Talash E Zeest-23-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 23

میں نے رینو کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے رینو کی شلوار پر اپنے ہاتھ رکھے، تو رینو کو ایک جھٹکا لگا۔ رینو سییییییی کرتی رہی، لیکن رینو نے میری آنکھوں سے اپنی آنکھیں نہیں ہٹائیں۔ 

رینو کی شلوار کی ڈوری کچھ زیادہ ہی مجھے کسی ہوئی لگی۔ میں نے اپنی کوشش کی، لیکن نہیں کھل پا رہی تھی۔ 

رینو اپنی شلوار کی ڈوری نہ کھل پانے کی وجہ سے اور بھی شرمانے لگی۔ اس کی آنکھوں نے رنگ بدلنا شروع کیا یا نہیں، یہ تو چاند کی روشنی میں نہیں دکھا، لیکن رینو کی آنکھوں میں جو چمک تھی، اس نے رنگ ضرور بدل لیا تھا۔  رینو کی شلوار کی ڈوری دیکھے بغیر نہیں کھلنے والی تھی۔ 

راجہ: رینو، یہ کھل نہیں رہی ہے۔ 

رینو: (شرما کر) مجھے نہیں پتا۔ 

راجہ: اپنے ہاتھ ہٹاؤ، میں دیکھ کر کھولتا ہوں۔ 

رینو کچھ بولی نہیں، بس شرماتے ہوئے میرے کندھے پر رکھے اپنے دونوں ہاتھ ہٹا دیے۔ رینو کے ہاتھ ہٹا دینے سے مجھے رینو کے بوبز دکھنے لگے۔ اتنے چھوٹے بھی نہیں تھے۔ اچھے خاصے بڑے بڑے تھے۔ لمبے عرصے تک قید رہنے کے باوجود بھی ان کے قد کاٹھ میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ جیسے رینو کی چوت کے بال بڑھے تھے، ویسے ہی رینو کے بوبز نے بھی اپنا رنگ دکھایا تھا۔ رینو مجھے اپنے بوبز کو گھورتا دیکھ کر اور بھی شرمانے لگی۔ 

میں نے ایک بار رینو کی آنکھوں میں دیکھا، لیکن رینو مجھے نہ دیکھ کر سائیڈ میں اپنا چہرہ کیے ہوئے ہی شرما رہی تھی۔ 

میں نے رینو کو کچھ کہنا صحیح نہیں سمجھا اور نیچے بیٹھ کر رینو کی شلوار کی ڈوری کو کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ لگتا ہے کوئی گانٹھ پڑ گئی ہوگی، اسی لیے نہیں کھل پا رہی تھی۔   میں نے اپنے ہاتھوں کو اچھے سے ٹٹول کر ڈوری کی گانٹھ کو فییل کیا۔ روشنی کم تھی تو میں نے ہاتھوں سے جج کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں مجھے وہ مل گئی اور پھر میں نے اسے کھول کر رینو کی بالوں میں چھپی ہوئی چوت کو ہوا دینے کے لیے رینو کی شلوار کو نیچے سرکانا شروع کر دیا۔ 

رینو کے ہاتھ اچانک سے ہی میرے سر پر آئے، اور میرے سر کے بالوں کو رینو نے سختی سے پکڑ لیا۔ رینو اپنی لائف میں آج پہلی بار کسی کے سامنے ننگی ہو رہی تھی۔ رینو مارے شرم کے زمین میں نہیں، ساحل کی ریت میں گڑھے جا رہی تھی۔ 

رینو کے ہاتھوں کی میرے سر کے بالوں پر سختی سے میرے ہونٹوں پر مسکان آئی اور میں نے ننگی ہو چکی رینو کے پیروں کو اس کے گھٹنوں سے پکڑا اور پھر اپنے ہاتھوں کو رینو کی ٹانگوں پر چلتے ہوئے اوپر لے جانے لگا۔ 

یہ سب میں شرارت سے کر رہا تھا۔ اور جیسے جیسے میرے ہاتھ اوپر جا رہے تھے، رینو کے میرے سر کے بالوں پر سختی بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اور رینو آنے والے وقت میں کھوئی ہوئی کانپنے لگی تھی۔ 

اندھیری رات اور بالوں میں چھپی ہوئی ہونے کی وجہ سے رینو کی چوت گیلی ہوئی یا نہیں، مجھے نہیں پتا۔ لیکن رینو کے بدن کی کپکپاہٹ بہت بڑھ گئی تھی۔ 

میرے ہاتھ رینو کی جانگھوں تک پہنچے تو میں نے بیٹھے ہوئے ہی اپنا سر اٹھا کر رینو کو دیکھا تو رینو اپنی آنکھیں بند کیے ہوئے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔   میں کھڑا ہوا اور پھر میں نے رات بہت بیت چکی ہونے کی وجہ سے جلدی سے رینو کو اپنی گود میں اٹھایا اور پانی میں جانے لگا۔   رینو کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں اور وہ دھیرے دھیرے لمبی سانس لے رہی تھی، جیسے اس پل کو اپنے اندر محفوظ کر لینا چاہتی ہو۔ 

میں رینو کو وہیں لے کر گیا، جہاں تک رینو کو ڈر نہیں لگتا تھا۔ اور پھر رینو کو لیے ہوئے ہی نیچے بیٹھ گیا۔ رینو نے اپنی آنکھیں نہیں کھولیں۔ میں پانی میں بیٹھا تو میرا سر ہی باہر تھا اور رینو کا بھی سر میں نے پانی سے باہر ہی رکھا۔ سمندر کا ٹھنڈا پانی اپنے بدن پر محسوس کرتے ہی رینو نے ایک بار مجھے دیکھا، اور پھر آنکھیں بند کر دیں۔ یہ رینو کی طرف سے ایک سگنل تھا کہ میں رینو کو نہلانے میں اس کی مدد کروں۔   جب رینو پوری ننگی ہی میری بانہوں میں تھی، تو اسے میرے نہلائے جانے سے کیا پریشانی ہو سکتی تھی؟ 

رینو نے اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈال دیں اور میرے دونوں ہی ہاتھ فری ہو گئے۔ اور پھر میں نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے رینو کے بدن کو رگڑنا شروع کر دیا۔ میرا لنڈ رینو کے چوتڑوں میں دبا ہوا تھا۔ وہ پہلے کی ہی طرح سے فل جو بن پر تھا۔ لیکن نہ ہی میں نے اس پر دھیان دیا اور نہ ہی رینو نے میرے لنڈ کے کھڑا رہنے سے کسی قسم کی پریشانی کا اظہار کیا۔ 

میرے رینو کے بدن کو رگڑنے سے رینو کے بدن میں گرمی بڑھنے لگی تھی۔ لیکن بے چینی نہیں بڑھی۔ میری ہی طرح سے رینو نے بھی اپنی فیلنگز کو اپنے دل سے جوڑا ہوا تھا۔ ابھی میرا لنڈ کھڑا تھا اور رینو کی چوت نے ٹپکنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن نجانے یہ کیسا خود پر کنٹرول تھا کہ ہم دونوں ہی آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ ہم جانتے نہیں تھے۔ جھجک تھی، یا کچھ اور، لیکن ہم اپنے دل کی باتوں کو مان کر ایک دوسرے میں گم تھے۔ 

رینو کے سر اور چوت کے بالوں کو میں اچھے سے صاف نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اس کے لیے صابن کی ضرورت تھی۔ باقی میں نے جتنا ہو سکا رینو کو مل مل کے نہلایا دیا تھا، اور رینو کی سانسیں اتنی گرم ہو گئی تھیں کہ مجھے ایسا لگنے لگا، جیسے کسی نے گرم تندور کے آگے فین چلا دیا ہو۔   ایسا تب ہوا تھا، جب میں نے رینو کے بوبز، چوتڑوں اور چوت کے پاس سے رینو کو رگڑ رگڑ کر نہلایا تھا۔ رینو نے مجھے کس کے پکڑا ہوا تھا۔   سمندر کی ساحل کی طرف بڑھتی ہوئی لہریں ہم سے ٹکرا کر گزر رہی تھیں، لیکن ہم اپنی ہی مستی میں لگے رہے۔ 

جب مجھے لگا کہ اب رینو صحیح سے نہلائی جا چکی ہے، تو میں نے رینو کو پھر سے اپنی بانہوں میں اٹھایا۔ میرے کھڑے ہونے سے میرا لنڈ اور رینو کے بوبز، گانڈ اور چوت سے پانی ٹپک ٹپک واپس سمندر کے پانی میں ملنے لگا۔ رینو کے بدن کی گرد اتری تو رینو کو ٹھنڈ لگنے لگی۔ رینو نے مجھے کس کے پکڑ لیا۔ اندر کی گرمی ہونے کے باوجود بھی رینو کانپنے لگی تھی۔ 

رینو کی چوت کے پاس سے رینو کو صاف کرتے ہوئے مجھے رینو کی چوت کا پانی محسوس ہوا تھا۔ میرا ہاتھ چپچپا ہو گیا تھا، اسی لیے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ رینو برداشت کی حد تک پہنچ چکی ہے۔ میں رینو کو اپنی بانہوں میں ہی لیے ہوئے ساحل پر پہنچا۔ رینو کو ٹھنڈ لگ رہی تھی اور رینو کو کپڑے پہنانے بھی ضروری تھے، لیکن پہلے والے کپڑے بہت خراب تھے۔ 

راجہ: رینو، تمہارے کپڑے میلے ہیں، کیا انہیں پھر سے پہنا دوں؟ 

رینو: راجہ، مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے۔ کچھ کرو۔ 

راجہ: رینو، تو پھر اس وقت انہی کو پہن لو۔ صبح ہوتے ہی دھو لینا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page