Talash E Zeest-40-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 40

ایسا کرنے سے ہی میرے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی تھی۔ لیکن میں رکا نہیں۔ رینو کے دونوں بوبز باہر آئے تو رینو کے بوبز کو دیکھتے ہوئے ہی میرے لنڈ نے ایک زوردار جھٹکا مار دیا۔ رینو کچھ ہلی۔ پر اٹھی نہیں۔ 

میں کھڑا ہوا اور رینو اور رینو کی جھانگوں کی سائیڈ میں دونوں پیر کر کے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ میں نے رینو کے اوپر وزن نہیں ڈالا تھا۔ لیکن میرا جسم کچھ کانپنے ضرور لگا تھا۔ عجیب بات تھی کل اتنا کچھ کر لیا تھا، پھر بھی اندر کا ڈر اور جھجھک ختم نہیں ہوئی تھی۔ 

میں نے رینو کو دیکھا تو رینو ابھی بھی سوئی ہی تھی۔ میرا لنڈ رینو کی چوت کے اوپر پڑا ہوا تھا۔ میں گہری گہری سانس لینے لگا۔ خود کو کچھ ریلیکس کیا اور پھر رینو کے دونوں بوبز پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے۔ کمرے کی روشنی میں رینو کے دونوں دودھ چمک رہے تھے۔ رات رینو جلدی میں ہی نہائی تھی، لیکن رینو نے اپنے دونوں ہی بوبز کو چمکا لیا تھا۔ 

رینو کے بوبز کی سکن کو دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگنے لگا۔ رینو کا فیس تو آئی لینڈ پر کام کرنے کی وجہ سے کچھ سانولا ہو گیا تھا۔ لیکن رینو کے بوبز بہت ہی صاف شفاف تھے۔ رینو کے دونوں نپل ہلکے گلابی تھے۔ اور وہ بھی چمک رہے تھے۔ میرا دل کیا میں انہیں منہ میں لے کے چوسوں۔ 

پھر میں خود کو روک نہیں پایا اور رینو کے بوبز پر جھکتا چلا گیا۔ رینو کے بوبز میرے ہونٹوں کو لگتے ہی مجھے ایک نئی لذت کا احساس ہوا۔ رینو کے بوبز کی مدہوش کن خوشبو  بھی میں محسوس  کرنے لگا۔ اور اپنی سانس کھینچ کھینچ کر رینو کے بوبز کی خوشبو کو اپنے اندر اتارنے لگا۔ رینو کے چہرے کو بھی سونگا تھا ۔ لیکن رینو کے بوبز کی خوشبو ہی کچھ اور تھی۔ میرا لنڈ اتنا اکڑ گیا تھا کہ ایسا لگنے لگا کہ کہیں پھٹ ہی نہ جائے۔ لیکن ابھی میرے پاس میرے لنڈ کے لیے کوئی سلوشن نہیں تھا۔ 

اب ٹائم تھا رینو کے بوبز کا پورا پورا مزا لینے کا تو میں نے اپنی زبان نکال کر رینو کے بوبز پر لگا دی۔ مجھے اور میری زبان کو ایک جھٹکا لگا۔ سالا بوبز کو زبان لگاتے ہی ایک اور نیا ہی احساس جاگا میرے اندر۔ 

اتنا زیادہ کرنٹ اور اتنا بڑا جھٹکا مجھے لگا تھا۔ میں  حیران ہی رہ گیا۔ لیکن اس سب میں اتنا مزا آ رہا تھا کہ میں خود کو روک بھی نہیں پا رہا تھا۔ 

اور میں خود کو روکتا بھی کیوں، رینو میری تھی اور میں رینو کا۔ تو پھر کیوں نہ میں اپنی رینو کے مزے لوں اور اپنی رینو کو مزے کیوں نہ دوں۔ مجھے مزا آئے گا تو کیا میری رینو کو نہیں آئے گا۔  رینو میری زندگی بن گئی تھی اور میں اپنی زندگی کو خود میں  اتار لینا چاہتا تھا۔ رینو کے ایک ایک انگ کی خوشبو میں اپنے اندر اتار لینا چاہتا تھا۔ 

میں رینو کے اوپر جھکا ہوا رینو کے بوبز کا مزا لینے لگا۔ رینو کے بوبز کا ٹیسٹ میری زبان پر لگتے ہی میرے اندر مستی اور مزے کی لہر سی دوڑنے لگی۔ میرا پورا وجود ہی جھومنے لگا اور میرا لنڈ میرے جھکنے سے رینو کی چوت پر دبنے لگا تھا۔ میرا لنڈ رینو کی چوت پر اپنا دباؤ بڑھانے لگا۔ اور میں رینو کے بوبز کو چاٹنے میں لگا رہا۔ میں بہت ہی دھیرے دھیرے سے رینو کے بوبز پر اپنی زبان پھیرنے لگا۔ آج مجھے صحیح معنوں میں مزا آ رہا تھا۔ میں باری باری کر کے رینو کے دونوں ہی بوبز کو چاٹنے لگا۔ رینو کے بوبز بہت ہی خوبصورت تھے۔ اور میرے چاٹنے سے وہ پھولنے بھی لگے تھے۔ رینو تھوڑا سا ہلی تو میں نے سر اٹھا کر رینو کو دیکھا تو رینو بھی آنکھیں کھولے مجھے دیکھ رہی تھی۔ 

راجہ: رینو تم اٹھ گئی۔۔ 

رینو کی نیند ابھی پوری نہیں کھلی تھی۔ وہ مجھے یہ سب کرتے دیکھ کر تھوڑا حیران تو ہوئی۔ پر اس کی آنکھوں میں بھی چمک آنے لگی تھی۔ میں نے رینو کے بوبز کو چھوڑ کر رینو کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔   ایسا کرنے کے لیے مجھے رینو کے اوپر پورا ہی لیٹنا پڑا تھا۔ جس سے میرا لنڈ رینو کی چوت پر دب رہا تھا۔ رینو نے خود ہی اپنی ٹانگیں چوڑی کر دیں۔ جس سے میرا لنڈ رینو کی چوت سے ٹکراتا ہوا نیچے چلا گیا۔ میرے لنڈ کو جگہ ملتے دیکھ کر رینو نے پھر اپنی ٹانگیں بند کر لیں اور میں رینو کے ہونٹ چومنے لگا۔ 

میرے دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی۔ رینو کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے ہی مجھے بڑا اچھا لگا تھا۔ رینو کے نرم اور گرم ہونٹ مجھے بہت بھلے لگے تھے۔ رینو کے خشک ہونٹ میرے ہونٹوں کے لگتے ہی گیلے ہونے لگے۔ اور رینو نے میرے سر کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانی شروع کر دیں۔ 

کچھ ہی دیر میں رینو بھی مجھے کس کرنے لگی۔ کس کرتے کرتے رینو گرم ہونے لگی اور میرے ہونٹوں کو تھوڑا سختی سے چوسنے لگ گئی۔ رینو نے میرے سر کے بالوں کو بھی کس کے پکڑ لیا تھا اور اپنی ٹانگوں سے بھی میرے لنڈ کو اچھی طرح سے دبا دیا۔ میرے ہونٹ اور میرا لنڈ رینو کے شکنجے میں پھنس چکے تھے۔ مزا تو میں لینے والا تھا لیکن رینو گرم ہو کر بازی خود اپنے ہاتھ میں لے چکی تھی۔ رینو کبھی میرے اوپر والے ہونٹ کو چوستی اور کبھی نیچے والے ہونٹ کو۔ کچھ منٹ تک ہم ایسے ہی کس کرتے رہے اور ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس پیتے رہے۔

جب سانس اکھڑنے لگی تو ہم الگ ہو گئے۔ رینو اور میری سانس پھول گئی تھی۔ اور دونوں ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے لمبی لمبی سانس لینے لگے۔ دو منٹ لگے ہمیں ریلیکس ہونے میں۔ 

راجہ: رینو، سچ میں ہی ہونٹوں کو چومنے اور چوسنے میں بڑا مزا ہے۔ 

رینو: آیا نا مزا راجہ، راجہ مجھے بھی کل اسی طرح سے بڑا مزا آیا تھا۔ 

راجہ: ہاں رینو اب تو میں روز ہی ایسے کیا کروں گا۔ بڑا مزا آتا ہے تمہارے نرم نرم ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیتے ہی۔ 

رینو: راجہ، تم نے میری قمیض کے بٹن کیوں کھولے ہیں؟ 

راجہ: رینو میری جان، میرا دل کیا میں اپنی رینو کا سب کچھ دیکھ لوں، تو اسی لیے میں نے تمہاری قمیض کے بٹن کھول دیے۔ کیسا لگا تمہیں یہ سب؟ 

رینو: راجہ، تم کچھ بھی کرو مجھے تو اچھا ہی لگے گا۔ میرا سب کچھ تو تمہارا ہی ہے۔ 

راجہ: رینو، اور کروں؟ 

رینو: ہاں راجہ، اور کرو، اس طرح سے تو مجھے کل سے بھی زیادہ مزا آیا ہے۔ 

راجہ: سچ میں رینو؟ 

رینو: ہاں راجہ، سچ میں تمہارے زبان لگنے سے مجھے بہت مزا آیا۔ ایک بار اور کرو نا راجہ۔ تم بہت اچھے سے کرتے ہو۔ 

راجہ: رینو، میں کیا اچھے سے کرتا ہوں؟ 

رینو: راجہ۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ وہ۔۔ جو تم کر رہے تھے۔ 

راجہ: رینو، اب بھی شرم آ رہی ہے؟ 

رینو: ہاں راجہ۔ مجھے پھر سے شرم آ رہی ہے۔ 

راجہ: اچھا ٹھیک ہے، میں پھر سے تمہارے دودھ کو اپنے ہونٹوں میں لیتا ہوں۔ 

رینو: ہاں راجہ، جلدی سے لو اپنے ہونٹوں میں۔ 

میں نے رینو کو دیکھا اور مسکراتے ہوئے پھر سے رینو کے بوبز پر جھک گیا۔ رینو اپنے بوبز اور نپل پر میرے ہونٹوں کو پاتے ہی مزے میں آنے لگی۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page