The Game of Power-95-طاقت کا کھیل

The Game of Power

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی جانب سے  رومانس ،ایکشن ، سسپنس ، تھرل ، فنٹسی اور جنسی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتی ہوئی ایک  ایکشن سے بھرپور کہانی، ۔۔ طاقت کا کھیل/دی گیم آف پاؤر ۔۔یہ  کہانی ہے ایک ایسی دُنیا کی جو کہ ایک افسانوی دنیا ہے جس میں شیاطین(ڈیمن ) بھی ہیں اور اُنہوں نے ہماری دُنیا کا سکون غارت کرنے کے لیئے ہماری دنیا پر کئی بار حملے بھی کئے تھے  ۔۔لیکن دُنیا کو بچانے کے لیئے ہر دور میں کچھ لوگ جو  مختلف قوتوں کے ماہر تھے  انہوں نے ان کے حملوں کی  روک تام  کی ۔۔

انہی میں سے کچھ قوتوں نے دنیا کو بچانے کے لیئے ایک ٹیم تیار کرنے کی زمہ داری اپنے سر لے لی ۔ جن میں سے ایک یہ  نوجوان بھی اس ٹیم کا حصہ بن گیا اور اُس کی تربیت  شروع کر دی گئی۔ یہ سب اور بہت کچھ پڑھنے کے لئے ہمارے ساتھ رہیں ۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ : ـــــــــ  اس طرح کی کہانیاں  آپ بیتیاں  اور  داستانین  صرف تفریح کیلئے ہی رائیٹر لکھتے ہیں۔۔۔ اور آپ کو تھوڑا بہت انٹرٹینمنٹ مہیا کرتے ہیں۔۔۔ یہ  ساری  رومانوی سکسی داستانیں ہندو لکھاریوں کی   ہیں۔۔۔ تو کہانی کو کہانی تک ہی رکھو۔ حقیقت نہ سمجھو۔ اس داستان میں بھی لکھاری نے فرضی نام، سین، جگہ وغیرہ کو قلم کی مدد سےحقیقت کے قریب تر لکھنے کی کوشش کی ہیں۔ اور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ آپ  کو ایکشن ، سسپنس اور رومانس  کی کہانیاں مہیا کر کے کچھ وقت کی   تفریح  فراہم کر رہی ہے جس سے آپ اپنے دیگر کاموں  کی ٹینشن سے کچھ دیر کے لیئے ریلیز ہوجائیں اور زندگی کو انجوائے کرے۔تو ایک بار پھر سے  دھرایا جارہا ہے کہ  یہ  کہانی بھی  صرف کہانی سمجھ کر پڑھیں تفریح کے لیئے حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ شکریہ دوستوں اور اپنی رائے کا کمنٹس میں اظہار کر کے اپنی پسند اور تجاویز سے آگاہ کریں ۔

تو چلو آگے بڑھتے ہیں کہانی کی طرف

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

طاقت کا کھیل قسط نمبر -- 95

 بگلی (ڈیمن کیٹ) بولی۔:

 کچھ نہیں ماسٹر میں ویسے ہی آئی تھی کہ کافی دنوں سے آپ کو دیکھا نہیں اس لئے رہا نہیں گیا ۔۔

 میں بولا۔:

 اب یہ تو تم جھوٹ بول رہی ہو تم میرے اندر موجود ہوتی ہو میری ایک آواز پر تم میرے سامنے آجاتی ہو اصل بات بتاؤ جس کے لئے تم یہاں آئی ہو ؟

 بگلی بولی۔

 ماسٹر بس عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہمیں آپ کی ضرورت پڑے گی تو اس لیے آپ تیار رہنا۔

 میں بولا۔

 بے فکر رہو بگلی تم ہمیشہ مجھے ایسے کسی بھی مشکل وقت میں تم مجھے  اپنے پاس ہی پاؤ گی۔۔ کیونکہ تم نے ہمیشہ مشکل وقت میں میری مدد کی ہے۔

 میری بات سن کر مجھے ایسے لگا جیسے بگلی مسکرا رہی ہو پر بلی کی شکل پر  مسکرانا صحیح طریقے سے محسوس نہیں ہو رہا تھا۔ شاید یہ میرے دماغ میں اس کی مسکراہٹ آ رہی ہو میری بات سن کر اس نے اپنی گردن دو بار ہلاتے ہوئے بولا  ٹھیک ہے ماسٹر۔

اتنا کہنے کے ساتھ ہی بگلی وہاں سے غائب ہو چکی تھی ۔۔پر میرے اندر وہ ایک طرح سے اب بھی موجود تھی ۔۔بگلی میری پالتو بلی تھی پر ایک  بات مجھے حیران کر رہی تھی  کہ کل میرے ساتھ اتنا بڑا واقعہ ہوا پر یہ آئی نہیں آخر کیوں ۔۔میں یہ بات اس سے پوچھنا چاہ رہا تھا لیکن پھر پتہ نہیں کیوں میں نے پوچھنا  ترک کر دیا۔۔

ایک دفعہ پھر کروٹیں بدلتے بدلتے میں نیند کی وادیوں میں چلا گیا.

صبح جب میری آنکھ کھلی تو اس وقت سورج سر پر پہنچ چکا تھا یہ پہلی بار تھا کہ میں اتنی دیر تک سویا رہا اور مجھے کسی کی کوئی خبر تک نہیں تھی ۔۔

آنکھ بھی میری تب کھلی تھی جب میرا موبائل لگاتار بج رہا تھا۔ میں نے موبائل اٹھا کر جب نمبر دیکھا تو زوہیب کا نمبر جگمگا رہا تھا۔

میں نے فورا کال  اٹینڈ کی تو آگے سے زوہیب کی روندی ہوئی آواز میرے کانوں میں پڑی۔

زوہیب۔

بھائی ہماری مدد کرو ؟

اس کی بات سن کر میں اٹھ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ  بولا۔:

ہوا کیا ہے کچھ تو پتہ چلے ؟

زوہیب بولا۔

عذرا چاچی نے ہمیں رات تک کا ٹائم دیا ہے یا تو ہمیں اسکی بات ماننی ہو گی یا پھر گھر سے بےگھر ہونا ہو گا

میں بولا۔

اس کی اب ایسی کون سی شرط ہے جو آپ کو ماننی ہوگی۔

زوہیب بولا۔

اس نے ہمیں رات تک کا وقت دیا  ہے شمائلہ باجی کی شادی وہ اپنے ایک جاننے والے سے کرنا چاہ رہی ہیں ۔۔

میں بولا۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ اس کی مرضی کے بغیر  اس کی شادی کیسے کر سکتی ہیں ؟

زوہیب بولا۔

بھائی آپ انہیں جانتے ہیں وہ کچھ بھی کر سکتی ہے جب وہ الزام لگا کر آپ کو گھر سے نکال سکتی ہے تو ہم تو اس معاملے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔۔

میں بولا۔

تم پریشان مت ہو ایسا کچھ نہیں ہوگا ابھی شام ہونے میں بہت ٹائم ہے میں کوئی حل نکالتا ہوں۔۔

زوہیب بولا۔

میرا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے  آپ جانتے ہیں۔؟

میں بولا۔:

ہاں میں جانتا ہوں ہم دونوں کا ایک دوسرے کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔۔ باقی تم پریشان ہونا چھوڑ دو اور تم تیاری پکڑ لو میرے گھر میں اتنی جگہ ہے کہ تم سب سکون سے رہ سکتے ہو تو اس لیے بنا دیری کئے یہاں چلے آؤ ۔۔

زوہیب بولا۔۔

وہ ہمیں نہیں آنے دے گی اس نے کہا تو ہے لیکن وہ ہمیں وہاں سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالنے دے گی۔۔ میں تو صبح پارک آکر آپ سے ملنا چاہ رہا تھا لیکن آج آپ پارک آئے ہی نہیں۔۔

میں بولا:

بس یار پتہ نہیں چلا آج آنکھ ہی دیر سے کھلی ابھی تمہاری کال کی آواز سے ہی میں اٹھا ہوں ۔۔

زوہیب بولا۔۔

اگر ہم نکل آئے تو ٹھیک نہیں تو ہمیں لینے ضرور آنا بھائی ہمیں تمہاری مدد کا انتظار رہے گا۔۔

اتنا کہنے کے بعد زوہیب نے کال کاٹ دی ۔۔میں چند لمحے سوچ میں ڈوبا رہا پر جب کچھ سمجھ نہ آئی تو اپنے سر کو جھٹکتے ہوۓ  اپنے بستر سے اٹھ کر واش روم میں فریش ہونے کے لئے گھس گیا ۔۔ فریش ہونے کے بعد میں  جب باہر نکلا تو ماہی اور نازش دونوں ٹی وی کے سامنے بیٹھی کوئی کارٹون دیکھ رہی تھی۔۔

میں بولا۔۔

گڈ مارننگ آج تو تم لوگوں نے مجھے اٹھایا ہی نہیں

نازش بولی۔

ہمیں تو اب پتہ چلا ہے جب آپ اپنے کمرے سے نکل رہے ہو ۔۔ہمیں تو ایسا ہی لگ رہا تھا جیسے آپ ورزش کرنے کے لیے چلے گئے ہو کیونکہ اپ صبح سویرے ہی اٹھ کر چلے جاتے ہو روز ۔۔

میں بولا۔۔

نہیں آج میں نہیں گیا تھا پتہ ہی نہیں چلا ٹائم کا اور  آنکھ بھی نہیں کھلی اصل میں ۔۔۔میں تم لوگوں سے کوئی ضروری بات کرنا چاہ رہا ہوں لیکن اس سے پہلے اگر ایک چائے کا کپ مل جائے تو زیادہ بہتر رہے گا ۔۔

میری بات سن کر ماہی فورا اٹھی اور کچن میں جا کر میرے لیے چائے بنانے لگی۔ ماہی کے جانے کے بعد نازش نے ایک نظر مجھ پر ڈالی اور وہ بھی کچن کی طرف چلی گئی۔۔

تھوڑی دیر بعد ماہی ہاتھ میں چائے کا کپ اٹھائے ٹی وی لاؤنج میں آگئی جبکہ اس کے پیچھے ہی نازش بھی ایک سینڈوچ پلیٹ میں سجائے ہوئے وہاں پر آ گئی۔۔

چائے کے ساتھ سینڈوچ کھانے کے بعد میں دونوں کو سامنے  بٹھاتے ہوئے بولا :مجھے تم دونوں سے یہ پوچھنا ہے کہ اگر زوہیب کی فیملی یہاں رہنے آجائے تو آپ لوگوں کو کوئی پریشانی تو نہیں ہوگی۔۔

ماہی نے میری طرف دیکھنے کی بجائے نازش کی طرف دیکھا اور نازش نے ماہی کی طرف ۔

نازش اور ماہی دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتی رہی پر ان کے منہ سے کوئی بھی الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔۔میں بھی تھوڑی دیر چپ رہا تا کے یہ دونوں تسلی سے سوچ کر فیصلہ کر لیں ویسے تو میرے ایک بار کہنے پر ہی یہ دونوں مان جاتی پر میں نہیں چاہتا تھا ایسا بلکہ میں چاہتا تھا کے وہ دل سے یہ فیصلہ کریں تا کے وہ جب یہاں آکر رہیں تو انہیں کوئی پریشانی نہ ہو اسی لئے میں انتظار کر رہا تھا کے چند لمحوں بعد  نازش بولی۔: ہوا کیا ہے؟ کیا ان کو اس گھر میں کوئی مسئلہ ہوا ہے۔۔؟

اس کی بات سن کر میں اثبات میں سر ہلا کر  زوہیب کے ساتھ ہونے والی ساری بات ان دونوں کو بتائی تو آگے سے نازش بولی۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے تم ان کو فورا یہاں بلا لو مجھے اس عورت پر کچھ بھی بھروسہ نہیں ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے  ۔۔

میں بولا۔۔

ٹھیک ہے میں تم لوگوں سے بھی پوچھنا چاہ رہا تھا اب میں زوہیب کو کال کرتا ہوں کہ وہ سب کو لے کر یہاں آ جائے ۔۔

نازش بولی۔

میری ماں انہیں اتنی آسانی سے وہاں سے نہیں آنے دے گی اس بات کا مجھے بخوبی علم ہے اس کے لیے آپ کو خود  وہاں جا کر انہیں لانا ہوگا۔۔

میں بولا۔۔

ٹھیک ہے میں جاتا ہوں۔

نازش بولی۔۔

ٹھیک ہے دھیان سے جانا اور اپنا خیال  رکھنا۔۔

طاقت کا کھیل /The Game of Power

کی اگلی قسط بہت جلد پیش کی جائے گی۔

پچھلی اقساط کے لیئے نیچے دیئے گئے لینک کو کلک کریں

Leave a Reply

You cannot copy content of this page