Talash E Zeest-21-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 21

رانی کے بوبز بڑے تھے یا چھوٹے، مجھے صحیح سے پتا نہیں چل رہا تھا۔ اب رینو میری تھی اور میں رینو کا۔ تو پھر میرا آگے بڑھنا تو بنتا ہی تھا۔   مجھے سیکس کا کوئی ایکسپیریئنس نہیں تھا۔ بس میرا دل جو بول رہا تھا، میں وہی کرتا جا رہا تھا۔ رانی میرے گلے لگے ہوئے ہی تیز سانس لے رہی تھی۔ اور میں رینو کے بوبز کو ٹٹول رہا تھا۔ 

راجہ: رینو، کیا میں اسے کھول دو؟ 

میں نے رینو کے بوبز پر بندھے ہوئے کپڑے کو تھوڑا سا کھینچ کر رینو سے پوچھا۔ 

رانی: ہوں۔۔ 

رانی بس اتنا ہی بول پائی۔ یعنی رینو کی طرف سے مجھے کچھ بھی کرنے کی اجازت تھی۔ پتا نہیں رینو نے کتنے سال سے اپنے بوبز کو اسی طرح باندھ رکھا تھا۔ میں نے رینو کے بوبز کو آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ 

راجہ: رینو، باہر چل کر تم اپنے کپڑے اتار آؤ۔ پھر نہا لینا۔ تمہارے اترے ہوئے کپڑے یہاں کہیں پانی میں گم نہ ہو جائیں۔ 

رانی: (میرے گال کو چوم کے) ٹھیک ہے۔ 

رانی شرما بھی رہی تھی اور اپنے دل کی بھی ساری حسرتیں پوری کر رہی تھی۔ عجیب تھا سب کچھ۔ ایک ہی دن میں ہمارا سب کچھ بدل گیا تھا۔ زندگی میں ایک نیا اور عجیب سا موڑ آ گیا تھا۔ لیکن جو بھی تھا، اتنا دل کش تھا کہ اب رینو کے سوا دنیا ہی مجھے پھیکی سی لگنے لگے گی۔ 

رانی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ رینو ہے تو سب ہے۔ رینو کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے تو میں کروں گا۔ 

رانی نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانی سے باہر چلنے لگی۔ اب تک ہمیں پانی میں آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا۔ اور رینو ابھی تک نہائی نہیں تھی۔ اور نہ ہی میرا لنڈ ابھی تک نیچے جھکا تھا۔ 

رانی مجھے میرے ہاتھ سے پکڑے ہوئے باہر لے گئی۔ 

میں نے دیکھا تو سنجے پھر سے سو گیا تھا۔ پہلی کی نیند بیہوشی کی تھی، اور ناامیدی کی تھی۔ سنجے کی اب کی نیند اس کی من مرضی کی تھی اور ایک زندگی کا احساس دلانے والی امید کی بھی تھی۔ 

سنجے خود کو یقیناً اپنے گھر میں ہی محسوس کر رہا ہوگا۔ جب بندہ ایک مصیبت سے نکلتا ہے، تو اسے لگنے لگتا ہے کہ اب وہ جلد ہی گھر پہنچ جائے گا۔ اور پھر خود اپنے خیالات  میں جا پہنچتا ہے کہ گھر جا کے وہ کیا کہے گا سب سے، اور کیا کیا کرے گا۔ اب تک جو بھی اپنی لائف میں ادھورا چھوڑ چکا تھا، اس سب کے بارے میں سوچتے  ہوئے وہ سب ایڈوانس میں ہی کرنے لگتا ہے۔ 

اور سنجے بھی ضرور خود کے گھر میں ہوگا اور ان سب سے مل کے رو بھی رہا ہوگا اور کہہ رہا ہوگا۔۔ 

“ماں، پاپا، چھوٹی، چھوٹو، میں نے آپ سب کو بہت بہت مس کیا تھا۔” 

چھوٹی بہن سے کہے گا۔۔ 

“چھوٹی، تم میری جان ہو اور میں صرف تمہاری ہی وجہ سے اتنے مشکل اور خطرناک جنگل سے پھر سمندر کو چیرتے ہوئے گزر کر آیا ہوں۔ تو میری چھوٹی بہن نہیں، تو میری جان ہے۔ اور اپنی چھوٹی بہن کے لیے میں ایک سمندر تو کیا، مجھے پوری دنیا کے سمندر بھی اگر چیر کے پار کرنے پڑے تو میں کروں گا۔ لیکن اپنی چھوٹی سی پیاری سی جان سے دور نہیں رہوں گا۔” 

رانی میرے ہاتھ کو تھام کر مجھے ہی دیکھ رہی تھی اور میں سنجے کے خیالات کے تصورات  کو یاد کرتے ہوئے خود ہی سنجے کی سوچ  میں جا گھسا تھا۔ 

میں کچھ کچھ ایمووشنل بھی ہو گیا تھا۔ کیوں نہ ہوتا؟ میں ایک لاوارث جو تھا۔ میرا کوئی نہیں تھا اس پوری دنیا میں۔ ماں کچھ بھی بتائے بغیر ہی مر گئی تھی۔ ماں بھکاری ہی سہی، لیکن اس ماں کے ناتے میرا ایک تعلق تھا۔ چاہے وہ بھکاریوں کا ہی سہی، لیکن تھا تو سہی۔ 

اب ماں مر گئی اور مجھے لاوارث بتا کر اس دنیا سے چلی گئی۔ اب کون مجھے بتائے گا کہ میں اس دنیا میں کس ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہوں؟ کیا وہ بھی میرے لیے اتنا ہی تڑپ رہی ہوگی، جتنا میں خود کو ڈھونڈنے کے لیے تڑپ رہا ہوں؟ مجھے ماں نے بتا کر اچھا بھی کیا تھا اور مجھ پر ظلم بھی کیا تھا۔ اگر بتانا ہی تھا تو پہلے ہی بتا دیتی۔ مجھے بیچ منجدھار میں کیوں چھوڑ گئی تھی؟ 

میرا لنڈ بیٹھا یا نہیں، مجھے نہیں پتا، لیکن میرے گال میری آنکھ سے بہنے والے پانی سے تر ہونے لگے۔ 

مجھے یہ بھی نہیں پتا چلا کہ میں اس وقت رینو کی بانہوں میں ہوں۔ رینو نے مجھے درد میں دیکھ کر اپنے گلے میں سما لیا تھا۔ 

ماں نہیں تھی۔ میں ایک لاوارث ہی سہی۔ لیکن قدرت نے میری زندگی میں رینو کو بھیج دیا تھا۔ رینو کے لیے میری فیلنگ ایسی بدلی تھیں کہ میں حیران تو تھا۔ 

قدرت نے رینو کو میری زندگی میں بھیج کر میرے درد کو کم بھی کر دیا تھا۔ رینو کی بانہوں میں مجھے میرا درد کم ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ 

اگر آپ سب یہ دیکھ کر سوچ میں پڑ گئے ہیں کہ اتنا مضبوط ہو کر بھی رو رہا ہے، اتنی ہمت کر کے بھی جنگل کا بھیانک سفر کر کے خود کی اور اپنے دوستوں کی زندگی کو بچایا ہے، تو مجھ میں اتنا دم تو ہونا ہی چاہیے کہ میں خود کو رونے سے روک سکوں۔۔ 

نہیں، میں اتنی بھی ہمت نہیں رکھتا جتنی آپ سوچ رہے ہیں۔ کچھ درد ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں برداشتا آسان نہیں ہوتا۔ اور ویسے بھی یہ میرے وہ جذبات تھے جو شاید میرے ادھورے رہ جانے سے جنم لے چکے تھے۔ اگر ماں مجھے مرنے سے پہلے یہ نہ بتاتی کہ میں ایک لاوارث ہوں، تو شاید میں آج نہ روتا۔ 

خود کا درد اور خود سے جڑے ہوؤں کا درد اکثر برداشت نہیں ہوتا۔ یہاں میں سنجے کو سوچتا ہوا سنجے جیسے ہی ماحول میں جا پہنچا تھا۔ ظہیر اور سنجے کی فیملی تھی، تو میری کوئی بھی فیملی نہیں تھی۔ میرا اس طرح جذبات میں بہنا تو پھر بنتا ہی ہے نا؟ 

لیکن رینو کے مجھے خود میں سما لینے سے مجھے میرا ادھورا پن ختم ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ مجھے بھی لگنے لگا کہ میں ایک لاوارث ہی سہی، پر اوپر والے نے رینو میرے نصیب میں لکھ کر مجھے میرے درد سے نجات دینے کا جگاڑ کر دیا تھا۔ 

اب آپ یہ نہ سوچیں کہ رینو میرے نصیب میں ہے یا نہیں۔ اوپر والے کا ایک اشارہ ہی کافی ہوتا ہے سب سمجھنے کے لیے، اور میرے دل نے مجھے کہہ دیا تھا کہ رینو میرے لیے اوپر والے نے لکھ دی ہے۔ اور اب میں رینو کو خود سے کبھی بھی جدا نہیں کروں گا۔ 

میں نے کہا تھا کہ رینو ہے تو میں ہوں۔ رینو نہیں تو میں بھی نہیں۔ رینو کے ساتھ  اب مجھے یہی آئی لینڈ ایک جنت جیسا دکھنے لگا تھا۔ اور میں اپنی زندگی کے انہی لمحوں کو اپنے پورے اندر من سے جی رہا تھا۔ تھوڑے سے ہی وقت میں مجھے رینو سے ایسا لگاؤ ہو گیا تھا کہ رینو میرے لیے کسی جنت کی پری سے کم نہیں رہ گئی تھی۔ 

کیسا سسٹم ہے یہ کہ میں ایک بھیڑیے جیسے حلیے والا اور رینو خود اپنے بوبز کو میرے سینے میں دبائے ہوئے کٹے بالوں کے ساتھ، کہیں سے بھی ایک حسین لڑکی نہیں دکھ رہی تھی۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page