Talash E Zeest-31-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 31

کیسے میں رینو کو نہلا رہا تھا تو رینو کی چوت کے پاس سے رینو کی جھانگوں کو رگڑتے ہوئے رینو کی چوت سے ایسا ہی گرم اور چپچپا پانی نکلا تھا۔ 

اور پھر مجھے یہ بھی یاد آیا کہ میرے ساتھ بھی تو نیند کی حالت میں یہ سب ہوتا رہا ہے۔ اور جب بھی رات نیند میں میرے لنڈ سے پانی نکل جاتا تھا، تب میں سارا دن ہی ہلکا ہلکا خود کو محسوس کیا کرتا تھا۔ 

مجھے کچھ کچھ اس سب کی سمجھ آنے لگی۔ اتنا تو مجھے پتا تھا کہ عورت ذات مرد کے لیے ہوتی ہے۔ اور سیکس کے بارے میں بھی سنا ہوا تھا۔ لیکن زیادہ پتا نہیں تھا۔ اور کیسے کیا جاتا ہے، یہ بھی نہیں معلوم تھا۔ 

چھوٹا تھا تو کبھی کسی کو چدتے یا کسی کو چودتے دیکھا نہیں تھا نا۔ اور نہ ہی تب اتنی عمر تھی کہ کسی سے اس بارے ڈسکس کرتا۔ جلد ہی پھر اسی آئی لینڈ پر آ کر پھنس گیا تھا۔ اور یہاں ایسا کوئی تھا ہی نہیں جو مجھے اس سب کے بارے میں بتا دے۔ پر فطرت سب سکھا دیتی ہے۔ 

اور آج میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔ میں رینو کی سب فیلنگز کو سمجھ چکا تھا۔ میرے ہونٹوں پر مسکان آ گئی۔ یہ سوچتے ہی کہ اب رینو بھی میری ہی طرح سے اندر سے پوری طرح سے ہلکی ہو چکی ہے۔ پھر مجھے ایک بات اور بھی سمجھ میں آئی کہ جیسے میں نے رینو کے نپل کو دبایا تھا، ویسے ہی اگر میں اپنے لنڈ کو دباؤں تو کیا میں بھی ریلیکس ہو سکتا ہوں؟ 

میں نے اپنے لنڈ سے کبھی کھیلا نہیں تھا۔ ہاں، کبھی کبھی جب اکڑ جاتا تھا تو مسل ضرور دیا کرتا تھا۔ لیکن اپنے ہاتھ سے رگڑ رگڑ کے کبھی بھی لنڈ کا پانی نہیں نکالا تھا۔ اور نہ ہی لنڈ کو مسل کر مزے لیے تھے۔ یہ سب فیلنگز تو رینو کے میری زندگی میں آنے کے بعد سے ہی جاگی تھیں۔ مجھے کچھ اور بھی لنڈ، چوت، اور دونوں کے اندر سے نکلنے والے پانی کے بارے میں پتا چلنے لگا۔ یہ تو میں سمجھ ہی گیا تھا کہ اس پانی کے نکلنے سے من بھی ہلکا ہوتا ہے اور جسم بھی۔ 

رینو اب تک مکمل ریلیکس ہو چکی تھی۔ میں نے رینو کی آنکھوں میں دیکھا تو رینو بہت زیادہ شرما رہی تھی۔ میں نے رینو کے گال کو چوما۔ 

راجہ: رینو، یہ سب کیا تھا؟ 

میں اب سب سمجھ تو گیا تھا۔ لیکن پھر بھی میں رینو سے پوچھنا چاہتا تھا۔ رینو کیا کہتی ہے، یہ میں دیکھنا چاہتا تھا۔ رینو شرماتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ رینو بہت زیادہ شرما رہی تھی۔ رینو کی پلکیں بار بار اس کی آنکھوں پر گر رہی تھیں، لیکن رینو پھر بھی میری آنکھوں میں دیکھنے سے خود کو روک نہیں پا رہی تھی۔ ہم تھے ہی ایک دوسرے کے۔ تو رینو کچھ بھی فیل کرے گی، وہ مجھے تو پھر بتائے گی ہی۔ 

رینو: راجہ۔۔ راجہ۔۔ یہ سب کیا تھا، مجھے نہیں پتا۔ پہلے تمہارے کچھ بھی کرنے سے مجھے مزا تو آ رہا تھا۔ لیکن مجھے بے چینی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ بہت زیادہ مزا آ رہا تھا۔ لیکن پھر (شرما کر آنکھیں جھکاتی ہوئی) لیکن پھر جب۔۔ جب۔۔ تم۔۔ میرا۔۔ وہ۔۔ مروڑنے۔۔ لگے۔۔ تو۔۔ ایک۔۔ دم۔۔ سے۔۔ ہی مجھے کچھ کچھ ہونے لگا۔ اور میرے اندر بے چینی سی بڑھنے لگی، لیکن مجھے وہ سب بہت زیادہ اچھا بھی لگا تھا۔ اور پھر مجھے نہیں پتا وہ سب بعد میں کیا ہوا میرے ساتھ۔ ایسا پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا نا میرے ساتھ۔ اسی لیے میں نہیں بتا سکتی۔ (پھر نظریں جھکاتی ہوئی) کچھ کچھ پتا ہے، لیکن مجھے بتاتے ہوئے بڑی شرم آ رہی ہے۔ میں نہیں بتا پاؤں گی۔ 

میں رینو کی بات سن کر مسکرا دیا۔ مجھے رینو کی بات اور رینو کے بے حد شرما کر بتانے والے انداز سے بڑا مزا آیا۔ 

راجہ: رینو، تو پھر اسی لیے تمہارے نیچے سے بھی پانی نکلنے لگا ہے۔ 

رینو کچھ نہیں بولی، بس شرماتی رہی اور اپنی گانڈ کو میرے لنڈ پر ہلانے لگی۔ شاید چوت کے پانی کے نکلنے کی وجہ سے کچھ بے چینی سی ہونے لگی تھی۔ میرے لنڈ کے بالوں کی ہی طرح سے رینو کی چوت بھی بالوں سے بھری ہوئی تھی۔ چوت کے پانی سے رینو کو الجھن تو ہونی ہی تھی۔ 

راجہ: رینو، تم نیچے سے گیلی ہو گئی ہو نا؟ تو کیا تم وہاں دھونا چاہتی ہو؟ 

 

رینو نے شرما کر ہاں میں سر ہلایا۔ رینو کے لیے خود کی چوت کو صاف کرنا ضروری تھا۔ ابھی مجھے اپنے لنڈ میں اتنی بے چینی نہیں ہوئی تھی۔ اب جب میں کچھ کچھ سمجھ رہا تھا، تو مجھے بے چینی ہونے لگی تھی۔ اور میرا بھی من ہونے لگا تھا کہ میں بھی اپنے لنڈ کا پانی نکال کر خود کو ہلکا کروں۔ لیکن ابھی میرے پاس ٹائم کم تھا۔ اور رینو کو صاف کر کے مجھے آگے کا سفر بھی کرنا تھا۔ میں نے رینو کو خود سے الگ کیا، بوٹ اب دھیرے دھیرے خود ہی چل رہی تھی۔ اور مجھے اب بوٹ کی کوئی ٹینشن بھی نہیں تھی۔ میں نے رینو کو ہٹا سائیڈ میں کیا اور بوٹ میں دیکھنے لگا کہ کیا کچھ ہے اس بوٹ میں۔ پہلے میں نے سنجے اور ظہیر کو دیکھا۔ ظہیر تو ہوش میں نہیں تھا۔ لیکن سنجے اب ہوش میں آ چکا تھا۔ 

راجہ: سنجے، اب کیسا فیل کر رہے ہو؟ 

سنجے: راجہ، اب بس کسی منزل پر پہنچ جاؤ۔ مجھے لگ رہا ہے جیسے مجھے ٹمپریچر ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک میں سمجھ رہا ہوں، شیر کے پنجوں کے لگنے سے میرے جسم میں کچھ گڑبڑ ہونے لگی ہے۔ 

راجہ: سنجے، میں بھی سب سمجھ رہا ہوں۔ بس کچھ ہی دیر میں میں سب دیکھتا ہوں۔ تم ٹینشن مت لو۔ جتنا مجھ سے ہو رہا ہے، وہ میں ضرور کروں گا۔ اور اب میرا دل مجھے سگنل دے رہا ہے کہ جلد ہی ہم کسی نا کسی منزل تک جا پہنچیں گے۔ بس تم ایک کام کرو۔ ہو سکتا ہے کہ تم اب جلد ہی لمبے بے ہوش ہو جاؤ۔ اور پھر مجھے کچھ بھی بتانے کے قابل نہ رہو۔ کسی علاقے میں پہنچتے ہی تمہیں اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنا پڑے گا۔ لیکن تم تو ہوش میں ہوگے نہیں۔ اسی لیے تم مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں بتا دو۔ اگر قسمت میں لکھا ہوا ہے کہ ہم یہاں سے بچ کر کہیں پہنچ جائیں، تو پھر میں تمہارے گھر والوں سے رابطہ کر کے انہیں سب بتا دوں گا۔ 

میری بات سن کر سنجے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ سنجے کسی حد تک بہتر ہو گیا۔ سنجے کے اندر لگن بڑھ گئی اور پھر سنجے نے مجھے اپنے اور ظہیر کے بارے میں سب بتا دیا۔ مجھے دونوں کے بارے میں جان کر بڑی خوشی ہوئی۔ اب بس دل سے یہی دعا نکل رہی تھی کہ جلد ہی کسی جگہ پہنچ جاؤں۔ اور دونوں کو بچا لوں۔ سنجے تو اب تک کچھ بہتر تھا۔ لیکن ظہیر کچھ کھانے کے قابل ہی نہیں رہا تھا۔ بس دو بار ناریل کا پانی کچھ کچھ ظہیر کے پیٹ میں اترا تھا۔ 

راجہ: سنجے، اب تم بس خود کو گھر پہنچ پانے تک ریلیکس رکھو۔ اب میں جلد ہی کچھ کروں گا۔ جتنا دم مجھ میں ہے، وہ میں لگا دوں گا۔ اور قسمت نے ساتھ دیا تو ہم سب جلد ہی کہیں نا کہیں پہنچ ہی جائیں گے۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page