Talash E Zeest-39-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 39

رینو: راجہ، آج کھانا کھا کے ایسا لگ رہا ہے، جیسے زندگی میں پہلی بار ایسا کھانا کھانے کو ملا ہے۔ 

راجہ: ہاں رینو میری جان، سچ میں اتنے سالوں بعد کھانا کھا کے کچھ ایسا ہی لگ رہا ہے۔ ورنہ قید خانے کا کھانا کھا کھا کے حالت ہی خراب ہو گئی تھی۔ اتنا خراب پکا کر کھلاتے تھے۔ بڑی مشکل سے حلق کے نیچے اترتا تھا۔ 

رینو: راجہ، اب مجھ سے نہیں جاگا جائے گا۔ چلو آؤ نا بیڈ پر، ساتھ میں سوتے ہیں۔ 

مجھے بھی کھانا کھانے سے نیند سی آنے لگی تھی۔ پھر دونوں ہی ایک دوسرے کی بانہوں میں لپٹے سو گئے۔ لیٹتے ہی ہم کو نیند آ گئی تھی۔ اور آج کی نیند مزے کی نیند تھی۔ ایک نئی زندگی کی شروعات جو ہو گئی تھی۔ تو مزے کی نیند تو پھر آنی ہی تھی۔ 

٭٭٭٭٭

ممبئی شہر کی ایک بڑی کوٹھی میں موجود سبھی افراد رو رہے تھے۔ہر  مرد ہو اور عورت۔ بڑا ہو یا چھوٹا۔ سبھی کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اور بڑی عمر کی تین عورتیں تو ڈاڑیں  مار مار کر رو رہی تھیں۔ یہ رونا کسی غم میں نہیں تھا۔ بلکہ یہ رونا تو خوشی کا رونا تھا۔ آج سالوں بعد اس گھر میں خوشی آئی تھی۔ اس گھر کا کھویا ہوا اکلوتا بیٹا جو مل گیا تھا۔ 

جی ہاں، یہ فیملی سنجے کی ہی تھی۔ جو سنجے کے لیے سالوں سے تڑپ رہے تھے۔ کچھ ہی دیر پہلے انہیں ایک فون کال آئی تھی۔ جس میں بتایا گیا کہ سنجے اس وقت ہمارے پاس ہے۔ اور وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے۔ گھر والوں کے لیے سنجے کا مل جانا ہی بہت بڑی بات تھی۔ 

اور سنجے کے پاپا نے فوراً ہی وہاں جانے کی تیاری بھی شروع کر دی تھی۔ سنجے کے پاپا کو بتایا گیا تھا کہ سنجے کیرالہ سے دو سو کلومیٹر دور ایک آئی لینڈ پر ہے۔ اور اس کے ساتھ ایک زخمی  اور بھی ہے اور دونوں کی ہی کنڈیشن صحیح نہیں ہے۔ سنجے کے پاپا نے اپنے تعلقات کو کام میں لاتے ہوئے سنجے اور ظہیر کے لیے آئی لینڈ پر موجود بیسٹ ڈاکٹروں کو اپوائنٹ کرا دیا تھا۔ سنجے کو آئی لینڈ سے بھی شفٹ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن وہاں کے ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ دونوں کو زیادہ خطرہ نہیں ہے، پہلے دونوں کو ہی سفر کرنے کے قابل بنا دیا جائے، پھر جہاں دل چاہے لے جا سکتے ہیں۔ اسی لیے سنجے کے پاپا نے فوراً ہی کیرالہ کے لیے ایئر ٹکٹ کروائی۔ اور پھر سنجے کے پاپا اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کو لے کر وہاں کے لیے نکل پڑے۔ 

جانا تو سب ہی چاہتے تھے۔ لیکن سنجے کے پاپا نے کہہ دیا کہ وہ جلد ہی سنجے اور اس کے دوست کو ممبئی شفٹ کر دے گا۔ پھر سب ہی سنجے سے مل سکتے ہیں۔ 

سنجے کے پاپا ایک مضبوط انسان  تھے۔ لیکن اکلوتا بیٹا تھا، اور پھر جیسے اس کی حالت کا سنا تو خود کے آنسو روک نہیں پایا۔ سنجے کی ماں اور بہنوں کی حالت خوشی ملنے کے باوجود بھی صحیح نہیں تھی۔ 

سب کو پہنچنے میں ٹائم لگنے والا تھا۔ اور ابھی ظہیر کے گھر میں اطلاع نہیں بھیجوائی گئی تھی۔ ابھی ظہیر کی حالت دیکھنے کے قابل نہیں تھی۔ وہ بیچارے کیسے اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایسی حالت میں دیکھ سکتے تھے۔ نہ وہ بول سکتا تھا، اور نہ ہی آنکھیں کھول کر کسی کو دیکھ سکتا تھا۔ اور نہ ہی کسی کو ہاتھ ہلا کر کوئی سگنل دے سکتا تھا۔ کچھ بہتر ہو تو اُن کو بھی  بتا دیا جائے گا۔ زندگی بچنے کے امکانات تو پیدا ہو ہی گئے تھے۔ باقی کا بھی اوپر والا اچھا ہی کرے گا۔ 

٭٭٭٭

میں اور رینو رات بھر چین کی نیند سوئے تھے۔ ایسی ہی نیند کی تمنا میں اور رینو برسوں سے کر رہے تھے۔ سنجے اور ظہیر کو بھی ایسی ہی ایک نیند کی ضرورت تھی۔ مگر وہ دونوں بیہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ 

میری نیند ٹوٹی تو بدلا ہوا ماحول دیکھ کر میں کچھ حیران ہوا۔ میں بھول گیا تھا کہ میں اس وقت اُس منحوس آئی لینڈ پر  نہیں ہوں اور ایک نئی زندگی کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو چکا ہوں۔ 

میں نے اپنے آس پاس دیکھا اور پھر مجھے سب یاد آ گیا۔ کیسے کل شام کو ہم یہاں  پر پہنچے تھے اور پھر باقی کا بھی سب یاد آیا۔ میں نے رینو کو دیکھا۔ رینو کسی معصوم بچی کی طرح دکھ رہی تھی۔ رینو کا چہرہ بھی کل رات نہانے سے کھل اٹھا تھا۔ رینو کے گالوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔ مجھے رینو پر بہت پیار آنے لگا۔ میرا دل کیا میں رینو کو خود کے اندر اتار لوں۔ رینو تھی تو میری بانہوں میں ہی لیکن میرے اندر سے رینو کے لیے پیار بےشمار امڈ کر باہر آ رہا تھا۔ 

میرا دل رینو کی طرف کھنچنے لگا۔ اور پھر میں نے رینو کو خود سے الگ کر کے بیڈ پر لٹایا اور خود سائیڈ میں بازو ٹکا کے رینو کے چہرے پر جھک گیا۔ میں رینو کے چہرے کے پاس رینو کو سونگنے لگا۔ ہماری زندگی کی نئی صبح جو ہوئی تھی۔ اور میں ہماری زندگی کی صبح کو سیلبریٹ کرنا چاہ رہا تھا۔ رینو کے چہرے کی چمک میرے دل کو لبھانے لگی۔ میرے ہونٹ دھیرے دھیرے سے رینو کے چہرے کو چومنے لگے۔ میں بڑے آرام سے رینو کے گالوں کو چوم رہا تھا۔ ہر کس پر مجھے اپنے اندر سکون سا پھیلتا  محسوس ہونے لگا۔ میرا دل اور بھی جھومنے لگا۔ رینو تھوڑا سا کسمسائی لیکن اٹھی نہیں۔ میرا لنڈ بھی مارننگ ایریکشن کی وجہ سے جاگا ہوا تھا۔ جو اس وقت رینو کی چوت پر دب رہا تھا۔ 

مجھے اس سب میں بڑا مزا آنے لگا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ کل رینو کیسے میرے ہونٹوں کو چوم رہی تھی۔ میرا بھی دل کیا تھا کل رینو کے ہونٹوں کو چومنے کا۔ پر میں رینو کے ہونٹوں کو چوم نہیں پایا تھا۔ رینو نے بٹنو لگی قمیض پہنی ہوئی تھی اور رینو کے بوبز اس قمیض میں سے کچھ کچھ دکھ رہے تھے۔ 

میرا دل کیا میں رینو کے بوبز کو ننگا کر کے صحیح سے دیکھوں۔ اب تک میں نے رینو کے بوبز صحیح سے نہیں دیکھے تھے۔ رینو کی چوت اور گانڈ تو بالوں میں چھپی ہوئی تھی۔ لیکن بوبز تو دیکھے جا سکتے تھے۔ پھر میری نظر رینو کے ہونٹوں پر پڑی اور میں سوچنے لگا کہ میں پہلے رینو کے ہونٹوں کو چوموں یا پھر رینو کے بوبز کو۔ میرا دل دونوں کے لیے مچلنے لگا تھا۔ 

میں کبھی رینو کے بوبز کو دیکھتا اور کبھی رینو کے ہونٹوں کو، نیچے میرا لنڈ اور بھی اکڑ کر رینو کی چوت پر ناچ رہا تھا، میرے اندر گرمی سی بڑھنے لگی تھی۔ پہلے اتنی نہیں ہوتی تھی۔ لیکن کل ایک بار لنڈ سے پانی کے نکل جانے سے اور رینو کے ہاتھ لگنے سے میرے اندر بھی بہت کچھ بدل گیا تھا۔ 

میرا دل رینو سے الگ ہونے کو نہیں ہو رہا تھا۔ اور رینو کے ہونٹوں اور بوبز کے لیے فیصلہ بھی کرنا مشکل ہونے لگا۔ تو میں نے من میں ایک فیصلہ کیا اور رینو کی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ لیکن میں نہیں رکا اور کچھ ہی دیر میں رینو کی قمیض کے تین بٹن کھل گئے۔ میں نے رینو کے بوبز ہاتھ سے پکڑ کر قمیض سے باہر نکال دیے۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page