Talash E Zeest-41-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 41

رینو: راجہ، ایسے ہی دھیرے دھیرے سے چاٹو۔ راجہ، تمہاری زبان بہت ہی گرم ہے۔ بڑا اچھا لگ رہا ہے۔ 

میں رینو کے مموں کو باری باری چاٹنے لگا۔ ہمیں کوئی جلدی نہیں تھی۔ میں رینو کے دونوں ہی بوبز کو اچھے سے فیل کر کے چاٹ رہا تھا۔ اور رینو کے بوبز اور نپل کی خوشبو اور ٹیسٹ کو اپنے اندر اتار رہا تھا۔ جب میرے ہونٹ رینو کے دونوں نپل کو لگتے تو ہم دونوں کے ہی جسم کے کرنٹ سا دوڑنے لگتا تھا۔ 

رینو کو اور مجھے بھی بہت زیادہ مزا آ رہا تھا۔ رینو کے بوبز فل پھول چکے تھے اور رینو کے دونوں ہی نپل کسی بیر کی طرح سے اکڑ کر گول ہو گئے تھے۔ بہت ہی بھلے لگ رہے تھے رینو کے بوبز پر کھڑے ہوئے نپل۔ رینو کے ہاتھ میرے سر پر سخت ہونے لگے اور رینو میرے سر کو اپنے دودھ پر دبانے لگی۔ 

رینو سسکیاں لینے لگی۔ ہہہہہہہہہہ۔۔ راجہ۔۔ سیییییییییی۔۔ راجہ۔۔ تھوڑا تیز اور دبا کے چوسو۔۔ اب چاٹو مت۔۔ اب مجھ سے رہا نہیں جا رہا۔۔ 

رینو کی بات سن کر میں نے رینو کے نپل اپنے منہ میں لے لیے اور انہیں پینے لگا۔ میری زبان اندر ہی رینو کے نپل پر چلنے لگی۔ رینو کی بے چینی بڑھنے لگی اور رینو میرے سر کو اور بھی زور سے اپنے دودھ پر دبانے لگی۔ رینو اپنی ٹانگوں سے میرے لنڈ کا کچومر بنائے ہوئے تھی۔ رینو نے بہت ہی سختی سے میرے لنڈ کو دبوچا ہوا تھا۔ میرا لنڈ ایک طرح سے رینو کی چوت کے پاس رینو کی ٹانگوں میں پھنس چکا تھا۔ میں اسے ہلا بھی نہیں پا رہا تھا۔ 

رینو کی سختی بڑھنے لگی اور رینو کی سسکیاں تیز ہونے لگیں۔ رینو کا جسم بھی جھٹکے کھانے لگا۔ اور رینو اپنی گانڈ کو اوپر اٹھا کر میرے سر کو اپنے بوبز پر دبا رہی تھی۔ رینو کی سانس بہت تیز اور گرم ہو چکی تھی۔ 

رینو کے بوبز بیلون کے جیسے سخت ہو گئے تھے۔ ایک سوئی ماری اور پٹاخہ۔ جیسے غبارہ پھٹ جاتا ہے۔ کہیں رینو کے بوبز بھی نہ پھٹ جائیں۔ 

لیکن رینو کے بوبز اور نپل میرے منہ میں تھے، اس سے پہلے کہ وہ پھٹتے رینو نے ایک بڑا جھٹکا لیا اور پھر رینو کی گانڈ بھی ایک جھٹکے میں بیڈ پر آ کے لگ گئی۔ رینو کی چوت نے پانی چھوڑ دیا تھا۔ 

میں رینو کو دیکھنے لگا۔ رینو کا چہرہ لال ہو گیا تھا۔ رینو کی سانس بہت تیز چل رہی تھی۔ اور رینو اپنی آنکھیں بند کیے خود کو ریلیکس کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ میرے من میں کچھ آیا۔ کل رینو نے میرے لنڈ کے پانی کو سونگھا تھا۔ آج میں بھی کر کے دیکھتا ہوں کہ    رینو کی چوت کے پانی کی خوشبو کیسی ہے۔ رینو میری تھی اور مجھے رینو کی ہر بات کا، ہر ایک چیز کا پتا ہونا چاہیے۔ 

یہی سوچتے ہوئے میں نے رینو کو دیکھا اور پھر پیچھے ہٹ کر رینو کی قمیض کو اوپر کر کے رینو کی شلوار کی ڈوری کھولنے لگا۔ رینو تھوڑا سا ہلی، میں رینو کو دیکھے بغیر ہی رینو کی شلوار کی ڈوری کھولنے لگا۔ رینو کی چوت کا پانی کہیں جا کے غائب نہ ہو جائے، مجھے اس سے پہلے ہی رینو کی چوت کا پانی چیک کرنا تھا۔ شلوار کھول کر میں نے رینو کے پیروں کو فولڈ کیا، رینو تو اپنی سانس کو ٹھیک کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ رینو نے کچھ نہیں کہا مجھے۔ رینو کے پیر فولڈ ہوئے تو میں نے رینو کی شلوار کو سائیڈ سے پکڑ کر نیچے کرنے لگا۔ لیکن رینو کی گانڈ کی وجہ سے وہ نیچے نہیں ہوئی۔ رینو کی شلوار رینو کے چوتڑوں کے نیچے دبی ہوئی تھی۔ 

میں نے رینو کو گھٹنوں سے پکڑ کر ایک ہاتھ سے رینو کی شلوار کو رینو کے چوتڑوں سے ہٹا دیا۔ شلوار ہٹتے ہی میں نے رینو کی گانڈ کو بیڈ سے لگایا اور پھر رینو کی شلوار کو پورا ہی رینو کی ٹانگوں سے نکال دیا۔ شلوار میں نے بیڈ پر ایک سائیڈ رکھ دی۔ اور رینو کو دیکھنے لگا۔ رینو مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ رینو کی آنکھوں میں ایک سکون تھا۔ ایک خوشی تھی۔ ایک چمک تھی۔ ایک بھرم تھا۔ ایک چاہت تھی۔ ایک والہانہ پن تھا۔ رینو پیار بھرے انداز میں مجھے نہار رہی تھی۔ ہمارا پیار بےشمار تھا۔ 

میں نے رینو کی آنکھوں میں دیکھ کر پھر سے رینو کی چوت کو دیکھنے لگا۔ لیکن مجھے رینو کی چوت نہیں دکھی۔  میں نے رینو کے پیروں کو پورا ہی کھول دیا۔ رینو کی چوت بالوں میں چھپی ہوئی تھی۔ اور رینو کی چوت کے بال رینو کی چوت کے پانی سے بھیگے ہوئے چمک رہے تھے۔ میں نے رینو کو دیکھا۔ رینو مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔ لیکن اس بار رینو کی آنکھوں میں شرم بہت آ گئی تھی۔ اس نے مجھے اپنی چوت کو دیکھتے ہوئے جو دیکھ لیا تھا۔ رینو نے اپنی آنکھوں پر اپنا ایک ہاتھ رکھ لیا۔ میں نے ہاتھ آگے بڑھایا اور رینو کی چوت پر رکھ دیا۔ رینو کو ایک جھٹکا لگا۔ جھٹکا تو مجھے بھی لگا تھا۔ میں اپنی انگلیوں کو رینو کی چوت پر چلانے لگا۔ میری انگلیاں رینو کی چوت کے پانی سے گیلی ہونے لگیں۔ مجھے میرے دل نے کچھ کہا اور میں دل کی مانتے ہوئے رینو کو چوتڑوں سے پکڑا اور رینو کے چوتڑوں کو اٹھا کر اوپر کرنے لگا۔ میں  اپنا چہرہ بھی رینو کی چوت کے پاس لے جانے لگا۔ رینو کو بہت زیادہ شرم آ رہی تھی۔ لیکن وہ کچھ بولی نہیں۔ 

جیسے جیسے میرا چہرہ رینو کی چوت کے پاس آنے لگا۔ مجھے ایک الگ قسم کی بو آنے لگی۔  میں اور بھی رینو کی چوت کے پاس ہونے لگا۔ میں اتنا پاس آ گیا کہ رینو کی چوت مجھ سے تین انچ کے فاصلے پر آ گئی تھی۔ رینو کی چوت سے بھینی بھینی سی خوشبو آنے لگی۔ میرا دل مچلنے لگا رینو کی چوت کی خوشبو سے۔ میں اور بھی پاس ہونے لگا۔ اور پھر رینو کی بالوں بھری چوت پر اپنی ناک کو رکھ کر بو کو سونگھنے لگا۔ 

رینو میرے ایسا کرنے سے ہل سی گئی۔ ایک تو وہ پہلے ہی اپنی اٹھی ہوئی چوت کی دیکھ کر بیڈ میں گڑی جا رہی تھی۔ اس پر سے میں نے رینو کی چوت پر اپنی ناک رکھ دی تھی۔ میں تیز سانس لینے لگا، جس سے مجھے تو مزا آنا ہی تھا۔ میری گرم سانس رینو اپنی چوت پر لگنے سے  وہ  پھر سے بے چین ہونے لگی۔ 

رینو کے ہر انگ کا الگ ہی مزا تھا۔ رینو کے بوبز کو پکڑ کر مسلنا، رینو کے بوبز کو اور پھر نپل کو چاٹنا، چوسنا اور پھر رینو کے ہونٹوں کو چومنا اور چاٹنا۔ رینو کے گالوں کا بھی ایک الگ ہی مزا تھا۔ لیکن رینو کی چوت کی خوشبو کی بات ہی سب سے الگ تھی۔ رینو کی چوت کی خوشبو مجھے پاگل سا بنانے لگی۔ رینو کی چوت کی عجیب سی خوشبو میرے اندر اترنے لگی۔ چوت کی خوشبو میرے اندر اتر کر مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے جانے لگی۔ میری مدہوشی بڑھنے لگی۔ اور پھر میری ناک رینو کی چوت سے جا ٹکرائی۔ مجھے اور بھی مزا آنے لگا۔ رینو کی بالوں بھری نرم اور گیلی چوت مجھے مزے تو دے ہی رہی تھی۔ لیکن میری بے چینی کو بہت بڑھا دیا تھا رینو کی چوت نے۔ مجھ سے رہا نہیں گیا اور پھر میں رینو کی چوت کو سونگتے ہوئے ہی رینو کی چوت کے اندر اپنی ناک کو رگڑنے لگا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page