کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے
کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی ۔۔رشتوں کی چاشنی۔۔ کہانی رومانس ، سسپنس ، فنٹاسی سے بھرپور کہانی ہے۔
ایک ایسے لڑکے کی کہانی جس کو گھر اور باہر پیار ہی پیار ملا جو ہر ایک کے درد اور غم میں اُس کا سانجھا رہا۔ جس کے گھر پر جب مصیبت آئی تو وہ اپنے آپ کو بھول گیا۔
نوٹ : ـــــــــ یہ داستان صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹرمحنت مزدوری کرکے لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ ساری رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ یہ کہانی بھی آگے خونی اور سیکسی ہے تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
-
Smuggler –300–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –299–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –298–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –297–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –296–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026 -
Smuggler –295–سمگلر قسط نمبر
January 25, 2026
رشتوں کی چاشنی قسط نمبر- 25
دانیال نے ان ویڈیوز کا استعمال کر کے کنول کو بلیک میل کیا اور اسے اپنی اور اپنے دوستوں کی خواہشات کا شکار بنایا۔ اس نے کنول کو عامر کی دوسری لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بھی دکھائیں، جس سے کنول کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ عامر پر بھروسہ کرتی تھی، لیکن اس کی حقیقت جان کر وہ ٹوٹ چکی تھی۔
دانیال نے کنول کو دھمکی دی کہ وہ اس کی ویڈیوز اس کے خاندان اور کالج میں پھیلا دے گا۔ کنول مجبور ہو کر ان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوئی۔ اس دن جب وکی نے دانیال اور اس کے دوستوں کی پٹائی کی، کنول کو موقع ملا اور اس نے دانیال کا لیپ ٹاپ چھپا دیا۔ ثمرین نے اسے واش روم میں لیپ ٹاپ کے ساتھ پکڑ لیا، اور وکی نے سب کے موبائل اور لیپ ٹاپ قبضے میں کر کے ماہم کے حوالے کر دیے۔ اس کے بعد کنول خود کو آزاد محسوس کرنے لگی، کیونکہ اس کی ویڈیوز اب دانیال کے پاس نہیں تھیں۔
کنول اب ثمرین سے مل کر معافی مانگنا چاہتی تھی اور اپنی مجبوریاں بتانا چاہتی تھی، لیکن شرمندگی کی وجہ سے وہ ثمرین کے گھر نہیں جا سکی۔
—
رات گئے جب وکی چھت سے کمرے میں واپس آیا، ثمرین دودھ کا گلاس لے کر اس کے پیچھے آ گئی، جیسے وہ اس کا انتظار کر رہی ہو۔ اس نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور شرارتی انداز میں بولی، “اب بتا، تیکھی مرچی کس کو بولا تھا؟”
وکی ہنس پڑا اور بیڈ کے دوسری طرف بھاگ گیا۔ “پہلے پکڑ لو، پھر بتاؤں گا۔”
ثمرین اسے پکڑنے کے لیے جھپٹی، لیکن وکی ادھر اُدھر بھاگتا رہا۔ جب ثمرین تھک کر بیٹھ گئی، وکی اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ ثمرین نے اسے دبوچ لیا اور گدگدی شروع کر دی۔ “اب بتا، کتنا بھاگے گا؟”
وکی ہنستے ہوئے بولا، “بس کرو ثمرین، نہیں تو میں بھی گدگدی شروع کر دوں گا!”
ثمرین نے گدگدی جاری رکھی، لیکن جب وکی نے پلٹ کر ثمرین کو نیچے گرایا اور اس کی گدگدی شروع کر دی۔ اس کا ہاتھ غلطی سے ثمرین کی چھاتیوں پر چلا گیا، اور دونوں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ وکی نے ثمرین کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ سے اس کے ہونٹوں پر ایک پرجوش بوسہ دیا۔ ثمرین نے بھی اس کا ساتھ دیا، لیکن اچانک اس نے کہا، “وکی، بس کرو، کوئی آ جائے گا۔”
وکی نے شرارتی انداز میں کہا، “آتا ہے تو آنے دو، اب میں نہیں رکنے والا۔”
ثمرین نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “دروازہ کھلا ہے۔”
وکی نے کہا، “مجھے کوئی پرواہ نہیں، میں تو تمہیں پیار کروں گا۔”
ثمرین نے ہنستے ہوئے کہا، “ماں آ گئی؟”
وکی ایک دم گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔ ثمرین ہنستے ہوئے اٹھی اور دروازے کی طرف جا کر بولی، “اب تیری سیٹنگ ہو گی!”
ثمرین ہنستے ہوئے بولی، “آپ کو ڈر نہیں لگتا، تو یہ کیا تھا؟”
وکی جیسے ہی ثمرین کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھا، ثمرین بھاگ کر نیچے چلی گئی۔ ۔
وکی ہنستے ہوئے خود سے باتیں کرتے ہوئے کہنے لگا، “ثمرین باجی بھی بالکل بچی ہی ہیں، چھوٹی سی بچی۔”
اس کے بعد وکی نے دودھ کا گلاس اٹھایا، دودھ پیا، اور اپنی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا۔ رات کے دو بجے تک وہ پڑھتا رہا، پھر کتاب ساتھ رکھ کر سو گیا۔
صبح ناشتے کی میز پر سب موجود تھے: منظور صاحب ۔ منصور صاحب ۔ اور نواز ، ثمرین، اور اسکی ماں اپنے کمرے میں تھیں۔جبکہ رمشا اور فریال باورچی خانے میں ناشتہ تیار کر رہی تھیں۔
فریال نے دودھ گرم کیا اور ثمرین کو آواز دیتے ہوئے کہا، “جا کر وکی کو دودھ دے آؤ اور اسے اٹھا کر لاؤ۔ نواب صاحب اب تک سو رہے ہیں۔”
ثمرین آ کر دودھ لیا اور اوپر وکی کے کمرے میں چلی گئی، جہاں وہ اب بھی سو رہا تھا۔ کتاب کھلی پڑی تھی۔
ثمرین نے دودھ میز پر رکھا، کتاب بند کی، اور اسے سائیڈ پر رکھ دیا۔ وہ وکی کے پاس بیٹھ گئی، دروازے کی طرف دیکھا، پھر اٹھ کر دروازہ بند کیا اور وکی کے اوپر جھک کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیے۔ نرمی اور محبت سے اسے چومتے ہوئے اٹھانے لگی۔
وکی نے اپنے ہونٹوں پر میٹھا سا احساس پاکر نيم آنکھوں سے دیکھا اور مدہوشی میں ثمرین کو اپنی باہوں میں کس لیا۔
ثمرین بولی، “تم جاگ رہے تھے؟ ابھی مجھے چھوڑو، کوئی آ جائے گا!”
وکی نے دروازے کی طرف دیکھ کر کہا، “تم تو پوری تیاری کے ساتھ آئی ہو، پھر کوئی کیسے آ جائے گا؟ دیکھو، دروازہ بھی تم نے بند کیا ہوا ہے۔”
ثمرین نے کہا، “چاچی آ جائے گی، وہ آنے والی تھی۔”
وکی بولا، “مجھے کچھ نہیں سننا، بس مجھے ایک پیار سا کس چاہیے۔”
ثمرین نے جواب دیا، “کس دیا تو ہے، اب اور کیسا چاہیے؟ اچھا، یہ لو!” اس نے اپنی ہتھیلی پر منہ رکھ کر “اُمما” کرتے ہوئے وکی کی طرف کس اچھالا۔
وکی بولا، “ایسے نہیں، پہلے میرے اوپر آ کر لیٹو۔”
ثمرین نے کہا، “تم بہت گندے ہو گئے ہو۔ صبح صبح ہی شروع ہو گئے۔ اگر کچھ الٹا سیدھا ہو گیا تو؟”
وکی نے کہا، “کیوں، مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا؟”
ثمرین بولی، “بھروسہ تو خود سے زیادہ ہے تم پر۔”
ثمرین نے وکی کو سیدھا کیا اور اس کے اوپر بیٹھ کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کے قریب لے گئی۔ وکی نے اسے روک دیا اور کہا، “میں تو ویسے ہی کہہ رہا تھا۔ آپ تو غصہ ہو گئیں۔”
ثمرین نے جواب دیا، “میں کبھی بھی تم سے غصہ یا ناراض نہیں ہو سکتی۔ دل تو میرا بھی کرتا ہے، لیکن ڈر لگتا ہے۔ اگر کسی کو کچھ پتا چل گیا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے۔ مجھے اپنی تو پروا نہیں، لیکن اگر کوئی تمہیں کچھ کہے گا تو یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا۔”
وکی نے کہا، “آہ ہاں،! میری جان، ایسے جذباتی نہیں ہوتے۔”
یہ کہتے ہوئے وکی نے ثمرین کو کس کر گلے لگایا اور ایک لمبی، گہری کس کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ ثمرین نیچے چلی گئی، اور وکی واش روم میں جا کر فریش ہوا اور ناشتہ کرنے پہنچ گیا۔
ناشتے کی میز پر بڑے چچا نے بتایا کہ شام کو کامران آ رہا ہے۔ یہ سن کر سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
کامران گھر کا بڑا بیٹا تھا، جو سب کی عزت کرتا تھا۔ وہ اپنی بہن اور وکی پر جان چھڑکتا تھا اور ان کی ہر ڈیمانڈ پوری کرتا تھا۔۔
ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ منظور صاحب اپنے دوستوں کے ڈیرے پر چلے گئے، جہاں وہ اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے تھے اور گاؤں کے مسائل حل ہوتے تھے۔ منصور اپنے کھیتوں میں چلا گیا کیونکہ آج اس کے کھیتوں کی پانی کی باری تھی۔ نواز اپنی دکان پر چلا گیا۔ فرزانہ اور رمشا باورچی خانے میں مصروف ہو گئیں۔ فریال نے نئی دھوبی مشین لگا دی، اور وکی اپنے کمرے میں چلا گیا، جہاں وہ کتاب نکال کر نظر ثانی کرنے لگا۔
ثمرین وکی کے پاس آئی اور کچھ پریشانی سے بولی، “وکی، کامران بھائی آ رہے ہیں، وہ بھی اچانک؟ ان کی بائیک بھی ماہم کے پاس کھڑی ہے۔ تو کیوں نہ ہم جا کر بائیک لے آئیں؟”
وکی نے کہا، “آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ میں ابھی جا کر لے آتا ہوں۔”
مزید اقساط کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں
-
The essence of relationships –25– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –24– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –23– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –22– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –21– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 23, 2025 -
The essence of relationships –20– رشتوں کی چاشنی قسط نمبر
November 13, 2025