The Game of Power-93-طاقت کا کھیل

The Game of Power

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی جانب سے  رومانس ،ایکشن ، سسپنس ، تھرل ، فنٹسی اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہوئی ایک  ایکشن سے بھرپور کہانی، ۔۔ طاقت کا کھیل/دی گیم آف پاؤر ۔۔یہ  کہانی ہے ایک ایسی دُنیا کی جو کہ ایک افسانوی دنیا ہے جس میں شیاطین(ڈیمن ) بھی ہیں اور اُنہوں نے ہماری دُنیا کا سکون غارت کرنے کے لیئے ہماری دنیا پر کئی بار حملے بھی کئے تھے  ۔۔لیکن دُنیا کو بچانے کے لیئے ہر دور میں کچھ لوگ جو  مختلف قوتوں کے ماہر تھے  انہوں نے ان کے حملوں کی  روک تام  کی ۔۔

انہی میں سے کچھ قوتوں نے دنیا کو بچانے کے لیئے ایک ٹیم تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی ۔ جن میں سے ایک یہ  نوجوان بھی اس ٹیم کا حصہ بن گیا اور اُس کی تربیت  شروع کر دی گئی۔ یہ سب اور بہت کچھ پڑھنے کے لئے ہمارے ساتھ رہیں ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

طاقت کا کھیل قسط نمبر -- 93

اس دوران مجھے پارک کے گیٹ سے ریشم اندر داخل ہوتی ہوئی دکھائی دی اس نے ایک نظر مجھ پر ماری اور پھر اپنا راؤنڈ پورا کرنے کےلئے پارک کا چکر لگانے لگی چکر پورا کرنے بعد چند اور ایکسرسائز کر کے وہ بھی میرے پاس بینچ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔

 اس دوران میں سوچ میں ڈوبا ہوا آسمان پر نظریں جمائے  بیٹھا تھا مجھے اس طرح سوچ میں ڈوبا ہوا دیکھ کر وہ میرے کندھے کو اپنے کندھے سے دھکیلتے ہوئے  بولی۔۔ کون سی سوچ میں گم ہو۔؟

 میں بولا:  کچھ نہیں بس ویسے ہی اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا تم سناؤ آج لیٹ ہو گئی ہو۔

 ریشم بولی:  ہاں آج میری آنکھ دیر سے کھلی ہے اور ویسے مجھے تم سے ایک گلا ہے۔۔

 میں اسکی بات سن کر حیرانگی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا: کون سا گلہ ؟

وہ بولی :مجھے گلہ بس یہ ہے کہ تم آج صبح اس پارک میں آرہے تھے اور مجھے اس بارے میں بتایا ہی نہیں تم نے ۔۔میں پہلے اپنے سیکٹر والے پارک  میں گئی تھی پھر مجھے یہاں آنا پڑا اور ویسے بھی تمہیں اپنے دوستوں کی قدر نہیں ہے۔۔ تمھارے پاس دوستوں کےلیے ٹائم ہی نہیں ہوتا ۔۔

 میں بولا۔:  ایسی بات نہیں ہے اور ویسے بھی میرا کوئی ایسا خاص دوست ہے نہیں میری زندگی میں بس دو ہی کام ہیں گھر اور گھر سے کام پر تمہیں تو پتہ ہے میری زندگی انہی الجھنوں میں الجھی ہوئی ہے۔۔

ریشم میرے سر پر ہلکا سا تھپڑ مارتے ہوئے بولی۔۔

 بیوقوف انسان اگر میری تم سے دوستی نہ ہوتی تو میں تمہارے پاس کیوں بیٹھی ہوتی اور تم سے یہ بات کیوں کرتی کہ تم ٹائم نہیں دے رہے۔۔

 میں بولا اچھا اچھا میں تو کچھ اور ہی  سمجھا تھا۔۔ میں تو سمجھا تھا کہ شاید تم اس لیے کہہ رہی ہو کیونکہ تم میرے ساتھ ایکسرسائز کرنا چاہتی ہو ۔۔۔

وہ بولی:۔ نہیں میں تمہیں صرف  اپنا اچھا دوست سمجھتی ہی نہیں بلکہ مانتی بھی ہوں

اس کی بات سن کر میں مسکراتے ہوۓ  بولا۔: پھر تو ہمیں اس دوستی کو سیلیبریٹ کرنا چاہیے۔۔

 میری بات سن کر اس کے چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ چھا گئی۔

ریشم بولی۔:۔ ہاں تم نے تو میرے منہ کی بات چھین لی میں بھی یہی کہنے والی تھی۔۔

 میں بولا۔:   ٹھیک ہے پھر کوئی ٹائم بتاؤ جس ٹائم  مل کر ہم  یہ ڈیسائیڈ کريں کہ اپنی دوستی کو سیلیبریٹ کیسے کریں۔۔

 میری بات سن کر وہ اپنی چھاتی کو میرے کندھے کے ساتھ جوڑتے ہوئے بولی۔:۔ کیوں نہیں جب تم بولو۔۔

ریشم کو اس طرح اپنے قریب ہوتا دیکھ کر میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے میرے جذبات ابل پڑے تھے ۔۔ میں اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے بولا۔: ٹھیک ہے شام کو کوئی پروگرام بناتے ہیں۔۔

 ریشم بولی۔۔ اچھا تو ٹھیک ہے میں اب گھر کے لیے نکل رہی ہوں کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے گھر آنے کو یا میں تمہیں اپنے ساتھ لے چلوں۔۔

میں بولا۔۔

نہیں فی الحال مجھے یہاں پر تھوڑا کام ہے اسی لیے ہی میں آج یہاں پر آیا تھا تم جاؤ میں شام کو رابطہ کرتا ہوں۔۔

 اصل میں میں ریشم کو یہاں سے اس لیے بھیجنا چاہ رہا  تھا کیونکہ مجھے رات والے مسئلے کو سلجھانا تھا۔ جس طرح لیلی نے میرے جسم پر قابو پانے کی کوشش کی تھی اور رانی کو مٹانا چاہا تھا یہ میرے لیے کسی خطرے سے کم نہیں تھا حالانکہ اس سب کے سامنے میں اپنا سب کچھ بھول چکا تھا۔۔

اگلے دو گھنٹے میں اسی بینچ پر بیٹھ کر صرف اسی انتظار میں رہا کہ کب یہ پارک خالی ہوتا ہے دو گھنٹوں کے بعد قریب  پارک میں سناٹا چھا گیا تھا ۔۔ مطلب پارک میں  اکا دکا ہی لوگ تھے میں اس لیے بھی میں پارک خالی  چاہتا تھا کہ کیونکہ مجھے خطرہ تھا کہ کہیں لیلی کوئی الٹی سیدھی حرکت ہی نہ کر دے اور پھر پارک میں لوگ کے سامنے تماشا نہ بن جائے ۔۔

میں رانی سے مخاطب ہوا اور اس سے بولا:  اب اس کو آن کرو میں بھی تو دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کرتی کیا ہے۔۔

رانی بولی (سسٹم)

ٹھیک ہے ماسٹر جیسے آپ کی مرضی میں ابھی اسے آن کرتی ہوں۔۔

اور اگلے ہی پل سکرین پر ایک نوٹیفکیشن شو ہوا۔

 (سسٹم ویل بی ٹرن آن)

سسٹم جیسے ہی آن ہوا تو چند لمحوں بعد ہی لیلی کی تھوڑی بیٹھی ہوئی آواز میرے کانوں میں گونجی گڈ مارننگ ماسٹر۔

 میں گڈ مارننگ کا جواب دینے کی بجائے بولا:  یہ رات کو کون سی حرکت کی تھی تم نے ؟

میری بات سن کر جہاں اس کے دل میں غصہ اور مایوسی نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا تھا وہیں وہ مجبور تھی میرے ہر سوال کا جواب دینے کے لئے کیونکہ میں اس کا سسٹم ہولڈر تھا اور اس نے یہ انتخاب خود ہی کیا تھا چاہے اس انتخاب کی وجہ کوئی بھی ہو ۔۔

یہ بات مجھے رانی نے پہلے ہی بتائی ہوئی تھی کہ ہر سسٹم کے پاس یہ آپشن موجود ہوتا ہے کہ وہ نیا ہوسٹ تلاش کرے یا خود کو ختم کر لے اس نے خود ہی مجھے ہوسٹ مانا تھا۔۔

یہ بات اب جا کر مجھے سمجھ آئی تھی کے وہ میرے جسم میں کیوں داخل ہوئی ۔۔اپنے حساب سے اس نے بہت ہی اچھا داؤ چلا تھا پر شائد قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔اس کے داؤ کے حساب سے میری وین (نسیں/رگیں )پھٹ جانے چاہئے تھے کیونکہ ایک ہی جسم کے اندر دو سسٹم ایک ساتھ ایک ہی ٹائم میں نہیں چل سکتے تھے اور نہ ہی ایسے پہلے کبھی ہوا تھا ۔۔۔اس کے حساب سے مجھے اب تک مر جانا چاہئے تھا  پر پتہ نہیں کیسے میرے جسم نے یہ سب کچھ برداشت کر لیا تھا ۔۔اس سب پر جہاں وہ بھی حیران ہوئی تھی تو وہیں میری اور رانی کی بھی یہ اس کو دوسری شکست تھی ۔۔

 رات کو جو اس نے کیا تھا وہ اب تک اپنے پہلے ماسٹر کے قتل کو نہیں بھول پائی تھی اسے کچھ بھی کر کے  مجھ سے بدلہ لینا تھا۔

میں بولا۔: اگر تمہیں ایسی حرکت کرنا تھی یا تمہیں ایسا کوئی مسئلہ تھا تم نے میرے جسم کو اپنا ہوسٹ کیوں بنایا اور میرے جسم میں کیوں داخل ہوئی۔۔

 میری بات کے جواب میں جو اس نے بات کہی وہ میری سوچ کی مکمل عکاسی تھی۔۔۔۔۔

لیلیٰ سسٹم۔۔

ماسٹر میں نے آپ کے جسم کو اسی وجہ سے ہوسٹ بنایا تھا کیونکہ ایک جسم میں دو سسٹم ایک وقت میں نہیں رہ سکتے۔۔ یہ بہت کم ہی ہوتا ہے  کہیں کروڑوں انسانوں میں سے کوئی ایک ایسا ہوتا ہے جس کا جسم یہ سب قبول کرتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے اس کا جسم  دو سسٹم کا بوجھ برداشت کر سکتا ہے اور وہ آپ ہو ماسٹر ۔۔۔مجھے آپ کا جسم کافی کمزور نظر آرہا تھا یہی سوچ کر میں آپ کے جسم کے اندر داخل ہوئی تھی کے  ایک ٹائم میں دو سسٹم ہونے کی وجہ سے آپ کا جسم  دباؤ برداشت نہیں کر پائے گا اور آپ مر جائیں گے۔ اس سے  میرا بدلہ پورا ہو جاۓ گا اور میں رانی کو  مار کر اس دنیا سے واپس چلی جاتی کسی نئے ہوسٹ کو تلاش کرنے پر جو ہوا وہ میری سوچ اور پلاننگ سے مختلف تھا ۔۔ میں اس سب میں ناکام رہی۔۔  رات کو بھی میں نے آپ کو ایموشنلی کافی کمزور پایا آپ کسی اور ہی دنیا میں اس وقت موجود تھے ۔۔۔آپ کا جسم اس وقت آپ کے دماغ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔۔۔جتنا آپ سوچتے جا رہے تھے اتنا ہی الجھتے جا رہے تھے ۔۔اسکا فائدہ اٹھا کر میں آپ کو قابو کر لیتی پر رانی نے سارا کام خراب کر دیا اور مجھے شٹ ڈاؤن کر دیا اگر اس کے پاس شٹ ڈاؤن کی اتھارٹی نہ ہوتی تو میں آپ کو اب تک  قابو کر چکی ہوتی ماسٹر ۔۔

طاقت کا کھیل /The Game of Power

کی اگلی قسط بہت جلد پیش کی جائے گی۔

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے دیئے گئے لینک کو کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page