Talash E Zeest-27-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 27

اب میں کشمکش میں پھنس گیا تھا۔ اگر بوٹ مل جائے تو سنجے اور ظہیر دونوں کو ہی جلدی سے کہیں لے جایا جا سکتا تھا۔ اور وہ دونوں بچ بھی سکتے تھے۔ لیکن میں اکیلا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ 

رینو: راجہ، کیا اس کشتی کے ذریعے ہم یہاں سے بھاگ نہیں سکتے؟ 

راجہ: رینو، میں تم سب کو کیسے چھوڑوں؟ سچ تو یہ ہے کہ میں بھی وہی سوچ رہا ہوں جو ابھی تم نے کہا۔ بوٹ ہمارے لیے بہت خاص ہے۔ لیکن میں اکیلا اسے کیسے حاصل کروں؟ 

سنجے کچھ کچھ ہوش میں تھا۔ 

سنجے: راجہ۔۔ اگر۔۔ کوشش۔۔ کر۔۔ سکتے۔۔ ہو۔۔ تو۔۔ کرو۔۔ پھر۔۔ ہمیں۔۔ بوٹ نہیں ملے گی۔۔ 

سنجے کی بات بھی صحیح تھی۔ لیکن میرا تینوں کے لیے رسک لینے کا من نہیں ہو رہا تھا۔ 

راجہ: سنجے، میں تم دونوں کو یہاں کیسے چھوڑ کر جا سکتا ہوں؟ 

رینو: راجہ، میں ہوں نا یہاں۔ اگر تم کچھ کر سکتے ہو تو کرو۔ 

راجہ: رینو، یہاں جنگل میں کیسے تم تینوں کو اکیلا چھوڑوں؟ 

سنجے: راجہ۔۔ یہ۔۔ نہ۔۔ سوچو۔۔ مشکلات۔۔ تو۔۔ ہمیں۔۔ ہر۔۔ وقت۔۔ ہی۔۔ رہیں گی۔۔ 

میں نے رینو کی طرف دیکھا، تو رینو بھی ہاں بولنے لگی۔ میں نے سنجے اور ظہیر کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ رسک لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اب تو جو بھی ہو دیکھا جائے گا۔ آج یا تو ہم یہاں سے نکل جائیں گے، یا پھر یہیں رہ کر مر جائیں گے۔ کوشش کیے بغیر یہاں زندہ رہنا اور یہاں سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔ میں نے ایک صاف جگہ دیکھ کر سنجے اور ظہیر کو لٹا دیا۔ اور پھر اوپر والے کا نام لے کر رینگتا ہوا ساحل کی طرف جانے لگا۔ بوٹ کے پاس کھڑا ہوا غنڈہ کبھی جنگل کی طرف دیکھتا، تو کبھی وہ پیچھے دیکھتا۔ مجھے اُسے کیسی بھی طرح کر کے اپنے دام میں لانا تھا۔

رینگتے ہوئے مجھے جانے میں پندرہ سے بیس منٹ لگنے والے تھے۔ بارہ منٹ گزر چکے تھے، اور اس وقت غنڈہ جنگل کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جنگل میں گئے اس کے ساتھی ابھی واپس نہیں آئے تھے۔ مجھے اپنے پیچھے کی بھی ٹینشن تھی، کہیں کچھ الٹا نہ ہو جائے۔ میں نے رینو سے چھری لے لی تھی۔ اور اب میرا فاصلہ اس غنڈے سے بیس فٹ کا تھا۔ اب میں لیٹ کر نہیں جا سکتا تھا، اس لیے میں کھڑا ہوا اور جتنا ہو سکا تیز بھاگ کر غنڈے کے پاس جانے لگا۔ جب غنڈے سے میرا فاصلہ سات فٹ کا رہ گیا تو اسے بھی احساس ہو گیا کہ اس کے پیچھے سے کوئی آ رہا ہے۔ وہ واپس مڑا اور پھر مجھے ننگا دیکھ کر کچھ حیران رہ گیا۔ پھر جیسے ہی اسے اندازہ ہوا کہ میں اسے مارنے والا ہوں، اس نے اپنی گن سیدھی کر لی۔ لیکن اس کی حیرانی نے مجھے اس تک جلدی ہی پہنچا دیا۔ وہ گن چلا پاتا اس سے پہلے ہی میں نے چھری اس کے پیٹ میں اتار دی۔ پھر فوراً ہی میں نے چھری کو نکالا اور تین بار پھر سے اس کے پیٹ میں گھسا دی۔ 

میں وحشی ہو گیا تھا۔ کئی دن سے بگڑتی ہوئی حالت نے میرا دماغ خراب کیا ہوا تھا۔ اس کی انگلی ٹرگر پر ہی تھی۔ مرنے سے اس کی انگلی اچانک سے دب گئی اور پھر مجھے دور سے رینو کی چیخ کی آواز سنائی دی۔ رینو سمجھی شاید مجھے گولیاں لگ گئی ہیں۔ لیکن غنڈہ مشین گن کو صحیح سے اٹھا ہی نہیں پایا تھا جب میں نے اس کا پیٹ پھاڑا تھا۔ میں نے غنڈے کو سائیڈ میں گرایا اور اس کی مشین گن کو اٹھا کر رینو کی طرف منہ کر کے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے، تاکہ وہ جان سکے کہ میں سیف ہوں۔ پھر میں نے جنگل کی طرف دیکھا۔ مجھے کوئی نہیں دکھا۔ پتا نہیں جنگل میں کتنے غنڈے گئے تھے۔ میں نے مڑ کر بوٹ کی طرف دیکھا تو مجھے کوئی نہیں دکھا۔ میں نے سوچا کہ بوٹ کی طرف جا کر دیکھوں کہ اندر کیا کچھ ہے۔ لیکن پھر مجھے رینو کی چیخ سنائی دی۔ اور ساتھ ہی شیر کے دھاڑنے کی آواز بھی سنائی دی۔ میں رینو کی طرف بھاگا۔ 

وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ غنڈے تو نہیں آئے، لیکن شیر آ گیا تھا۔ میں پاگلوں کی طرح ہی مشین گن اٹھائے ہوئے رینو کی طرف بھاگنے لگا۔ اور رینو کی چیخیں پورے جنگل میں گونج رہی تھیں۔ مجھے وہاں پہنچنے میں تین منٹ لگ گئے۔ اتنا تیز بھاگا تھا، لیکن پھر بھی اتنا ٹائم لگ گیا۔ میرا دل باہر آنے کو ہو رہا تھا۔ سانس کے پھول جانے کی وجہ سے اور کچھ اپنے دوستوں کی جان کی فکر میں ڈوب جانے کی وجہ سے۔

میں وہاں پہنچا تو مجھے وہاں ایک شیر نظر آیا۔ سنجے سے جتنا ہو سکا، وہ اس شیر کا سامنا کرنے میں لگا ہوا تھا۔ شیر کا پورا جسم ہی گولیوں کے لگنے سے خون میں نہایا ہوا تھا۔ سنجے خود میں ہمت جٹا کر شیر سے سب کو ہی بچانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ شیر زخمی تھا، لیکن پھر بھی شیر تو شیر ہی ہوتا ہے اور سنجے بھی تو آدھے سے زیادہ زخمی تھا۔ شیر کے پنجوں سے سنجے اور بھی زخمی ہو چکا تھا۔ لیکن پھر بھی ہار مانے کو تیار نہیں تھا۔

میں بھاگ کر شیر اور سنجے کی سائیڈ میں ہوا اور مشین گن کو سیدھا کر کے شیر کی پیٹھ کی سائیڈ میں مشین گن کی نال لگا کر ٹرگر دبا دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرا ہاتھ ہل نہ جائے اور شیر کو لگنے والی گولیاں کہیں سنجے، ظہیر یا رینو کو نہ لگ جائیں۔ میں ایکسپرٹ تو تھا نہیں، جو صحیح سے نشانہ لگا سکوں۔ لیکن اوپر والے کا شکر ہے کہ میرا ہاتھ ہلنے پر بھی شیر کو ہی ساری گولیاں لگیں۔ سنجے یا کسی اور کو نہیں لگیں۔ شیر پہلے ہی کئی گولیاں کھا چکا تھا۔ اس میں اور ہمت نہیں بچی تھی۔ کئی گولیاں اور لگنے سے وہ بھیانک آواز میں دھاڑنے لگا اور پھر سنجے کے اوپر ہی گر گیا۔ 

آآآآآہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ۔۔ 

سنجے کی چیخ نکلی اور پھر جلدی ہی شیر کے نیچے بھی دب گئی۔ 

راجہ: (میں چیخا) رینو، یہاں آؤ۔۔ 

رینو ڈر گئی تھی۔ لیکن پھر شیر کو مرتے اور سنجے کو شیر کے نیچے دبتے دیکھ کر وہ بھاگی بھاگی آئی۔ 

میں نے مشین گن سائیڈ میں پھینکی اور شیر کو پکڑ کر سنجے کے اوپر سے ہٹانے لگا۔ شیر وزنی تھا، لیکن رینو کی مدد سے میں نے اسے سنجے کے اوپر سے ہٹا ہی دیا۔ اگر میں صحیح ہوتا تو اکیلا ہی کافی تھا۔ سنجے اور ظہیر نے مشقت کروا کر مجھے آدھ مارا کر دیا تھا۔ شیر کے الگ ہونے سے میری اور رینو کی سانس پھول رہی تھی۔ لیکن میں نے سنجے کو دیکھا۔۔ 

اوہ مائی گاڈ۔۔ 

سنجے اب اور بھی زیادہ زخمی ہو چکا تھا۔ 

راجہ: سنجے، تم ٹھیک ہو نا؟ 

سنجے نہیں بولا۔ میں نے سنجے کو جھنجھوڑا۔ 

سنجے: آآآں۔۔ ہاں۔۔ ہاں۔۔ 

راجہ: سنجے، تم ٹھیک ہو؟ 

سنجے آنکھ کھول کر مجھے دیکھنے لگا۔ مجھے دیکھ کر سنجے کچھ کچھ مسکرایا۔ لیکن اس کی مسکان درد بھری تھی۔ سنجے کے زخم اور بھی بڑھ گئے تھے۔ اور درد کی تو پوچھو ہی مت۔۔ 

سنجے: دیکھ۔۔ لو۔۔ راجہ۔۔ میں نے۔۔ تمہاری۔۔ رینو۔۔ کو۔۔ کچھ۔۔ نہیں۔۔ ہونے۔۔ دیا۔۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page