Talash E Zeest-38-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 38

آدمی: ہاں۔۔ ہاں۔۔ کیوں نہیں، ضرور۔ 

راجہ: مجھے یہاں سے کہیں پیغام بھیجوانا ہے۔ کیا آپ کچھ کر سکتے ہیں؟ 

آدمی: ہاں، ضرور کیوں نہیں۔ بولو کیا پیغام ہے۔ اور کہاں بھیجوانا ہے۔ 

میں نے اسے سنجے کے گھر کا پتا بتا دیا۔ اور سنجے کے باپ کا نام بھی۔ 

وہ آدمی سب لکھنے لگا۔ لیکن کچھ فاصلے پر ایک ڈاکٹر کھڑا ہوا تھا۔ اس نے سن لیا۔ 

ڈاکٹر: کیا نام لیا تم نے ابھی؟ 

میں نے ڈاکٹر کو دیکھا اور پھر اسے بھی سنجے کے بارے میں اور سنجے کے باپ کے بارے میں سب بتا دیا۔ 

ڈاکٹر ایک جھٹکے میں میرے پاس ہی سوفے پر بیٹھ گیا ۔ 

ڈاکٹر: سنجے۔۔ سنجے۔۔ کہاں ہے سنجے؟ سنجے میرا دوست ہے۔ میں سنجے کے بارے میں سب جانتا ہوں۔ سنجے کی گاڑی ایک جگہ سے ملی تھی اور پھر سنجے لا پتا ہو گیا تھا۔ 

میں نے ڈاکٹر کو دیکھا تو اس کی آنکھیں نم ہو چکی تھیں۔ 

راجہ: ابھی ابھی ظہیر اور سنجے کو اسٹریچر پر اندر لے جایا گیا ہے۔ آپ پلیز اس کے لیے کچھ کریں۔ سنجے کی لڑائی شیر سے ہوئی تھی، جس وجہ سے سنجے کی حالت صحیح نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے اسے کوئی انفیکشن ہو گیا ہے۔ 

ڈاکٹر جھٹکے میں اٹھا اور پھر اندر سنجے کی طرف بھاگ لیا۔ میں اور رینو ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے بیٹھے تھے۔

آدمی ابھی بھی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے ایک لڑکے سے کہہ کر رینو اور میرے لیے جوس منگوا لیا تھا۔ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور ایک جوس رینو کو دے کر ایک خود لے لیا۔ جوس پی کر ہمیں کچھ راحت ملی۔ 

پندرہ منٹ بعد وہی ڈاکٹر میرے پاس آیا اور میرے ساتھ ہی بیٹھ کر مجھے گلے لگا لیا۔ 

ڈاکٹر: تھینکس بھائی جو تم سنجے کو یہاں لے آئے۔ ورنہ اس کے گھر میں تو ماتم چھایا ہوا تھا۔ میرا نام منوج ہے۔ اور سنجے میرا بہت اچھا دوست ہے۔ اس رات ہم ساتھ ہی تھے، جس رات سنجے غائب ہوا۔ 

راجہ: میرا نام راجہ ہے۔ اور اس کا نام رینو ہے۔ ڈاکٹر، کیا آپ نے سنجے کے گھر بتا دیا ہے؟ 

ڈاکٹر: ہاں بتا دیا ہے۔ وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔ لیکن ان کو ٹائم لگ جائے گا۔ ممبئی یہاں سے بہت دور ہے۔ 

راجہ: ڈاکٹر، سنجے اور ظہیر کی حالت اب کیسی ہے؟ 

ڈاکٹر: حالت تو دونوں کی ہی خراب ہے۔ پر ظہیر کی حالت تو بہت ہی زیادہ خراب ہو چکی ہے۔ 

راجہ: ڈاکٹر، ظہیر دلدل میں گر گیا تھا۔ کیا آپ نے کچھ اندازہ لگایا تھا؟ 

ڈاکٹر: راجہ، تم ٹینشن مت لو۔ دونوں کو دیکھ کر ہم سب سمجھ گئے تھے۔ ابھی کچھ ہی دیر میں ہمارے سینئرز آ رہے ہیں۔ وہ صحیح سے سب دیکھیں گے۔ 

پھر ڈاکٹر اندر چلا گیا اور رینو میرے کندھے پر سر ٹکائے سو گئی تھی۔ تھکان تو مجھے بھی بہت زیادہ ہو رہی تھی۔ لیکن میں یہاں سونا نہیں چاہتا تھا۔ سنجے اور ظہیر کے لیے اب ٹینشن ختم ہو گئی تھی۔ جتنا مجھ سے ہوا میں نے کر دیا تھا۔ اب باقی کا کام ڈاکٹروں کا تھا۔ مجھے ظہیر اور سنجے کے پاس ہی ہونا چاہیے تھا۔ لیکن میرا وہاں کام بھی تو کچھ نہیں تھا۔ اور ویسے بھی اب سب ڈاکٹروں نے ہی کرنا تھا۔ اور جیسی دونوں کی کنڈیشن تھی، ویسی ہی کنڈیشن میں ریگولر ہی دیکھ رہا تھا۔ اسی لیے میں اندر نہیں گیا۔ 

رینو مزے سے نیند کی وادیوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ اور میں کبھی رینو اور کبھی ہسپتال کو دیکھ رہا تھا۔ چھوٹا سا تھا لیکن سنجے اور ظہیر کے لیے بہترین تھا۔ اب دونوں ہی میرے حساب سے خطرے سے باہر تھے۔ ہاں پر دونوں کے لیے بہت ٹینشن بن گئی تھی۔ اور ظہیر کے لیے تو بہت زیادہ تھی۔ ظہیر کی آنکھیں اور منہ کا تو ستیاناس ہی ہو گیا تھا۔ ظہیر تو کسی بڑے ہسپتال میں ہی ٹھیک ہو سکتا تھا۔ 

کچھ دیر میں ڈاکٹر آیا اور مجھے اپنے ساتھ چلنے کو بولا۔ میں نے رینو کو اپنی گود میں اٹھایا تو رینو کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے مجھے دیکھا اور پھر سے آنکھیں بند کر لیں۔ ڈاکٹر مجھے لے کر باہر کو چل دیا۔ میں نے بھی ڈاکٹر کے پیچھے پیچھے جانے لگا۔ ہسپتال سے کچھ ہی فاصلے پر ایک گھر تھا، وہ مجھے وہاں لے گیا۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ وہ مجھے ایک کمرے میں لے گیا۔ 

ڈاکٹر: یہاں کمرے میں ہی باتھ روم ہے، فریش ہونا ہو تو ہو لو۔ میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہوں۔ 

اتنا بول کر ڈاکٹر باہر چلا گیا۔ میں نے رینو کو کمرے میں موجود بیڈ پر لٹایا اور جا کر باتھ روم کو چیک کرنے لگا۔ اندر شیشہ لگا ہوا تھا۔ میں خود کو دیکھنے لگا۔ میرا حلیہ کتنا بدل گیا تھا۔ میں خود کو سالوں پہلے والے راجہ سے کمپئیر کرنے لگا۔ کتنا بدل گیا تھا میں۔ میرا پورا چہرہ ہی بالوں میں چھپا ہوا تھا۔ پھر خود کو دیکھنا چھوڑ کر باتھ روم میں سب جگہ دیکھنے لگا۔ سب کچھ ماڈرن ٹائپ کا تھا۔ میں نے ایسا باتھ روم پہلے کبھی یوز نہیں کیا تھا۔ میں نے اپنے کپڑے اتارے اور پھر نہانے لگا۔ آج میں صحیح مانوں میں نہا رہا تھا۔ صابن سے اچھی طرح خود کو مل مل کے دھویا۔ ٹھنڈا پانی تھا، نہانے سے مزا آ گیا۔ نہانے کے بعد میں باتھ روم سے باہر آ گیا۔ میں نے رینو کو بھی اٹھایا۔ وہ آدھی آنکھیں کھول کے مجھے دیکھنے لگی۔ 

راجہ: رینو، اٹھ جاؤ اور جا کر نہا لو۔ پھر کھانا آنے والا ہے۔ وہ کھا کر سو جانا۔ 

رینو: راجہ، تم ہی نہلا دو نا۔ 

راجہ: نہیں رینو، یہ کسی کا گھر ہے اور یہ سب صحیح نہیں ہے۔ 

رینو بھی سمجھ گئی اور کیسے بھی کر کے باتھ روم میں گھس گئی۔ اور جلدی ہی وہ بھی نہا کر باہر آ گئی۔ 

رینو کے نہانے کے پانچ منٹ بعد ڈاکٹر نے ڈور ناک کیا۔ میں نے ڈور کو ویسے ہی بند کیا ہوا تھا۔ میں نے ڈور کھول دیا۔ تو ڈاکٹر کے ساتھ ایک لڑکا تھا۔ اور اس کے ہاتھ ایک کھانے کی ٹرے تھی۔ میں سائیڈ میں ہوا تو دونوں ہی اندر آ گئے۔ 

ڈاکٹر: تم دونوں کھانا کھاؤ، میں ہسپتال سے ہو کر آتا ہوں۔ کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر لینا، باہر کا مت کرنا۔ 

راجہ: ٹھیک ہے ڈاکٹر۔ ڈاکٹر، وہ سنجے اور ظہیر کے لیے کچھ ہوا کیا؟ 

ڈاکٹر: ہاں، ہمارے سینئرز آ گئے ہیں۔ اور اب تو ویسے بھی سنجے کے پاپا کی وجہ سے سب ہی پوری کیئر کے ساتھ دونوں کا ٹریٹمنٹ کر رہے ہیں۔ سنجے کے پاپا بہت بڑے آدمی ہیں۔ ان کا ایک نام بھی ہے۔ ایک ہی فون کال سے سب ڈاکٹرز ہی دونوں کو ٹریٹ کر رہے ہیں۔ 

ڈاکٹر اور لڑکا چلے گئے۔ میں سوچنے لگا کہ سنجے کے پاپا کتنے بڑے آدمی ہیں۔ پھر بھی ان کڈنیپروں نے سنجے کو نہیں چھوڑا، اور اٹھا کر آئی لینڈ پر لے گئے۔ 

میں نے ڈور کو اندر سے لاک کیا۔ کھانا ایک چھوٹی سی ٹیبل پر رکھا ہوا تھا۔ کمرے میں تین چیئرز بھی پڑی ہوئی تھیں۔ میں نے چیئرز کو ٹیبل کے پاس کھینچا اور اس پر بیٹھ کر میں نے رینو کو اپنے پاس میں بٹھایا اور کھانا کھانے لگے۔ رینو مجھے کھلانے لگی اور میں رینو کو۔ دھیرے دھیرے کر کے ہم نے کھانا ختم کیا۔ آج اتنی سالوں بعد انسانی کھانا کھا کے مزا آ گیا تھا۔ رینو تو اپنی انگلیاں چاٹنے لگی تھی۔ پیٹ کی حالت بھی بڑی خوشگوار ہو گئی تھی۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page