کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔
نوٹ : ـــــــــ یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ کہانی بھی آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 18
ماہم اب کچھ سنبھل چکی تھی لیکن ابھی تک وکی کے گلے ہی لگی ہوئی تھی وکی بھی ایسے ہی کھڑا اپنی بے دھانی میں اسے سمجھ رہا تھا۔۔۔۔
وکی نے کبھی زندگی میں کسی کے ساتھ اس طرح بات نہیں کی تھی۔۔ لیکن اب لاشعوری طور پر وہ ایک تجربے کار اور زندگی کے تجربات کے حامل ایک شخص کی طرح ماہم سے بات کیئے جارہا تھا ۔۔۔۔۔ اگر اس وقت اس کے گھر والے یا کوئی بھی قریبی جاننے والا اس کو دیکھتا اور سُنتا تو اُن کو یقین کرنا مشکل ہوجاتا کہ یہ وہی وکی ہے ۔۔۔ بلکہ وہ اس کو وکی کا کوئی ہمشکل سمجھتا۔۔
ماہم اب بھی بدستور وکی کو گلے لگائے ہوئے تھی اور وہ بھی بے دہانی میں وکی کی کمر سہلانے میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ وکی بھی ماہم کی کمر سہلا رہا تھا ۔۔۔۔۔
اچانک دونوں کے درمیان خاموش چھاگئی کیونکہ وکی کے زہن میں جو فلم چل رہی تھی ۔۔۔اس فلم کی بدولت اُس کا لنڈکھڑا نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔۔ اُس کا لنڈ اپنی پوری آب وتاب سے اُس کی شلوار میں کھڑا ہوگیا تھا ۔ ۔۔۔۔ اُس نے انڈر ویئر بھی نہیں پہن رکھا تھا کیونکہ شلوار قمیض کے ساتھ اس نے کبھی پہنا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔۔
وکی کا ناگ اب پوری طرح تن کرکھڑا اپنی موجودگی کا اظہار کرنے لگا تھا ۔۔۔ اور ماہم کی ناف کے ساتھ ٹکریں مارنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ ماہم نے بھی وکی کے لن کو محسوس کر لیا اور وہ بھی تھوڑی دیر تک اپنی جگہ سُن ہوگئی ۔۔۔۔اُس کے جسم میں بھی بجلیاں دوڑنے لگی کیونکہ وکی کا لن محسوس کرتے ساتھ ہی اُس کے ذہن میں وکی کے لن کی تصویر بھی آگئی جب وہ فریال کے ساتھ اُس کی شلوار چینج کر رہی تھی تو اُس نے بھی وکی کا لنڈ دیکھا تھا اور اُس وقت اُس نے سوچا تھا کہ سویا ہوا اتنا بڑا ہے کھڑا ہوکر کتنا ہوگا ۔۔۔۔۔ اور اب وہ وکی کے کھڑے لنڈ کو باقاعدہ سے محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔ لن اور چوت کے کھیل سے وہ بھی واقف تھی اور وہ خود بھی ایک گرم لڑکی تھی ۔۔۔بس حالات نے اُس کو دربدر کیا ہوا تھا۔۔ جس کی وجہ سے اُس کو ذہنی ٹینشن رہتی تھی ۔۔۔۔ لیکن آج وہ بھی ذہنی طور پر ریلیکس تھی۔۔ کیونکہ اُس کا ایک بڑا مسلہ وکی نے حل کردیا تھا ۔۔۔۔۔ اور اُس نے لیپ ٹاپ میں خود دیکھ کر ڈیلیٹ کر دیا تھا سب کچھ ۔۔۔۔۔ وکی کا لنڈ محسوس کر کے اُس کے جسم میں چیونٹیاں سی دوڑنے لگی تھی ۔۔۔ اُس نے سراُٹھا کر وکی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ جو کہ اپنی جگہ سُن کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔کیونکہ وکی کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہوگیا ۔۔۔۔ اُس کا لنڈ کیوں کھڑا ہوگیا ۔۔۔ ۔۔ شرمندگی کے مارے اُس کا چہرہ لال سُرخ ہوگیا تھا ۔۔۔۔ وہ سوچ رہا تھا کہ پتہ نہیں ماہم اُس کے بارےمیں کیا سوچے گی ۔۔۔۔ کہ وہ کسطرح کا انسان ہے ۔۔۔۔ ابھی تک ماہم اُس کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہی تھی ۔۔۔ لیکن اب وہ اُسے ایک گندہ اور غلیظ انسان سمجھنے لگی تو۔۔ اس سے آگے وہ سوچنا ہی نہی چاہتا تھا ۔۔
لیکن ماہم نے جب وکی کے چہرے کو دیکھا تو جیسے وہ وکی کے دل کی حالت اور شرمندگی کو سمجھ گئی تھی وہ ۔۔اُس نے ہاتھ وکی کے سر پر رکھ کر اُس کا سر تھوڑا سا جھکایا کیونکہ وکی ایک قد آور لڑکا تھا ۔۔۔ وکی کا سر جھکا کر اُس نے وکی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کر لیا اور اُس کو چوسنے لگی۔۔۔۔
مجھے بھی ایک جھٹکا سا لگا ماہم کے ایسے کرنے پر اور ساتھ ہی میرے لنڈ نے نے اُچھل کر ماہم کے پیٹ پر ٹکر ماری ۔۔۔ چند سیکنڈ تو میں حیرت کے زیر اسر رہا ۔۔۔۔ لیکن ماہم کی دلچسپی سے میں بھی ماہم کے ہونٹ چوسنے لگا اور اسکا ساتھ دینے لگا۔۔۔
میں نے بے اختیار ماہم کو اپنے سینے سے بھینچ لیا۔۔۔۔اور دُنیا سے بے خبر ہوتا گیا۔۔۔۔۔۔ جب ماہم کی سانسیں اُکھڑنے لگی تو وہ تھوڑی پیچھے ہوئی اور میرے ہونٹوں کو چھوڑدیا۔۔۔۔ ہم دونوں کی سانسیں تیز تیز چل رہی تھی ۔۔۔۔۔ہم دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھا تو دونوں کی نظریں شرم کے مارے نیچے جھک گئی ۔۔۔۔
لیکن میرے دل ودماغ کو پتہ نہیں کیا ہوا میں نے دوبارہ سے ماہم کو گلے لگایا اور دوبارہ سے اس کو کس کرنے لگ پڑا ۔۔
میرا ایک ہاتھ جو زخمی تھا وہ میں نے ماہم کے کندھے پر رکھا ہوا تھا اور اُس کے سر کو اپنی طرف کیا ہوا تھا اور کسنگ کررہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ جو دوسرا ہاتھ جو صحیح تھا اس سے میں ماہم کی کمر اور اُس کے گانڈ کو سہلا اور دبا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ماہم بھی مدہوش ہوئے جارہی تھی ۔۔۔۔ لیکن اُس میں اور وکی میں ایک فرق تھا ۔۔۔۔ وکی ابھی نیا نیا جوانی کا مزہ لینے لگا تھا اور اُس کو ابھی اتنا ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔
لیکن ماہم کیونکہ اس کھیل میں پرانی تھی اور وہ اس مزے اور ضرورت کی آشنا تھی ۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سے وہ وکی کے مقابلے میں کافی میچیور اور سمجھدار تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ مزے کے ساتھ ساتھ حالات ومواقع کی مناسبت کو بھی مدنظر رکھنا جانتی تھی ۔۔۔۔۔ اسی لیئے اُس نےبہت آہستگی اور پیار سے وکی کو خود سے دور کیا ۔اور آہستہ لرزتی ہوئی نشیلی آواز میں سرگوشی کی
ووووو کککککیييييي پلیز ۔۔۔۔۔ ابھی موقع نہیں ہے کوئی بھی آسکتا ہے ۔۔۔۔وہ وہ ۔۔۔یہ ابھی صحیح نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کہتے ہوئے ہانپنے لگی ۔۔
ماہم کی بات سُن کر مجھے ایک جھٹکا لگا۔۔۔۔۔اور میں ایکدم سے جیسے ہوش میں آگیا ۔۔۔۔۔شرمندگی اور خجالت سے میری بُری حالت ہوگئی ۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔۔ سس سوری۔۔۔۔ ماہم مجھ سے غ غلطی ہوگئی ۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔ میں شرمندگی اور خجالت سے ہکلاتا ہوا بولا۔۔۔
ماہم ۔۔۔۔ہشش۔۔۔ ایسا نہیں بولتے ۔۔۔۔ تمہارے لیئے تو میری جان بھی حاضر ہے ۔۔۔۔ جسم کی تو کوئی حیصیت ہی نہیں ہے۔۔۔۔ میں نے کہا تھا نا کہ آج سے میں تمہاری کنیز ہوں ۔۔۔۔
میں جلدی سے بات بدلتے ہوئے ۔۔۔۔۔ وہ ۔۔وہ ۔۔میں کچھ دینے آیا تھا تمہیں۔۔
ماہم ہلکے سے دلبرانہ انداز میں مسکراتے ہوئےبولی ۔:۔ وہ تو میں نے لے لیا۔۔۔
میں شرماتے ہوئے ۔: وہ ۔۔وہ ۔۔یہ نہیں ۔۔۔۔ میں کچھ پیسے دینے آیا تھا۔۔
ماہم ۔:۔ کیا میں اتنی پرائی ہوگئی ہوں کہ مجھے پیسے لینے پڑیں گے ۔۔۔؟
میں ۔:آپ نے ہماری پٹی کی آپریشن کیا ۔۔۔ اور دوائیں بھی تو کتنی مہنگی ہوتی ہے؟۔
ماہم۔ ۔: سب سے پہلے تو یہ آپ آپ کہنا بند کرو۔
میں :۔ اچھا آپ ۔۔۔۔نہیں سوری۔۔۔ تم پیسے لے رہی ہو یا مین خود رکھوں خزانے میں۔۔۔؟۔
ماہم تھوڑا آگے ہوئی اور بولی۔:۔۔ وکی تم تو بہت تیز ہو میں تو سمجھی تھی تم ابھی کچھ نہیں جانتے ہو گے۔۔
میں مسکراتے ہوۓ بولا ۔:۔ میں سب جانتا ہوں میں نے کئی بار لڑکیوں کو دیکھا ہے پیسے رکھتے اور نکالتےہوئے۔۔۔
ماہم ۔۔۔۔۔۔ گندا بچہ ایسے کام کرتےہو۔۔۔۔؟
میں ۔ :اس میں ایسی کیا گندی بات ہے ۔۔۔۔کیا آپ نہیں رکھتی خزانے میں پیسے۔۔۔؟۔
ماہم:۔ میں تو نہیں رکھتی میں تو پرس میں رکھتی ہوں۔۔
میں ۔:لیکن میں تو وہاں ہی رکھوں گا۔
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
The essence of relationships –25– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –24– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –23– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –22– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –21– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 13, 2025