The essence of relationships –17– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ  کہانی بھی  آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 17

 ماہم بولی۔:۔ ایسا تو مت کہو میں یہ نہیں لے سکتی تمہیں پتہ ہے ناں۔۔

 ثمرین بولی:۔ مجھے کچھ نہیں سننا یہ تو تمہیں لینے ہی  پڑیں گے۔۔

 ماہم بولی:۔ انٹی اسے کہو نہ کہ میں یہ نہیں لے سکتی ۔۔اپ لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ وکی نے انجانے میں میری بہت مدد کی ہے ۔۔ان لوگوں نے میری زندگی برباد کر دی تھی۔۔ وکی نے تو مجھے میری زندگی واپس دی ہے تو مہربانی کریں اور مجھ پر یہ زبردستی نہ کریں ۔۔

اتنا کہنے کے ساتھ ہی ماہم جذباتی ہو گئی تھی اور اس کی آنکھوں سے انسو بھی نکلنے لگے۔۔

چاچی اس کے پاس ہی کھڑی تھی چاچی نے ماہم کو گلے لگا کر اس کو حوصلہ دیتے ہوۓ  بولی: چپ ہو جا ایک دم چپ میں جانتی نہیں تھی مجھے معاف کر دے۔۔

ماہم بولی۔: اپ ایسا تو نہ کہو انٹی۔

ثمرین بولی:۔ اب چپ ہو جا میری بنو مجھے سب پتہ ہے ۔۔اس لیے تو سب سامان تمہارے پاس ہی چھوڑ گئی تھی۔۔ وہاں الماری میں لگتا ہے تو نے دیکھا تک نہیں۔

ماہم بولی:۔ میں نے تو نہیں دیکھا کیا رکھا تھا تم نے ۔۔

ثمرین بولی۔: تمہارے لیے سرپرائز ہے تم خود ہی دیکھ لو اسے اؤ چاچی وکی کے پاس چلتے ہیں جو وہاں اکیلے بور ہو رہا ہوگا۔۔

فریال ثمرین سے۔۔ ثمرین تم بتاؤ کیا ہوا تھا ماہم کے ساتھ پھر ثمرین نے فریال کو بتایا کہ جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا تھا ۔۔وہ سب ماہم کے ساتھ ہو چکا ہے یہ تو خودکشی کرنے والی تھی پھر اپنی ماں باپ کی وجہ سے رک گئی۔۔  کالج میں سب سے ذہین اور قابل لڑکی تھی  لیکن یہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔۔۔ ان لوگوں نے اس کی  بھی ویڈیو بنائی  اور پھر اسے بلیک میل کر کے اس کے ساتھ وہ سب کیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔

فریال ( شاکڈ) کیا:۔ ماہم اتنی بڑی اذیت سے گزری ہے

ثمرین بولی:۔ . اکیلی ماہم اور میں ہی نہیں اور بھی بہت سی کالج کی لڑکیاں ان درندوں کا شکار بنی تھیں۔ ۔۔ اب بہت سی لڑکیاں اس مصیبت سے ازاد ہو جائیں گے اپنے وکی کی وجہ سے۔۔۔

فریال بولی۔۔:وکی اتنا بہادر ہے میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔ ویسے اس سامان میں کیا ہے جو تم نے ماہم کو دیا ہے۔۔

ثمرین بولی۔۔۔ چاچی اس میں ایک لیپ ٹاپ اور پانچ موبائل ہیں جن میں وہ ویڈیو بھی ہیں۔۔ جس سے یہ لوگ سب کو بلیک میل کرتے تھے۔

فریال بولی۔۔۔ تمہیں کیسے پتہ اور تمہیں یہ سب کہاں سے ملا

ثمرین بولی۔۔۔ جب ہم وہاں سے نکل رہے تھے تو وکی نے انہیں اٹھایا تھا اور سنبھال کر رکھنے کو کہا تھا۔۔

 فریال بولی۔: وکی اتنا سمجھدار کیسے ہو گیا۔۔ میں تو اسے ایک عام سا لڑکا ہی سمجھتی تھی۔۔ پر وہ تو بہت خاص نکلا طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اتنا ذہین بھی ہے یہ مجھے پتا نہیں تھا ۔۔

ثمرین بولی:۔ تو اپ نے اس کی بہادری نہیں دیکھی کس طرح وہ سب کو اٹھا اٹھا کر پٹخ رہا تھا اور زخمی ہونے کے باوجود بھی وہ رک نہیں رہا تھا۔۔

فریال (من میں)  میں نے وہ دیکھا ہے جو تم سوچ بھی نہیں سکتی جان نکال دیتا ہے اور اندر تک ہلا دیتا ہے۔۔

ثمرین۔۔:چاچی کیا ہوا

فریال۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ چلو وکی کے پاس۔

ثمرین اور فریال چاچی کو اتا دیکھ کر میں بولا : کہاں رہ گئیں تھی آپ دونوں ۔۔۔میں کب سے اپ کی راہ دیکھ رہا ہوں

فریال چاچی ۔۔۔۔۔۔ وہاں  ماہم کو پیسے دینے گئی تھی لیکن اس نے   صاف منا کر دیا۔۔۔۔ پیسے لینے سے۔۔۔۔۔ اب تم ہی سمجھاؤ۔۔۔ اور یہ پیسے اُسے دو۔۔۔۔

میں . بولا ۔۔: کہاں ہے  ماہم؟

فریال۔۔: وہاں اُس کمرے میں ہے ۔۔

ان کی بات سن کر میں وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔۔ دوسرے کمرے میں جہاں ماہم تھی۔۔۔

ثمرین۔۔: آپ نے وکی کو وہاں کیوں بھیجا؟

فریال۔: مجھے پتا ہے۔۔۔۔ ماہم کب سے وکی سے بات کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پا  رہی ہے۔۔۔

ثمرین۔: مجھ بھی لگا  تھا۔۔۔ کہ ماہم وکی سے کچھ کہناچاہتی ہے لیکن اُسے میں نے اپنا وہم سمجھا۔۔۔۔

میں جب ماہم کے کمرے میں آیا تو ماہم صوفے پر بیٹھی لیپ ٹاپ میں سے ویڈیو ڈیلیٹ کر رہی تھی۔۔ میں جیسی ہی اندر داخل ہوا تو ماہم روتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی اور میرے گلے لگ گئی۔۔۔

ماہم۔۔: شکریہ۔۔۔۔۔۔بہت بہت  شکریہ۔۔۔۔۔ تم نے میری جان بچا لی ۔۔۔میں تمھارا یہ احسن کسی بھی طرح نہیں چکا سکتی اور چکاؤں بھی کیسے کیونکہ میں تو اب سے تمہاری بے دام کنیز ہوں۔۔۔ تمہارے لیئے ہر وقت میری جان  حاضر ہے ۔۔

ماہم یہ کہتے ہوئے بدستور میرے گلے لگی ہوئی تھی اور روتے ہوئے بے دھڑک بولے جارہی تھی۔

میں ماہم کے اسطرح بے دھڑک ہوکر گلے لگنے پر ہکا بکا رہ گیا تھا ۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر کیا ہوا ہے اور میں کیا کہوں ۔۔

 چند لمحوں بعد خود پر قابو پاتے ہوۓ میں بولا : چپ ہو جاو ماہم چپ ہو جاؤ ایسے روتے نہیں ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کے تمہارے ساتھ کیا ہوا ہے  اور تم کتنا دکھ اور درد اب تک سہ چکی ہو۔۔۔۔۔مجھے تو بس سرسری سا باجی نے بتایا تھا کہ ان کمینے حرامیوں نے تمہاری زندگی بھی اجیرن کی ہوئی ہے ۔۔۔ اُنہیں کی وجہ سے تم اپنی جاب چھوڑ کر گھر میں ہی چھوٹا سا کلینک چلاری ہو۔۔۔۔۔جہاں تم صرف اپنے خاص خاص  مریضوں کا علاج کرتی ہو۔۔۔۔۔

میں نہیں جانتا لیکن اتنا سمجھ گیا  ہوں ۔۔۔۔

کہ  تم بہت بہادر ہو جو نجانے کتنا  درد سہ کر بھی زندگی کی گاڑی کھینچ رہی ہو۔۔۔۔

 تمہاری جگہ کوئی اور  ہوتا تو  یا تو اس دلدل کے ساتھ خود بھی دلدل ہوجاتا  یا  خود کشی کرلیتا۔۔پر تم بہت بہادر ہو اور بہادر لوگ ایسے روتے نہیں۔۔

مجھے پتہ نہیں چلا میں کیسے اتنا کچھ کہ گیا اور مجھے  سمجھ بھی نہیں آئی کہ میں کیا کہ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔

 ماہم کے اس طرح گلے لگنے سے اور میرے ساتھ اس طرح چپکنے سے اسکے کے ممے بھی میرے سینے سے چپک گئے تھے ۔۔۔۔

 ماہم کے مموں کو محسوس کرتے ہی میرا ذہن آٹومیٹک پچھلی رات کے نشے میں ڈوب گیا اور پچھلی رات کا ایک ایک منظر میری نگاہوں میں گھومنے لگا کہ ۔۔۔کس طرح فریال چاچی نے مجھے مزے کروائے اور کس طرح مجھے مرد ہونے کا احساس دلایا ۔۔۔پھر مجھے اصلی مرد بنایا اور ایک عورت اور مرد کے جسمانی میلاپ کا سمجھایا ۔۔میں نے خود ان کے ساتھ ملاپ کیا۔۔۔۔۔۔ کتنا پیار کیا تھا فریال چاچی نے میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ انہوں نے انگ انگ کو چوما تھا۔۔۔۔ اتنے پیار کا تو کبھی میں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔

یہیں کچھ سوچتے سوچتے بے دیھانی میں میں نے بھی ماہم کے گرد اپنے بازوں لا کر اُس کو اپنے گلے سے لگا لیا اور اُس کی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے  ہوش ہی نہیں رہا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں ۔۔۔ ماہم  ایسے ہی رو رہی تھی اور ایک چھوٹی بچی کی طرح بلبلارہی تھی۔۔

ماہم۔ : وکی تم نہیں جانتے تم نے میری کتنی مدد کی ہے۔۔۔

میں بولا :میں نے  کوئی مدّد نہیں کی ۔۔ جو بھی ہوا خود بخود ہوتا گیا ۔۔مجھے بھی سمجھ نہیں لگی کہ کیسے کیا میں نے یہ سب بس ثمرین باجی کے ساتھ زبردستی دیکھ کر غصے سے پاگل ہو کر یہ سب کر بیٹھا تھا۔۔۔

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page