ وہ لڑکا نہیں، لڑکی ہے۔ یہ سوچتے ہی میں نے سنجے کو بتا دیا کہ وہ رانا نہیں، رانی ہے۔ 

سنجے بیٹھا بیٹھا اچھل پڑا۔ 

سنجے: کیا؟؟؟ راجہ، کیا۔۔ تم سچ کہہ رہے ہو؟ 

راجہ: ہاں سنجے، وہ لڑکی ہی ہے۔ پتا نہیں کیوں وہ بھی قیدیوں کے بیچ میں رہ رہی تھی۔ خیر، چھوڑو، ہوگی کوئی وجہ۔ صبح اس سے پوچھ لیں گے۔ اگر وہ خود ہی بتا دے تو ٹھیک ہے۔ 

سنجے: ہاں ٹھیک ہے۔ جیسے اس کا دل کرے۔ لیکن راجہ، یار، اس لڑکی میں اتنی ہمت کیسے آ گئی کہ ہمارے ساتھ ہی بھاگ نکلی اور پھر دیکھو، ظہیر کے ساتھ ساتھ میں بھی ایکسپائر ہو گیا تھا۔ لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔ 

سنجے کی بات سن کر میں مسکرا دیا۔ 

راجہ: سنجے، تم اس کی ہمت کی بات نہ کرو۔ ہم سب کی طرح ہی وہ بھی زندہ رہنا چاہتی ہے اور زندہ رہنے کے لیے ہمت کرنی ہی پڑتی ہے۔ اور جس طرح سے اس نے ہمت کی ہے، یار سنجے، اس کی ہمت دیکھ کر وہ میرے دل میں اترنے لگی ہے۔ اب اس کے ساتھ ہر پل رہوں، یہی اندر سے آواز آتی ہے کہ کبھی مجھ سے دور نہ رہے۔ خیر، چھوڑو، میں اسے نہلانے والا ہوں۔ تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہے نہ؟ 

سنجے: (ہنستا ہوا) مجھے کیا پریشانی ہوگی؟ اب تم خود ہی بول رہے ہو کہ تمہارے دل میں وہ اترنے لگی ہے، تو اب وہ تمہاری آئٹم بن گئی ہے۔ میں کیوں بیچ میں بولوں؟ 

سنجے کی بات سے میں بھی ہنس پڑا اور پھر میں نے رانی کو نہلانے کا ارادہ بنایا۔ سنجے ظہیر کے پاس ہی لیٹ گیا اور میں رانی کے پاس جا کر اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور سمندر کی طرف جانے لگا۔ 

رانی کو اٹھائے ہوئے چلنے سے میرا لنڈ ہوا میں ہی جھولنے لگا تھا۔ وہ پھر سے اپنے ہونے کا اظہار کرنے لگا تھا۔ رانی نیند میں تھی اور چاند کی روشنی میں وہ مجھے اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن یہ لنڈ کیوں کھڑا ہو رہا ہے؟ شاید جوان ہونے کے بعد پہلی بار کسی لڑکی کو دیکھتے ہی ناچنے لگا تھا۔ میں رانی کو اٹھائے ہوئے ہی سمندر میں اتر گیا۔ 

رانی پانی میں جاتے ہی نیند سے باہر آنے لگی۔ اور پھر جیسے ہی اس نے خود کو میری بانہوں میں دیکھا تو دیکھتے ہی وہ حیران ہوئی۔ لیکن اگلے ہی پل جیسے ہی اسے احساس ہوا کہ وہ میری بانہوں میں ہے، اور وہ بھی بیچ سمندر میں، توبولی 

رانی: راجہ، تم نے مجھے کیوں اٹھایا ہوا ہے؟ اور یہاں سمندر میں کیوں لے کر آئے ہو؟ 

رانی نے مجھے اپنی بانہوں میں اٹھائے جانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ 

راجہ: تمہارے جسم پر بھی دھوپ کی وجہ سے سوجن ہونے لگی تھی۔ تو سوچا کہ صبح نیند لیٹ کھلنے کی وجہ سے کہیں دھوپ کے لگنے سے تمہیں پھر سے سوجن نہ شروع ہو جائے۔ اس لیے میں نے سوچا کہ تمہیں بھی نہلا دوں۔ لیکن تمہیں دلدل کا پانی چھو کیسے گیا؟ 

رانی: راجہ، وہ جب تم دلدل کے پاس ظہیر اور سنجے کو اٹھا رہے تھے، تو تم نے غور نہیں کیا تھا۔ لیکن ظہیر کو اوپر اٹھانے میں بھی میں نے تمہاری سپورٹ کی تھی۔ اور پھر ظہیر کو پکڑنا بھی ضروری ہو گیا تھا، ورنہ تمہارے لیے دونوں کو اٹھانا ممکن نہیں تھا۔ تم تو آنکھیں بند کر کے اپنی ہمت کو اکٹھا کر رہے تھے۔ اس لیے تم صحیح سے دیکھ نہ سکے۔ 

راجہ: چلو ٹھیک ہے۔ اب نہانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ 

نہانے کی بات پر رانی ایک دم سے شرما گئی، لیکن پھر کچھ یاد آتے ہی بولی 

رانی: راجہ، ایک بات کہوں؟ 

رانی اور میں ایک دوسرے کی ہی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ رانی وہی بتانے والی تھی جو میں سوچ رہا تھا۔ وہ خود کو ایکسپوز کرنے والی تھی، لیکن رانی کے بتانے سے پہلے ہی میں بول پڑا۔ 

راجہ: تم میری بانہوں میں ہو اور مجھے پتا بھی نہیں چلے گا کہ تمہاری اصلیت کیا ہے؟ وہ تو مجھے ظہیر کو دلدل سے نکالتے ہوئے ہی پتا چل گیا تھا، جب تم میرے سینے سے ٹکراتے ہوئے مجھ میں سما گئی تھی۔ 

رانی میری بات سن کر اور بھی شرما گئی۔ رانی کی آنکھیں جھک گئیں۔ لیکن پھر وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔ 

رانی: راجہ، تو پھر تم نے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں؟ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page