کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول
۔۔تلاشِ زِیست۔۔
خود کی تلاش میں سرگرداں ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم لوگوں کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور لوگوں کے ظلم کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں کے لیئے وہ زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف
نوٹ : ـــــــــ اس طرح کی کہانیاں آپ بیتیاں اور داستانین صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی تفریح فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے دھرایا جارہا ہے کہ یہ کہانی بھی صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔
تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
تلاشِ زِیست قسط - 43
میں رینو کے ساتھ کسی جنگل میں یا بیچ سمندر میں ہی ٹھیک تھا۔ مجھے رینو کو لے کے انسانوں کے بیچ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔ سنجے کو زندہ بچا کر مجھ سے بہت بڑی بھول ہو گئی تھی۔ سنجے بیچ راستے میں ہی مر جاتا تو اچھا تھا۔ مجھے کسی کی مدد کرنا بہت بھاری پڑا۔ میری زندگی رینو کو ہی مجھ سے چھین لیا گیا۔
کسی کے ساتھ بھلا کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے کہ بھلا کر کے بھی کہیں الٹا تمہارا نقصان نہ ہو جائے۔ رینو کی بے پناہ خوبصورتی رینو کو لے ڈوبی۔ سنجے کی مدد نے ہم دونوں کو ہی ان گنت زخم دے دیے۔
٭٭٭٭٭
ایک ماہ بعد
لوکیشن: ممبئی
شام ہونے میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ ایک بہت بڑی کوٹھی کے لان میں موور مشین سے گھاس کاٹتے ہوئے مجھے دو گھنٹے ہو گئے تھے۔ گھاس تو اتنی تھی نہیں، لیکن پھر بھی مجھے اسی کام پر لگایا گیا تھا۔ اور جس کام پر مجھے لگایا جاتا، اسے کرنا میری مجبوری بن جاتی تھی۔ میرے پاس اس کوٹھی کے مالک کا کہنا ماننے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ موور مشین سے گھاس کاٹنے میں ایک نارمل انسان کو اگر آدھا گھنٹہ لگتا ہے، تو مجھے اتنی ہی گھاس کاٹنے کے لیے تین گھنٹے لگ جاتے تھے۔
حیرانی والی بات ہے نا۔ آدھے گھنٹے کا کام مجھے کرنے میں تین گھنٹے کیوں لگ جاتے ہیں؟ جب کہ میں تو کئی لوگوں سے بڑھ کر سخت کام کرتا رہا ہوں۔ بہت سٹیمنا ہے مجھ میں۔ پاور بھی مجھ میں دو مردوں جتنی ہے۔
اس کی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔
پچھلے اٹھائیس دنوں سے میرے دونوں ہی ہاتھوں کو مٹھی بنا کر چمڑے سے باندھا ہوا تھا۔ میں نہ تو اپنی مٹھی کھول سکتا تھا اور نہ ہی پچھلے اٹھائیس دنوں میں میں نے اپنی انگلیوں کو کوئی حرکت دی تھی۔ میری مٹھیوں کو چمڑے کی مدد سے باندھ کر کلائی کے پاس سے لاک کر دیا گیا تھا۔ مجھے ایسے ہی سب کام کرنے پڑ رہے تھے۔
بند مٹھیوں کی وجہ سے بہنے والے پسینے کو نکلنے کے لیے چمڑے میں ہی چھوٹے چھوٹے سوراخ کیے گئے تھے۔ پسینہ تو مجھے اپنی مٹھیوں میں بہت آ رہا تھا۔ اس کی اتنی پریشانی نہیں تھی۔ اگر پسینہ نہ نکلتا تو میرے ہاتھ کی انگلیاں ہی بیکار ہو چکی ہوتیں۔
یا شاید بیکار ہو بھی چکی ہوں۔ پچھلے اٹھائیس دنوں میں میں نے اپنی انگلیوں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا بھی تو نہیں تھا۔
باتھ روم یوز کرنا ہو یا کھانا، کھانا ہو مجھے ایسی ہی حالت میں سب کرنا پڑ رہا تھا۔
اسی بلڈنگ کے دوسرے فلور کی ایک کھڑکی سے رینو مجھے دیکھ کر آنسو بہا رہی تھی۔ رینو کی شادی ہوئے بھی اٹھائیس دن ہو گئے تھے۔
رینو کی شادی میری ہی آنکھوں کے سامنے سنجے کی بہن کے دیور سے ہوئی تھی۔ لیکن میں یا رینو اس شادی کو روک نہیں پائے تھے۔
آئی لینڈ کے قید خانے سے بھاگتے ہوئے میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی میں کبھی کوئی ایسا موڑ بھی آئے گا۔ کتنے رنگ بدل لیے تھے میری زندگی نے ان تھوڑے سے دنوں میں۔
رینو میری زندگی میں میری ہی زندگی بن کر آ گئی تھی۔ رینو کی وجہ سے مجھے میری ہی زندگی بڑی حسین لگنے لگی تھی۔
رینو کو مجھ سے چھین کر میری زندگی کو جہنم بنا دیا گیا تھا۔ میری رینو ایک کھلونا بن کر رہ گئی تھی۔ رینو میری زندگی بچانے کے لیے اس شادی پر تیار ہو گئی تھی۔ رینو اگر شادی نہ کرتی تو آج مجھے مرے ہوئے ایک مہینہ بیت چکا ہوتا۔ رینو نے خود کا سب کچھ مجھ پر قربان کر دیا تھا۔
رینو کھڑکی پر کھڑی ہوئی مجھے دیکھ کر آنسو بہا رہی تھی۔ اور میری آنکھیں بس رینو کو دیکھ رہی تھیں۔ میری آنکھیں تو اسی دن ہی خشک ہو گئی تھیں جس دن رینو کو مجھ سے چھین لیا گیا تھا۔ رینو کو دیکھنا میری روٹین میں شامل تھا۔
کچھ تو دل کو چین ملے۔ بھلے ہی رینو کسی اور کی ہو گئی تھی۔ رینو کے بغیر میں جیتا ہی نہیں تھا۔ رینو تو میری سانس تھی، رینو کی آس مجھے ہر دم تھی، بس مجھے ایک موقع چاہیے تھا، پھر میں رینو کو لے کر دنیا کے کسی حصے میں گم ہو جاؤں گا۔ مجھے اس پوری دنیا میں صرف رینو ہی درکار تھی۔ باقی کسی اور چیز سے کوئی مطلب نہیں تھا۔
میں رینو کو دیکھنے میں مگن تھا کہ مجھے کوٹھی میں کسی گاڑی کے آنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو مجھے گاڑی سے سنجے اترتا ہوا دکھا۔
سنجے نے بھی مجھے دیکھا اور پھر چلتا ہوا میرے پاس ہی آنے لگا۔
سنجے کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آگ سی دہکنے لگی۔ سنجے کو بچانا میری کتنی بڑی غلطی بن گئی تھی۔
سنجے کچھ ہی دیر میں میرے پاس پہنچا۔ سنجے کے چہرے پر شرمندگی تھی۔ لیکن اتنی بھی نہیں جتنی ہونی چاہیے تھی۔ سنجے کی جان بچانے کے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ کیسے کیسے حالات سے گزر کر میں نے سنجے کو نہیں بچایا تھا۔ لیکن مجھے کیا ملا، ایک خوشی تھی میری زندگی میں وہ بھی مجھ سے چھین لی سنجے کے گھٹیا خاندان نے۔
سنجے نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر میری آگ اگلتی ہوئی آنکھوں کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور اپنی آنکھیں سائیڈ میں کر لیں۔
سنجے: (دھیمی آواز میں) راجہ، جو کچھ بھی ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ مجھے کسی بھی بات کا پتا تک نہیں تھا۔ ورنہ میں کبھی بھی ایسا ہونے نہ دیتا۔ مگر اب سب کچھ بدل چکا ہے، اس لیے میں چاہوں گا کہ تم بھی یہ سب بھول جاؤ اور ایک نئی زندگی شروع کرو۔ میں اس میں تمہاری مدد کروں گا۔ جتنا بھی پیسہ لگے گا تمہاری لائف کو بنانے میں، وہ میں لگا دوں گا، ہمارے لیے پیسہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ تم نے میری زندگی بچا کر مجھ پر احسان کیا ہے۔ لیکن اب رینو ہمارے خاندان کی عزت بن چکی ہے۔ رینو اب میری بہن کی دیورانی بن چکی ہے۔ اس لیے میں رینو کے بارے میں تم سے کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا۔
سنجے نے ایک بار پھر سے میری آنکھوں میں دیکھا، اور پھر سے نظریں چُرا کر آگے بولا۔
سنجے: دیکھو راجہ، ہونی کو تو کوئی ٹال نہیں سکتا، جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اور ویسے بھی رینو جیسی لڑکی کے لیے تم کچھ کر بھی تو نہیں سکتے تھے۔ رینو یہاں اس کوٹھی میں کسی رانی کے جیسی رہ رہی ہے۔ کیا تم رینو کو یہ سب دے سکتے تھے؟ نہیں نا، تم رینو کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ تم ساری زندگی ایک مزدور ہی رہے ہو۔ رینو کو یہاں ایک رانی کے جیسے ہی سب کچھ مل رہا ہے۔ اور اَخیل بھی رینو سے برا برتاؤ نہیں کرتا ہے۔ اَخیل نے غلط کیا ہے رینو کے ساتھ اور تمہارے ساتھ۔ لیکن تم دیکھو پھر بھی اَخیل نے رینو کے ساتھ کبھی بھی زبردستی نہیں کی۔ جتنا وہ پاورفل ہے، وہ رینو کو شادی کے بغیر بھی اپنے پاس رکھ سکتا تھا، اور تم اَخیل کو ایسا کرنے سے روک بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ مجھے تمہارا بھی احساس ہے، یہاں بات میری بہن کے سسرال کی بھی ہے، اور میں اپنی بہن کو دکھی نہیں دیکھ سکتا۔ اور نہ ہی اپنی بہن کامرتبہ کم ہوتا ہوا دیکھ سکتا ہوں۔ تم اس ایک مہینے میں کئی بار میری بہن سے برا برتاؤ کر چکے ہو۔ میں اب اس بارے تم سے کچھ نہیں کہوں گا۔
اگلی قسط بہت جلد
مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
Lust–50–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025 -
Lust–49–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025 -
Lust–48–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025 -
Lust–47–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025 -
Lust–46–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025 -
Lust–45–ہوس قسط نمبر
October 7, 2025