The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔

نوٹ : ـــــــــ  یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ  کہانی بھی  آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 20

ثمرین کپڑے بدلنے کا کہہ کر کمرے سے چلی گئی۔

 فریال نے وکی سے پوچھا: 

فریال: ویسے وکی، تم ماہم کے ساتھ اتنی دیر تک کیا کر رہے تھے؟ 

وکی (ہڑبڑاتے ہوئے): کک… کچھ نہیں چاچی۔ میں تو بس پیسے دینے گیا تھا، وہ باتیں کرنے لگی، پیسے لینے سے منع کر رہی تھی۔

فریال: تم اتنا گھبرا کیوں رہے ہو؟ 

وکی (ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے): نہیں، میں تو گھبرا نہیں رہا۔

فریال: تو بتاؤ، ماہم کے کمرے میں کیا کر رہے تھے؟

وکی: کچھ نہیں، بس ویسے ہی کھڑا تھا۔

فریال: اچھا؟ تو تم دونوں منہ سے منہ ملائے کھڑے تھے؟ 

فریال کی بات سن کر وکی کی سانس رکنے لگی۔ اسے لگا کہ چاچی نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ اگر انہوں نے کسی کو بتا دیا تو کیا ہوگا؟ اس کے پسینے چھوٹنے لگے۔ 

وکی: وہ… وہ… میں… 

فریال (شرارتی انداز میں ہنستے ہوئے): وہ کیا؟ صاف صاف بولو کہ تم دونوں کس کر رہے تھے! 

وکی حیران رہ گیا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ وہ جو سوچ رہا تھا، اس کے برعکس فریال کا رویہ بالکل الٹ تھا۔ 

فریال وکی کے قریب آئی، اتنا قریب کہ دونوں کے جسم کے کپڑے ایک دوسرے کو چھو رہے تھے۔ پھر بولی: 

فریال: کیا تم مجھے اپنا دوست نہیں مانتے؟ جو مجھ سے چھپا رہے ہو؟ مجھے تو خوشی ہوئی کہ تم نے ماہم کا ساتھ دیا۔ اسے بھی کسی کے سہارے کی ضرورت ہے۔ تم نے یہ کر کے میرے دل میں اور جگہ بنا لی۔ کوئی بات ہو تو مجھے بتاؤ، میں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں۔  ۔

وکی: مطلب چاچی، آپ کو کوئی اعتراض نہیں؟ آپ خوش ہیں؟ سوری، میں نے اس لیے نہیں بتایا کہ مجھے لگا آپ ناراض ہو جائیں گی۔ اب سے میں آپ کو سب کچھ بتاؤں گا، چاہے بات چھوٹی ہو یا بڑی۔ بس آپ مجھ سے ناراض نہ ہونا، میں آپ کو ناراض نہیں دیکھ سکتا۔

فریال (ہنستے ہوئے): مطلب تم ماہم کے ساتھ آگے بھی کچھ کرو گے؟ 

وکی: ہاں، اب تو ہوگا ہی۔ آپ نے اجازت جو دے دی! اب میں کہاں رکنے والا ہوں؟ 

اس سے پہلے کہ فریال کچھ اور بولتی، وکی نے اسے پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ فریال چونک پڑی، اسے وکی سے ایسی جرات کی توقع نہیں تھی۔ اس نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، لیکن تھوڑی دیر بعد وہ بھی ساتھ دینے لگی۔ وکی اوپر والا ہونٹ چوس رہا تھا اور فریال نیچے والا۔ کچھ دیر بعد جب وہ الگ ہوئے تو فریال بولی۔

فریال: تم تو بہت تیز ہو گئے ہو! پہلے تو ایسے نہیں تھے۔ 

وکی: چاچی، دوستوں کی باتوں سے کچھ کچھ تو پتا تھا، لیکن آپ نے جو سکھایا، وہ تو کوئی نہیں سکھا سکتا!

 جب ایسی حسینہ سامنے ہو تو کون صبر کر سکتا ہے؟ (وکی نے فریال کے گال کھینچ لیے) 

فریال: آہہ… سدھر جاؤ ورنہ مار کھاؤ گے! 

فریال یہ کہتے ہوئے باہر چلی گئی کیونکہ اس کے جسم میں طلب بڑھ رہی تھی۔ اس وقت کچھ کرنا خطرناک ہو سکتا تھا کیونکہ گھر والے جاگ رہے تھے اور کوئی بھی آ سکتا تھا۔ 

وکی ہنستے ہوئے بستر پر لیٹ گیا۔ وہ خود حیران تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ وہ تو پہلے ایسا نہیں تھا۔ صرف ایک رات میں فریال کے پیار نے اس کی کایا پلٹ دی تھی۔ وہ پہلے سے ہی باتوں میں تیز تھا، لیکن اب اس کی خوداعتمادی اور جرات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ماہم کے ساتھ بھی وہ ہچکچاہٹ سے نہیں بلکہ بولڈ ہو کر پیش آیا تھا، اور اب فریال کے ساتھ بھی اس نے خود آگے بڑھ کر اسے کس کیا تھا۔ اسے اپنے اندر ایک عجیب سا بدلاؤ محسوس ہو رہا تھا، جو اسے ڈرا بھی رہا تھا کہ کہیں یہ جرات اس سے کوئی ایسی حرکت نہ کروا دے جس کا بعد میں پچھتاوا ہو۔ اس نے سوچا کہ آئندہ اسے محتاط رہنا ہوگا اور وقت و حالات دیکھ کر ہی کوئی قدم اٹھانا ہوگا۔۔

ادھر فریال بھی وکی کے کمرے سے نکل کر یہی سوچ رہی تھی کہ وکی کو تو بس اشارہ چاہیے تھا۔ اب وہ ہچکچاتا بھی نہیں۔ اب اس سے بچ کر رہنا ہوگا اور موقع دیکھ کر ہی اس کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا ہوگا، ورنہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آ جائے گی۔ 

رات کو سب نے مل کر کھانا کھایا۔ کھانے کی میز پر کچھ دیر گپ شپ ہوئی، پھر سب اپنے اپنے کمروں میں سونے چلے گئے۔ فریال کا میاں آج گھر پر تھا، اس لیے فریال بھی اس کے ساتھ سوئی۔ ثمرین وکی کو دودھ دینے آئی، لیکن دونوں میں کوئی خاص بات نہ ہوئی۔ 

اگلی صبح   وکی صبح سویرے اٹھ گیا کیونکہ وہ رات کو وقت پر سو گیا تھا۔ وہ واش روم سے فارغ ہو کر ٹریک سوٹ پہن کر ورزش کے لیے نکل گیا۔ یہ اس کا معمول تھا، اور اگر وہ ورزش نہ کرتا تو سارا دن سستی میں گزرتا۔ گھر کے قریب ایک سڑک پر، جہاں ایک طرف سفیدے کے درخت تھے اور دوسری طرف پھولوں کے پودے، وہ چہل قدمی کرنے لگا۔ 

وکی کا ہاتھ اب کافی بہتر تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی پٹی باقی تھی، اور ماہم کی دی ہوئی دوا کی وجہ سے درد بالکل نہیں تھا۔ وہ چلتے چلتے علاقے کے ایک بڑے پارک میں پہنچ گیا، جہاں بچوں کے جھولوں سے لے کر ہر قسم کے کھیلوں کے گراؤنڈ اور ایک باڈی بلڈنگ جیم بھی تھا۔ لیکن وکی ابھی جیم میں ورزش کرنے کے قابل نہیں تھا۔ اس نے کافی دیر واک کی اور ہلکی پھلکی ورزش کی تاکہ اس کے بازو کو تکلیف نہ ہو۔ پھر وہ گھر کی طرف لوٹ آیا۔ 

گھر پہنچتے ہی اسے بڑی چاچی باورچی خانے سے نکلتے ہوئے نظر آئیں، ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیے۔ وکی کو دیکھتے ہی وہ اس کی بلائیں لینے لگیں: 

عذرا : آ گیا میرا منا! کیسی ہے تیری طبیعت اب؟ آج تو ناں جاتا، ابھی تو تیری طبیعت بھی پوری ٹھیک نہیں ہوئی اور تم ورزش کرنے نکل گئے؟ 

وکی: میں بالکل ٹھیک ہوں بڑی اماں۔ جب آپ سب میرا خیال رکھتے ہیں تو مجھے کیا ہو سکتا ہے؟

عذرا: اوپر والا کرے تجھے کبھی کچھ نہ ہو۔ تم تو ہمارے گھر کی جان ہو، سب سے اچھا بچہ ہو! 

پیچھے سے فریال آ رہی تھی اور ہنس رہی تھی۔ 

فریال (دل میں): یہ ابھی بچہ ہے اور… جب ڈالے گا تو جان ہی نکل جائے گی!

عذرا : تمہارے دانت کیوں نکل رہے ہیں ہمیں دیکھ کر؟ 

فریال: کچھ نہیں باجی، بس آپ لوگوں کا پیار دیکھ کر ہنس رہی تھی۔۔

عذرا : کیوں، تمہیں ہمارے پیار سے کوئی مسئلہ ہے؟

فریال (ہنستے ہوئے): مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے باجی؟ آپ تو ہماری جان ہو!

وکی: آپ لوگ باتیں کریں، میں فریش ہو کر آتا ہوں۔ 

وکی فریش ہو کر ناشتا کرنے کے بعد پڑھائی کرنے بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد ثمرین بھی آ گئی۔ کچھ دیر پڑھائی کے بعد وکی آرام کرنے لیٹ گیا اور اسے نیند آ گئی۔ 

دوپہر ایک بجے فریال کھانے کے لیے وکی کو جگانے آئی۔ وکی کو سوتا دیکھ کر اسے بہت پیار آیا۔ اس نے وکی کے ہونٹوں پر ایک نرم سی کس کی اور اسے جگایا۔ وکی ایک عجیب سے احساس کے ساتھ جاگا اور جب اس کی نظر فریال پر پڑی تو اس کے ہونٹوں پر پیار بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ انگڑائی لے کر اٹھا اور فریال کو گلے لگا لیا۔ 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page