Talash E Zeest-29-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 29

راجہ: رینو، بوٹ میں دیکھو، پٹرول کے اور گیلن پڑے ہیں؟ یا جتنا انجن میں ہے، اسی سے ہی کام چلانا پڑے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیچ پانی میں ہی ہم پھنس جائیں۔ 

رینو ڈر گئی۔ 

رینو: راجہ، ایسی بات مت کرو۔ بیچ سمندر میں۔۔ نہیں راجہ، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ورنہ۔۔ 

راجہ: رینو، تم دیکھو۔ اور اب جلدی کرو۔ میں بوٹ کو اسٹارٹ کرنے والا ہوں۔ 

رینو نے جلدی سے بوٹ میں دیکھا اور کہا: 

رینو: راجہ، دو گیلن پڑے تو ہیں۔ 

راجہ: رینو، اب تم بھی نیچے بیٹھ کر کسی چیز کو پکڑ لو۔ بلکہ ایسا کرو۔۔ نہیں، تم رہنے دو، میں ہی کرتا ہوں کچھ۔ 

رینو: راجہ، کیا کرنے والے ہو؟ 

راجہ: بس دیکھتی جاؤ۔ 

میں نے رسی سے رینو کے ایک ہاتھ کو بھی باندھنا شروع کر دیا۔ رینو مجھے حیرت سے دیکھنے لگی اور پھر جیسے ہی وہ سمجھی: 

رینو: راجہ، یہ تم نے صحیح کیا ہے۔ میں نے خود کا سوچا ہی نہیں تھا۔ میں بھی تو پانی میں گر سکتی تھی۔ 

میں نے رینو کا ایک ہاتھ رسی سے باندھ کر کیبن میں ہی موجود ایک لوہے کے پائپ سے باندھ دیا۔ اب رینو بھی محفوظ ہو چکی تھی۔ 

رینو مجھے پیار سے دیکھنے لگی۔ میں نے اوپر والے کو یاد کیا اور پھر چابی کو اندر اینٹر کر دیا۔ ایک نظر رینو کو دیکھا۔ پھر اسٹیئرنگ کو پکڑ لیا۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی اور میں لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ رینو مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی سمجھ گئی کہ میں اندر سے کیسا فیل کر رہا ہوں۔ زندگی کا پہلا ٹائم تھا بوٹ چلانا۔ 

بوٹ چلا کر سمندر میں جانا، اور وہ بھی سب کو لے کر۔ مجھے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ اور سب ہی بیچ سمندر میں نہ پھنس جائیں۔ پانی سے باہر تو میں تینوں کے لیے کچھ بھی کر گیا تھا۔ لیکن پانی کے اندر میں کسی کے لیے کر بھی کیا سکتا تھا؟ یہی سب سوچتے ہوئے میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی تھی۔ سب کی ہی زندگی اب میرے ہاتھ میں آ گئی تھی۔ اور میری ایک غلطی سب کو ہی پل بھر میں لے ڈوبے گی۔ میری حالت باہر سے جیسی بھی تھی، لیکن اندر سے میں پورا ہلا ہوا تھا۔ اسی لیے میں لمبی لمبی سانسیں لے کر خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش میں لگا ہوا تھا۔ پانچ منٹ لگے مجھے کسی حد تک خود پر قابو پانے میں۔ کچھ سانسیں نارمل ہوئیں تو میں نے اسٹیئرنگ کو پکڑ کر کہا، “رینو، دھیان سے بیٹھنا”، اور پھر میں نے چابی گھما دی۔ 

انجن اسٹارٹ ہوا، لیکن بوٹ آگے نہیں بڑھی۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ بوٹ کو ایک جھٹکا لگے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ میں حیران ہوا۔ بوٹ اسٹارٹ تو ہو گئی ہے، لیکن آگے کیوں نہیں بڑھی؟ میں ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ 

رینو: راجہ، کیا ہوا؟ کیا دیکھ رہے ہو؟ 

راجہ: رینو، یہ اسٹارٹ تو ہو گئی ہے۔ لیکن وہیں کھڑی ہے۔ آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ 

رینو بھی میری ہی طرح سے دیکھنے لگی۔ 

رینو: راجہ، یہ بٹن بھی تو لگے ہوئے ہیں۔ 

راجہ: این۔۔ کہاں؟ 

اتنے میں ہی مجھے پسینہ آ گیا۔ رینو نے بٹن کا کہا تو میں وہاں دیکھنے لگا جہاں بٹن لگے ہوئے تھے۔ مجھے وہاں کچھ بٹن دکھے۔ اور پھر میری ساری فکر ہی ختم ہو گئی۔ بٹنوں پر کچھ اشارے دیے گئے تھے۔ میں نے ایک بٹن دبایا تو بوٹ کچھ آگے بڑھی۔ اب میں کچھ کچھ سمجھ گیا تھا۔ دم تو مجھ میں بہت تھا۔ اور پھر یہاں مسئلہ بھی رینو اور میرے دوستوں کی زندگی کو بچانے کا تھا۔ تو میرا دماغ بہت کام کر رہا تھا۔ ہاں، دل کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ بوٹ سلو تھی تو میں نے اسٹیئرنگ کو گھما کر دیکھنا شروع کر دیا اور پھر اسے سمجھنے لگا۔ دو منٹ تک میں ایسے ہی کرتا رہا۔ اور پھر میں نے بوٹ کو موڑ کر سمندر کی طرف جانے لگا۔ ابھی بوٹ بہت سلو تھی۔ اس لیے مجھے زیادہ پریشانی نہیں ہوئی۔ اب میرے دل کی حالت بھی ٹھیک ہو چکی تھی۔ 

راجہ: رینو، کیسا لگ رہا ہے؟ 

رینو: راجہ، کیا بتاؤں۔ تمہارے ساتھ رہنے سے مزا تو آ رہا ہے۔ لیکن یہ سب ہمارے لیے نیا بھی ہے نا، تو ڈر بھی بہت لگ رہا ہے۔ 

راجہ: رینو، میری جان، تو پھر کیا میں بوٹ کو تیز کروں؟ 

رینو “میری جان” سن کر کچھ شرما گئی۔ 

رینو: ہاں راجہ، لیکن پہلے دھیرے سے ہی آگے بڑھنا۔ پہلے سب صحیح سے سمجھ لو۔ ورنہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ 

راجہ: ٹھیک ہے میری جان۔ تم پاس ہو تو سب ٹھیک ہی ہے۔ تمہارے ہونے سے مجھے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ 

رینو میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ لیکن میں نے اپنی آنکھیں سمندر کی طرف کر دیں۔ اب مجھے سمندر میں اتنا آگے جانا تھا کہ آئی لینڈ سے ٹینشن ختم ہو جائے۔ تب تک کے لیے میں نے بوٹ کی سپیڈ کو تھوڑا سا اور بھی تیز کر دیا۔ بٹن لگے ہوئے ہونے سے مجھے بہت سہولت مل گئی تھی۔ ورنہ میں تو پڑھنا لکھنا تک نہیں جانتا تھا۔ 

بوٹ کو تھوڑا سا جھٹکا لگا۔ لیکن پھر سب نارمل ہو گیا۔ ہماری بوٹ سمندر کی لہروں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ اور ہم زندگی کی تلاش کے لیے سمندر کے گہرے پانی میں نکل پڑے۔ اگر منزل نہ ملے تو سمندر میں سفر موت ہے۔ یہ سب بعد میں سوچنے والی باتیں تھیں اور ابھی ہمیں صرف آئی لینڈ سے دور ہو جانا تھا۔ جب مجھے لگا کہ اب ہم دس کلومیٹر دور جا چکے ہیں تو میں نے بوٹ کو پہلے کی ہی طرح سے سلو کر دیا۔ میں نے ایک نظر آئی لینڈ کی طرف دیکھا تو وہ مجھے بہت دور دکھا۔ اب فی الحال کے لیے کوئی فکر نہیں تھی۔ 

رینو: راجہ، بوٹ دھیرے کیوں کر دی؟ 

میں نے رینو کو ایک ہاتھ سے پکڑا اور پھر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا۔ رینو ایک ہاتھ سے بندھے ہوئے ہی میرے لنڈ پر بیٹھ گئی۔ رینو کچھ شرمائی۔ لیکن بولی کچھ نہیں۔ رینو کے نرم گرم چوتڑ میرے لنڈ پر چبھنے لگے۔ بیچ سمندر میں ایک بوٹ پر بیٹھے ہوئے مجھے یہ سب بہت ہی اچھا لگنے لگا۔ یہاں ٹریفک کی کوئی ٹینشن تو تھی نہیں کہ میں سامنے دیکھتا۔ میرا ایک ہاتھ اسٹیئرنگ پر تھا اور دوسرا ہاتھ رینو کی کمر پر چلنے لگا۔ مجھے کچھ مدہوشی سی ہونے لگی۔ اور اسی مدہوشی میں میں نے رینو کے گالوں کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا۔ رینو میرے لنڈ پر بیٹھی کسمسانے لگی۔ رینو کی سانس تیز ہو گئی۔ اور رینو کے بوبز بغیر برا کے اوپر نیچے ہونے لگے۔ میں نے اپنے ہاتھ کو گھما کر رینو کے ایک بوب پر رکھ دیا۔ 

رینو: سییییی۔۔ آآآہہہ۔۔ راجہ، کیا کر رہے ہو؟ 

راجہ: رینو، تم میری ہو نا؟ 

رینو: ہممم۔۔ 

راجہ: رینو، میں کچھ بھی کر سکتا ہوں نا تمہارے ساتھ؟ 

رینو نے اپنا ایک ہاتھ میرے سر کے بالوں میں پھنسا دیا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی: 

رینو: راجہ، اس میں پوچھنے والی کون سی بات ہے؟ میں تمہاری ہوں اور تم میرے۔ اب ہم کبھی بھی ایک دوسرے سے دور نہیں رہیں گے۔ اس لیے تم مجھ سے ایسے پوچھا مت کرو۔ تمہارے کچھ بھی کرنے سے مجھے کیسے کوئی بھی پریشانی ہو سکتی ہے؟ میرا دل تو ہر دم بس یہی چاہتا ہے کہ تم مجھے اسی طرح خود میں سمایے رکھو۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page