Talash E Zeest-37-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 37

رینو نے شاید آئی لینڈ دیکھ لیا تھا، اسی لیے وہ ایکسائیٹڈ تھی۔ رینو ہکلانے لگی تھی۔ میری بھی حالت رینو سے کچھ مختلف نہیں تھی۔ میرے بھی دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔ میں نے رینو سے دوربین لے کر دیکھا تو مجھے اس بار آئی لینڈ دکھ گیا تھا۔ آئی لینڈ چھوٹا تھا، اسی لیے پہلے مجھے نہیں دکھ پایا تھا۔ اس بار ہم کچھ قریب پہنچے، تب جا کر دکھا تھا آئی لینڈ۔ میں نے دوربین رینو کو پکڑائی۔ اور آئی لینڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ اب دیکھنا تھا یہ آئی لینڈ ہمارے لیے کیا کچھ نیا لے کر آتا ہے۔ آئی لینڈ پر ہمارے لیے زندگی تھی، یا پھر سے ہمارے لیے کوئی نئی آزمائش؟ آئی لینڈ کوئی بھی ہو، خطرہ بنا ہی رہتا ہے۔ اور یہاں پر ہمارے لیے خطرہ کم تھا یا زیادہ؟ اکثر ایسے ہی آئی لینڈ گینگسٹروں کے اڈے بھی ہوا کرتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں۔۔ 

بچپن میں میں خود کی شناخت کے لیے بھکاریوں کی دلدل سے نکل بھاگا تھا۔ اور ایک دلدل سے نکل کر پھر سے ایک اور ہی دلدل میں جا پھنسا تھا۔ کہیں ایک اور دلدل میری راہ تو نہیں دیکھ رہی۔۔ یہی سوچ میری فکر کو بڑھائے ہوئے تھی۔ 

جیسے جیسے بوٹ آئی لینڈ کی طرف بڑھ رہی تھی، میرے اور رینو کے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ اندھیرا بھی ہونے لگا تھا۔ اور ابھی آئی لینڈ تک پہنچنے میں کچھ وقت لگنے والا تھا۔ 

رینو: راجہ، مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔ 

راجہ: رینو، میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ 

رینو اور میں بس اتنا ہی بول پائے۔ بوٹ آئی لینڈ کے پاس پہنچی تو پتا چلا کہ آئی لینڈ اتنا بھی چھوٹا نہیں ہے۔ اگر اندازہ لگایا جائے تو آئی لینڈ سات آٹھ کلومیٹر کے ایریا پر پھیلا ہوا تھا۔ جیسے تیسے کر کے ہم آئی لینڈ تک جا پہنچے۔ ایک منٹ کے فاصلے پر آئی لینڈ تھا۔ 

میں سوچنے لگا کہ آئی لینڈ کی کس طرف اندر جایا جائے۔ میں اس آئی لینڈ کے بارے جانتا بھی تو نہیں تھا۔ کس جگہ ہمیں مدد مل سکتی ہے۔ یہاں انسانی زندگی بھی ہے یا نہیں۔ کہیں یہ بھی اسی آئی لینڈ کی طرح سے کسی کے انڈر نہ ہو اور یہاں بھی میرے لیے کوئی نئی دلدل نہ امتحان کے لیے تیار ہو۔ 

رینو: راجہ، کیا سوچ رہے ہو؟ 

راجہ: رینو، میں سوچ رہا ہوں، آگے کیا کروں۔ ہم ایسے ہی تو یہاں نہیں اتر سکتے۔ آگے پتا نہیں کون سا خطرہ ہمارا سواگت کرنے کے لیے موجود ہو۔ جو بھی کرنا ہے بہت سوچ کر ہی کرنا ہے۔ 

رینو: راجہ، تم ایک بار پورے آئی لینڈ کا چکر ہی لگا لو۔ شاید کچھ پتا چل سکے۔ 

راجہ: رینو، میں بھی یہی سوچ رہا ہوں۔ 

پھر میں نے بوٹ کو سپیڈ دی اور آئی لینڈ کا چکر لگانے لگا۔ اب تو بیٹھے بیٹھے جسم بھی اکڑ چکا تھا۔ 

راجہ: رینو، تم بھی بیٹھے بیٹھے تھک گئی ہو نا؟ 

رینو: ہاں راجہ۔ میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں۔ بس تمہارے لیے خود کو مضبوط بنائے ہوئے ہوں۔ ورنہ دل تو کر رہا ہے کہ یہیں گر پڑوں اور لمبی نیند سو جاؤں۔ 

میں رینو کو دیکھنے لگا۔ رینو نے سچ میں ہی بڑی ہمت دکھائی تھی۔ سمندر کا سفر کسی انجان کے لیے خطرناک تو ہوتا ہی ہے۔ لیکن دل کو ہر پل ہی دہلائے رکھتا ہے۔ پتا نہیں کب کیا ہو جائے۔ میری تو خیر تھی لیکن رینو کے لیے یہ سب اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ رینو میری وجہ سے خود کو مضبوط بنا گئی تھی۔ میری بوٹ آئی لینڈ کی گرد چکر لگانے لگی۔ اور پھر آئی لینڈ کے دوسری طرف گھومتے ہی ہمیں زندگی مل گئی۔ ہمیں آئی لینڈ پر لائٹس جلتی ہوئی دکھ گئی تھیں۔ یہ ایک پاپولیٹڈ آئی لینڈ تھا۔ چھوٹا تھا۔ لیکن ہمارے لیے زندہ رہنے کا سامان بن گیا تھا۔ 

رینو: ر۔۔ راجہ۔۔ و۔۔ وہ۔۔ سامنے۔۔ دیکھو۔۔ 

راجہ: ہاں رینو، لگتا ہے، ہم کسی منزل تک پہنچ گئے ہیں۔ اب ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔ اب سنجے اور ظہیر کو بھی بچا لیا جائے گا۔ 

میری آواز بھی رینو کی طرح سے کانپ رہی تھی۔ مارے خوشی کے میرے آنسو بہنے لگ گئے تھے۔ اور رینو بھی میری ہی طرح سے رونے لگ گئی تھی۔ کتنے کٹھن مرحلے سے گزر کر ہم نے زندگی کو ڈھونڈ ہی لیا تھا۔ اب ہمیں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر میں ہم وہاں پہنچ گئے۔ 

وہاں بہت سے لوگ تھے۔ کئی بوٹس بھی کھڑی ہوئی تھیں۔ کچھ فیملیز بھی موجود تھیں۔ شام کا ٹائم تھا تو سب ہی ساحل کے نظارے دیکھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ وہ سب ہمیں ہی دیکھنے لگے۔ ہمارے حلیے ہی بگڑے ہوئے تھے۔ سب ہمیں ایسی عجیب ہوئی حالت میں دیکھ کر حیران ہو گئے تھے۔ 

میں بوٹ ان کے پاس لے گیا۔ رینو رو رہی تھی اور میرے چہرے پر بھی آنسو تھے۔ سب ہمیں حیرت سے دیکھنے لگے۔ اندھیرا کچھ کچھ ہو چکا تھا۔ اور ساحل پر لائٹس بھی لگی ہوئی تھیں۔ ساحل پر لکڑی کا ایک بڑا ریمپ بنا ہوا تھا۔ اور لوگ اس ریمپ کے اوپر کھڑے ہوئے تھے۔ اسی لیے انہوں نے ہمیں صحیح سے دیکھ لیا تھا۔ ہمارے چہرے آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے۔ اور بوٹ کے اندر لیٹے ہوئے سنجے اور ظہیر بھی سب کو ہی دکھ گئے تھے۔ 

راجہ: مجھے ہیلپ کی ضرورت ہے، میرے دوست مر رہے ہیں۔ کوئی میری مدد کرے گا۔۔ سالوں لگ گئے ہمیں زندگی ڈھونڈتے ڈھونڈتے۔۔ 

اس سے آگے مجھ سے نہیں بولا گیا۔ رینو میری بات سن کر میرے گلے لگ گئی اور اونچی اونچی آواز میں رونے لگی۔ کچھ لوگ میری بات سنتے ہی بھاگ دوڑ میں مصروف ہو گئے تھے۔ وہ بھی سب سمجھ گئے تھے کہ ہم ضرور کسی مصیبت سے نکل کر آ رہے ہیں۔ 

رینو کے ہاتھ کی رسی میں نے کھول دی۔ تین لڑکے اور دو بڑی عمر کے آدمی بوٹ میں آ گھسے۔ انہوں نے سنجے اور ظہیر کو دیکھا۔ سنجے آدھا ننگا تھا اور ظہیر پورا ننگا تھا۔ دونوں کی ہی حالت بہت خراب ہو چکی تھی۔ 

آدمی: ان کو بندھا کیوں ہوا ہے؟ 

راجہ: کیا بتاؤں۔ مجھے تو بوٹ بھی چلانی نہیں آتی تھی۔ ڈر تھا کہ کہیں بوٹ میرے قابو سے باہر نہ ہو جائے۔ اسی لیے میں نے دونوں کو باندھ دیا۔ کہیں پانی میں نہ گر جائیں۔ 

زیادہ انہوں نے بھی نہیں پوچھا اور سنجے اور ظہیر کو اٹھا کر بوٹ سے باہر نکل پڑے۔ میں نے بھی رینو کو اپنی گود میں اٹھایا اور ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ سب لوگ ہمیں ہی دیکھ رہے تھے۔ لیکن کسی نے کچھ پوچھا نہیں۔ 

ساحل سے کچھ فاصلے پر کھڑی گاڑیوں میں سے ایک میں مجھے اور رینو کو بٹھایا گیا۔ سنجے اور ظہیر کو دوسری گاڑی میں لے جایا گیا۔ اور پھر پانچ منٹ بعد ہی دونوں گاڑیاں ایک چھوٹے سے ہسپتال سے سامنے جا کے رک گئیں۔ 

میں اور رینو بھی گاڑی سے باہر آئے۔ اور پھر اندر سے دو اسٹریچر لائے گئے اور دونوں کو ہی اسٹریچر پر لٹا کر اندر لے جایا گیا۔ ہم بھی اندر چلے گئے۔ اور اندر ایک جگہ جا کر بیٹھ گئے۔ سنجے اور ظہیر کو اندر ٹریٹمنٹ کے لیے لے جایا گیا۔ ایک آدمی میرے پاس بیٹھ گیا۔ 

راجہ: بھائی صاحب، آپ میری کچھ مدد کر سکتے ہیں؟ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page