The Supernatural Love–07– مافوق الفطرت عشق قسط نمبر

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری پراسرریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

مافوق الفطرت عشق-رومانس ، ایکشن اور سسپنس سےبھرپور کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ کی نیو سٹوری
پراسراریت سے بھرپور سرزمین افریقہ کی ماروائی قوتوں میں سے ایک قوت کا عشق
خوش نصیبی اور بد نصیبی کا تعین بے حد مشکل کام ہے بعض اوقات انسان زندگی بھر کسی شے کی آرزو کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ جس چیز کی وہ آرزو کر رہا ہے وہ اس کے لئے ایک خواب سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن اگروہ چیز اسے حاصل ہو جائے تو اس کی عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔
بمشکل تمام اگروه اس خوشی کو برداشت کرلے اور اس کے بعد اُسے اندازہ ہو کہ جو شے اس کے لئے حاصل زندگی تھی۔ در حقیقت وہ زندگی کی سب سے بڑی مصیبت ہے تو اس کا کیا حال ہوگا۔ اس کا اندازہ آپ میری اس آپ بیتی سے لگا سکتے ہیں۔

مافوق الفطرت عشق قسط نمبر -07

اینی نے مجھ سے لپٹ دھیمے لہجے میں کہا۔

میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی سکند کہ اس طرح بھی زندگی کے ساتھی مل جاتے ہیں ۔

یہی حالت تو میری تھی اینی لیکن بہر صورت جو کچھ ہوتا ہے اچھاہی ہوتا ہے۔ ریس کورس میں میری تقدیر نے ایک نیا  رُخ اختیار کیا ہے،  اور میں ان حالات کا شکر گزار ہوں۔ لیکن اینی اب یہ بتاؤ کہ اتنا میرے قریب آنے کے بعد بھی مجھ سے دورر ہو گی ۔

میں نہیں سمجھی  سکندر؟

 میں اینی اب تم سے دور نہیں رہنا چاہتا۔ میری خواہش ہے کہ تم بھی میرے ساتھ ہی ر ہو۔

اوہ ۔ ڈیئر سکندر میں بھی تمہاری مانند ہوں، جذباتی ہو رہی ہوں، بس یہ سوچ رہی ہوں کہ ہمارے  تمہارے درمیان کوئی بات کبھی رخنہ تو نہیں بن جائے گی۔

کیسا رخنہ ؟ ۔۔۔ میں نے پوچھا۔

بس تم سوچ لو۔۔ میری رہائش میری  ایک دوست کے ساتھ ہے۔ بہت ہی چھوٹا سا مکان ہے جس میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہے اس میں سے ایک کمرہ اس نے مجھے دیا ہوا ہے۔ میری اس چھوٹی سی رہائش گاہ میں تم تو نہ رہ سکو گے،  تو کیوں نہ ہم ایسا کریں کہ ہم لوگ کسی بڑی رہائش گاہ

کا بندوبست کر لیں،  اور اس کے بعد ۔۔۔۔

نہیں نہیں  اینی۔۔ رہائش گاہ کا بندوبست کرتے ہیں تو بہت وقت لگ جائے گا۔ اچھا ساتھی انسان کی زندگی میں آجائے تو پھر اس کے سوا کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ ہوٹل کا یہ کمرہ فی الحال ہماری رہائش گاہ  بن سکتا ہے۔ یہاں دو بیڈپہلے سے ہی موجود ہیں۔

 اگر تم یہ پسند کرتے ہو تو مجھے کیا اعتراض ہو گا ہے۔

میری پسند اب میری پسند تو نہیں رہی اینی میں تو اب تمہاری پسند سے زندگی گزارنے کا خواہشمند ہوں۔

اور ڈیر سکندر اینی  بھی کب چاہتی ہے کہ تم سے دور رہے۔۔۔ اینی نے بے خودی سے آنکھیں بندکر تے ہوئے کہا اور میری حالت قابل دیدہ ہوگئ ۔ اور میں نے اختیار اُس کے اوپر جھک کر اُسے اُس کو باہوں میں لپیٹ کر چومنے لگا۔دولت اور محبت ایک ساتھ مل گئی تھی ۔ میں اپنےآپ کو جس قدر خوش نصیب سمجھتا کم تھا۔

اینی اسی ہوٹل میں آگئی۔ وہ اپنا مختصر سا سامان بھی لے آئی تھی۔ باقی چیزیں میرے لئے ثانوی حیثیت رکھتی تھیں۔

 اینی نے میری زندگی میں داخل ہو کر میرے لئے زندگی کی بہت سی خوشیاں فراہم کر دیں تھیں۔ اس دنیا کو دیکھتے ہوئے کافی عرصہ گزر چکا تھا، اور میں زمانے سے اتنا بے خبر نہیں تھا کہ اس کے بارے میں کچھ نہ جان سکوں،  لیکن بعض اوقات انسان سب کچھ جاننے کے باوجود بے خبر بننے  ہی میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ اینی کی چند دن کی معیت سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ اچھی زندگی گزارنے کی خواہاں ایک لڑکی ہے۔  اس کے ذہن میں میرے  لیئے  کوئی مقام ہو یا نہ ہو،  لیکن میری دولت اس کی نگاہ میں بڑی حیثیت رکھتی تھی۔  ہاں یہ بات  دوسری ہے، کہ اس دولت کو اس نے اپنے قبضے میں لینے کے بارے میں نہیں سوچا تھا ۔ البتہ اس بات کی خواہشمند تھی کہ میرے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کرے اور اس دنیا کو میں نے جس حد تک  دیکھا تھا،  اس سے یہی اندازہ ہوا تھا ، کہ یہاں مخلصوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔  بہت خوش نصیب انسان ہوتا ہے وہ جسے کوئی ایسا مخلص ساتھی مل جائے ، جو اس کی ذات سے پیار کرے اور اس کی کسی صفت یا خوبی سے متاثر نہ ہو۔

 سب کچھ جاننے کے باو جود میں نے اینی کے پیار کو بہت بڑی حیثیت دی تھی اور یہی سوچا تھا کہ جو دولت میری نہیں تھی،  جو مجھے حاصل ہوئی ہے ، اس میں کسی کی شراکت کوئی حرج نہیں رکھتی۔

 دولت حاصل ہونے کے بعد انسان غلط راستوں پر جا نکلتا ہے، اور اس کے بعد زندگی بے شمار حادثات کا شکار ہو جاتی ہے،یہ ممکن تھا کہ دولت حاصل ہونے کے بعد میں بھٹک جاتا،  اور ان چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتا جو میں نے کبھی نہیں سوچی تھیں،  تو ضروری تو نہیں تھا کہ مجھ جیساناتجربہ  کار انسان برائیوں کے راستے پر بھی تیز رفتاری سے دوڑ سکتا۔ میں اس دوڑ میں کسی حادثے کا شکار بھی ہو سکتا تھا،  اور جب یہ حادثات ٹل گئے تھے اور اینی میری زندگی میں اپنی پوری آب و تاب سے  آگئی تھی،  تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی تھی۔  چنانچہ میں نے اینی کو  اس کی اس کمی کے باوجود خلوص دل سے قبول کر لیا۔

 تھوڑے دن تک ہم ہوٹل میں زندگی گزارتے رہے سیرو تفریح ہمار مشغلہ تھا اور سیر وتفریح کے  بعد پوری رات وہ میری باہوں میں  ہوتی  اور ایک رنگین رات  آہوں اور سسکیوں کی ہمارے ہم رکاب ہوتی۔

اینی کو میں نے بہت ساری چیزیں خرید کر دی تھیں،  جس سے وہ خوش نظر آتی تھی۔  سچی بات یہ ہے کہ اینی نے میری زندگی میں ایک انوکھی  روشنی بھردی تھی۔ عورت کی حیثیت سے اس نے اپنا آپ مجھ پر نچاور کر دیا،  بلکہ اُس نے کئی بار مجھ سے یہ خواہش بیان کی تھی، کہ میں جو اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہوں تو اس کی زندگی کا آخری مرد بھی بن جاؤں ۔ صاف ظا ہر تھاکہ دہ مجھ سے شادی کی خواہشمند ہے۔ میں نے اس سے یہ وعدہ کر لیا تھا کہ میں شادی کرلوں گا۔ جلدی نہ اینی کو تھی نہ مجھے۔  ہم دونوں ہی مطمئن تھے۔

ایک دن ہم گھوم پھر کر جب واپس اپنے کمرے میں آئے تو ہم دونوں بہت تھک چکے تھے اور ہمیں  سخت بھوک لگی ہوئی تھی اینی نے جلدی سے کھانے کا ارڈر دیا ۔ کھانا کھانے کے بعد مجھ پر پھر غنودگی طاری ہونے لگی اور میں صوفے پر  بیٹھے بیٹھے اونگھ گیا۔ پتہ نہیں کتنی دیر میں اونگتا رہا، اچھانک میری آنکھ پانی کے گرنے کی آواز سے کھلی ،  جب میں نے سامنے دیکھا تو واشروم کا دروازہ کھلا ہواتھا ، اور ایک ہوشر با منظر دیکھنے کو ملا، اینی واشروم میں نہا رہی تھی، واشروم کا دروازہ کھلا ہواتھا، جس سے اُس کی کمر اور چوتڑ مجھے نظرآرہے تھے، یہ دیکھ کر میرے جسم میں ہلچل سی مچ گئی اُس کے سانولے جسم پر شاور سے بہتا پانی  جیسے اُس کے بدن کو اوپر سے چومتا ہوا  نیچے اُس کے پیروں کی طرف  اُس کے جسم کی گولائیوں اور اُبھاروں کو چمکاتا ہوا بہہ رہاتھا۔ میں اٹھ کر دروازے  کے قریب آ گیا  اور اُس کے تراشے ہوئے جسم کو دیکھنے لگا۔ اُس کی میری طرف پیٹھ تھی، لیکن عورتوں میں ایک حس زیادہ ہی ہوتی ہے ، اگر کوئی عورت کو کسی بھی اینگل سے دیکھے تو اُس کو احساس ہوجاتا ہے کہ کوئی اُس کو دیکھ رہا ہے، اس لیئے  تھوڑی  ہی دیر میں اُس کو بھی میرے دیکھنے کا احساس ہوگیا۔وہ میری طرف دیکھ کر دونوں ہاتھوں سے پانی اپنے چہرے سے پونچھتے ہوئے دیکھنے لگی، ساتھ ہی  اس کے ہونٹوں پر دعوت دینے والی مسکراہٹ  بھی پھیل گئی تھی۔ میں چند لمحے اس کی طرف ہی دیکھتا    رہا،  اینی کے جلوے  میرے ہوش  اڑا  رہے تھے ۔

اگلی قسط بہت جلد 

مزید اقساط  کے لیئے نیچے لینک پر کلک کریں

کہانیوں کی دنیا ویب سائٹ بلکل فری ہے اس  پر موجود ایڈز کو ڈسپلے کرکے ہمارا ساتھ دیں تاکہ آپ کی انٹرٹینمنٹ جاری رہے 

Leave a Reply

You cannot copy content of this page