Talash E Zeest-44-تلاشِ زِیست

تلاشِ زِیست

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کا ایک اور شاہکا رناول

۔۔تلاشِ زِیست۔۔

خود کی تلاش میں سرگرداں  ایک شعلہ جوالا کی سنسنی خیز کہانی، جہاں بدلہ، محبت، اور دھوکہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔   جنسی کھیل اور جنسی جذبات کی ترجمانی کرتی ایک گرم  تحریر۔ایک سادہ دل انسان کی کہانی جس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا کہ وہ اُس کا بیٹا نہیں ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اُس کی زندگی دنیا والوں نے جہنم بنادی۔ جب وہ اپنا علاقہ چھوڑ کر بھاگا تو اغوا ہوکر ایک جزیرے میں پہنچ گیا ، اور جب وہاں سے بھاگا تو دنیا  کے زہریلے لوگ اُس کے پیچھے پڑگئے اور ان ظالم  لوگوں  کے ساتھ وہ لڑنے لگا، اپنی محبوبہ کو بچانے کی جنگ ۔طاقت ور  لوگوں کے ظلم   کے خلاف۔ ان فرعون صفت لوگوں  کے لیئے وہ  زہریلا فائٹر بن گیا اور انتقام کی آگ میں جلتے  ہوئے اپنی دہشت چھوڑتا گیا۔ دوستوں کا  سچا دوست جن کے لیئے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔ ۔۔تو چلو چلتے ہیں کہانی کی طرف

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

تلاشِ زِیست قسط - 44

میں یہاں (چمڑے میں قید میری مٹھیوں کو دیکھتے ہوئے بولا) یہ سب ختم کرنے آیا ہوں۔ میں چاہتا ہوں تم یہاں سے آزاد ہو جاؤ۔ تم ممبئی کو چھوڑ دو اور ایک اچھی زندگی شروع کرو، رینو اب تمہاری زندگی سے جا چکی ہے۔ اچھا ہوگا تم بھی رینو کو بھول جاؤ۔ 

راجہ: سنجے، مجھے میری زندگی کیسے جینی ہے مجھے تم سے صلاح لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور تم جن پیسوں کا گھمنڈ کر رہے ہو، میں تھوکتا ہوں ،تم سب پر اور تمہارے گھٹیا پیسوں پر۔ جس پیسے کا تمہیں اور تمہاری بہن کو گھمنڈ ہے وہ پیسہ بھی ہمیشہ  تم لوگوں کے پاس نہیں رہنے والا، اور رہی بات رینو کی تو رینو صرف میری ہے، اور تم یا تمہارے خاندان کے کسی کتے میں اتنا دم نہیں جو مجھے میری رینو سے الگ کر سکے۔ 

سنجے: دیکھو راجہ، میرے خاندان کو گالی مت دو، میں یہاں آرام سے بات کرنے آیا ہوں۔ اور تم ایسے بیہودہ الفاظ اپنی زبان پر لا رہے ہو۔ میں مانتا ہوں کہ تم نے مجھے بچا کر مجھ پر اور میرے خاندان پر احسان کیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم کچھ بھی بکتے رہو۔ 

راجہ: لگی نا آگ دل میں، مجھے بھی تو ایک مہینے سے اسی طرح جلایا جا رہا ہے۔ جس آگ کو میرے اندر بھڑکایا گیا ہے، اسی میں اب تم سب کو تو جلنا ہی پڑے گا۔ سنجے، فی الحال میں مجبور ہوں، جس دن مجھے موقع ملا، اس دن دیکھنا وہ دن قیامت کا دن  ہوگا، اور تم اپنے جس خاندان کے اونچا ہونے کا بھرم رکھے ہوئے ہو، میں اس کا نام و نشان ہی مٹا دوں گا۔ 

“میں نے کہا تھا نا تم سے سنجے، تم نے یہ کتے کی دم ہے، کبھی سیدھی نہیں ہوگی۔” 

میں نے دیکھا تو سنجے کی بڑی بہن دیپتی ہماری ہی طرف آ رہی تھی۔ اور آتے ہوئے اپنا وہی غرور دکھا رہی تھی۔ 

سنجے: دیدی، کیسی ہیں آپ؟ 

دیپتی: بھائی، میں ٹھیک ہوں، تم کب آئے؟ 

سنجے: دیدی، ابھی ہی آیا ہوں۔ 

دیپتی: سنجے، تم اس کتے کے پاس کیا کر رہے ہو؟ کیوں اپنا منہ خراب کر رہے ہو اس سے بات کر کے؟ 

میں سنجے کی بہن دیپتی کو غصے سے دیکھنے لگا۔ اس نے بھی بڑا زور لگایا تھا اپنے دیور سے رینو کی شادی کرانے کے لیے۔ میری رینو کو مجھ سے دور کرنے کے لیے دیپتی کا بڑا رول تھا۔ اور میں اس حرام زادی کا وہ حشر کروں گا کہ دنیا یاد کرے گی۔ 

راجہ: میں کتا ہوں، کوئی بات نہیں۔ ایک دن یہی کتا تجھے کتیا بنا کے چودے گا۔ اور تو روتی ہوئی مجھ سے معافی مانگے گی۔ تیری چوت اور گانڈ کو پھاڑ کر نہ رکھ دیا تو میرا نام بھی راجہ نہیں۔ 

سنجے: (چیختا ہوا) راجہ! تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہن سے ایسی بات کرنے کی؟ حرامی سالے، دو کوڑی کا ہو کر میری بہن سے ایسی بات کرتا ہے۔ میں تو یہاں تجھے آزاد کرانے آیا تھا۔ لیکن سچ میں ہی تم اس قابل نہیں ہو۔ پھر سے میری بہن کے بارے  میں ایسا بولا تو میں تیرا منہ توڑ دوں گا۔ 

راجہ: کیوں؟ تمہاری بہن کوئی حور پری ہے، جو یہ سب نہیں سن سکتی؟ بہت بڑی کتیا ہے تمہاری بہن۔ جیسا برتاؤ تمہاری بہن نے کیا ہے، وہ اسی قابل ہے۔ کسی کتیا سے کم تو ہے نہیں۔ اور تم، تم میرا اور کیا اکھاڑ لو گے؟ میری زندگی تو مجھ سے چھین ہی لی ہے۔ اور جس جس نے مجھے میری زندگی سے دور کیا ہے، برباد تو اسے ہونا ہی پڑے گا۔ اور تم بھی بہت اچھے سے جانتے ہو مجھے۔ جانتے ہو یا نہیں؟ میں جو ایک بار ٹھان لوں، وہ کر کے ہی چھوڑتا ہوں۔ اسی طرح نہیں تم زندہ اپنے گھر میں ہو۔ دیپتی تو چدے گی ہی میرے لنڈ سے۔ اور تو کچھ نہیں کر پائے گا۔ بڑا گھمنڈ ہے نا تیری اس بہن کو خود پر۔ سارا کا سارا گھمنڈ اس کی گانڈ پھاڑ کے نہ نکالا تو تم میرا نام بدل دینا۔ 

سنجے کے لیے میری باتیں ہضم کرنا ممکن نہیں رہا اور غصے میں پاگل ہو کر مجھ پر جھپٹ پڑا۔ 

سنجے: سالے، حرامی، کتے، لاوارث، تیری ماں نے نجانے کہاں کہاں منہ مار کر تجھے پیدا کیا ہوگا۔ اور تو میری بہن کے بارے میں ایسی گھٹیا  باتیں بولتا ہے۔ پہلے خود کو تو ڈھونڈ لے۔ تیرا باپ کون ہے، سالا حرامی۔ 

سنجے نے سب بول کر خود کے خاندان کے اعلیٰ ہونے کا ثبوت دے دیا تھا۔ مجھے سنجے کی اس بات کا غصہ نہیں آیا تھا۔ رینو کو مجھ سے چھین کر مجھے سنجے کے پورے خاندان کا اور سنجے کے خاندانی خون کا پتا چل گیا تھا۔ 

سنجے غصے سے پاگل ہو کر مجھے لاتوں اور گھونسوں سے مارنے لگا۔ میرا چہرہ سنجے کے پڑنے والے گھونسوں سے خون اگلنے لگا۔ لیکن مجھے اس خون یا درد کی کیا پروا ہو سکتی تھی۔ اصل زخم تو سب نے میرے دل پر لگا دیے تھے۔ 

رینو اوپر کھڑی ہوئی مجھے مار کھاتے دیکھ کر اور بھی رونے لگی۔ لیکن میری کوئی بھی مدد کرنے کی رینو کو اجازت نہیں تھی۔ ورنہ میرا حشر اور بھی برا ہوتا۔ 

سنجے مجھے گالیاں بھی بکتا رہا اور مجھے لاتوں اور مکوں سے بھی مارتا رہا۔ شور کی آواز سے اَخیل بھی لان میں آ گیا۔ اس نے دیکھا کہ سنجے مجھے مار رہا ہے۔ 

اَخیل: واہ سنجے، کیا بات ہے۔ اپنے ہی دوست کو مار رہے ہو۔ آئی لائیک اٹ۔ لیکن رینو کے عاشق کو مارنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا اسپیشل ٹریٹمنٹ ہی اس کے لیے کافی ہے۔ 

اَخیل کی بات سن کے رینو سے اور برداشت نہیں ہوا، اور وہ کھڑکی سے ہٹ کے بیڈ پر گر گئی اور تکیے پر منہ ڈال کے بے آواز رونے لگی۔ وہ جان گئی تھی اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ 

اَخیل جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا، میرے جسم کو جھٹکے لگنے لگے تھے۔ میرے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ میری چیخیں اَخیل کی کوٹھی کے لان میں گونجنے لگیں۔ 

اَخیل مجھ سے دس فٹ کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا تھا۔ 

اَخیل: دیکھا سنجے، رینو کے عاشق کا انجام، اس کے لیے ایسی ہی سزا صحیح ہے۔ اس کی یہی اکڑ نکالنے کے لیے تو میں نے اسے اپنی کوٹھی میں پالتو کتا بنا کر رکھا ہوا ہے۔ اور ایسے کتے مجھے بہت پسند ہیں، جو جلدی ہی قابو میں نہیں آتے۔ تم دیکھنا سنجے، بہت جلد یہ میرے اور بھابھی کے پیروں میں گر کر اپنی زندگی کی بھیک مانگے گا۔ 

اَخیل ایک کمینی مسکراہٹ سے ہنستا ہوا بولا۔ سنجے کی بہن جو اَخیل کی بھابھی تھی، اَخیل کی بات سن کر ہنسنے لگی۔ 

دیپتی: اَخیل، تم نے بالکل صحیح کیا ہے اس کتے کے ساتھ۔ اس کا ایسا ہی حال ہونا چاہیے۔ بہت بولتا ہے یہ۔ جب تک یہ میرے پیروں میں گر کر معافی نہ مانگ لے،  اس کی یہ سزا ختم  نہیں کی جا سکتی۔ 

اَخیل: ارے میری پیاری بھابھی جان۔ آپ فکر  کیوں کرتی ہیں۔ آپ کا دیور آپ کے لیے کچھ بھی کرے گا۔ آخر آپ میرے پیارے بھیا کی پیاری پتنی جو ہیں۔ اور پھر آپ نے بھی تو رینو سے میری شادی میں مدد کی ہے۔ آپ میرا خیال کریں گی تو کیا میں آپ کا خیال نہیں کروں گا۔ 

اگلی قسط بہت جلد 

مزید کہانیوں کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page